’’گدھ‘ (‘حصہ اول ) (1) تحریر:۔ وسیم بن اشرف، ۔ دنیا میڈیا گروپ۔ ملتان

’’اے چکنی کیا گُل کھلا کے آئی ہے‘‘ ایک خرانٹ عورت رانو سے مخاطب تھی، رانو ہر ذی نفس سے بے خبر بیرک کی چھت کو گھور رہی تھی۔ ’’اے گلابو میں تیرے سے پوچھ رہی ہوں‘‘ قریب آ کر اس نے رانو کو کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا، رانواس اچانک پڑنے والی افتاد سے گھبرا گئی۔ رانو نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اسے سوچوں کے گہرے سمندر سے نکالنے والی کے گال پر بائیں ہاتھ کا ایسا جھانپڑ مارا کہ وہ دو قدم دور جا کر سنبھلی۔
اری، تھپڑ وہ بھی بانو کو، اس کا نام شاید بانو تھا جس نے رانو کا آتے ہی انٹرویو شروع کر دیا تھا، ’’اے چکنی تو جانتی نہیں مجھے‘‘ یہ کہتے ہی بانو نے لات گھمائی جورانو کے پیٹ میں لگی۔ وہ تکلیف سے دوہری ہو گئی، سیدھی ہونے سے پہلے ہی بانو نے اس کی چوٹی پکڑ کر جو زور کا جھٹکا دیا تو رانو کو دن میں تارے نظر آ گئے۔ وہ بری طرح بوکھلا گئی، یہ کیا آفت اس پر ٹوٹ پڑی ہے، رانو بھی دیہات کی پلی بڑھی تھی، موقع ملتے ہی بانو کو ایک اور تھپڑ جو رسید کیا اور اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا، اب بیرک میں باقاعدہ دھینگامشتی شروع ہو چکی تھی، کبھی رانو نیچے اور بانو اوپر، کبھی رانو کا پلڑہ بھاری اور بانو زمین بوس، دوسری قیدی عورتیں بیرک کی دیوار سے جا لگی تھیں اور تماشہ دیکھ رہی تھیں۔ پھر رانو کا جو داؤ چلا تو اس نے بانو کو اس زور کا دھکا دیا کہ وہ بیرک کے جنگلے سے بری طرح ٹکرائی اور اس کی پیشانی سے خون لکیر کی صورت میں بہتا اس کے رخسار تر کرتا گردن گیلی کر گیا،’’ تیرا خون پی جاؤں تو بانو نام نہیں‘‘ وہ دھاڑی اور رانو کی طرف لپکی، رانو نے جھکائی دی تو اپنے ہی زور میں وہ دیوار سے زور سے جا ٹکرائی، چوٹ پر چوٹ کھانے سے وہ نیم پاگل ہو گئی اور ڈکراتی ہوئی بدمست گائے کی طرح پھر رانو کی طرف بڑھی، شور شرابہ سن کر جیل عملہ بید کی چھڑیاں لہراتا آیا، دروازہ کھولا اور بنا قصور پوچھے بانو کو کم مارا، رانو کو دھنک کررکھ دیا۔ بید کی چھڑیاں پے در پے پڑنے سے رانو کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں، دو چار بانو کو بھی پڑیں، تھوڑی دیر کی پٹائی نے سب شانت کر دیا، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بھی بید لہراتی پہنچ گئی، ’’یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے‘‘ اس کا رعب اور دبدبہ دیدنی تھا، چھوٹا عملہ الرٹ کھڑا تھا، ’’میں پوچھتی ہوں یہ کیا اودھم مچا رکھا تھا؟‘‘ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ چلائی، وارڈرز کو گھورا تو ایک لیڈی وارڈر نے کہا میڈم ہم بھی شور سن کر یہاں پہنچی تھیں، دیکھا تو آج آنے والی نئی قیدی رانو اور بانو گتھم گتھا تھیں، بانو کی پیشانی سے خون بہہ ہا تھا‘‘۔
دونوں کو لاؤ نہ ذرا میرے کمرے میں وہاں ان کی ’’خدمت‘‘ کرتی ہوں۔ وارڈرز نے سلیوٹ کیا، دونوں کو اپنے حصار میں لیکر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے کمرے کی طرف چل پڑیں، 2 لیڈی وارڈرز آگے، پیچھے رانو، پھر دو وارڈرز اور پیچھے بانو، آخر میں بھی دو لیڈی وارڈرز، چھ اہلکاروں کی نگرانی میں انہیں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لایا گیا، رات کے 9 بجنے والے تھے، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے معاملے کی چھان بین کی ضرورت بھی محسوس نہ کی اور رانو پر پل پڑی، بدمعاش، قاتلہ، آتے ہی ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ میں نے تو بڑی بڑی خرانٹ قیدیوں کو تیر کی طرح سیدھا کر دیا۔ تیری اوقات ہی کیا ہے؟ رانو کے اوسان خطا ہو گئے، وہ سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ یہ آتے ہی اس پر کیا عذاب نازل ہو گیا، پانچ چھ بید، دوچار تھپڑ کھانے کے بعد رانو کی آنکھیں چھلک پڑیں، بمشکل اس کے لب ہلے ’’بی بی صاحبہ یہاں بھی ناانصافی‘‘۔
’’ناانصافی، تو نے بانو کا سر پھاڑ دیا، تھپڑے مارے اس کے گال لال کر دئیے اور بات انصاف کی کرتی ہے‘‘۔ آفیسر نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
