بابا گپّی؟      از امجد جاوید

بابا گپّی؟ از امجد جاوید

تاحدِ نگاہ سنہری ریت کے ٹیلے ہی ٹیلے دکھائی دے رہے تھے۔سہ پہر کی طلائی دھوپ میں ریت کا سمندر بڑا پراسرار دکھائی دے رہا تھا۔ اُفق تک بھوری ریت تھی ۔جہاں سے گہرا نیلا آسمان شروع ہوجاتا تھا۔ درمیان میں کہیں سبزہ نہیں تھا۔ پر ہول سناٹے میں ہَوا شور مچاتی ہوئی محسوس ہو رہی...