’’الوداع 2017ء… خوش آمدید 2018ء‘‘
تحریر:۔ وسیم بن اشرف، ڈپٹی نیوز ایڈیٹر۔ دنیا میڈیا گروپ۔ ملتان
کیلنڈر کا آخری پتا جس پر موٹے حروف میں 31 دسمبر چھپا ہوا تھا، ایک لمحہ کے اندر اس کی پتلی انگلیوں کی گرفت میں تھا، اب کیلنڈر ایک ٹنڈ منڈ درخت سا نظر آنے لگا تھا، جس کی ٹہنیوں پر سے سارے پتے خزاں کی پھونکوں نے اڑا دئیے ہوں، دیوار پر آویزاں کلاک ٹِک ٹِک کر رہا تھا، کیلنڈر کا آخری پتا جو ڈیڑھ مربع انچ کاغذ کا ایک ٹکڑا تھا، اس کی پتلی انگلیوں میں یوں کانپ رہا تھا گویا سزائے موت کا قیدی پھانسی کے سامنے کھڑا ہے۔
کلاک نے بارہ بجائے، پہلی ضرب پر انگلیاں متحرک ہوئیں اور آخری ضرب پر کاغذ کا وہ ٹکڑا ایک ننھی سی گولی بنا دیا گیا، انگلیوں نے یہ کام بڑی بے رحمی سے کیا اور جس شخص کی یہ انگلیاں تھیں اور بھی زیادہ بے رحمی سے اس گولی کو نگل گیا۔ اس کے لبوں پر تیزابی مسکراہٹ پیدا ہوئی اور اس نے خالی کیلنڈر کی طرف فاتحانہ نظروں سے دیکھا اور کہا ’’میں تمہیں کھا گیا ہوں… بغیر چبائے نگل گیا ہوں‘‘ اس کے بعد ایک ایسے قہقہے کا شور بلند ہوا جس میں ان توپوں کی گونج دب گئی جو نئے سال کے آغاز پر کہیں دور داغی جا رہی تھیں۔
نئے سال کا آغاز ہوا چاہتا ہے، عجیب بے تکی حرکتوں کے نظارے دیکھنے کو ملیں گے، کہیں کلچر، تہذیب و ثقافت کی جھلک نمایاں ہو گی تو کہیں غیر حقیقی، توہم پرست رسومات اور روایات کے جلوے ہوں گے، دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف اقوام کے لوگ الگ الگ انداز میں نئے سال کا جشن منائیں گے، دنیا کے میلے میں رنگ برنگی دکانیں سجیں گی، امریکا کے ٹائم اسکوائر کی گھڑی پر 31دسمبر کو 11 بجکر 59 منٹ ہوتے ہی اچانک نئے سال کی آمد کا شور مچتا ہے اور برسوں سے وہاں ایسا ہی ہو رہا ہے، فٹ بال کے متوالوں کے ملک برازیل میں نئے سال کی شام ہے، لوگ سفید لباس زیب تن کر رہے ہیں، وہ نئے سال میں گندی اور خراب روحوں سے خود کو محفوظ رکھنے کا اہتمام کر رہے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ نئے سال کی پہلی شام کو مکمل سفید لباس زیب تن کرنے سے اس برس کوئی بدروح آپ کو ستائے گی نہیں، سفید لباس گندی روحوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دے گا، بدروحوں سے ڈرنے والوں کے ملک برازیل میں ہی سال کی پہلی شام ہے، سمندر کے کنارے لوگوں کا ہجوم ہے۔ وہ سات سمندروں کی لہروں میں چھلانگ لگانے آئے ہیں، اگر وہ چھلانگ لگائیں گے تو اس روایت کو زندہ رکھیں گے جس کے مطابق لہروں میں چھلانگ لگانے سے نیا سال ان کے لئے خوش بختیاں لائے گا، گھڑی پر 12 بجنے میں چند سیکنڈ باقی ہیں، لوگوں نے لہروں میں چھلانگیں لگانا شروع کر دیں، جب ڈبکی لگا کر سر پانی سے نکالا تو وہ نئے سال میں داخل ہو چکے تھے، انہوں نے خود کو برائیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف کر لیا تھا۔ کچھ لوگ سمندر میں تازہ پھول اور گلدستے پھینک رہے تھے، وہ خوش بختی پانے کیلئے اپنی روایات کو نبھا رہے تھے۔
آدھی رات کا وقت تھا، ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد اپنے سامنے ایک چمچ مسور کی دال اور کوئی مختلف بیج رکھ کے بیٹھا تھا، 12 بجنے سے چند سیکنڈ قبل سبھی نے دال اور بیج کھانا شروع کر دئیے، یہ ملک چلی کے افراد تھے، وہ ہر نئے سال کاتہوار یونہی عجیب و غریب انداز میں مناتے ہیں، انہیں ایک اور رسم کا بھی پالن کرنا تھا، وہ اپنے جوتے کے تلے میں تھوڑی سی رقم بڑے اہتمام سے رکھ رہے تھے، ان کا عقیدہ ہے کہ یہ عمل کرنے سے اگلے 12 ماہ انہیں روپے پیسے کی کمی ہو گی نا پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رات کے اس خاص حصے میں بہت سے لوگ قبرستانوں میں جمع تھے، یہ خطرات سے کھیلنے اور چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ رکھنے والے لوگ تھے، وہ قبرستان میں آدھی رات کو گھنٹی بجاتے ہیں، وہ اپنے محبوب اور پیارے لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ نیا سال آ گیا ہے، ان لوگوں کو نئے سال کی نوید سنا رہے ہیں جو منوں مٹی تلے ابدی نیند سو رہے ہیں، عجب رنگ و بو کا عالم ہے۔
