انسان کے اندر جتنی آگ اور تپش ہوگی وہ اتنے ہی دروازے کھولتا جاتا ہے:بشریٰ رحمان

بشریٰ رحمان اُردو ادب کی معروف شخصیت ہیں۔ ناول‘ ڈرامہ‘ کالم‘ افسانہ اور شاعری کی اصناف میں طبع آزمائی کرتی ہیں۔ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ ان کی شاعری کا ایک مجموعہ ’’صندل میں سانسیں جلتی ہیں‘‘ مقبول عام کی سند حاصل کرچکا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی ممبر بھی رہیں ایک رسالے کی مدیرہ بھی مزید پڑھیں

نابینا مسافر .. شاہکار مائکرو فکشن

وہ جس راستے پر چل رہا تھا خود نہیں جانتا تھا کہ وہ صراط مستقیم ہے یا پھر گمراہی کا راستہ۔ اسے راہ میں ایک شخص ملا بھی تھا اس نے یہ کہہ کر اسے اپنے ساتھ لیا تھا کہ تم راستہ بھول گئے ہو۔ آؤ میں تمہیں تمہاری منزل تک پہنچا دوں۔ بے چارہ مزید پڑھیں

دجال** از علیم الحق حقی

تبصرہ و تعارف۔۔وسیم بن اشرف دجال کے تصور کے بارے میں ہم پہلے بھی کچھ کتب میں ذکر کر چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس کا ذکر تمام الہامی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ ہمارے آخری پیغمبر الزماں نے ایسی کئی احادیث بیان کی ہیں جن میں مستقبل میں سامنے آنے والے فتنہ مزید پڑھیں

خال .. از .. امجد جازید .. (مکمل کہانی)

”سرجی ۔! آپ نے اس لڑکی کو دیکھاہے” ”نہیں۔” وہ اس قدر حسین ہے کہ بندہ اسے دیکھ کر” آنکھ جھپکنا بھول جائے۔اس قدر چرب زبان اور شاطر ہے ،کوئی کتنا بھی پارسا کیوں نہ ہو ،بس اس کے پاس کچھ دیر بیٹھ جائے ۔وہ تو اسے بھی شیشے میں اُتار لے گی۔وہاں میرے جیسے مزید پڑھیں

ہار .. از .. امجد جازید .. (مکمل کہانی)

پہلی نگاہ میں وہ نِری انگریز لگتی تھی۔بوٹا قد،گوری سیند ورملی رنگت،سیاہ گھنیری پلکوں والی نیلی آنکھیں،گہری بھوری زلفوں میں کئی رنگوں کی لٹیں تھیں۔جس میں سیاہ ،بھورا اور بادامی رنگ نمایاں تھا۔گھنگھریالی زلفیں یوں دکھائی دے رہی تھیں کہ جیسے وہ شانہ سے نا آشنا ہوں اور ابھی ان میں سے پانی ٹپک پڑے مزید پڑھیں

آب زَد از امجد جاوید (مکمل کہانی)

  سیلی جب ملتان ائیر پورٹ سے باہر نکلی تو کئی نگاہوں میں اس کے لیئے ستائش بھر گئی۔اس کا فطری حسن تو قدرت کا عطیہ تھا ہی،لیکن بدن کے خال و خد میں بھی وہ سراپا شہکار تھی۔قدرت کے عطیے پر اگر انسانی محنت ہو جائے تو بھی شہکار وجود میں آ جاتے ہیں۔سیلی مزید پڑھیں

حُرمت از امجد جاوید (مکمل کہانی)

سرمئی بادلوں سے آسمان ڈھکا ہواتھا۔موسمِ بہار کی پہلی بارش سے ہر شے نکھر گئی تھی۔اگرچہ سہ پہر کا وقت تھالیکن یوں لگ رہا تھا جیسے شہر پر شام اتر آئی ہو ۔سڑکیں بھیگ کر زیادہ سیاہ ہو گئیںتھیں۔ایسے میں رضاسلمان نے سڑک کنارے موجود پھولوں کے ایک اسٹال کے پاس اپنی گاڑی روک دی۔اسے مزید پڑھیں

خنجر بکف از امجد جاوید (مکمل کہانی)

ممبئی کے علاقے جوہو میں موجود تین منزلہ پرانی عمارت کے نیچے ٹیکسی رُکی۔ اس میں سے نارائن داس نکلا۔ وہ جدید تراش کی پتلون اور شرٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے ایک نگاہ اُڑی ہوئی رنگت والی عمارت پر ڈالی۔اُترتی ہوئی شام میں اس کا رنگ مزید بھدا لگ رہا تھا ۔ اس کی مزید پڑھیں

مہرو از امجد جاوید (مکمل کہانی)

سرخ اشارہ آتے ہی فروا نے اپنی کار روک لی۔اس دن اس کا موڈ اچھا تھا اور حسبِ معمول اپنے آفس سے لیٹ بھی نہیں تھی۔وہ مقامی چینل کی رپورٹر تھی۔ اس کا شماران رپورٹرز میں ہوتا تھا، جو اپنی کارکرگی کی وجہ سے باس کی نگاہوں میںاپنا بہترین تاثر بنا چکے تھے۔ وہ تھوڑی مزید پڑھیں

شہ مات (کھردری جیت) از امجد جاوید (مکمل کہانی)

شہر کے ماحول سے ہٹ کر مضافات میں وہ نئی پوش آبادی تھی۔ جدید طرز کے بنگلوں میں آشیانہ بھی ایک ایسا بنگلا تھا جو اپنے مکینوں کی امارت کا مظہرتھا۔ بیرونی گیٹ سے سیاہ تارکول کی سڑک پورچ سے ہوکر دوسرے آہنی گیٹ پر جاکر ختم ہوجاتی تھی۔ درمیان میں سبز لان تھا۔ سامنے مزید پڑھیں