’’ادھورا رشتہ‘‘پارٹ 1 ٭…( وسیم بن اشرف)

’’تم میری کہانی کب لکھو گی صائمہ‘‘متعدد بار اس نے مجھ سے پوچھا تھا، لیکن میں ہر بار ٹال مٹول کر جاتی، لیکن وہ بھی ٹالے نہ ٹلتی تھی۔ منہ بناتی اور کبھی ماتھے پر تیوریاں ڈال کر چلی جاتی، پھر جب ملتی تو اس کو یہی شکوہ ہوتا کہ میں اس کی بات کو اہمیت نہیں دے رہی، ایک دن تو اپنی خوبصورت آنکھوں سے مجھے گھورتے ہوئے میرے خوب لتے لئے اور بولی ’’اگر لکھنی ہے تو لکھو میں بار بار نہیں کہوں گی‘‘۔
مجھے یوں محسوس ہوتا جیسی وہ کہہ رہی ہو میرا بھی سویٹر بُن دے، یا قمیض سی دے، میں جانتی ہوں تمہیں سویٹر بُننا آتا ہے اور قمیض کی سلائی بھی، اگر سلائی کرنی ہے تو کر دو نہیں تو کسی اور سے کرا لوں گی‘‘ مجھے اپنے ہی خیال پر ہنسی آ جاتی، لیکن آج میں اس کی بات ہنسی میں نہیں ٹال سکتی تھی۔
آج تو اس کے بیٹے کی سالگرہ تھی جب میں اس کو مبارک باد دے رہی تھی تو اس نے بھری محفل میں پھر اپنا سوال دہرا دیا۔ ’’میری کہانی کب لکھو گی‘‘، مجھے کوئی جواب نہ سوجھا، میں نے لمحہ بھر سوچا اور کہا ’’شاہین مجھے نہیں پتا کہ تم پر کیا بیتی ہے، میں سب کچھ نہیں جانتی، تمہاری کہانی کا آغاز تو کر لوں گی مگر ختم کہاں کروں گی؟ اور مجھے…‘‘
اس نے مجھے ٹوکا اور اپنی خوبصورت گول مٹول آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی ’’دیکھ صائمہ! مجھ جیسی عورتوں کی کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں، شروع ہوتی ہیں اور پھر چلتی رہتی ہیں، اس جیسی لاتعداد آپ بیتیاں ہوں گی، ایسی آپ بیتیوں کا کوئی اختتام ہوتا ہے نہ انجام‘‘۔
اس نے مجھے مخمصے میں ڈال دیا، ’’پھر بھی جب تک تمام حالات کا علم نہ ہو تو خدشہ رہتا ہے قلم سے کوئی ایسی ویسی بات نہ نکل جائے، شاید تمہیں میری یہ بات بری لگے‘‘ صائمہ نے جواب دیا۔
’’اس میں برا لگنے والی کون سی بات ہے اور میں کون سی نیک پروین ہوں، جو مجھ پر گزری، جو میں نے کیا وہی سچ تو لکھ دے‘‘۔
’’لیکن مجھے تمہارا پورا سچ نہیں پتہ‘‘۔
اچھا تو آج تم نہ جاؤ، میرے پاس رُک جاؤ، آج سب بتاؤں گی‘‘۔ اس نے جیسے مجھے حکم دیا دے دیا ہو، اور خود پارٹی میں مصروف ہو گئی۔
نصف شب تک خوب ہلا گلا رہا، 12 بجے کے بعد وہ فارغ ہو کر صوفہ پر پھیل کر لیٹ گئی اور اپنے خوبصورت کالے لمبے بال کھول لئے، میں نے دیکھا لال رنگ کی قمیض اور شلوار اس کے سرخ گالوں کے ساتھ کتنی میچ کر رہی تھی، لگتا تھا اس کے کپڑوں کا رنگ اس کے سرخ گلابی چہرے پر اتر آیا ہے یا پھر چہرے کے رنگ نے اس کے کپڑے رنگ دئیے ہیں، گلے میں مصنوعی موتیوں کی مالا اس کی صراحی دار گردن سے لپٹی سچے موتیوں کی مالا لگ رہی تھی، لمبے لمبے ہاتھ پاؤں، لمبا قد، یوں لگ رہا تھا جیسے میرے سامنے کوئی الپسر ا بیٹھی ہوئی ہے، میں مبہوت رہ گئی، کتنی خوبصورت تھی وہ، پتہ نہیں کیوں اسے دیکھ کر مجھے تاج محل یاد آ گیا، شاید وہ مجھے تاج محل جتنی ہی خوبصورت اور اداس لگی تھی، اگر وہ مرد ہوتی تو……‘‘۔