’’میں نے کیا کیا‘‘ میں تو خاموش بیٹھی تھی، اسی نے بدتمیزی کی، جس سے بات بڑھ گئی، کیا میں اس کے ہاتھوں ذلیل ہوتی، مار کھاتی اس سے، اس کے تلوے چاٹنے لگ جاتی‘‘۔رانو بولی۔
’’بھاشن نہ بھگار، جو ہوا وہ بتا‘‘۔ آفیسر نے اسے ڈانٹا۔
’’بی بی وہی بتا رہی ہوں۔ آپ افسر ہیں انصاف آپ خود کرنا، پہلے اس نے مجھے چکنی کہہ کر پکارا، میں نے جواب نہ دیا تو کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا، غصے میں میرا بھی ہاتھ چل گیا، اس نے بھی مارا اور میں نے بھی‘‘۔
’’ہوں! اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے ہنکارا ہوا اور حکم دیا رانو کو فی الحال دوسری بیرک میں بند کر دو وارڈرز اسے لے گئیں۔ بانو کمرے میں ہی رہ گئی، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’تجھ سے دو روز بھی صبر نہ ہوا، آج ہی وہ جیل آئی اور تو اس سے بھڑ گئی، بانو اس طرح نہیں چلے گا، کسی نے اوپر شکایت کر دی تو میں انکوائریاں بھگتتی پھروں گی، تیرا کیا ہے تو دوسروں پر دھونس جما کر اپنا الو سیدھا کئے رکھے گی، یہ رانو ایک بدمعاش کا قتل کر کے آئی ہے اور تو نے پہلے ہی روز اس سے پنگا لے لیا، ہوش کے ناخن لے، یہ نہ ہو جو چھوٹ میں نے تجھے دے رکھی ہے وہ واپس لے لوں، اور باقی کی قید تو مشقت کر کے گزارے۔ جا چلی جا موقع محل، اونچ نیچ دیکھ کر قدم اٹھایا کر، سیر کو سوا سیر سے کبھی بھی واسطہ پڑ سکتا ہے۔
بانو جیل کی غنڈی تھی، خواتین قیدی اس کے سائے سے بھی دور بھاگتی تھیں، افسروں کی آشیرباد سے اس نے وہاں اپنی دھاک بٹھائی ہوئی تھی، جیل کے باہر کئی بڑی شخصیات سے اس کے مراسم تھے۔ قیدی عورتوں سے پیسے بٹورنا، زور زبردستی، سہولیات کے عوض رشوت لیکر جیل حکام تک پہنچانا اس کے ’’فرائض منصبی‘‘ میں شامل تھا، بدلے میں اسے جیل میں ہر سہولت میسر تھی۔
رانو کو دوسری بیرک میں پہنچا دیا گیا، یہ جیل میں اس کا پہلا دن تھا، پہلے ہی روز اس کے ساتھ جو بیتی یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ تو پہلے ہی ظلم و جبر سہتے، زمانے کی ٹھوکریں اور اپنوں کے لگے گھاؤ کھا کر یہاں پہنچی تھی، سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والی بات تی، جیل میں پہلے ہی دن جو کھیل کھیلا گیا وہ سمجھ نہ پائی تھی۔ وہ زندان میں تھی، پابۂ زنجیر تھی، زمانے کی زنجیر توڑ کر زندگی کے زندان میں ایک جنگ لڑ کر بھی وہ بظاہر ہار گئی تھی لیکن دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں نے اس کو وجینا قرار دیا تھا، وہ اپنے جیسی کئی لڑکیوں کو یہ خاموش پیغام دے آئی تھی کہ سسک سسک کر مرنے سے جبر کے سامنے سرنگوں ہونے سے بہتر ہے ظلم کے سامنے سر اٹھا کر چلا جائے، موت تو آنی ہے پھر روز روز مر کے کیوں جیا جائے، اس نے بھی اپنے زور بازو سے ان بدمعاشوں کو وہ سبق سکھا دیا تھا کہ آئندہ کوئی اس جیسی لاچار رانو پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ہزار بار سوچے گا‘‘۔ یہ سوچتے سوچتے اس کی پلکیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔ اس نے دیوار سے سرٹکا دیا۔ ٹانگیں پساریں، جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا تھا، جلد ہی اسے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا، سچ کہتے ہیں نیند سولی پر بھی آ جاتی ہے۔
دوسرے روز منہ اندھیرے سب کو اٹھانے کا عمل شروع ہوا، یہ سب اس کے لئے نیا تجربہ تھا۔ زندان کی زندگی کا ہر دن اس کو نیا سبق پڑھا رہا تھا، گن گن کر قیدی عورتوں کو نکالا گیا، سارا دن ان سے مختلف کام کرائے جاتے رہے، شام کو بھیڑ بکریوں کی طرح گنتی کر کے پھر بھانے میں بند کر دیا گیا، اسے یہ جیل بھی بھانہ ہی لگی تھی، روزانہ مشقت، بیماروں جیسا کھانا اور مچھروں سے بھری بیرک، خواتین، بچے، شور شرابہ، رونا دھونا، مصائب و آلام، دکھڑے، ماتم، یہ سب دیکھتے تین دن گزرے تو ایک رات ایک قیدی عورت اس کے پاس چلی آئی، دیکھنے میں ادھیڑ عمر لگتی تھی، لب کھولے تو لگا گویا پھول جھڑنے لگے ہوں، اتنا میٹھا لہجہ جیسے منہ سے شیرینی ٹپک رہی ہو

[Total: 0    Average: 0/5]

Spread the love
  • 11
    Shares