وفاگزیدہ از( رزاق شاہد کوہلر ) – (قسط نمبر1)

(مشرق جس کے خاندانی نظام کی کبھی مثالیں دی جاتی تھیں مگرآج یہ نظام تیزی سے روبہ زوال ہے۔حرص وطمع اور دنیاوی جاہ وحشمت نے بیناﺅں کونابینا بناکررکھ دیا ہے۔ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی اِس اندھی دوڑنے احساسِ خلوص ومروّت کوکچل کرگوشت پوست کے بنے ہوئے انسانوں کومشینوں میں ڈھال دیا ہے۔آج ہماری خاندانی و معاشرتی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ نہ ہم زندوں سے وفاکرتے ہیں اورنہ مُردوں کے لیے دعا،پڑوسی کے گھر میں آگ لگی ہوتوہم ہاتھ تاپنے لگتے ہیں، حالانکہ ہمیں بزرگوں نے ”ہمسایاماں جایا“ کا سبق دیا تھا۔آج ہم میں سے کسی کو بھی اپنے اسلاف کی یہ سُنہری کہاوت یادنہیں ہے۔ہم رشتوں کی پہچان کھوبیٹھے ہیں، مغرب کی اندھی تقلیدنے ہمیں دنیا کا رکھا اورنہ ہی دین کا لیکن ایسے عالم میں بھی ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا وفا اور صرف وفا ہے)
[ رہ گزرِ زیست پرتنہا رہ جانے والے ایک وفا پرست کی سرگزشت]

منظر دل کو موہ لینے والا تھا۔چاروں طرف پھل دار درخت تھے جن پرہمہ قسم کے پھل موجود تھے۔وہاں پھولوں کی بہتات تھی۔سورج پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا مگراُس کی تمازت میں چاند کی روشنی جیسی ٹھنڈک تھی۔دھیمی دھیمی ہوا چل رہی تھی، ہواکی اِس سرسراہٹ میں ایک نغمگی تھی جوسماعتوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔یہ ایک نہایت ہی خوب صورت وادی تھی، اتنی حسین وجمیل کہ لگتا تھاجیسے جنت کاکوئی ٹکڑا اُٹھاکرزمین پر رکھ دیا گیا ہو۔وہاں ایک شفاف پانی کا چشمہ بھی رواں تھا۔اُس چشمے کاپانی اِس قدر صاف وشفاف تھاکہ اُس کی تہہ میں سُنہری ریت اور رنگ برنگے پتھروں کے ٹکڑے چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔خوش آواز پرندے پھل داردرختوں پرچہک رہے تھے جب کہ قسم قسم کی رنگین تتلیاں پھولوں پر منڈلارہی تھیں۔اِس قدرحسین پرندے اوررنگین تتلیاں وہ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔وہ سارا منظراُس کے لیے نیاتھا، بلکہ نیا کیااُس کے تصورسے بھی ماوراتھا۔پھل داردرختوں پرایسے ایسے پھل بھی موجودتھے جواِس سے قبل اُس کی آنکھ نے نہیں دیکھے تھے۔اُسے اِن پھلوں کے نام تک نہیں آتے تھے۔اِسی طرح وہ رنگین اور نرم ونازک تتلیاں بھی اُس کی نگاہوں کے لیے اجنبی تھیں اوروہ اِدھراُدھراُڑتے پھدکتے پرندوں کوبھی کوئی نام دینے سے قاصرتھا۔
وہ سحرزدہ سا چشمے کے کنارے کھڑاہواتھا کہ ایسے ہی وقت چشمے کے دوسرے کنارے پرموجود پھولوں کی اوٹ سے ایک نہایت ہی خُوب رواور پری پیکرعورت نمودار ہوئی جوسرتاپاسفیدریشمی لباس میں ملبوس تھی۔وہ کچھ اِس انداز میں چل رہی ہوتی ہے جیسے ہوا میں تیررہی ہو،بظاہروہ بڑے پُروقار انداز میں قدم اُٹھاتی ہے مگراُس کے پاﺅں زمین کوچُھوتے ہوئے محسوس نہیں ہوتے۔وہ جو پہلے ہی فطرت کے حسین مناظردیکھ کرسحرزدہ سا تھا، یہ منظردیکھ کرپتھربُت بن کررہ گیا۔عورت چشمے کے کنارے پہنچ کرعین اُس کے سامنے رُک جاتی ہے۔تب وہ جیسے ہوش میں آکرغورسے اُس پری پیکرکودیکھتا ہے۔ عورت کے حسین وجمیل چہرے پررنج وملال کے آثار ہوتے ہیں۔جیسے وہ بہت تکلیف میں ہو۔ اُس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں سے بے بسی جھلک رہی ہوتی ہے۔پھردیکھتے ہی دیکھتے اُس کی آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں۔ عورت کے آنسودیکھ کراُس کادل کٹ کررہ جاتا ہے۔ وہ اُسے تسلی دینے کے لیے لب کشائی کرتا ہے مگراُس کی آوازجیسے حلق میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔اپنی پوری توانائی صَرف کرنے کے باوجودوہ بول نہیں پاتا۔تب اُس پر ایک بے بسی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔اُس کے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے لیکن لب گویائی سے محروم ہوتے ہیں۔
عورت اگرچے اُس کی ہم عمرہوتی ہے مگر وہ اُس کے حُسن سے قطعی متاثرنہیں ہوتابلکہ اس کے برعکس وہ اپنے دل میں عورت کے لیے بے حدوبے حساب احترام کے جذبات محسوس کرتا ہے۔ایسے جذبات اِس سے قبل اُس نے کسی عورت کے لیے محسوس نہیں کیے تھے۔وہ اِن جذبات کوکوئی بھی نام دینے سے قاصرتھا۔
وہ عورت سے سوال کرنا چاہتا ہے، اُس سے اِس قدر ملول اور رنجیدہ ہونے کا سبب پوچھنا چاہتا ہے لیکن اُس کی قوتِ گویائی سلب ہوتی ہے۔اپنی پوری کوشش کے بوجود وہ ایک لفظ بھی نہیں بول پاتا۔عورت کچھ دیر تک اُس کے سامنے ٹھہری رہتی ہے اورپھر جیسے آئی تھی ویسے ہی پلٹ جاتی ہے۔جب وہ اُس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے توتب اُس کی گویائی بھی پلٹ آتی ہے۔وہ چیخ کر عورت کو رکنے کے لیے کہتا ہے مگراِس دوران تک وہ بہت دُورجاچکی ہوتی ہے۔اُس کی آواز شایدعورت کی سماعتوں تک نہیں پہنچ پاتی مگر وہ مسلسل اُسے پکارتا چلاجاتا ہے۔ایک طرح سے اُس پر ہذیانی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پوری قوت سے چیخنے اور چِلانے لگتا ہے لیکن وہاں اُس کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔نڈھال ہوکروہ رونے لگتا ہے، یہاں تک کہ روتے روتے اُس کی ہچکی بندھ جاتی ہے اوربدن لرزنے لگتا ہے۔
٭٭٭
” علیعلیاُٹھویہ کیا بے ہودگی ہےنیندمیں کسے پکار رہے ہو؟“ معاً اُس کی سماعتوں سے ایک شناسا نسوانی آواز ٹکراتی ہے اورپھرایک ہاتھ اُسے جھنجھوڑکر جگادیتا ہے۔
” وہوہکہاں گئی؟“ وہ ایک دم اُٹھ کراِدھراُدھردیکھتے ہوئے سوال کرتا ہے۔
” کون کہاں گئی بھئی؟“ اُس کی بیوی میمونہ نے ہنس کر پوچھا۔” کیا تم نے پھر وہی خواب دیکھاہے؟“
” مممیں نے اُسے سچ مچ دیکھا ہےلیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب وہ میرے پاس آتی ہے تو اُس وقت میری قوتِ گویائی کیوں سلب ہوجاتی ہے؟“ اُس نے پریشان کن اندازمیں سوال کیا۔
” ہوش میں آﺅ جناب عزت مآب علی صاحب! اِس وقت تم اپنے بیڈروم میں ہوپھرتم نے اُسے سچ مچ کیسے دیکھ لیا؟“ میمونہ کے انداز میں جھنجھلاہٹ اور جیلسی کی ملی جلی کیفیت تھی۔وہ عورت تھی اور اپنے شوہرکوکسی غیرعورت کے لیے پریشان اور فکرمند نہیں دیکھ سکتی تھی۔
” ہاںشایدمیں نے اُسے خواب ہی میں دیکھا ہےمگرمگروہ مجھ سے بولتی کیوں نہیں؟اُس کے لہجے میں پریشانی تھی۔
میمونہ نے جل کرکہا۔” تمہیں اُس کے نہ بولنے کی پریشانی کیوں ہے؟مجھ سے بولوناں! میں مرتو نہیں گئی؟“
” بکواس مت کرو جاہل عورت۔“ وہ ایک دم بگڑگیا۔
” ٹھیک کہتے ہو جناب۔“ میمونہ روہانسی ہوگئی۔” وہ خوابوں والی یقینا مجھ سے زیادہ خوب صورت ہوگی ورنہ تم اُس کے لیے یوں پریشان نہ ہوتے؟“
”تم پڑھی لکھی جاہل ہووہ خواب ہے حقیقت نہیں ہے اورپھر میں اُس کے لیے ایسے ویسے جذبات بھی محسوس نہیں کرتا۔“ علی نے اپنی صفائی پیش کی۔” تم منفی انداز میں کیوں سوچتی ہومثبت سوچاکرو۔“
” میں مثبت سوچتی رہوں اورتم اُس ڈائن کے خواب دیکھتے رہونہ جانے کون منحوس ہے؟“