نئے سال کی آمد پر آتش بازی کا ایسا زبردست مظاہرہ کیا جا رہا تھا کہ آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں، یہ انگشت بدنداں کر دینے والے مناظر تھے، نصف شب کو آسمان رنگوں سے منور تھا، وہاں کے باشندوں نے اپنے رواج کے مطابق سرخ لباس پہن رکھے تھے، بچے، بوڑھے، جوان، خواتین، مرد سبھی نے سرخ غباروں اور اسی رنگ کی آرائشی چیزوںسے گھروں، بازاروں، گلیوں، دکانوں، عمارتوں کو دلہن بنا رکھا تھا، بچوں کو سرخ رنگ کے لفافوں میں بطور انعام کچھ رقم بھی دی جا رہی تھی، بچے اس عمل کو اپنے لئے نیک شگون قرار دے رہے تھے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ رقم ان کے لئے خوشی اور خوشحالی لاتی ہے، جی ہاں یہ ذکر ہے اپنے پڑوسی اور دوست ملک چین کا، کہتے ہیں کہ دنیا میں چین وہ ملک ہے جس نے سب سے پہلے بارود یا آتش گیر مادہ ایجاد کیا تھا، پھر یہ کیسے ممکن ہے نیا سال آئے اور چینی آتش بازی کے سحرانگیز مظاہرے نہ کریں، دوسرے ایشیائی ملکوں کی طرح جہاں چینی نئے عیسوی سال کی آمد پر بڑا اہتمام کرتے ہیں وہاں یہ قوم اپنے چینی قمری سال کی آمد پر بھی شاندار جشن مناتی ہیں، یوں دو سال یعنی قمری اور عیسوی منانے سے ان کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔
عجیب عقیدہ رکھنے والے کیوبا کے لوگ دوران سفر زہریلے کیڑوں یا سانپوں کے ڈسنے سے ڈرتے ہیں، وہ پیش بندی کے طور پر اس کا توڑ کرتے ہیں، کیوبا کے باشندوں کو وہاں کے روایتی معالج ہدایت دیتے ہیں کہ جیسے ہی نئے سال کی آمد کا اعلان ہو یعنی رات کے 12 بجیں وہ ایک سوٹ کیس سے اپنے گھر کے اطراف ایک خیالی یا تصوراتی دائرہ بنا لیں، یہ ایک حفاظتی حصار ہے، اگر وہاں کے باشندوں نے یہ بنا لیا تو پھر سال بھر انہیں کوئی زہریلا جاندار کاٹ سکتا ہے اور نہ ہی سال بھر دوسرے ممالک کے سفر کے دوران کوئی راستہ کھوٹا کرے گا اور غیر ملکی سفر کے بہت سے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ کیوبا میں بعض افراد ایک اور قدیم روایت پر بھی عمل کرتے نظر آتے ہیں۔31 دسمبر کی نصف شب اپنے گھروں کی صفائی کرتے ہیں، جھاڑو دیتے ہیں، کھڑکیوں میں کھڑے ہو کر باہر پانی پھینکتے ہیں تاکہ گھر کے اندر کی بلائیں باہر نکل جائیں اور سال بھر پلٹ کر نہ آئیں۔
اس جہان رنگ و بو میں دوستوں اور پڑوسیوں سے محبت تو سبھی کرتے ہیں لیکن ڈنمارک میں نئے سال کی آمد پر چاہت کا یہ اظہار دلچسپ اور انوکھے انداز میں کیا جاتا ہے، دوست اور پڑوسی ایک دوسرے کے گھروں کی دیواروں پر پلیٹیں اور گلاس پھینکتے ہیں جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں، یہ تو نئے سال کی آمد پر وہاں کا عام رواج ہے، خاص انداز یہ ہے کہ نصف شب کے قریب وہاں کے باشندے کرسیاں رکھ کر ان پر کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے گھڑیاں 12 بجاتی ہیں تو وہ کرسیوں سے فرش پر چھلانگیں لگا دیتے ہیں اور یوں بڑے پرجوش انداز میں نئے سال میں قدم رکھ کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ سال بھر اسی طرح ہر کام کریں گے اور کسی سے نہیں ڈریں گے۔