’’کہاں گم ہو گئی ہو‘‘ اس نے میرے خیالات کی مالا توڑ دی۔
’’ تمہارے حسن کا جلوہ دیکھ رہی تھی، آفتاب ہو، مہتاب ہو، کسی شاعر کا خواب ہو، تم کتنی لاجواب ہو، جی چاہتا ہے تمہیں دیکھتی رہوں، یہ حسن گلوسوز، جی چاہتا ہے تمہیں تکتی رہوں‘‘ میرا جواب سن کر وہ کھلکھلا کے ہنسی تو اس کے دانت موتیوں کی طرح چمک اٹھے۔
’’میری کہانی بھی سنو گی یا مجھے دیکھتی رہو گی‘‘ وہ مسکرائی۔
’’ہاں شروع کرو‘‘۔
’’صائمہ! معلوم نہیں کہ مجھ پر جو بیتی اس کا آغاز کہاں سے کروں، نہ ہی زندگی کا پہلا باب یاد ہے اور نہ ہی آغاز کا اتہ پتہ، ہاں اتنا یاد ہے کہ میں ایک ٹوٹے ہوئے گھر میں پیدا ہوئی‘‘۔
’’ٹوٹے ہوئے گھر میں؟ میں نے استفسار کیا۔
اس نے نیم کھلی آنکھوںسے مجھے دیکھا ’’ہاں! امی اور ابو کی آپس میں بنتی نہیں تھی، شاید میری عمر اس وقت 10 برس ہو گی جب ہم اسلام آباد سے انگلینڈ چلے گئے، میں نے کچھ تو اسلام آباد کے ایک اچھے نجی سکول میں پڑھا تھا اور کچھ تعلیم گوروں کے دیس میں ہی مکمل کی، میں آج تک نہ جان پائی کہ پپا کو انگلینڈ جانے کی کیا سوجھی تھی! پپا اور ممادونوں ملازمت کرتے تھے، پپا فیکٹری سے جو بھی کما کر لاتے وہ شراب اور گوریوں پر اڑا دیتے، اور مم ڈیڈ کی گالیاں بھی کھاتی اور گھر کا خرچہ بھی چلاتی، آنے بہانے ڈیڈ مما کو روز ہی پیٹتے، اس کے باوجود مما ڈیڈی کو کسی طور پر بھی چھوڑنے پر تیار نہ تھی‘‘۔
میں نے کئی بار ضد کی، چلو مما! پاکستان چلتے ہیں، لیکن ڈیڈ اور مما کو اب پاؤنڈز سے زیادہ شاید کوئی چیز پیاری نہیں تھی، پاکستان جانا تو دور کی بات وہ تو پاکستان کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے، ہے نہ اچنبھے کی بات، لیکن یہ بھی کھرا سچ ہے کہ میں اپنے وطن کو ایک دن بھی نہیں بھولی تھی، میں اپنی سہیلیوں، رشتہ داروں، اپنے پنجاب کے اسلام آباد کو ہر رات سپنے میں دیکھی، ایسی شاید ہی کوئی رات گزری ہو گی جب مجھے میرے اپنے خواب میں نہ آئے ہوں، گھر کا ماحول ہی ایسا تھا کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکی۔ کالج کی پڑھائی کے دوران ہی ایئرپورٹ پر جاب مل گئی‘‘۔