علی کے دل پرایک چوٹ سی لگی، اُس کا جی چاہاکہ وہ میمونہ کے چہرے کوتھپڑوں سے لال کردے لیکن وہ غصہ پی گیا۔اگروہ ایسا کوئی قدم اُٹھاتاتوسب اُس پر ہنستے اور اُس کا مذاق اُڑاتے۔یہ بات اُسے کسی صورت منظور نہیں تھی۔وہ اپنا اور میمونہ کا تماشابنانا نہیں چاہتا تھا۔تاہم اب وہ میمونہ کوغصے سے گھوررہا تھا۔
میمونہ نے کہا۔”میں جانتی ہوں کہ تمہیں مجھ پرغصہ آرہاہے لیکن میں کسی صورت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میرا شوہرکسی غیرعورت کے خواب دیکھتا رہے۔“
” تعلیم یافتہ ہوکرجاہلوں والی باتیں مت کروخواب کوئی اپنی مرضی سے نہیں دیکھتا۔ میں تو خود تنگ ہوں اِن خوابوں سےمجھے پریشان کرکے رکھ دیا ہے اِن خوابوں نے۔“
”خوابوں نے یاخوابوں والی نے؟“ اُس نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔
” یہ دیکھ“وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔” مجھے پریشان نہ کرو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوںخدا کے لیے چلی جاﺅ یہاں سے، مجھے کچھ دیرکے لیے اکیلا چھوڑدوپلیزپلیز“
” اوکے۔“ وہ ناراض اندازمیں دروازے کی طرف بڑھی مگرپھرپلٹ کر بولی۔” ناشتا لاﺅں کیا؟“
” ابھی نہیں تھوڑی دیر کے بعد لانا۔“
” آفس کی دیر ہوجائے گی ، آٹھ تو بج چکے ہیں۔“
” میں آج آفس نہیں جاﺅں گا۔“ اُس نے جواب دیااور میمونہ بغیرکچھ کہے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
گرین کلرکی وہ فوجی جیپ مانسہرہ سے آگے گلگت جانے والی سڑک پرتیزی سے رواں دواں تھی۔جیپ میں دو نوجوان سوارتھے لیکن اُن دونوں کا تعلق آرمی سے نہیں تھا۔ وہ دونوں نئے نئے یونی ورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہوئے تھے اور اب شمالی علاقہ جات کی سیر کے لیے جارہے تھے۔ڈرائیونگ کرنے والے نوجوان کا نام شہزادعلی تھا اور اُس کے ساتھی کا نام جمال احمدتھا۔جیپ شہزاد کی ملکیت تھی،جودوسال قبل اُس کے باپ نے آرمی کی نیلامی میں سے بڑے سستے داموں خریدی تھی۔جیپ بے شک پُرانی تھی مگر بہت اچھی حالت میں تھی۔طاقت ورانجن والی یہ جیپ پہاڑی سفرکے لیے نہایت ہی موزوں تھی۔ایک عام کارکے مقابلے میں وہ بدرجہا بہتر تھی۔اُس کی سیٹیں کشادہ تھیں اورچھت بھی باآسانی اُتاری اور لگائی جاسکتی تھی۔
وہ دونوں وسطی پنجاب کے ایک مشہورومعروف ضلع کے رہنے والے تھے۔شہزاد کا تعلق ایک دیہاتی جاگیر دار گھرانے سے تھااور اُس کا والد ایک روایتی جاگیر دارتھا جب کہ جمال شہرکا رہنے والاتھااوراُس کا باپ یونی ورسٹی میں پروفیسرتھا۔دونوں کی دوستی کالج کے زمانے سے شروع ہوئی تھی جواب تک قائم چلی آرہی تھی۔شہزاداپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھاتاہم جمال کے دوبھائی اور ایک بہن بھی تھی۔بہن اُس سے چھوٹی تھی اور ابھی کالج میں زیرِتعلیم تھی۔دونوں بھائی اُس سے بڑے تھے ، دونوں ہی برسرروزگاراور شادی شدہ تھے۔مانسہرہ سے نکلے اُنھیں کافی دیرگزرچکی تھی اور اب بھوک نے اُنھیں ستاناشروع کردیاتھا۔شہزاد گاڑی چلاتے ہوئے کسی مناسب ہوٹل کی تلاش میں تھا ،جو ابھی تک اُسے نظرنہیں آیاتھا۔چند ایک ہوٹل اُس نے جان بوجھ کرچھوڑدیے تھے۔یہ صورتِ حال جمال کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔وہ ویسے بھی بہت بے صبراتھا جب کہ یہاں تو معاملہ بھی پیٹ کاتھا۔چنانچہ شہزاد نے جب پانچواں ہوٹل نظراندازکیا توجمال سے صبرنہ ہوسکا۔
” خدا کے لیے یارخودپرنہ سہی مجھ پرہی رحم کرلومیں بھوک سے مراجارہا ہوںاب توپیٹ میں چوہوں کی جگہ باگڑبلے دوڑنے لگے ہیں۔“ وہ فریادی انداز میں بولا۔” پلیزاب جیسا بھی ہوٹل نظرآئے گاڑی روک دیناورنہ میں چلتی گاڑی سے کودجاﺅں گا۔“
