مترجم: مظہر الحق علوی۔۔تبصرہ و تعارف وسیم بن اشرف
ایم۔ جی لیوس کے انگریزی ناول “دی مونک” کا اردو ترجمہ خانقاہ کے عنوان سے مظہر الحق علوی صاحب نے کیا ہے۔ یہ موجودہ صدی کا ناول نہیں ہے، یہ پچھلی صدی کا ناول بھی نہیں ہے۔ یہ ناول اٹھارویں صدی میں لکھا گیا تھا۔ یہ ناول ایک متنازعہ ناول ہے جس کا پلاٹ چرچ، پادریوں اور عیسائی راہبات کی زندگیوں کے گرد گھومتا ہے۔ اس ناول میں چرچ اور پادریوں کا جو کردار دکھایا گیا ہے، اس نے اسے اپنے وقت کا ایک مشہور ناول بنا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ناول کے لکھتے وقت مصنف ایم۔ جی لیوس کی عمر 20 سال بھی نہیں تھی تاہم ان کے لکھے ہوئے اس ناول نے اس وقت عیسائی دنیا کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ناول کا مرکزی کردار ایمبروسیو نامی ایک پادری ہے جو اپنی فصاحت اور بلاغت کی بنا پہ لوگوں میں بےحد مقبول ہے۔ اس کے وعظ کے دن چرچ کا ہال کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے اور لوگ اسے بے انتہا نیک اور مذہبی خیال کرتے ہیں۔ اسی چرچ میں روزاریو کے نام سے ایک لڑکا بھی موجود ہے جو ایمبروسیو کی خدمت پہ مامور ہے۔ کہانی کے آگے بڑھنے پہ یہ بات کھلتی ہے کہ روزاریو اصل میں لڑکا نہیں بلکہ ایک لڑکی ہے جو ایمبروسیو کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایمبروسیو ابتدا میں اس محبت کی نفی کرتا ہے تاہم آہستہ آہستہ وہ اس لڑکی کی محبت میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ یہیں سے ایمبروسیو کے کردار کا منفی پن سامنے آنا شروع ہوتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ حیوانیت کی اتھاہ گہرائیوں مین ڈوبتا چلا جاتا ہے اور اس کی بہن بھی اس کی حیوانیت سے محفوظ نہیں رہ پاتی۔ایمبروسیو کے کردار کے علاوہ اس ناول میں راہبات کے کرداروں کی سنگدلی اور ظالمانہ پن بھی کھل کے ان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عیسائی مذہب کے توہمات، عقائد وغیرہ کو اس ناول میں کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔کہانی کا انجام کافی حیران کن ہے جب روزاریو کے کردار کی اصلیت کھلتی ہے اور وہ ایک غیر انسانی مخلوق اور شیطان کے آلہ کار کے طور پہ سامنے آتی ہے۔ جس کا مقصد دنیا کے انسانوں کو بھٹکانا تھا۔ایمبروسیو اور روزاریو کی محبت جہاں اس ناول کو رومانوی ناول کے زمرے میں رکھتی ہے وہیں چرچ میں ڈھائے گئے ظالمانہ افعال کی تفصیلات اس ناول کو خوفناک ناول کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہیں۔یہ ناول کمزور دل افراد اور نابالغ بچوں کے لئے غیر موزوں ہے ۔

Share This

Share This

Share this post with your friends!