’’مجھے لگا جیسے میں اس گھٹن زدہ گھر سے نکل کر رنگ برنگے میلے میں آ گئی ہوں، روزانہ ہزاروں مسافر جہازوں پر چڑھتے اور اترتے، ایسے ہی جیسے روز نئے پنچھی آتے اور اڈاری مار جاتے، میں طرح طرح کے لوگوں کو آتے جاتے دیکھتی، انہیں گلے ملتے دیکھتی تو میرے اندر توڑ پھوڑ سی شروع ہو جاتی، لوگ کتنے خوش ہیں، ایک دوسرے کو کتنا چاہتے ہیں، جب کوئی میاں بیوی الگ ہوتے تو ایک دوسرے کی بانہوں میں سما جاتے، بیوی روتی تو شوہر اسے سینے سے لگا لیتا اور اس کی آنکھیں بھی نم ہو جاتیں، مجھے اچھی تنخواہ ملتی تھی، لیکن جس روز تنخواہ ملنا ہوتی تھی میں اداس ہو جاتی، سوچوں کے جال میں جکڑی جاتی کہ پیسے مما کو دوں گی تو ڈیڈ شراب کے لئے پیسے مانگے گا، مما کہے گی بچی کے پیسے شراب پر نہ بہا ،دونوں میں جھگڑا ہو گا یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے پیسہ ہمارے گھر کی لڑائی کی آگ میں پٹرول کام دے رہا ہو، تم دھیان سے سن رہی ہو نا؟ وہ بات کرتے کرتے پل بھر کیلئے رُکی۔
’’رُکو مت‘ بولتی رہو، داستان کو بریکیں نہ لگاؤ، میں سب سن رہی ہوں میری مکمل توجہ تمہاری باتوں پر ہے‘‘ صائمہ نے ایک ہی سانس میں جواب دیا۔
’’ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ کانٹوں بھری زندگی کے تین برس گزر گئے، تن من میں جو چبھن تھی وہ دور نہ ہو سکی، ایک روز پاکستان جانے والی فلائٹ تاخیر کا شکار ہو گئی، سارا سٹاف مسافروں کی خدمت میں لگا ہوا تھا، انہیں مسافروں میں مجھے سکندر ملا، میں تھکی ہاری ایک کرسی پر تھوڑی دیر آرام کے لئے بیٹھی ہی تھی کہ وہ میرے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھا، میں نے سرسری نظروں سے اسے دیکھا اور پھر نظر نہ ہٹی، دل میں اُتھل پتھل سی ہونے لگی، ایسے لگا جیسے اس نے مجھے ہپناٹائز کر دیا ہو، میں جیسے نظر جھپکنا بھول چکی تھی، ایئرپورٹ پر خوبصورت لوگ تو میں روز دیکھتی تھی، لیکن سکندر کیلئے جیسے خوبصورت جیسا لفظ بھی چھوٹا تھا، گورا چٹا رنگ، گھنگھریالے بال، ہونٹ گلابی اور درویشوں جیسی آنکھیں، چھیل چھبیلا، بانکا، سنجیلا، طرحدار ، مجھے اپنا وجود پگھلتا محسوس ہوا، میں اس کی آنکھوں میں کھو گئی، وہ مسکرایا تو مجھے اپنا خیال آیا اور تھوڑا سا سنبھلی کہ اٹھ کر چلی جاؤں لیکن میرے تو پاؤں میں جیسے جان ہی نہیں رہی تھی‘‘۔
’’کیا نام ہے آپ کا؟ اس نے آہستہ سے پوچھا۔
چہرے مہرے کی طرح اس کی آواز بھی خوبصورت تھی۔
’’شاہین‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’بہت پیارا نام ہے لیکن اتنا نہیں جتنی پیاری تم خود ہو، تمہارا نام تو تصور ہونا چاہیے تھا یا تصویر، جان بہار، کسی مصور کا شاہکار دکھتی ہو تم ‘‘
وہ بات کر رہا تھا اور مجھے لگ رہا تھا اس کی آنکھوں کا سحر مجھے دھیرے دھیرے جکڑ رہا ہے، اس سرو قد کے منہ سے اپنی تعریف سن کر یوں لگا جیسے دل و دماغ پر خمار سا چھا رہا ہو، لیکن میں نے کوشش کہ اسے میری اندر کی توڑ پھوڑ کارتی بھر بھی احساس نہ ہو۔
