نابینا مسافر .. شاہکار مائکرو فکشن

وہ جس راستے پر چل رہا تھا خود نہیں جانتا تھا کہ وہ صراط مستقیم ہے یا پھر گمراہی کا راستہ۔ اسے راہ میں ایک شخص ملا بھی تھا اس نے یہ کہہ کر اسے اپنے ساتھ لیا تھا کہ تم راستہ بھول گئے ہو۔ آؤ میں تمہیں تمہاری منزل تک پہنچا دوں۔ بے چارہ نابینا مسافر کر تا بھی کیا وہ تو اپنے راستے کے نشانات خود نہیں دیکھ سکتا تھا چپ چاپ اس کے پیچھے ہو لیا۔ لیکن راستہ چلتے چلتے جب منزل قریب آ گئی تو پتہ چلا کہ وہ جس راستہ سے چل کر آیا ہے وہ تو گمراہی کا راستہ تھا اور راہ میں جس شخص نے اس کی راہ نمائی کی تھی وہ خضر نہیں بلکہ شیطان تھا وہ حواس کھو بیٹھا۔ حیف۔۔! دنیا تو دنیا آخرت بھی تباہ ہو گئی۔ اب وہ پچھتا رہا تھا اے کاش کہ وہ جاہل نہ ہوتا علم کی آنکھیں اس کے پاس ہوتیں تو وہ ان آنکھوں کی روشنی میں اپنی کامیاب زندگی اور آخرت کے لئے سفر کا آغاز صراط مستقیم سے کرتا۔ صحیح اور غلط سے واقف ہوتا سفر میں وہ نہ راستہ بھولتا اور نہ ہی کوئی بہکا سکتا۔۔۔ لیکن اب پچھتا نے سے کیا حاصل؟ بہت دیر ہو چکی تھی زندگی کا سفر ختم ہو چکا تھا۔ اب تو جہنم اس کا انتظار کر رہی تھی!!

بچپن
اخبار فروش نے جب تازہ اخبار دروازے کی دہلیز پر ڈالا تو میرا بیٹا اور میرے ضعیف والد دونوں دوڑ پڑے۔ مجھے یاد آیا۔ آج بد ھ ہے اخبار میں بچوں کا خصوصی صفحہ “بچپن” شائع ہوتا ہے۔ بیٹے نے جلدی سے دوڑ کر اخبار جھپٹ لیا اور بچوں کا صفحہ نکالنے لگا۔ ضعیف والد نے بھی اس صفحہ کو چھیننے کی کوشش کی۔
دیکھتے ہی دیکھتے بچوں کا صفحہ پھٹ گیا۔ اور پھر وہ دونوں لڑ پڑے!!

ایک ہی کشتی کے سوار
“فوزیہ تم آج بھی مجھے پریشان دکھائی دے رہی ہو۔ کہو کیا بات ہے؟”
“میرے سر تاج میں۔۔ میں آج بھی شاید خواب ہی دیکھ رہی ہوں کہ شہر کے مشہور و معروف دولت مند وکیل نے مجھ غریب اور مجبور لڑکی کو اپنایا۔”
“نہیں فوزیہ۔یہ خواب نہیں حقیقت ہے تم جانتی ہو بیوی کا انتقال ہو جانے کے بعد میں نے دوبارہ شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بے انتہا محبت ہے اور میں اپنے بچوں کو ذہنی اذیت کا شکار ہونے نہیں دینا چاہتا تھا لیکن جب والدین کی ضد بڑھتی گئی تو مجھے مجبور ہونا پڑا اور میں نے تمہیں شریک حیات بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
تم حیران ہو کہ آخر میں نے تمہیں ہی پسند کیوں کیا ہے۔ فوزیہ وجہ یہ ہے کہ میں نے پڑوس میں رہ کر تمہیں بچپن ہی سے اپنی سوتیلی ماں کے ہاتھوں پل پل دکھ جھیلتے اور اذیتیں اٹھاتے ہوئے دیکھا ہے، تم ہمیشہ سلگتی اور بکھرتی رہی ہو۔ میں نے سوچا تم نے سوتیلے پن کا کرب سہا ہے تم اس درد کو محسوس کرتی ہو لہذا ان معصوم بچوں کو وہ دکھ کبھی نہیں دو گی جو تم نے جھیلے ہیں۔!!”

بہت دیر کر دی
جب بھی اسے کوئی نماز پڑھنے کی تلقین کرتا تو وہ یہی کہتا۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے دو۔ پھر داڑھی رکھ کر ایک مسجد کا کونا سنبھال لوں گا۔ ملازمت سے سبکدوش ہوا تو اس نے بچوں کے لئے ایک عالیشان مکان بنانے کا ارادہ کیا تقریباً ایک سال کا عرصہ اپنی مرضی کے بام و در بنانے میں گزر گیا۔
آج مکا ن کا ا فتتاح تھا۔ برقی قمقموں سے عالیشان عمارت جگمگا رہی تھی۔ اس کے قدم سجدہ شکر کے لئے مسجد کی جانب چل پڑے۔ اس نے اب طے کر لیا تھا کہ وہ کل سے اپنا زیادہ تر وقت مسجد میں گزارے گا اور ا ﷲ تعالیٰ کی عبادت کرے گا۔ ابھی وہ مسجد کی سیٹرھیاں چڑھ ہی رہا تھا کہ اس کی حرکت قلب بند ہو گئی اور مسجد کے باہر ہی اس کی روح پرواز کر گئی!!

مصلحت
گاؤں کے اس فقیر کی شادی ہو گئی جو دونوں آنکھوں سے اندھا تھا۔ لیکن افسوس کہ جس لڑکی سے اس کی شادی ہوئی اﷲ تعالیٰ نے اس کی آنکھیں بھی بچپن ہی میں چھین لی تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہوئے بھی بے سہارا تھے لیکن جب میں چھ سات سال بعد اپنے گاؤں واپس لوٹا تو دیکھا کہ وہ دونوں اپنے بچہ کے سہارے چل رہے تھے۔ جس کی آنکھیں بڑی خوبصورت تھیں!!

خدمت گار
بس اپنا توازن کھو چکی تھی چالیس مسافر جان بحق ہو چکے تھے بس کھائی میں گرتے ہی خدمت گار وہاں پہنچ گئے زندگی اور موت کے بیچ سانسیں گن رہے جسموں سے بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آ رہی تھیں۔
لیکن خدمت گار انھیں بچانے کی بجائے وہ ان مردہ عورتوں کو اپنے کاندھوں پر لیے اسپتال کی جانب دوڑ رہے تھے جو زیورات سے لدی پھندی تھیں!!

دکھتی رگ
“تم خاموش کیوں رہتی ہو۔۔۔؟”
“میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟” اُس نے مصنوعی ہنسی ہونٹوں پر چسپاں کرنے کی کوشش کی۔
” نہیں تم ضرور کچھ نہ کچھ سوچتی رہتی ہو۔ اور تمہارے وہ خیالات تمہارے چہرے پر اداسی کا پردہ ڈال دیتے ہیں۔ میرا خیال ہے تم اُسے ابھی تک نہیں بھولیں۔ آخر تم اُسے بھول کیوں نہیں جاتیں۔”
یہ سن کر اسکے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“کون کس کو بھولتا ہے راکیش۔۔۔؟”
اُس نے رومال آنکھوں کے قریب لے جاتے ہوئے کہا۔
“رادھا۔۔۔ آج۔۔۔۔ آج تم نے میرے دل کی بات کہہ دی۔۔۔!!”

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں