تبصرہ ۔تعارف۔وسیم بن اشرف 03453333380
پاکستانی خواتین مصنفات کے ناولوں کا مطالعہ کرتے ہوئے موضوعات کی یکسانیت کا احساس ہوتا ہے۔ زیادہ تر کہانیاں کچھ موڑ مڑ کے ایک ہی رخ اور سمت اختیار کر لیتی ہیں۔ ناولوں کے پلاٹ میں نیا پن، کوئی اچھوتی بات کوئی منفرد کردار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک فکری اور ذہنی جمود ہماری مصنفات کی تخلیقی صلاحیتوں پہ چھا چکا ہے اور دھند کی یہ لہر دبیز سے دبیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے فکری قحط کے دور میں کچھ مصنفات ایسی بھی ہیں جو بارش کے چھینٹے کی طرح ہیں۔ ان کا کام ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے جو قاری کے دل اور روح کو جھنجوڑ دیتا ہے۔ اس کے دماغ کی تلاش کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم گاہے بہ گاہے کتاباستان کے صفحات پہ ایسی خواتین مصنفات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ آج بھی ایک ایسی مصنفہ کی کتاب کا ذکر ہے جن کا نام ہی کافی ہے۔ عمیرا احمد، کتابستان میں سب سے زیادہ بات کی جانے والی مصنفہ ہیں۔ آپ کی کہانی منفرد اور اچھوتے موضوعات پہ مبنی ہیں۔ آپ کی سوچ اور فکر سے قارئین کو اختلاف ہو سکتا ہے تاہم یہ کسی بھی طرح آپ کے کام کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ آج آپ کے جس ناول پہ بات ہوگی اس کا عنوان ہے “من و سلویٰ”۔ ہماری رائے میں من و سلویٰ عمیرا کا اب تک کا بہترین ناول ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے اختلاف کریں گے کیونکہ آپ کے لکھے ہوئے ناول “پیرِ کامل” کو عمومی پسندیدگی کی سند حاصل ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے، تاہم ایک مصنفہ کے طور پہ عمیرا صاحبہ من و سلویٰ میں اپنے فن کی بلندی پہ نظر آئی ہیں، آپ کی سوچ کا پختہ پن اس کہانی میں جھلک جھلک کے سامنے آیا ہے اور یہی ہماری رائے میں اس ناول کو آپ کے دوسرے ناولوں سے ممتاز کرتا ہے۔من و سلویٰ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پہ نازل کی تھی۔ یہ وہ کھانا تھا جو بنی اسرائیلیوں کو بنا محنت کئے ہی حاصل ہو جاتا تھا۔ تاہم انہوں نے اس کھانے کو پسند نہیں کیا اور اپنے لئے محنت کا رستہ منتخب کیا۔ انہوں نے اللہ سے کہا کہ ہمیں اپنا اناج خود اگانا ہے۔ دوسری طرف امت مسلمہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے محنت کا رستہ پسند کیا، لیکن ہماری خواہش من و سلویٰ کھانے کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے کھانے کے لئے محنت نہ کرنی پڑے۔ ہم شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں۔ اگر ہم شارٹ کٹ کا رستہ اپنا لیں تو زندگی میں کیا کچھ ہو سکتا ہے یہ سب ہمیں من و سلویٰ سے معلوم ہوتا ہے۔ عمیرا صاحبہ کے مطابق من و سلویٰ کوئی اسلامی کہانی نہیں ہے، اور یہ ٹھیک بھی ہے، ناول کے کردار ہماری عام زندگی سے لئے گئے ہیں اور کئی کردار ہمیں اپنے ارد گرد ہی نظر آ جاتے ہیں۔من و سلویٰ زینب کی کہانی ہے۔ زینب ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ اس کے والدین نے اس کی تربیت نیکی کے خطوط پہ کی تھی۔ وہ باپردہ اور عبادت گزار لڑکی تھی جو اپنی محدود زندگی سے مطمئن تھی۔من و سلویٰ شیراز کی کہانی ہے۔ شیراز زینب کے پڑوس میں رہتا تھا اور سی ایس ایس کرکے ایک بڑا افسر بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ شیراز زینب کا منگیتر تھا۔من و سلویٰ کرم علی کی کہانی ہے۔ کرم ایک تارک وطن شخص ہے جو اپنے گھر کے حالات درست کرنے کی غرض سے بیرون ملک چلا گیا تھا اور اب وہاں ایک تیسرے درجے کا کام کرکے اپنے گھر والوں کی مالی امداد کر رہا تھا۔یہ تینوں کردار آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ کہانی کا تانا بانا انہی کے افعال کے ارد گرد بنا گیا ہے۔ شیراز کو سی ایس ایس کرکے پوسٹنگ مل گئی۔ اس کے خواب بہت اونچے تھے۔ ان کے حصول کے لئے اس نے شارٹ کٹ کا رستہ ڈھونڈا۔ اس نے زینب سے اپنی راہ الگ کر لی۔ زینب کا اس واقعے کی وجہ سے اللہ سے اعتبار اٹھ گیا۔ اس نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف جا کے فلم انڈسٹری جوائن کر لی۔ اور کم ہی مدت میں امیر ترین فنکارہ بن گئی۔ کرم علی نے محنت کا رستہ اپنایا اس کے کام سے خوش ہو کے ایک امیر آدمی اپنی ساری جائیداد اس کے نام کرکے مر گیا اور اس طرح اس کی زندگی بھی بدل گئی۔ ان تینوں کرداروں کی کہانی کس طرح انجام پزیر ہوئی، یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑھے گا۔من و سلویٰ تفصیلی انداز میں لکھا گیا ناول ہے۔ مصنفہ نے ہر کردار کو وقت دیا ہے، اس کی نفسیات واضح کی ہے۔ ناول کا ہر کردار انگوٹھی میں نگینے کی طرح ہے۔ ایک بار ناول ہاتھ میں لینے کے بعد مکمل پڑھے بغیر چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ یہ ان چند ناولوں میں ہے جو پڑھنے کے بعد قاری کو مکمل طور پہ اپنی گرفت میں کر لیتے ہیں۔ اتنا بہترین ناول لکھنے پہ مصنفہ مبارک باد کی مستحق ہیں۔

Share This

Share This

Share this post with your friends!