’’کہاں جا رہے ہیں آپ؟‘‘
’’پاکستان اور ملتان، ملتان کے قریب ہمارا گاؤں ہے، گھر بار ہے، والدین ہیں، زمین جائیداد ہے، سارا گاؤں ہی ہمارا ہے، ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں، سال میں چار چکر وطن کے لگا لیتا ہوں،وہ ملتان کا بتا رہا تھا، وہ شہر جو اولیاء اﷲ کی سرزمین کہلاتا ہے، جہاں حضرت بہاء الدین زکریا، حضرت شاہ رکن عالم، بی بی پاک دامن، حضرت شاہ شمس تبریز اور بڑی بڑی برگزیدہ ہستیوں کے مزار ہیں، دربار ہیں، خانقاہیں ہیں۔
’’تم نے دیکھا ملتان‘‘۔
’’نہیں! میں 10 سال کی تھی جب گوروں کے دیس کے باسی بن گئے، نام سنا ہے، جان پہچان والوں سے سنا ہے ملتان بزرگان دین کا شہر ہے، بڑا جی چاہتا ہے کہ وہاں جاؤں، اﷲ کے نیک بندوں کے درباروں پر حاضری دوں‘‘۔ میں اداس سے لہجے میں بولی۔
’’چلو آج ہی لے چلتا ہوں‘‘ اس نے مذاق میں کہا اور میں شرما کر رہ گئی‘‘۔
’’میرا نام سکندر ہے، 7تاریخ کو واپس آؤں گا، ملو گی مجھے یہیں ایئرپورٹ پر، وہ ایک ماہ کے لئے جا رہا تھا۔
’’پتہ نہیں‘‘، میں وہاں سے اُٹھ گئی، سکندر چلا گیا اورمیرے لئے ایک ماہ جیسے ایک صدی بن گیا، ایسی ویسی کوئی بات بھی نہیں تھی لیکن لگ رہا تھا کہ وقت جیسے تھم گیا ہے، گھڑی کی سوئیاں جیسے گھومنا بھول گئی ہیں، وہ مجھے اپنے سحر میں جکڑ کر چلا گیا، لگ رہا تھا جیسے اس نے مجھ پر جادوئی پھونک مار دی ہو، جب بھی پاکستان کی فلائٹ آتی میں دائیں بائیں نظریں گھماتی کہ کہ شاید وہ پہلے نہ آ جائے اور گزر نہ جائے، یہ مجھے کیا ہو گیا تھا؟ من اداس، میلے میں ویرانی، جگ سنسان لگنے لگا تھا، دن کو چین نہ رات کو سکون، سوتی تو خوابوں میں گھس آتا، جاگتی تو جیا بے کل رہتا، دھیرے دھیرے تین ہفتے گزر گئے اور پھر مہینہ کی 7 تاریخ آ گئی، میں جان بوجھ کر ایک شاپ میں جا کر بیٹھ گئی کہ دیکھوں تو وہ مجھے تلاش بھی کرتا ہے یا صرف باتیں ہی کرتا ہے، سارے مسافر گزر گئے، سکندر آخر میں آیا۔
وہ دائیں بائیں آنکھیں گھماتا مجھے ہی تلاش کر رہا تھا، پندرہ منٹ تک وہ مجھے ڈھونڈتا رہا اور میرے من میں پھول کھل رہے تھے، میں اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہی تھی، پھر اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے رومال نکالا، شاید پریشانی سے اسے پسینہ آ گیا تھا، اس نے پیشانی کو رومال سے صاف کیا اور بالآخر کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح اس نے بیگ اٹھایا اور سر جھکائے چل پڑا، میں شاپ سے نکلی اور اسے عقب سے آواز دی۔
سکندر!