شہزادنے کہا۔” بے صبرے مت بنوآگے ایک اچھا ہوٹل آنے والا ہے۔وہاں کا کھانا اچھا خاصا لذیذ ہوتا ہے ورنہ یہاں کے لوگ تو گوروں کی طرح بالکل بے لذت و پھیکا کھاناکھاتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتی یہ لوگ مرچ مسالوں سے اتنا الرجک کیوں ہیں؟“
” گورا بننے کے لیے یاریہ لوگ ہم پنجابیوں کی طرح مرچ مسالے کھاکراپنا رنگ وروپ نہیں بگاڑتے۔اب تم میری شکل ہی دیکھ لوتوّے سے تھوڑی ہی کم کالی ہوگی۔“جمال نے فلسفیانہ اندازمیں جواب دیا۔
” لعنت ہے تیری شکل اور عقل پہاحمق انسان ! رنگت کاتعلق کھانے پینے سے تھوڑی ہوتا ہے؟“
” تواور کس پہ ہوتا ہے؟“
” آب وہوااور موسمیاتی تغیرپرہوتا ہے، اب تم بھی اِن بلتستانیوں کی طرح گورے چٹے ہوجاﺅ گے۔“
” کون بلتستانی؟“ جمال نے تحیرآمیزاندازمیں پوچھا۔
” اسکردو اور گلگت کے رہنے والوں کو بلتستانی بولتے ہیں جیسے ہمیں“
” اویس جیسے ہمیں پاکستانی بولتے ہیں۔“ جمال نے قطع کلامی کی۔” ایم آئی رائیٹ؟“
” سوبارلعنت تیری عقل پہگدھے بلتستانی بھی پاکستانی ہی ہیں اور“
” پاکستانی ہیں توپھرانھیں بلتستانی کیوں بولتے ہیں؟“جمال نے دوبارہ قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا۔
” ہمیں پنجابی کیوں بولتے ہیں؟“ شہزادنے اُلٹا سوال داغا۔
” ویری سمپلکیوں کہ ہم پنجابی بولتے ہیں۔“
” تم گدھے ہو اور گدھے ہی رہوگےتمہیں سمجھانا اور ابلیس کوکلمہ پڑھانا ایک برابر ہے۔“
” ذرّہ نوازی ہے جناب کی ورنہ یہ ناچیزکس قابل ہے؟“ وہ بھی ایک نمبرکاڈھیٹ تھا۔
” تم سے بکواس میں جیتنا ناممکن ہے۔“ شہزاد نے نفی میں سرہلایا۔” تم نے ماسٹرز کررکھی ہے اس سبجیکٹ میں۔“
” تمہیں شک ہے کیا؟“
”میں توکیا تیری اس ڈگری کوسپریم کورٹ بھی چیلنج نہیں کرسکتی۔“ اُس نے ہنس کرجواب دیا۔
”ڈگری اصلی ہے بیٹے!“ جمال نے قہقہہ لگایا۔” سیاست دانوں والی تونہیںکون مائی کا لعل اسے جعلی قراردے سکتا ہے؟“ اسی دوران شہزاد کی نظرمطلوبہ ریسٹورنٹ پرپڑی،جودائیں ہاتھ سڑک سے تقریباًنصف فرلانگ کی دوری پرواقع تھا۔اُس نے گاڑی کا اسٹیئرنگ گھمایااورگاڑی سیدھی جاکرریسٹورنٹ کے وسیع احاطے میں رُک گئی۔وہاں پہلے سے ایک مسافربردار بس بھی موجود تھی،جس کی سواریاں کھانے اور چائے پینے میں مصروف تھیں۔ریسٹورنٹ کے کشادہ احاطے میں کھرے بان کی چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں اورہردوچارپائیوں کے درمیان لکڑی کاایک ٹیبل موجودتھا۔ویٹربھاگ بھاگ کرمسافروں کوکھانااورچائے سرو کررہے تھے۔
وی آئی پی مسافروں کے لیے وہاں ایک خوب صورت ہال بھی موجودتھا۔وہ دونوں بس کے مسافروں کودیکھتے ہوئے ریسٹورنٹ کے ہال میں داخل ہوگئے۔ہال بالکل خالی پڑاہواتھا،مگراُن کے بیٹھتے ہی ایک ویٹرالہ دین کے چراغ کے جن کی طرح ایک سیکنڈمیں حاضرہوگیا۔
”حکم کیجیے صاب! کیا پیش کروں؟“ویٹرنے کاروباری انداز میں پوچھا۔
شہزادبولا۔” مینیو توپیش کروایسے کیسے آرڈرکریں؟“
” آپ کوتوپتا ہے صاب کہ یہاں کارڈوالانہیں زبانی مینیو چلتاہے۔“ ویٹرنے دانت نکالے۔
شہزادنے کہا۔” اوکےشروع ہوجاﺅ۔“
” بھنڈی سادہ،کریلاگوشت،مرغ پلاﺅ،آلوگوشت اورچنے کی دال۔“ ویٹرنے فرفرمینیو پیش کیاجوغالب کے مصرعے سے کچھ لمبامگربے وزن تھا۔
” بس۔“ جمال نے بُراسا منہ بنایا۔
” چائے، پیسٹری، بسکٹ اورکوک ، پیپسی بھی ہے صاب۔“ ویٹرنے مینیوکادوسرامصرع عرض کیا۔
” کریلاگوشت، مرغ پلاﺅاورآلوگوشت ٹھیک رہے گا۔“ شہزادنے آرڈردیا۔
” ابھی لایا صاب۔“ ویٹرتیزی سے باہرنکل گیا۔
