نعمتوں کی گنتی بھی کیا کرو

ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا۔ اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا۔ اس شخص نے اپنے دوست کو مدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے۔
اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اشتہار کی تحریر میں اس نے گھر کے محل وقوع، رقبے، ڈیزائن، تعمیراتی مواد، باغیچے، سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ اشتہار مکمل ہونے پر اس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سنایا تاکہ تحریر پر اسکی رائے لے سکے۔
اشتہار کی تحریر سن کر اس شخص نے کہا، برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا۔ اور اس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سنا دیا۔ اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سن کو یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں۔ مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔ مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو، میں اپنا گھر بیچنا نہیں چاہتا۔ مجھے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا احساس ہی نہیں تھا۔
تو دلچسپ معلومات پیج کے دوستو! ذرا غور کریں ہم پہلے سے موجود نعمتوں کے بارے میں کبھی سوچتے بھی نہیں۔ حدیث میں ہمارے پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سچ فرمایا ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ہمیشہ دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر پر نظر رکھو تو تم اللہ کا زیادہ شکر ادا کرو گے۔ اور دین کے معاملے میں اپنے سے زیادہ پرہیز گار کی طرف نظر رکھو تم تقوی بڑھے گا۔
ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو، یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔ اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم ان کو گننا ہی نہیں چاہتے۔ ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔
ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ نے پھولوں کے نیچے کانٹے لگا دیئے ہیں۔ ہونا یوں چاہیئے تھا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اس نے کانٹوں کے اوپر بھی پھول اگا دیئے ہیں۔
کسی کا قول ہے۔ میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کڑھتا رہا، پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔
اب آپ اپنے آپ سے پوچھیں۔کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر، گاڑی، ٹیلیفون، تعلیمی سند، نوکری وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں؟ کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے اور تمہارے پاس تعلیم کی سند موجود ہے؟
کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے؟
اور وغیرہ وغیرہ وغیرہ ایسی ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں۔ دوستو اللہ کی نعمتوں کو گنتے گنتے تھک جاؤ گے لیکن وہ نعمتیں ختم نہیں ہوں گی۔ بس اللہ سے یہ نہ کہو کہ یااللہ میری پریشانیاں بہت بڑی ہیں بلکہ پریشانیوں سے یہ کہو تم کچھ بھی نہیں ہو میرا اللہ بہت بڑا اور قادرِ مطلق ہے۔
اللہ تعالی ہمیں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دے۔
“اللہ تمہیں زیادہ دے گا اگر تم اللہ کا شکر ادا کرو” (القرآن)
دوستو! آپ بھی اللہ کی کوئی سی بھی دس نعمتیں کمنٹ باکس میں لکھیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ رحیم نے وہ نعمتیں آپ کو اپنے فضل سے بغیر مانگے عطا کردیں ہیں اور بہت سے لوگ ان سے محروم ہیں۔
تھوڑی سی محنت کرکے ضرور لکھیں ان شاء اللہ عزوجل شکر کا جذبہ بیدار ہوگا۔ اور پریشانیاں کم ہوں گی۔