وہ رک گیا ۔
ایسے لگ رہا تھا جیسے بیک وقت ہزاروں گلاب اس کے چہرے پر کھل اٹھے ہیں، ’’مجھے پتہ تھا تم ضرور آؤ گی‘‘ اس نے مجھ سے معانقہ کیا، زندگی میں پہلا موقع تھا کہ کسی مرد نے مجھے اپنی بانہوں میں لیا تھا، اس کے جسم سے مجھے عجیب طرح کی تپش سی نکلتی محسوس ہوئی، مجھے لگا اس تپش سے میں پگھل رہی ہوں، گم سم، بے خبری اور بے خودی کا سا عالم تھا، میں نے بھی اس کی بازوؤں کی گرفت سے نہ نکلناچاہا،
’’چلو سامنے بیٹھ کر چائے پیتے ہیں‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ ریستوران کی طرف قدم بڑھانے لگا، مجھے لگا کہ میں گونگی بہری ہو گئی ہوں، کیفیت ایسی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، اپنے اندر کی کیفیت سے شکست کھا کر میں اس کی باتوں کا ’’ہوں، ہاں! اچھا‘‘ جیسے الفاظ سے جواب دے رہی تھی، وہ میرے لئے پاکستان سے سونے کی ایک خوبصورت چین لیکر آیا تھا، اس نے اپنے ہاتھوں سے چین میری گردن میں ڈالی، وہاں ہم کتنی دیر بیٹھے رہے، گزرتے سمے کا پتہ ہی نہ چلا، بادل نخواستہ ہمیں اٹھنا ہی پڑا۔ اس نے ویک اینڈ پر ملاقات کا وعدہ کیا اور بائے بائے کرتا چلا گیا۔
میری بیابان دنیا میں جیسے جا بہ جا رنگارنگ پھول اُگ آئے تھے، بے مزا زندگی میں سرور کی لہریں میرے انگ انگ میں سرایت کر گئیں، میں خود سے بے خود ہوتی جا رہی تھی، میں محسوس کر رہی تھی جیسے عام دنیا سے نکل کر کسی اور ہی دنیا میں رہنے لگی ہوں، سکندر کا خیال ایک نشے کی طرح مجھے مخمور رکھتا، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے وہی نگاہوں میں رہتا، گھر میں مما پپا کی چیخ چنگھاڑ، تو تو میں میں، کام کا دباؤ، جیسے سب مجھے بھول گیا، ہفتے کے روز میں نے اپنا سب سے خوبصورت سوٹ نکالا، زیب تن کیا، آئینہ میں خود کو دیکھا اور پھر سکندر سے ملنے چلی گئی، وہ جیسے پہلے سے میرا منتظر تھا، اس کی نگاہیں مجھ سے چار ہوئیں تو جیسے چراغ جل اٹھے ہوں، سفید رنگ کی مرسڈیز میں بڑے کروفر سے بیٹھا وہ کوئی راجکمار لگ رہا تھا۔ مجھے اپنی قسمت پر رشک آنے لگا، ہم نے باتیں شروع کیں تو پھر بات سے بات نکلتی گئی، اور وقت نکلنے کا احساس تک نہ ہوا، ہم بہت کم وقت میں ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ جان لینا چاہتے تھے۔ میں نے اسے بتایا کہ گھر بار ہوتے ہوئے بھی میں کس قدر تنہا ہوں، میرے مما، پپا کیسے ایک دوسرے کی ضد اور دشمن ہیں۔
’’شاہین! بات دشمنی کی نہیں ہوتی، دراصل ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھوتہ کرنے کی بات ہوتی ہے، لیکن اگر میاں بیوی کا میل ہی ٹھیک نہ ہوا تو پھر زندگی کی گاڑی کو زبردستی نہیں کھینچا جا سکتا، اندر کی دوریوں کے پنکچر زندگی کی گاڑی کو رواں رکھنے میں بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں، کیل کانٹے چبھتے بھی ہیں اور سوراخ بھی کر دیتے ہیں، زندگی کے ایسے گھاؤ بھرنے سے بھی نہیں بھرتے، بے مزا زندگی کانٹوں کی سیج بن کر رہ جاتی ہے جس میں زخموں سے چور انسان لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں، بے جوڑ شادیوں کی سزا بچے بھگتے ہیں، اس کی باتوں سے مجھے لگاجیسے وہ کہیں کھو گیا ہے۔