پانچ منٹ کے بعدویٹرنے اُنھیں کھانا سروکردیا تھا۔جمال بھوکے گدھ کی طرح کھانے پرٹوٹ پڑاتاہم شہزادآرام کے ساتھ کھارہاتھا۔ پانچویں تندوری روٹی کاآخری نوالہ اندرٹھونستے ہوئے جمال نے ایک لمبی ڈکارلی اور بولا۔”ٹھیک کہاتھا تم نے، کھانا واقعی اچھاتھا۔زندگی میں پہلی بارمیں نے تین روٹیاں اکٹھی کھائی ہیں۔“
” تین نہیں پانچ، تمہاری گنتی کمزور ہے۔“ شہزاد نے جواب دیا۔
” خداکاخوف کرو یار!“ اُس نے احتجاج کیا۔” میں آدمی ہوں، کوئی گھوڑا خچرنہیں ہوں۔“
” کئی آدمیوں کے ساتھ گھوڑے اور خچرکاپیٹ لگا ہوتا ہے۔تم بھی اُنہی میں سے ایک ہو۔“
پھراِس سے قبل کہ جمال اُسے کوئی کرارا سا جواب دیتاباہرسے لڑنے جھگڑنے کی بلندآوازیں آنے لگیں اوروہ دونوں تیزی سے اُٹھ کرکھڑے ہوگئے۔
” تم باہرجاکردیکھو، میں بل اداکرکے آتا ہوں۔“ شہزاد نے کاﺅنٹر کی طرف بڑھتے ہوئے کہا اورجمال سرہلاتا ہوا باہرنکل گیا۔
٭٭٭
خوابوں نے محاورتاً نہیں حقیقتاً علی کی زندگی میں زہرگھول دیا تھا۔ابتدا میں تووہ یہ خواب مہینے میں ایک دوبارہی دیکھتا تھا۔مگرپھرآہستہ آہستہ اِن خوابوں میں تواتر آنے لگا تواُس کی پریشانی بڑھنے لگی۔اب تواُسے خواب میں نظرآنے والی عورت پرغصہ آنے لگا تھامگروہ بے بس تھا۔اُس عورت کاکچھ بھی نہیں بگاڑسکتا تھا۔خوابوں کوبھی نہیں روک سکتا تھا۔اُسے کئی بار میمونہ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑاتھا۔میمونہ اگرچے اعلٰی تعلیم یافتہ تھی اوراُس کی پریشانی کوسمجھتی تھی لیکن خواب میں اُس کاکسی غیرعورت کوپکارنااورپھررونا میمونہ کو سخت ناپسندتھا۔یہ اُس کی نسوانیت کی توہین تھی جواُسے کسی صورت منظورنہیں تھی۔وہ گاہے گاہے اُس سے جھگڑنے لگی اورعلی دن بدن چڑچڑاہوتا چلاگیاحالانکہ اُن دونوں کی شادی ایک طوفانی محبت کانتیجہ تھی لیکن اب اُن دونوں کے بیچ ایک دراڑ پڑنے لگی تھی۔وہ ایک دوسرے سے دُور ہونے لگے تھے۔چارسال قبل ہی تواُن کی بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی۔بڑی مشکلوں کے ساتھ اوراپنے بزرگوں سے لڑجھگڑکراُنھوں نے ایک دوسرے کوپایاتھامگراب اُن کی یہ جنونی محبت ہوامیں تحلیل ہوگئی تھی۔البتہ اُس جنونی محبت کی نشانی فیضان علی کی صورت میں اُن کے پاس موجودتھی۔
اُن کے روزروز کے جھگڑوں سے ننھا فیضان بھی متاثر ہورہاتھالیکن اس طرف اُن کا دھیان ہی نہیں جارہا تھا۔فیضان ابھی بمشکل تین سال کاہی تھا۔ابھی تووہ اچھی طرح بول بھی نہیں سکتا تھا،تاہم جب وہ دونوں ایک دوسرے پر چلاتے تھے توفیضان رونے لگتا تھا۔”پاپاپاپاممی ممی“ پکارتا رہتاتھالیکن اُس معصوم کی پکاراُن دونوں کی سماعتوں تک نہیں پہنچ پاتی تھی۔دوبارمیمونہ روٹھ کراپنے میکہ گھربھی جاچکی تھی۔ہرباراُسے علی ہی مناکر لایا تھا،اِس وعدے کے ساتھ کہ آئندہ وہ جھگڑا نہیں کرے گامگر علی کے خواب دوبارہ اُنھیں لڑنے کے مواقع فراہم کردیتے تھے۔یہ خواب نہیں تھے بلکہ عذاب تھے جنہوں نے اُس کی ہنستی بستی زندگی میں زہرگھول دیا تھا۔
وہ سنڈے کادن تھا،چونکہ اُس روز آفس نہیں جانا پڑتا تھا۔اِس لیے علی دیرگئے تک سویا رہتا تھا۔میمونہ بھی جان بوجھ کراُسے نہیں جگاتی تھی۔اِس کی وجہ ایک تو اُن کے تعلقات کی ناچاقی تھی اور دوسری وجہ علی کے خواب تھے ،جووہ اب تقریباًبلاناغہ دیکھنے لگا تھا۔اُس روزمیمونہ نہ جانے کیا سوچ کراُسے اُٹھانے کے لیے بیڈروم میں داخل ہوئی توعلی حسبِ معمول روتی ہوئی آوازمیں اُسی خوابوں والی عورت کوپکاررہاتھا۔” سنوپلیزرُک جاﺅمیں تم سے بات کرنا چاہتا ہوںخدا کے لیے مجھے بتادوتم کون ہو کہاں سے آتی ہوپلیزرُک جاﺅپلیز رُک جاﺅپلیز رُک جاﺅ“ آہستہ آہستہ علی کی آوازسسکیوں میں ڈھل گئی اوربدن لرزنے لگا۔
