پاک آرمی کا ترانہ ( شاعر۔۔۔ریاض عاقب کوہلر )

یہ عسکرپاک ،دنیا میں ۔۔۔عجب اک آن رکھتی ہے
یہ اعلا ظرف رکھتی ہےیہ اونچی شان رکھتی ہے
یہ سب افواج عالم سے ۔۔۔۔۔الگ پہچان رکھتی ہے
ہر اک ساعت یہ باندھے جنگ کا سامان رکھتی ہے

کہ شاعر اور نغمہ خواں ۔۔اسے رخشندہ کہتے ہیں
یہ مہر و ماہ سے روشن ہے ۔۔اسے تابندہ کہتے ہیں

وطن کا ناز ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔ قوم کی آنکھوں کا تارا ہے
یہ ارض پاک کے ہرفرد کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مخلص سہارا ہے
جہاں مشکل گھڑی میں دیس نے اس کو پکارا ہے
وہاں لبیک حاضر ہوں ۔۔۔۔فقط اس کا یہ نعرہ ہے

یہی اس کی حقیقت ہے ۔۔۔۔یہی اس کا فسانہ ہے
سبھی نے مقتداءاور پیشوا ۔۔۔۔اس کو ہی مانا ہے

اسے دیکھو میدان ِ جنگ میں ،کیسے یہ لڑتی ہے
یہ پوچھو جا کے دشمن سے ،گلا کیسے پکڑتی ہے
یہ زندہ دفن کرتی ہے۔۔۔۔۔ کسی پر جب بگڑتی ہے
بھلا کیسا بھی دشمن ہوبےخوف و ڈر یہ لڑتی ہے

کبھی پوچھو جوہندو سےاسے ڈر کس سے لگتاہے
وہ کس سے خوف کھاتا ہے۔۔۔ مسلسل ہی لرزتا ہے

سبھی کو عزم وہمت کا۔۔۔۔۔کٹھن رستا دکھایا ہے
وفا کا درس، غیرت کا سبق ۔۔۔۔۔اس نے پڑھایا ہے
امن میں جنگ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہرکام کا بیڑا اٹھایا ہے
یہ وہ چھکا ہے جس نے ہار سے سب کو بچا یا ہے

ہر اک میدان میں آگےہے ۔۔۔۔۔۔۔ہر اک کام میں آگے
اسےدشمن جودیکھےسر پہ رکھکر پاوں وہ بھاگے

سبھی افسر، جواں اس کے جیالے، شیر دل والے
ہیں عہدہ دار اس کے ہمت و غیرت کے۔۔۔ متوالے
ہیں ماں کے لعل ہمشیرہ کے آنچل کے یہ رکھوالے
کہاں ممکن ہے دشمن ان کی ہیبت رعب سنبھالے

خدا کا نام لیتے ہیں۔۔ نبی ﷺکی شان پڑھتے ہیں
یہ عمدہ بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔فقط قرآن پڑھتے ہیں

کبھی ٹھنڈا جہنم ہے ،کبھی صحرا میں ڈیرا ہے
کہیں سنگلاخ پتھریلے پہاڑوں پر ۔۔۔۔۔۔بسیرا ہے
انہیں کچھ ڈر نہیں عاقب۔۔۔ اجالا یا اندھیرا ہے
اگر مشرق میں رات آئی تو مغرب میں سویرا ہے

اگر یہ ہار بھی جائیں۔۔۔۔۔۔ کبھی برہم نہیں ہوتے
شکستہ دل نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔کبھی پرنم نہیں ہوتے

یہ پینسٹھ کا اکہتر کا۔۔۔۔ میدان جنگ دیکھو تم
یہ گلگت ،وانہ و کشمیر کی۔۔۔۔۔ وادی جھانکوتم
سعودیہ ہے یہ کانگو ہے ،یہ ہے بحرین۔۔۔ جانو تم
کہیں پربھی نہ مانے ہار۔۔۔۔۔۔جتنا چاہو پرکھو تم

ہے اس کا نام اونچااور اس کی شاں۔۔۔۔ نرالی ہے
بظاہردیکھنےمیں سیدھی سادھی بھولی بھالی ہے

یہ ہے رشک وطن ، شبیر کے خوں کی نشانی ہے
یہ لالک کی وراثت ہے ۔۔۔۔۔۔یہ اکرم کی کہانی ہے
کہ یہ محفوظ اکرم ،شیر خاں کی راج دھانی ہے
سبھی نے جان واری کہہ کے یہ کس کام آنی ہے

انھیں دیکھو وہ زندہ ہیں ۔۔۔کہ یہ قران کہتا ہے
نبی ﷺ کا قول کہتا ہے ۔۔۔۔ہر اک فرمان کہتا ہے

طفیل وراشد و عزیزنے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔جاں لٹائی ہے
قسم کھائی تھی جولاریب پوری کر دکھائی ہے
اسی خاطرمیرے حسین نے بھی گولی کھائی ہے
کٹا کے اپنا سر ہر ایک نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنت کمائی ہے

یہ ہیں قربانیاں ان کی کہ ہم۔۔۔۔۔ آزاد ہیں عاقب
کہ یوں بے فکر اپنے دیس میں۔۔۔۔ آبادہیں عاقب

ابھی تک عزم باقی ہے ۔۔۔۔بہت سی بات باقی ہے
میرے یاروں کی حوروں سے ابھی بارات باقی ہے
ریاض عاقب کا اپنوں سے ابھی تک سات باقی ہے
یہ دنیا ساری فانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔فقط وہ ذات باقی ہے

عزیزو ! اب ختم کرتا ہوں میں ۔۔۔۔اپنے فسانے کو
سنا جس نے بھی یہ ہمدم ،بتا دے سب زمانے کو

( ریاض عاقب کوہلر )