زندگی کی اس ہماہمی میں، گہماگہمی میں کچھ نیا اور عجیب و غریب دیکھنا ہو تو ایکواڈور چلے جائیں، یہاں نیا سال منانے کا انداز ہی نرالا ہے، یہاں کے باشندے اس موقع پر اپنے سیاستدانوں کے پتلے تو جلاتے ہی ہیں ساتھ ہی اپنے مخالفین کے پتلے بنا کر انہیں نذر آتش کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، گویا اس ملک میں گزرے سال کے آخری لمحات اور آنے والے سال کی ابتدائی گھڑیوں میں لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر آسمان کو روشن کر دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ان لوگوں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ برس کی منفی توانائی، منفی سوچ اور جذبے سے نجات حاصل کر لیتے ہیں، ان ممالک میں اس موقع پر ایک اہم کام اور بھی کیا جاتا ہے جو لوگ اپنے مخالفین یا سیاستدانوں کے پتلے جلانا پسند نہیں کرتے وہ اپنے گھر میں کچھ رقم اس طرح چھپا دیتے ہیں کہ کوئی اسے تلاش نہ کر سکے ان کا یہ عقیدہ ہے کہ گھر میں چھپائی گئی یہ رقم ان کے لئے سال بھر کی خوشحالی لاتی ہے۔
آپ کو کتنا عجیب لگے گا جب کوئی آپ سے یہ کہے کہ چائے کی پتی مستقبل کا حال بتا دیتی ہے، آپ کو ایسا کہنے والے کی دماغی صحت پر شبہ ہو گا لیکن کیا کہنے جرمن عوام کے جن کا یہ عقیدہ ہے کہ نیا سال ہمیں مستقبل کی جھلک دکھاتا ہے۔ 31 دسمبر کی نصف شب اہل جرمنی ایک پیالی میں چائے کی پتی ڈال کر اس میں پانی انڈیلتے ہیں اور پھر اس میں جھانکتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے انہیں مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی جھلکیاں دکھائی دے سکتی ہیں، حیران نہ ہوں آسٹریا میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، وہاں کے بعض افراد ایک چمچ سیسہ ٹھنڈے پانی میں ڈالتے ہیں، اس عمل کے نتیجے میں جو شکل بنتی ہے وہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی ترجمانی کرتی ہے، یوں تو جرمنی کے لوگ نئے سال کی آمد کے موقع پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپنے پسندیدہ پروگرام بھی دیکھتے ہیں۔
ہیں اس عالم کے رنگ ڈھنگ نرالے، یونانی باشندے خصوصی طربیہ نغمے تیار کر رہے ہیں، جنہیں بچے گائیں گے، اس گائیکی کے عوض ان کے بڑے، پڑوسی اور خاندان کے لوگ انہیں انعامی رقم دیں گے، یہ رقم ان کے لئے بڑی اہم ہو گی، بچے اسے سال بھر سنبھال کر رکھیں گے کیونکہ یہ ان کے لئے خوش بختی کی علامت ہے، کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہے، 12 بجے سے دو سیکنڈ قبل یونانی اپنے گھروں، بازاروں کی لائٹس بند کر دیں گے۔ برطرف اندھیرے کا راج ہو گا، وہ نئے سال کو کھلی اور تازہ آنکھوں سے اترتے دیکھیں گے۔ پھر اچانک تمام لائٹس آن کر دی جاتی ہیں، ہر شے روشنی میں نہا جاتی ہے، پرانے سال کا نام و نشان باقی نہیں رہتا جبکہ نیا سال پوری آب و تاب کے ساتھ آ چکا ہوتا ہے۔ اس اہم ایونٹ کی ایک اور قدیم روایت VASILOPITA ہے ۔ یہ ایک کیک ہے جو خاص طور پر اسی موقع کے ﷲٗے تیار کیا جاتا ہے ۔ اس کیک کے اندر کوئی سکہ یا کوائن یا کوئی چھوٹی سی چیز چھپی ہوتی ہے ، جس فرد کے حصے میں کیک کاوہ ٹکڑا آتا ہے جس میں سکہ چھپا ہوتا ہے ، اسے بہت خوش قسمت سمجھا جاتا ہے کہ آنے والا سال اس کے لئے اپنے ساتھ بہت سی کام یابیاں لایا ہے ۔
جاپان میں بھی نیا سال خاص انداز سے منایا جاتا ہے ، مگر یہاں کے بودھوں کی نظر میں اپنا کیلنڈر اہم ہے ۔ بہت سے جاپانی اس سال کے جانور کے حساب سے نیا سال مناتے ہیں۔ جیسے 2014 ء کے سال کا جانور گھوڑاتھا ۔ یہ لوگ اس موقع پر مندروں میں جاتے ہیں اور ان کی گھنٹیاں 108 بار بجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اہل جاپان نئے سال کی آمد کے موقع پر اپنے گھروں کی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ان کے ہاں ایک بات بہت اچھی ہے ، یہ لوگ گزشتہ سال کے جھگڑے اور تنازعات اس موقع پر ختم کردیتے ہیں تاکہ نئے سال میں بالکل نئے اور تازہ انداز سے داخل ہوں اور یہ سال جھگڑوں اور اختلافات سے پاک شروع ہو۔ اس طرح ان کا ملک تنازعات سے پاک ہوجاتا ہے ۔