’’کیوں سکندرر! کیا تمہارے والدین بھی؟‘‘ میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگی۔
’’نہیں! نہیں! وہ جیسے خیالوں کے بھنور سے نکل آیا ہو‘‘۔ میرے امی، ابو تو شاہوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں، وہ پرانے دور کے ہیں جب شادی ایک لاٹری کی طرح ہوا کرتی تھی، اور ان کی لاٹری لگ گئی تھی، وہ بہت خوش و خرم زندگی جی رہے ہیں‘‘ اس نے سوفٹ ڈرنک کا کین ٹیبل پر رکھا اور خاموش ہو گیا۔
’’تو تم اس قدر اداس کیوں ہو گئے ہو؟‘‘
’’میں دراصل اپنی بپتا سنا رہا تھا‘‘۔
’’میری اور میری وائف کی کبھی نہیں بنی، ہر وقت ان بن رہتی ہے، وہ ایک امیر گھرانے کی ایک خوبصورت لڑکی ہے لیکن سو فیصد انگریز ہے، میاں بیوی کے رشتے کے تقدس کو سمجھتی ہے نہ مشرقی روایات کو، مجال ہے جو اس کی اجازت کے بغیر گھر میں پتہ بھی ہل جائے، میں جانتا ہوں وہ مجھے چاہتی ہے، مجھ سے پیار کرتی ہے لیکن وہ میرے دل میں گھر نہیں کر سکی، نہ جانے کیوں؟ میں نے کبھی دل کی گہرائیوں سے اسے نہیں چاہا، صرف بچوں کی وجہ سے جئے جا رہے ہیں‘‘ وہ بولتے بولتے خاموش ہو گیا۔
’’سکندر آپ کے بچے بھی ہیں، دیکھنے میں تو بالکل کنوارے لگتے ہو‘‘ شاہین نے حیرانی سے کہا ’’نہیں شاہین! میرا بڑا بیٹا 15 سال کا ہے اور بیٹی 11 سال کی، میں شادی کر کے انگلینڈ آیا تھا، میری شادی رشتہ داروں میں ہوئی تھی، میں نے سوچا تھا کہ حدیقہ پڑھی لکھی ہے، میری اور میرے گھر والوں کی قدر کرے گی، لیکن اس نے مجھے ہمیشہ گھر کے سامان کی طرح سمجھا، جیسے میں اس کا نوکرہوں، جب میں اپنے گھر تھا تو شہزادوں کی طرح زندگی کو بسر کیا، لیکن یہاں آ کر جیسے کمی کمین بن گیا ہوں، سالا، ڈارلنگ، ڈارنگ، پلیز، پلیز کہتے منہ دکھنے لگ جاتا ہے، وہ یہی سمجھتی ہے جیسے میں اس کا غلام ہوں، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ میں اس کی ٹکے جتنی بھی قدر نہیں کرتا، لوگ تو جانوروں کو بھی پیار سے اپنا بنا لیتے ہیں، اپنے بس میں کر لیتے ہیں، وہ بھی کیا بیوی ہوئی جو مرد کو نہ جیت سکے، زندگی میں اتنا بڑا خلا ہے کہ یہی لگتا ہے کہ میں زندگی کو نہیں بلکہ زندگی مجھے بسر کر رہی ہے، بڑی خشک اور صحرا کی طرح ویران زندگی جی رہا ہوں‘‘ یہ بتا کر اس نے چپ سادھ لی، خاموشی طویل ہو گئی تو میں نے اسے متوجہ کیا۔
’’کیا بات ہے، میری شادی کا سن کر تمہارا موڈ خراب ہو گیا‘‘ پر یہ بھی کیا شادی ہے، وہ الگ کمرے میں ہوتی ہے اور میں الگ کمرے میں، جب دل ہی نہ ملتے ہوں تو جسمانی ملن کیا معنی رکھتا ہے؟ وہ مجھے اپنے دکھڑے سناتا رہا۔
’’میرا موڈ خراب نہیں ہوا، میں تو سوچ رہی تھی کہ ہر دوسرے گھر کا حال ایسا ہی ہے، یہاں لوگ ادھوری زندگی جی رہے ہیں‘‘ مجھے اپنا گھر یاد آ گیا۔
’’ہاں یہی سمجھ لو، نامکمل زندگی! پانی بھی برسے اور بندہ بھیگے بھی نہ، یہ ادھوری زندگی پوری بھی ہو سکتی ہے اگر کوئی اچھا جیون ساتھی مل جائے تو‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں اداسی کی پرچھائیں دیکھیں۔
’’کیا مطلب آپ کا؟‘‘
’’مطلب یہ کہ بچوں کی وجہ سے میں بیوی سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکتا‘ میری وجہ سے ان معصوموں کی زندگی کیوں خارزار بن جائے، ٹوٹے بکھرے گھروں کے بچے کس طرح کے ہوتے ہیں یہ تم سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے! پرہاں! ان سب تلخ حقائق کے باوجود مجھے کوئی اپنے پیار کی گھنی چھاؤں میں رہنے کی بھیک دے دے تو میں آخری سانسوں تک اس کا ساتھ نبھانے کو تیار ہوں‘‘ اس نے یہ کہتے ہوئے میرا ہاتھ تھام لیا۔
’’زندگی بھر ساتھ نبھانے کا وعدہ، وہ کیسے؟ آپ شادی شدہ ہو، کیا آپ کی بیوی آپ سے علیحدگی اختیار کر لے گی؟ شادی کے بغیر زندگی بھر کا ساتھ کیسے نبھایا جا سکتا ہے؟‘‘ یہ بات میرے گلے سے اتر نہیں رہی تھی‘‘۔
’’پیار تو ایک لافانی جذبہ ہے شاہین! اس کا شادی سے کوئی تعلق نہیں، شادی سے پیار نہیں خریدا جا سکتا ہے، وہ اپنے فلسفے سے مجھے رام کرنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ مجھے لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سیف الملوک اور نہ جانے کون کون سی عشق و محبت کی لوک کہانیاں سنا کر میرے دل میں اترنے کی جستجو کررہا تھا۔
میں اس کی بات کا مفہوم سمجھ رہی تھی اور شش و پنج میں تھی کہ اسے کہوں تو کیا؟ میں تو خود اس پر عاشق ہو گئی تھی لیکن ہم دونوں کے ایک ہونے کا کوئی درمیانی راستہ سجھائی نہ دے رہا تھا۔
’’نہ جانے کیوں تمہیں دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ ہماری جوڑی کتنی فٹ رہے گی، کتنی پیاری ہو تم، تمہیں دیکھ کر تو کسی کا بھی ایمان ڈانواں ڈول ہو سکتا ہے‘‘ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جب یہ کہا تو مجھے لگا وہ دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے نہ مجھے پھانسنے کیلئے مکھن لگا رہا ہے، مجھے راہ چلتے دیکھ کر کئی بندے میرے حسن میں کھو جاتے تھے، یہ میں نے کئی بار محسوس کیا تھا، میں اپنی خوبصورتی کے قصیدے نہیں پڑھ رہی، مجھے رب نے بنایا ہی خوبصورت تھا۔
’’میری محبوبہ بنو گی‘‘ وہ جیسے میرے ترلے کررہا ہو۔
’’پتہ نہیں‘‘۔
یہ کہہ کر میں گھر چلی آئی اور پھر کئی روز میں سکندر سے نہ ملی لیکن اس کو بھولی بھی نہ، بے چین سی کیفیت میں میرا دل کہیں بھی نہ لگ رہا تھا، اس کی یاد کسی کل آرام نہ لینے دیتی تھی، جو اس نے کہا تھا وہ قابل قبول نہ تھا، لیکن دل مر جانے نوں پتہ نئیں کی ہویا سی کہ اس کی طرف ہی کھنچا چلا جاتا تھا، میری زندگی جیسے کسی طوفان میں گھر چکی تھی۔
کبھی میں نقش دیوار ہو جاتی تو کبھی دل میں پیارے کی ہلکی ہلکی ٹیس محسوس کرنے لگتی۔ مجھے رہ رہ کر اس کی نگاہ ناز کچوکے سے لگاتی تھی، نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ تھا ،رات بھر میں سکندر کے بارے میں سوچتی رہی، اس کو بھولنا شاید میرے لئے مشکل ہو گیا تھا، مجھے دنیا کے کئی بڑے افراد یاد آئے جنہوں نے دو دو شادیاں کی تھیں، اور کئی شادی شدہ آدمی ذہن میں آئے جن پر کنواری لڑکیاں مرتی تھیں۔
دماغ دل کا ساتھ نہیں دے رہا تھا، کیا غلط ہے، کیا صحیح ہے کے چکر میں ایک ہفتہ گزر گیا، ایک روز میں ڈیوٹی ختم کر کے ایئرپورٹ سے نکلی تو سامنے سکندر کار میں موجود تھا، شیو بڑھی ہوئی تھی، سر کے بال الجھے الجھے اور اس کی درویشوں جیسی آنکھوں میں جیسے برسوں کی اداسی تھی، اس کو دیکھتے ہی میرے دل میں خوشی کی لہر سی ابھری لیکن میں نے اس پر ظاہر نہ ہونے دیا۔