یہ منظرمیمونہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔پل بھرمیں اُس کا خوب صورت چہرہ غصے کی شدت سے لال بھبکا ہوگیااورآنکھیں جیسے انگارے برسانے لگیں۔وہ بے قابو ہوکرآگے بڑھی اورعلی کوبے دردی کے ساتھ جھنجھوڑکرجگادیا۔
” مممیں شایدپھروہی خواب دیکھ رہاتھا۔“ وہ آنکھیں ملتاہوا اُٹھ بیٹھا۔
” ہاں۔“ وہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح غرائی۔” تم اُسی کمینی کتیا کوکسی بھکاری کی طرح پکاررہے تھے لیکن اب میں یہ بے غیرتی مزیدبرداشت نہیں کروں گیبتاﺅ مجھے وہ حرام زادی کون ہے؟ میں اُسے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔“
” شٹ یورماﺅتھ۔“وہ چِلایا۔” میں تمہاری اس روزروزکی بکواس سے تنگ آچکاہوں۔اب اگرتم نے اُس کے خلاف اپنی گندی زبان استعمال کی تومجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگابہت سُن چکا ہوں تمہاری بک بک۔“
” ایک بارنہیں سوبارکروں گی، تم کیا بگاڑلوگے میرا؟“ وہ بھی چِلائی۔”میں کسی ایرے غیرے کی بیٹی نہیں ہوں۔یہ دھونس کسی اورپرچلاناسمجھے تممیں اُسے کتیاتوکیا بازاری اورطوائف“
آخری الفاظ ابھی اُس کی زبان پرہی تھے کہ علی ایک جھٹکے کے ساتھ اُٹھا،اُس نے میمونہ کے سرکے بال پکڑے اورپھرکمرا” تڑاختڑاختڑاخ“ کی آواز سے گونج اُٹھا۔میمونہ کے رخسارپرپڑنے والے یہ طمانچے بہت زوردارتھے۔اُس کادماغ جھنجھنااُٹھاجب کہ اُس کے رخسارپرعلی کی اُنگلیوں کے نشان ثبت ہوکررہ گئے تھے۔اُس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچاتھاکہ اُس کامحبوب شوہراُس پریوں بے دردی کے ساتھ ہاتھ اُٹھائے گا۔چندلمحے تو وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے علی کی طرف دیکھتی رہی پھراُس کی آنکھیں چھلکنے لگیں۔وہ پلٹی اوردوڑتی ہوئی کمرے سے باہرنکل گئی۔
یہ سب کچھ اس قدر سرعت کے ساتھ وقوع پذیر ہواتھاکہ علی سمجھ ہی نہ سکا۔وہ کوئی نادیدہ قوت تھی جس نے علی کویہ انتہائی قدم اُٹھانے پرمجبور کردیاتھاورنہ میمونہ پرہاتھ اُٹھانے کے متعلق تووہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔وہ اُس سے بے حدمحبت کرتا تھا۔اُس کی ذراسی تکلیف بھی اُس سے برداشت نہیں ہواکرتی تھیمگرآج اُس نے تھپڑ مارمارکر میمونہ کا چہرہ لال کردیاتھا اوروہ بھی ایک انجان اوراَن دیکھی عورت کی خاطرجس کا شایدکوئی وجود ہی نہیں تھا،جوصرف ایک خواب ہی تھی۔دوسرے ہی لمحے احساسِ ندامت اُس پر غالب آگیا۔اُس نے اپنی دائیں ہتھیلی کوغورسے دیکھااورپھرپاگلوں کی طرح کمرے کی پختہ دیوارپرمُکے برسانے لگا۔
” کیوںکیوںکیوں کیا میں نے ایسا؟“ مُکے برساتے ہوئے وہ ہذیانی اندازمیں چِلارہاتھا۔”میں میںیہ ہاتھ ہی توڑڈالوں گاجومیمونہ پراُٹھاتھا۔“
پختہ دیوارنے اُس کے ہاتھ کولہولہان کرڈالاتھالیکن جب تک ہمت رہی وہ مُکے برساتا رہا۔اِس کے بعد وہ نڈھال ہوکروہیں گرگیااور دبی دبی آوازمیں رونے لگا۔
٭٭٭
شہزادجب کاﺅنٹرپربل ادا کرنے کے بعدباہرنکلاتووہاں ایک ہنگامہ برپا تھا۔مسافربرداربس کا ڈرائیوراورکلینرایک ادھیڑعمرباریش شخص سے اُلجھے ہوئے تھے۔باریش شخص کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بھی تھی جوایک طرف سہمی ہوئی کھڑی تھی۔لڑکی کاپورا بدن سوائے آنکھوں کے ایک سیاہ رنگ کی چادرمیں چُھپا ہواتھا۔شہزادنے جمال سے صورتِ حال جاننے کے لیے استفسارکیا تووہ بولا۔” دفع کرویار، اِن کا کوئی کرایے کا معاملہ ہے۔“
” کیسا کرایے کامعاملہ؟“ شہزاد نے سوال کیا۔
” یہ شخص کہتا ہے کہ اس نے گلگت تک کا کرایہ ادا کردیاہے جب کہ بس کاعملہ اس بات سے انکاری ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ٹکٹ بھی نہیں ہے۔ ایسے میں ڈرائیوراورکلینراس کی بات ماننے کے لیے قطعی تےارنہیں ہیں۔“ جمال نے تفصیل بتائی۔
” ٹکٹ کھوبھی تو سکتاہے یار۔“
” یہ شخص بھی یہی کہتا ہے۔“ جمال نے جواب دیا۔
” سر!اگرآپ کاتعلق آرمی سے ہے توپلیزاِس بے بس شخص کی ہیلپ کریں۔“ اُن کے قریب موجودایک نوجوان نے شہزاد سے استدعا کی۔
شہزاد بولا۔” ہیلپ توتب کروں گا ،جب مجھے سچ اورجھوٹ کاپتاچلے گا۔ کیاپتااِس شخص نے واقعی کرایہ نہ دیاہو؟“
” اس بات کا میں چشم دید گواہ ہوں سر۔“ نوجوان نے پُرجوش انداز میں کہا۔” اس نے میرے سامنے ٹکٹ کٹوایاتھا۔یہ باپ بیٹی میرے آگے والی سیٹ پرتھے۔“
” تم سچ کہہ رہے ہو؟“ شہزاد کااندازمشکوک تھا۔
” سوفی صدسچ سر!مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟“نوجوان نے پُراعتمادلہجے میں جواب دیا۔وہ سچ مچ شہزادکوآرمی آفیسر سمجھ رہاتھااوراس کی وجہ اُن کی جیپ تھی۔اب شہزادکے لیے مداخلت ناگزیرہوگئی تھی۔وہ آگے بڑھااورپھربس کے ڈرائیورکومخاطب کرتے ہوئے بولا۔” تمہیں یقین کیوں نہیں آتا کہ یہ شخص سچ کہہ رہا ہے؟“
” آپ کی تعریف جناب؟“ ڈرائیورنے طنزیہ اندازمیں پوچھا۔
” اُدھردیکھو۔“ شہزاد نے اپنی جیپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔” وہ ہے میراتعارف، کافی ہے کہ مزید کراﺅں؟“
جیپ کودیکھ کرڈرائیورکے غبارے سے یوں ہوانکلی جیسے ہمارے ہاں اکثرپانی کے نلکوں سے نکلتی رہتی ہے۔ویسے بھی اُن دنوں مُلک میں مارشل لانافذتھا۔چنانچہ ڈرائیورکارنگ متغیرہوگیا۔ایک آرمی آفیسرکے سامنے اُس کی اوقات ہی کیاتھی،سووہ اپنی جان بچانے کے لیے اپنے کلینرپرچڑھ دوڑا۔” گدھے کے بچے!تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا، اِس نے جب کرایہ دے دیاتھاتوتم نے اس کا ٹکٹ کیوں نہیں کاٹا؟اس کامطلب ہے کہ تم ٹکٹوں میں گھپلا کرتے ہو؟“
” اُستادجی! یہ یہتم کیسی بات کررہے ہےمیں بھلا ایسا کیوں کروں گا؟“ کلینر نے بوکھلاکرجواب دیا۔
” بکواس مت کرو۔“ ڈرائیورنے اُسے ڈانٹ پلائی اور پھر شہزادسے معذرت خواہانہ اندازمیں بولا۔” صاب! غلطی میرے کلینرکی ہے،مگراس کی جگہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔“
” کلینرکی کوئی غلطی نہیں ہے۔“ ادھیڑعمرشخص نے کہا۔” اُس نے میرا اورمیری بیٹی کاٹکٹ کاٹا تھامگرتم نے ہماری سیٹ پراپنے دوستوں کوبٹھاکرجان بوجھ کرہم پرالزام لگا دیاکہ ہم بغیرٹکٹ کے سفرکررہے ہیں۔اب شرافت اسی میں ہے کہ ہماراکرایہ واپس کردو، ہم تم جیسے بے ایمان شخص کے ساتھ سفر کرنا نہیں چاہتے۔“
” نہیں اباایسا مت کریں ہم لیٹ ہوجائیں گے۔“ لڑکی نے مداخلت کی۔” ہم اسی بس میں سفرکریں گے۔“
” کبھی نہیں۔“ اُس نے انکارمیں سرہلایا۔” میں یہاں سے پیدل گلگت چلاجاﺅں گا لیکن اس بے ایمان کے ساتھ سفرنہیں کروں گا۔“
” اوئے! ان کا کرایہ واپس کردو۔“ ڈرائیورنے کلینرکوحکم دیا۔
کلینرنے اُستادکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈال کر چند نوٹ نکالے، اُنھیں گنااورپھرادھیڑعمرشخص کے ہاتھ پررکھتے ہوئے بولا ۔” گن لو پورے ہیں میں نے ایک روپیا بھی نہیں نکالا، حالانکہ یہاں تک پورے بیس روپے کرایہ بنتا ہے۔“
” مجھ پر احسان مت کرو۔“ ادھیڑعمر شخص نے دس دس کے دونوٹ کلینرکوواپس کردیے۔