نیدرلینڈ یا ہالینڈ میں ہر بار نئے سال کی آمد کے موقع پر ہر ولندیزی کاربائیڈ شوٹنگ کے ایونٹ میں ضرور شریک ہوتا ہے ۔ اس میں دودھ کے ڈبوں میں کیمیکل ڈال کر پہلے ہلایا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے ہلکے دھماکے سے اڑادیا جاتا ہے ۔ مگر چوں کہ یہ کسی حد تک خطرناک بھی ہوتا ہے ، اس لیے ہالینڈ کے متعدد شہروں میں اس رسم پر پابندی عائد ہے ۔ اس کے باوجود نوجوان اس موقع پر اس کاربائیڈ شوٹنگ سے لطف اندوز ہونے سے باز نہیں آتے لیکن ہالینڈ کے اکثر لوگ اس کو پسند نہیں کرتے ، مگر چونکہ اس موقع پر جشن تو منانا ہے ، چنانچہ اکثر شوقین لوگ اس موقع پر سمندر کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ اس سرد موقع پر سوئمنگ کے مختصر لباس میں نہ صرف منجمد کرنے والے پانی میں غوطہ خوری کرتے ہیں، بلکہ شمالی سمندر کی سرد لہروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نئے سال کا استقبال اس جرأت سے کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ گویا ہالینڈ کے لوگ آنے والے نئے سال کو جرأت و بہادری کے حوالے سے وقف کرتے ہیں۔
فلپائن میں اگر نیا سال کسی نئے انداز کے فیشن سے شروع کیا جائے تو یہ ایک اچھی علامت ہوتی ہے ۔ فلپائن کے لوگ ہر نئے سال کی آمد ایک خاص انداز سے مناتے ہیں۔ وہ اس موقع کے لئے مخصوص لباس زیب تن کرتے ہیں جن پر گول گول سے ڈیزائن بنے ہوتے ہیں۔ اس مخصوص شام کو وہ اپنی جیبوں میں گول سکے بھی رکھتے ہیں، کیونکہ گول ڈیزائن انہوں نے اس ایونٹ کے لئے خاص کیا ہوا ہے ۔ اہل فلپائن نے گول ڈیزائن کو خوشی اور خوش حالی کی علامت قرار دے رکھا ہے ۔ اس لیے بعض فیملیاں اور افراد تو اس موقع پر گول پھل جیسے سنگترے اور گریپ فروٹ (چکوترے ) کھاتے ہیں، گول پھل سجاتے ہیں اور گول ڈیزائن کے پرچم اور جھنڈیاں اپنے گھروں پر لگاتے ہیں۔
روس میں نئے سال کے حوالے سے ایک دل چسپ رواج ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی ایسی خواہش ہے جس کے لئے وہ چاہتا ہے کہ یہ جلدازجلد پوری ہو؟ یا اس کا کوئی خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہورہا؟ تو وہ نئے سال کے موقع پر یہ کرتا ہے کہ اپنی اس خواہش کو کسی کاغذ پر لکھ کر اس کاغذ کو جلاتا ہے اور اس کی راکھ شمپئن کے ایک گلاس میں ڈال کر اسے غٹاغٹ پی جاتا ہے ۔ روسی نئے سال کی آمد کے موقع پر اپنی ادھوری اور تشنہ خواہش کی تکمیل کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں۔ نئے سال کی روایتی تقریبات میں نئے سال کا درخت بھی شامل ہے جسے خصوصی اہتمام سے سجایا اور سنوارا جاتا ہے ۔ اس موقع پر سانتا جیسی ایک فیگر بھی آتی ہے جسے روسی Ded Moroz (Grandfather Frost) کہہ کر پکارتے ہیں۔ ڈیڈ موروز اصل میں فروسٹ یا انجماد کا دادا ہے ۔ برف جیسی سفید داڑھی والا یہ بوڑھا اپنی پوتی Snegurochka کے ساتھ آتا ہے ۔ یہ لڑکی برف کی خادمہ کہلاتی ہے ۔ دونوں دادا پوتی مل کر بچوں میں تحفے تقسیم کرتے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ کے لوگوں کو تحفے دینے کا کریز ہے ۔ یہ لوگ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بہانے بہانے سے تحفے دیتے ہیں اور اس حوالے سے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ نئے سال کے موقع پر بھی اسکاٹ لینڈ میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ اگر آپ اپنے کسی دوست یا رشتے دار کے ہاں اس وقت پہنچتے ہیں جب نیا سال اپنی آمد کی گھنٹی بجارہا ہوتا ہے ، تو میزبان آپ کے سامنے بچھ جائیں گے اور آپ کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے لیکن چونکہ آپ اس گھر میں نئے سال میں داخل ہونے والے پہلے فرد قرار پائے ، اس لئے آپ پر لازم ہے کہ اپنے میزبانوں کے لئے تحفے تحائف ضرور لے جائیں لیکن یہ تحفے زیادہ قیمتی نہیں ہونے چاہئیں بلکہ کم قیمت اور چھوٹے ہوں، مگر ان سے محبت کا اظہار ہوتا ہو۔ مثال کے طور پر ان تحفوں میں ڈبل روٹی بھی ہوسکتی ہے اور وہسکی بھی۔ اسکاٹ لینڈ کے لوگ نئے سال کا خیرمقدم آتش بازی سے بھی کرتے ہیں جو یہاں کی قدیم روایت ہے ۔
اگر آپ جنوبی افریقا میں رہتے ہیں اور پیدل چلنے کے شوقین ہیں تو نئے سال کی آمد کے موقع پر ذرا محتاط رہیں، کیونکہ اس ملک کے شہر جوہانسبرگ میں ایک عجیب سی روایت ہے۔ جوہانسبرگ کے لوگ نئے سال کی آمد کے موقع پر اپنا پرانا فرنیچر، بجلی کی مصنوعات جیسے ریڈیو، ٹی وی وغیرہ اٹھاکر بڑی بے پروائی کے ساتھ گھروں کی کھڑکیوں میں سے باہر سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ یہ سامان کسی کو نقصان بھی پہنچاسکتا ہے ۔ گویا جنوبی افریقا کے لوگ نئے سال کے آنے سے پہلے پرانی چیزوں سے نجات پانا پسند کرتے ہیں اور نئے سال میں نئی چیزیں خریدتے ہیں، تاکہ نیا زمانہ ان کے لئے نئی خوشیاں لائے ۔
اسپین میں اور اسپینش بولنے والے دوسرے ملکوں میں نئے سال کی آمد بڑے خاص انداز سے منائی جاتی ہے ۔ اس روز نصف شب کو 12 انگور کھانا یہاں کی قدیم روایت ہے ۔ بارہ انگور بارہ مہینوں کی ترجمانی کرتے ہیں اور انہیں کھانے کا مقصد یہ ہے کہ آنے والے سال کا ہر مہینہ ان کے لئے خوش بختی لائے گا۔یہ بارہ انگور بھی بڑے اہتمام اور سلیقے سے کھائے جاتے ہیں۔ اس موقع پر رات کے بارہ بجے جب نیا سال بارہ گھنٹیوں کے ساتھ اپنی آمد کا اعلان کرتا ہے تو اس کی ہر گھنٹی پر ایک انگور کھانا ہوگا، واقعی بہت دلچسپ روایت ہے ۔
ویسے تو نئے سال کا جشن ہر ملک میں ہی نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ، تاہم اس دوران کھانے پینے پر بھی بہت زور دیا جاتا ہے ۔ جہاں دنیا 2017ء کے اختتام پر 2018ء کے آغاز کا جشن منائے گی، وہیں کئی ممالک میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس سال کی شروعات کچھ خاص کھا کر کرتے ہیں۔ جیسے کسی ممالک میں سال کا آغاز دال کھا کر کیا جاتا ہے ، تو کہیں اس موقع پر انار کو ترجیح دی جاتی ہے اور ایسے ہی کئی ممالک کی اپنی اپنی روایات اور رسومات ہیں جنہیں سالوں سے اہمیت دی جارہی ہے ۔
بیلاروس میںمکئی کھا کر،ایران میںفالودہ کھا کر، ارجنٹائن میںلوبیا کھا کر،آئر لینڈمیںبٹر بریڈ کھا کر، جاپان میںنوڈلز کھا کر، جرمنی میںڈونٹ کھا کر، پولینڈ میںاچار کھا کر، بھارت میں مسور کی دال اور چاول کھا کر اور ترکی میںانار کھا کر نئے سال کا آغاز کیا جاتا ہے۔ اس کے سوا بھی بہت کچھ ہے جو حیران کر دیتا ہے۔ ایسی روایات ہیں کہ سننے اور دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ مثلاً سوئٹزر لینڈ میں یہ عجیب و غریب روایت عام ہے کہ یہاں سال نو کا آغاز فرش پر آئس کریم گرا کر کیا جاتا ہے ۔ کولمبیا میں لوگ اس روز خالی سوٹ کیس لے کر گلیوں اور محلوں میں گھومتے ہیں، تاکہ نیا سال ان کے لئے سیر و تفریح اور سفر کے مواقع لے کر آئے ۔ ارجنٹائن میں لوگ نئے سال کا خیر مقدم داہنے پیر پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں، تاکہ آنے والا سال ان کے خاندان کے لئے خوش قسمتی اور خوشحالی لے کر آئے ۔ بولیویا کے لوگ نئے سال کے جشن منانے کے لئے سویٹ ڈش تیار کرتے ہیں جس میں ایک سکہ چھپا ہوتا ہے یہاں کے لوگوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ جس شخص کے حصے میں سکہ آتا ہے اس کے لئے نیا سال خوش بختی لے کر آتا ہے ۔ اسٹونیامیں لوگ نئے سال پر سات بار کھانا کھاتے ہیں، تاکہ سال بھر ان پر اسی طرح رزق کی فراوانی رہے ۔ رومانیہ کے لوگوں میں یہ روایت برسہا برس سے چلی آرہی ہے کہ اس روزخوش قسمتی حاصل کرنے کے لئے ایک سکہ دریا میں اچھالا جاتا ہے ۔ یہاں سال کی اختتامی شب کسان گائے کے کان میں سرگوشی کرتے ہیں اور اسے نیا سال مبارک کہتے ہیں لیکن اگر گائے جواب میں کچھ ردعمل ظاہر کرے تو اسے آئندہ برس کے لئے بد قسمتی تصور کیا جاتا ہے ۔آئرلینڈ کے لوگ نئے سال کے آغاز پر شیطانی قوتوں کو گھر سے باہر نکالنے اور خوش قسمتی کے لئے دروازہ کھولنے کے لئے گھر کے دروازوں اور دیواروں پر ڈبل روٹی کے ٹکڑے پھینکتے ہیں۔آسٹریلیا میں جہاں آتش بازی کے بڑے بڑے مظاہروں کے ساتھ نئے سال کا خیرمقدم کیا جاتا ہے ، وہیں یہ روایت بھی عام ہے کہ اس روز لوگ سڑکوں اور گلیوں میں گھر کے برتنوں کو بجا کر نئے سال کا اعلان کرتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں لوگ سال کی آخری شب اپنے گھر کے صدر دروازے پر رکاوٹ کھڑی کر دیتے ہیں۔ لہذا، اگلے دن جو شخص بھی اس رکاوٹ کو پھلانگ کر گھر میں داخل ہوتا ہے اسے گھر والوں کی خوش بختی کے لئے ایک تحفہ لانا پڑتا ہے ۔ فرانس میں لوگ سال نو کی آمد پر خوب جی بھر کر پین کیک کھاتے ہیں، جبکہ ترکی میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ اس رات انار کے دانے گھر کی کھڑکی سے باہر پھینکے جاتے ہیں۔ اسی طرح، گوئٹے مالا کے لوگ سال نو کے لیے خوش قسمتی حاصل کرنے کے لئے بارہ سکوں کو سے باہر اچھالنے کی رسم ادا کرتے ہیں۔
ہمیشہ نئے سال کا سورج سب سے پہلے نیوزی لینڈ میں طلوع ہوتا ہے لیکن اس کے طلوع ہونے سے چند گھنٹے قبل لوگ اس کا بھرپور استقبال کرتے ہیں اورنئی امیدوں کے چراغ جلاتے ہوئے شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ کے مشہور سکائی ٹاور پر لگے گھڑیال پر جونہی 12 بجتے ہیں تو وہاں سے آتش بازی شروع کر دی جاتی ہے اور نئے سال کا خیر مقدم کیاجاتا ہے۔ آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں آتش بازی کے شاندار مظاہرے کے ساتھ نئے سال کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس موقع پرلاکھوں افراد ساحل سمندر، اوپیرا ہائوس اور دوسرے مقامات پر نئے سال کے استقبال کے لئے ہونے والی آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ ان عقائد، رسوم و رواج اور اندھی تقلید کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام ہمیں ایسی توہم پرستی سے منع کرتا ہے۔ یہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ کے لئے ہے کہ دنیا میں کیا کیا عجیب ہو رہا ہے۔ 2018ء کی آمد آمد ہے۔
تخلیق کائنات سے لے کر آج تک سال کے بارہ مہینے ہوتے چلے آئے ہیں۔یہ سال نہ تو گیارہ یا دس ماہ کا ہوسکتا ہے اور نہ ہی تیرہ یا چودہ ماہ کا۔دن اور ماہ وسال کی آمد ورفت کا یہ سلسلہ ازل سے لے کر ابد تک جاری رہے گا۔واضح رہے کہ رومی سلطنت میں153 قبل مسیح سے یہ روایت چلی آ رہی تھی کہ یکم جنوری کو قونصل (شہروں کی دیکھ ریکھ کے لئے تعینات کئے جانے والے سرکاری افسران) مقرر کئے جاتے تھے اور اس تقرری کوسرکاری انتظام وانصرام کا اہم ترین حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت کی رومی سلطنت میں سال کی نشاندہی بھی ان میں مقرر کئے گئے قونصلوں کے حوالہ سے کی جاتی تھی۔ تقرریوں کے لئے اسی دن کا انتخاب کیوں کیا جاتا تھا، اس تعلق سے مورخین کا کہنا ہے کہ لفظ جنوری کا تعلق رومی لفظ ’’ جینس‘‘ سے ہے جواہل روم کے نزدیک تبدیلی اور آغاز کا دیوتا کہلاتا تھا اور اسی بنیاد پر جنوری کے مہینہ کی پہلی تاریخ کو سال کی شروعات کے لئے منتخب کیا گیا۔ حالانکہ اس کے بعد بھی کلینڈر میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں ، لیکن پھر بھی آج تک نئے سال کی شروعات یکم جنوری سے ہی کی جاتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنی زندگی قمری تاریخوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ شمسی وانگریزی تاریخ کے اعتبار سے گزارتے ہیں۔سن عیسوی کہنے کی وجہ یہی ہے کہ ماہ وسال کا یہ حساب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یوم پیدائش سے منسوب ہے۔ شمسی کیلنڈر ایک ایسا کیلنڈر ہے جس پر دنیا بھر کی ایک بڑی آبادی عمل کرتی ہے اور اسی کے مطابق سرکاری وغیرسرکاری دفاتر میں کام ہوتا ہے ۔
نئے سال کے موقع پر لٹیوا، فلپین اور سان مرینو جیسے ملکوں میں سرکاری تعطیل ہوتی ہے جبکہ بنگلہ دیش، برونئی ، پیراگوئے اور جاپان جیسے ممالک میں اس دن بینکوں کی چھٹی رہتی ہے۔ (نئے سال پر جاپان میں سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے )۔آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں ملک گیر سطح پر نئے سال پر سرکاری چھٹی تو نہیں ہوتی البتہ اس روز کچھ کاروبار جلد بند ہوجاتے ہیں۔اسکول عموماً بند رہتے ہیں اور بہت سے لوگ نصف دن تک ہی کام کرتے ہیں۔گریگرین کیلنڈر کے مطابق،31دسمبر کی تاریخ جاری سال کی آخری تاریخ ہوتی ہے اور یکم جنوری سال کاپہلا دن ہوتا ہے جو کہ نئے سال کے آغاز کی علامت ہے ۔کہا جاتا ہے کہ پوپ گریگری نے 1582 میں گریگرین کیلنڈر متعارف کرایا۔یورپ کے کچھ حصوں میں تو فوراً اس کیلنڈر کا استعمال کیا جانے لگا ، لیکن متعدد ملکوں میں کئی صدیوں تک اس کا استعمال نہیں کیا گیا۔امریکہ اور برطانیہ نے 1752 میں گریگرین کیلنڈر کا استعمال کرنا شروع کیا۔
اب جبکہ سال نو دستک دینے کی تیاری میں ہے ،لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں اس کا جشن منانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے دیکھنے میں آیا ہے کہ سال نو کی آمد کا جشن 31دسمبر کی رات کو اپنے نقطہ عروج پر پہنچ جاتا ہے ۔جب رات کے ٹھیک 12بجے گھڑی کی سوئیاں تاریخ میں تبدیلی کا اعلان کرتی ہیں تودنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں کے ہوٹلوں، کلبوں، میخانوں ، شاپنگ مالوں اور تفریح گاہوں وغیرہ میں جشن منانے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے ۔
اس رات کچھ دیر کے لئے اپنے سارے رنج وغم بھلا کر نئے سال کا پرتپاک خیر مقدم کیا جاتا ہے ۔ دعوتوں وضیافتوں کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ محفلیں اور مجلسیں منعقد ہوتی ہیں جس میں رقص وسرودکا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ رنگ برنگی تقریبات منعقد ہوتی ہیں ۔رات بھرشب بیداری ہوتی ہے ، موج ومستی جاری رہتی ہے ۔شراب وشباب کا بھر پور لطف لیا جاتا ہے ۔ نئے سال کا یہ جشن انتہائی فحاشی اور عریانیت کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ تہذیب وثقافت کو گردآلود کیا جاتا ہے۔ تفریح اور موج مستی کے نام پر اخلاقی قدروں کو پامال کیا جاتا ہے،پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں ، آتش بازیاں ہوتی ہیں۔آتش بازیوں سے پوری فضا منور ہوجاتی ہے ۔ ٹیلی فون کر کے یا پھر ایس ایم ایس کے ذریعہ مبارکباد کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے ۔