’’تمہیں ایک بار بھی یاد نہیں آیا میں، کتنی بے مروت ہو تم‘‘ اس نے نم آنکھوں سے شکوہ کیا۔
میں کچھ نہ بولی، اسکی چشم تر دیکھ کر میرا دل اداسی سے بھر گیا، لیکن ساتھ ہی یہ احساس بھی جاگزیں ہوا کہ سکندر مجھے کتنا چاہتا ہے۔
’’مجھے بھولے نہیں آپ‘‘ میں اس کے من میں جھانکنا چاہتی تھی۔
’’تم کوئی بھولنے والی چیز ہو؟ اس نے سوال داغ دیا۔
پھر وہ رات ہم نے اکٹھے گزاری، وہ مجھے چھوتا تو میرے رگ و پے میں سرور کی لہریں اٹھنے لگتیں، امنگوں، ترنگوں کا تلاطم برپا ہو جاتا، جب میں اس کے کاندھے پر سر رکھتی تو بے حد سکون محسوس ہوتا، میں اس کی محبت کی حوالات میں قید ہو چکی تھی۔
پھر تو جیسے یہ معمول بن گیا، وہ بزنس کے بہانے اور میں کام کے بہانے اکثر راتیں باہر گزارنے لگے، صبح جب لمحہ جدائی آتا تو لگتا جسم سے روح جدا ہو رہی ہے ’’آپ اپنا فلیٹ لے لو‘‘ ایک روز سکندر نے میرے دل کی بات کہہ دی، پے منٹ میں کروں گا، اپنی پسند کا گھر تم تلاش کرو گی‘‘۔
میں نے سنگل بیڈ روم کا چھوٹا سا فلیٹ پسند کر لیا، سکندر اور میں نے مل کر خرچہ کیا، مہینہ بھر میں میں لینڈ لیڈی بن چکی تھی۔ سکندر نے گھر کو سامان سے بھر دیا، گھر میں عیش و آرام کی ہر وہ چیز موجود تھی جس کا میں ارمان کر سکتی تھی، مما پپا کو جب پتہ چلا تو انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا، دونوں مجھ سے جھگڑ بیٹھے۔ ’’آپ کی جھک جھک سے چھٹکارا پانے کیلئے ہی میں نے یہ قدم اٹھایا ہے‘‘ مجھ سے رہا نہ گیا، یہ ہر وقت کی ٹر ٹر نے میرا سکون برباد کر دیا ہے، میری اپنی بھی کوئی لائف ہے، گھر چھوڑ رہی ہوں دنیا نہیں، آتی جاتی رہوں گی اگر آپ کو پسند ہو تو‘‘ یہ میرے آخری الفاظ تھے اس کے بعد میں نے وہ چار دیواری چھوڑ دی جہاں میں نے زندگی کی بہاریں کم اور خزاں جیسا عرصہ زیادہ بتایا تھا۔
سکندر کے پیار نے مجھے دنیا کے ہر رشتے سے جیسے بے نیاز کر دیا تھا، میں اس کی محبت میں ایسی گم ہوئی کہ سارے غم جیسے دفن ہو کر رہ گئے ہوں۔
وہ روزانہ شام کو گھر جانے سے قبل تین چار گھنٹے میرے ساتھ گزارتا، میں اس کیلئے کھانا بناتی، اس کے کپڑے دھوتی، استری کرتی، پوری عورت بن کر میں اس کی خدمت کرتی، اس کی سیوا میں کوئی کسر نہ چھوڑتی تھی، میں نہیں چاہتی تھی جو کمی اس نے بیوی میں محسوس کی تھی وہ کمی مجھ میں بھی ہو، میں اس کے جذبات و احساس کی قدر کرتی، اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی، جب نصف شب کو وہ مجھے چھوڑ کر جاتا تھا تو میں اکثر رو پڑتی‘‘۔
’’سن رہی ہو نہ صائمہ‘‘ اس نے اچانک ہی جیسے بم پھوڑ دیا ہو مجھے جھٹکا لگا، ہوں، ہاں،، ہاں… میں تو اس کی کہانی میں ایسی کھوئی کہ اس نے مجھے متوجہ کیا تو جیسے میں کسی حصار میں سے نکل آئی ہوں۔
’’رکو مت، جاری رکھو، میں ہمہ تن گوش ہوں، میرے اتنا کہتے ہی اس نے سلسلہ وہیں سے جوڑا‘‘۔
’’روتی کیوں ہو؟ جتنا پیار ہے، سارا تو تمہارا ہے، تمہیں دے کر جا رہا ہوں، اس کے لئے کیا بچا ہے؟‘‘ وہ مجھے تسلی دیتا۔

مزید پرھنے کے لیے لنک پر کلک کریں. < < ادھورا رشتہ پارٹ 2 >>

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love