معاملہ رفع دفع ہوتے ہی تمام سواریاں اپنی اپنی نشست پر جابیٹھیں۔ڈرائیور نے بس اسٹارٹ کی اورپھرتیزی کے ساتھ ریسٹورنٹ کے احاطے سے نکل کر پختہ روڈ کی طرف روانہ ہوگیا۔اب ریسٹورنٹ کے احاطے میں وہ باپ بیٹی، شہزاداور جمال رہ گئے تھے۔
” انکل !آپ نے بس چھوڑکراچھا نہیں کیا۔“ شہزاد اُس سے مخاطب ہوا۔” جب کہ آپ کے ساتھ بیٹی بھی ہے۔“
وہ بولا۔” بات اچھے برے کی نہیں ہے بیٹے!بلکہ اصول کی ہے ۔بے ایمان شخص کی معیت میں سفرکرنامجھے پسند نہیں ہے اور نہ ہی اسے میرا ضمیرگوارا کرتاہے۔“
” اچھی بات ہے انکل لیکن آپ کوجانا کہاں ہے؟“ شہزادنے سوال کیا۔
” گلگتوہاں میں ایک اسکول میں پڑھاتا ہوں۔“
” اوہتوآپ ایک استاد ہیں۔آپ کا اسم شریف؟“
” احمدحسین۔“ اُس نے مختصرسا جواب دیا۔
” اگرآپ محسوس نہ کریں توہم آپ کواپنے ساتھ گلگت تک لے جاسکتے ہیں۔“ شہزاد نے اُسے پیش کش کی۔” ہم بھی گلگت ہی جا رہے ہیں۔“
” شکریہ بیٹے!تم لوگ کیوں تکلیف کیوں اُٹھاتے ہو۔ہم بس سے چلے جائیں گے،ابھی تھوڑی دیرکے بعد دوسری بس آجائے گی۔“
” انکل!اس میں تکلیف کی کون سی بات ہے؟“ جمال جواتنی دیرسے چُپ تھامداخلت کرتے ہوئے بولا۔”ہم کوئی آپ لوگوں کوکندھے پراُٹھاکرتونہیں لے جائیں گےجیپ ہے ہمارے پاس بالکل نویں نکور۔“
” یہ کون ہے؟“ ماسٹراحمدنے شہزادسے پوچھا۔
” یہ جمال احمدبدبخت ہے اوربدقسمتی سے میرا دوست ہے۔“ شہزادنے ہنس کربتایا۔
” یہ کیسانام ہے بھئی؟“ ماسٹرنے چونک کرسوال کیا۔
” شاعروں کے نام ایسے ہی ہوتے ہیں انکلدراصل بد بخت اس کا تخلص ہے۔کافی مشہورشاعرہے،بس کوئی چھاپتا نہیں ہے اسے ورنہ آج اس کے بے شمارفین ہوتے اور لوگ احمد فرازکوبھول کر“
” یہ بکواس کررہا ہے انکل۔“ جمال نے قطع کلامی کی۔”میں توشاعروں اور شاعری کے سخت خلاف ہوں،تاہم یہ حضرت خودیہ نامعقول شوق رکھتے ہیں اورایک گھٹیا میگزین میں اس کی شاعری چھپتی بھی رہتی ہے۔ایک باراس نے اپنی شاعری ایک ادبی میگزین کوبھجوائی تومیگزین کے ایڈیٹرکاجواب آیا سوری جناب ہم لطیفے نہیں چھاپتے۔“
ماسٹراحمدنے ایک قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔” کیوں بھئی!کیاتمہارا دوست سچ کہہ رہا ہے؟“
شہزادنے کہا۔” اس میں صرف اتناسچ ہے کہ میں شاعری کرتا ہوں بقیہ ساری بکواس کوآپ کسی سیاسی لیڈرکابیان سمجھ لیجیے۔“
” بہت خوب بھئی۔“ ماسٹرنے دوبارہ قہقہہ لگایا۔” سیرپہ سواسیر والا معاملہ ہے۔ویسے تم دونوں مجھے آرمی سے نہیں لگتے ہواور ابھی تک تم لوگوں نے اپنا تعارف بھی نہیں کرایا حالانکہ سب سے پہلے تعارف کرایاجاتا ہے۔“
” تعارف کاموقع ہی کہاں ملا ہے انکل۔“ شہزادبولا۔”ویسے میرانام شہزادعلی ہے جب کہ میرے دوست کانام آپ کومعلوم ہے۔ہم دونوں کاتعلق پنجاب سے ہے اور ابھی ابھی یونی ورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہوئے ہیں۔میرے ابوایک روایتی قسم کے زمین دارہیں جب کہ یہ حضرت ایک پروفیسر کے برخوردارہیں۔میں ایک ” پینڈو“ ہوں اوریہ شہری بابوہیں۔اس وقت ہم دونوں گلگت اسکردو کی سیرکے لیے جارہے ہیں۔“
اس کے بعد ماسٹرکے استفسارپرشہزادنے اُسے اپنے اور جمال کے متعلق سب کچھ تفصیل کے ساتھ بتادیا۔اُن کے بارے میں سب کچھ جان لینے کے بعدماسٹربولا۔ ”ٹھیک ہے میں تم لوگوں کے ساتھ جانے کے لیے تےارہوں مگرمیری ایک شرط ہے۔“
” کیسی شرط؟“ شہزادنے متحیرہوکرپوچھا۔
” میرا گھر گلگت میں ہے اوروہاں تم لوگ مجھے میزبانی کاموقع ضروردوگے۔“
” اوکے ہمیں منظورہے۔“ اُس نے اثبات میں سرہلاکرجواب دیا۔
جاری ہے

Contents taken from https://www.facebook.com/RiazAqbilOfficial

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love