الغرض اس جشن میں لاکھوں ، کروڑوں روپے برباد کر دئیے جاتے ہیں۔ایک طرف تو جشن اور موج مستی کے نام پر پانی کی طرح لاکھوں ، کروڑوں روپئے بہا دئیے جاتے ہیں تو دوسری طرف کئی ممالک اور معاشروں میں سینکڑوں اور ہزاروں افراد ایسے ہیں جوانتہائی فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ کھانے کے لئے ایک ایک دانے کو ترس رہے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہواگر ان پیسوں کو فضولیات میں خرچ نہ کر کے معاشرہ میں پریشان حال غریبوں اورضرورت مندوں کی مدد کردی جائے ۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ نئے سال کا جشن منانے اور اس موقع پر بے دریغ پیسے خرچ کردینے کے معاملہ میں مسلمان بھی دیگر اقوام سے پیچھے نہیں ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کے لئے نئے سال کا جشن منانے کا سوال ہے ، اسلام ایک سادہ مذہب ہے ۔ وہ سادگی کو پسند کرتا ہے۔ اسلام میںایسی خرافات اور لغویات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اسلام میں بہترین عمل اسے قرار دیا گیا ہے جسے اللہ کی رضاجوئی کے لئے کیا جائے ۔ جو اللہ کی عبادت، اطاعت گزاری اور خدمت خلق پر مبنی ہو۔واضح رہے کہ یہ ماہ وسال تو محض دنوں کو سمجھنے اور ان کا شمار کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اس دن کی ایسی کیا خصوصیت ہے کہ ہم اسے جشن میں تبدیل کردیں اورپھر اس پر بیجا اسراف کرنے لگیں ۔
ہم اپنی زندگی میں نہ جانے کتنے زیادہ اس طرح کے ماہ وسال آتے اور جاتے دیکھتے رہتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔اس میں ہم نے اپنی کون سی متاع عزیز گنوادی ہے اور آنے والے سال کو ہم کس طرح پنے لئے کارآمد اور قیمتی بنا سکتے ہیں، اس پر کچھ سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ۔ خیال رہے کہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں یہ ماہ وسال بیش قیمت ہیں، بالخصوص قوموں کی زندگی میں یہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔بسا اوقات ایک لمحہ کی غلطی اور بھول صدیوں کے کئے ہوئے کارناموں پر پانی پھیر دیتی ہے اور ایک لمحہ کا صحیح استعمال صدیوں کو بیش قیمت بنا دیتا ہے ۔بہترین لوگ وہ ہیں جو ماہ وسال کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں اور صحیح سمجھنا یہی ہے کہ ہم آنے والے نئے سال کے ایک ایک لمحہ کا احتساب کریں۔
ہم محاسبہ نفس کرتے ہوئے اس پر غور وفکر کریں کہ اللہ نے ہمیں یہ جو ماہ وسال عطا کئے ہیں ، اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ گزشتہ سال اور اس سے پہلے کے برسوں میں ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں، ہم نے زندگی کی یہ بیش قیمت مدت فضولیات اور خرافات میں تو گزار نہیں دی۔ ہم اپنے گزرے ہوئے کل کے آئینہ میں اپنے عمل کا محاسبہ کریں ، اپنی ناکامیوں کا جائزہ لیں۔ ہر گزرا ہوا پل کسی بھی انسان کے لئے ایک سبق کا درجہ رکھتا ہے اور اس کے باوجود اگر ہم اپنے اس گزرے ہوئے پل سے سبق حاصل نہ کریں تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہو گی۔آئیے ہم نئے سال کا خیر مقدم اس عہد کے ساتھ کرتے ہیں کہ ہم اس کے ایک ایک لمحہ کا صحیح استعمال ضرور کریں گے ۔
٭……………٭

ماخذ:

٭…نیا سال (افسانہ) از: سعادت حسن منٹو
٭…دنیا کے انوکھے اور دلچسپ ریت رواج از: مرزا ظفر بیگ۔ ایکسپریس ویب
٭…انسائیڈر
٭…وائس آف امریکا (اردو سروس)
٭… نیوز ٹائم
٭… سال نو۔ احتساب از: ندیم احمد۔ روزنامہ انقلاب

[Total: 0    Average: 0/5]

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں