’’ایسی شادیاں… توبہ توبہ‘‘
وسیم بن اشرف

فی زمانہ لوگ کچھ نیا کر کے دکھانے کے خواہشمند رہے، لوگوں کے اندر یہ آرزو جنم لیتی رہی کہ ان کے فن کی تعریف اور تحسین کے گن گائے جائیں، شادی بھی زندگی کا ایک ایسا ہی ایونٹ ہے کچھ لوگ سادگی سے اور کچھ گج وج کے شادی رچاتے ہیں۔ ماضی میں اگر شادی کی رسومات عجیب و غریب ہوتی تھیں تو حال میں بھی ایسی ایسی شادیاں ہو رہی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ بالخصوص مغرب میں تو شادی کو یادگار بنانے کے لئے لوگوں نے ایسے ایسے اقدامات کئے کہ انسان دانتوں میں انگلیاں دبا کر حیران و پریشان رہ جاتا ہے، شادی ایک ایسا سماجی بندھن ہے جس سے زندگی میں رونق میلہ ہے۔ اس کی بنیاد پر خاندان پھلتے پھولتے ہیں۔ شادی کا بندھن بے حد خوبصورت، پرکشش اور نازک ہوتا ہے۔ ہر قوم و مذہب میں شادی کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ شادی کے موقع پر ہر ملک میں خاندان اپنے اپنے رواج کے مطابق مختلف رسومات ادا کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان رسموں کے انداز بھی بدلتے رہتے ہیں مگر اہمیت کسی بھی دور میں کم نہیں ہوتی۔ لیکن کچھ شادیاں ایسی انوکھی ہوتی ہیں کہ انہیں تادیر یاد رکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں دلچسپ، انوکھی، مہنگی ترین اور عجیب ترین شادیوں کا کچھ حال احوال قارئین سرگزشت کی نذر ہے۔ شادی کے لئے کچرے کا ٹرک ہی سجا لیا گیا،دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنی شادی پر کچھ انوکھا کرنے کے لیے اچھوتا انداز اپناتے ہیں۔برطانوی شہر سنڈرلینڈ سے تعلق رکھنے والے 43سالہ کلیرا فیلون اور38سالہ پال ورتھی کا شمار بھی ایسے ہی افراد میں کیا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا جنہوں نے اپنے شادی پر روایتی پرتعیش گاڑیوں میں سفر کرنے کے بجائے کچرا جمع کرنے والے ٹرک کو ترجیح دی۔سنڈرلینڈ سٹی کونسل کیلئے کچرا جمع کرنے کا ٹرک چلانے والا یہ جوڑا اپنی ملازمت کی جگہ پر پہلی بار ملا اور ایک دوسرے سے شادی کے عہد و پیمان کرڈالے ۔ شادی کی تقریب کو یادگار بنانے کیلئے اس جوڑے نے روزی روٹی کے ذریعے کو ہی شادی کیلئے اپنا سفری ذریعہ بنانے کی ٹھانی اور 1لاکھ27ہزار پاؤنڈ مالیت کی بن لوری ویگن کو سجا سنوار کر اسکے ذریعے شادی کے وینیو تک پہنچے ۔ شاندار پرتعیش گاڑیوں یا پھر گھوڑا گاڑیوں اور بگھیوں کے بجائے اس انوکھے سجے سجائے ٹرک پر شادی کے استقبالیے تک پہنچنے والے اس جوڑے نے دیکھتے ہی دیکھتے برطانیہ سمیت دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان بنالی ہے ۔گنیں تان کر زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد بھی کیا جاتا ہے، شادیاں تو آپ نے بہت دیکھی ہوں گی مگر ایک دوسرے پر گنیں تان کر زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد کرتے جوڑے آپ کو کبھی نظر نہیں آئیں ہوں گے ۔جی ہاں امریکی عوام میں آج کل ایک نیا ہی رجحان فروغ پانے لگا ہے وہ یہ کہ دولہا اور دلہن ہاتھوں میں گنیں اٹھائے شادی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس کے بعد وہ نشانہ بازی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔جی یہ پیشکش لاس ویگاس کے ایک گن اسٹور کی ہے جس کے 300 پاؤنڈز کے پیکیج میں گنوں کی فراہمی اور پھر وی آئی پی شوٹنگ رینج میں نشانے بازی کی مشق کرنا ہے ،شاٹ گن ویڈنگ نامی یہ شادیاں فائرنگ میں بچوں کے قتل عام کے واقعات کے باوجود لوگوں میں تیزی سے مقبول ہورہی ہیں اور اب تک کسی بھی جوڑے نے اس انداز کی شادی منسوخ نہیں کی ہے ۔دنیا کے سب سے طویل انسان کی شادی کا تذکرہ بھی خوب ہے۔ترکی سے تعلق رکھنے والے دنیا کے سب سے طویل سلطان نے شام سے تعلق رکھنے والی اپنی خوابوں کی شہزادی سے شادی کر لی۔ گو اسے ڈھونڈنے میں دیر لگی۔ 2.51 میٹر (8 فٹ 3 انچ) طویل سلطان کی بیوی کا قدر 1.75 میٹر ہے ، 31 سالہ سلطان قوسین کی شادی 20 سالہ مروی دیبو سے مردن صوبے میں ہوئی۔ سلطان نے کہا کہ یہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہے ، ان کی بیوی نے امید ظاہر کی ان کے لئے شادی ہمیشہ کی خوشیاں لائے گی۔دنیا میں معمر ترین جوڑے کی شادی نے بھی تہلکہ مچا دیا تھا۔ پیراگوائے کے ایک ضعیف جوڑے نے اسی سال تک اکھٹے زندگی گزارنے کے بعد مذہبی طور پر شادی کر لی ہے ۔شادی کے لئے عمر کی بھی کوئی قید نہیں ہے ۔شائد یہ دنیا کا معمر ترین جوڑا ہے ۔ جس میں دولہے جوزے مینوئل کی عمر 103 جبکہ دلہن مارٹینا لوپیز کی عمر 99 برس ہے ۔دولہا ویل چیر پر بیٹھ کر شادی کی تقریب میں شریک ہو ئے ۔اس شادی کی تقریب جوڑے کی گھر کے لان میں ہوئی۔شادی کی تقریب میں ان کے آٹھ بچوں، پچاس نواسے ، نواسیوں، پوتے ، پوتیوں، پینتیس پڑپوتے ، پڑپوتیوں، پڑنواسے ، پڑنواسیوں اور ان کی اگلے نسل کے بیس بچوں نے شرکت کی۔اس موقع پر پادری نے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے اتنی عمر کے نئے شادی شدہ جوڑے کو نہیں دیکھا۔اس جوڑے نے انچاس برس پہلے بھی ایک سول میرج کی تھی لیکن انہوں نے مذہبی طور پر شادی نہیں کی تھی۔ننانوے سالہ دلہن مارٹینا نے کہا کہ مذہبی شادی پر بہت جذباتی ہو رہی ہیں۔ خِاندان نے اس شادی کے بعد ایک پارٹی کا انتظام کیا تھا۔ زومبی کا روپ دھار کر کی جانے والی شادی بھی مرکز نگاہ رہی، فلمیں تو بہت سے لوگ دیکھتے ہیں لیکن کچھ لوگ انہیں خود پر اتنا سوار کر لیتے ہیں کہ حقیقی زندگی میں بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یقین نا آئے تو امریکی ریاست انڈیانا میں ہونے والی اس انوکھی شادی کو ہی دیکھ لیں جس میں دلہا دلہن سے لے کر وہاں آئے ہوئے مہمانوں نے بھی فلموں میں نظر آنے والے خوفناک کردار زومبی بن کر شرکت کی۔اس ڈراؤنی شادی میں شریک مہمانوں نے بھوتوں اور چڑیلوں کا روپ اس مہارت سے دھارا کہ انہیں دیکھ کر واقعی حقیقت کا گمان ہوتا تھا۔عالمی ریکارڈ قائم کرنے والی شادی بھی کمال کی تھی، یہ شادی سری لنکا میں ہوئی۔ شادی کی اس انوکھی تقریب نے عالمی ریکارڈ توڑ ڈالا۔ دنیا میں بہت سے افراد کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی شادی کی تقریب ایسی شاہانہ ہو کہ لوگ دیکھ کر رشک کریں اور اس مقصد کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، سری لنکا میں شادی کی ایک ایسی انوکھی تقریب منعقد ہوئی جس میں تمام ملازمین نے ایک جیسے لباس زیب تن کر کے عالمی ریکارڈ بنا ڈالا۔سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہونے والی شادی کی اس تقریب میں 126 خواتین ملازمین، 25 مرد ملازمین، 20 کم عمر ملازمین اور 23 پھول پکڑنے والی لڑکیوں نے شرکت کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ بنایا، سب خواتین اور مرد ملازمین نے سری لنکا کا ایک جیسا روایتی لباس زیب تن کر رکھا تھا، شادی کی تقریب کی مہمان خصوصی سری لنکا کی خاتون اول شرانتھی راجا پاکسے تھیں۔شادی کی تقریب کا اہتمام کرنے والی ڈریس ڈیزائنر چمپی سری وردنے کا کہنا تھا کہ شادی کی ریکارڈ ساز تقریب منعقد کرنا ان کا خواب تھا، گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ توڑنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔ شادی کی تقریب میں موجود گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ سہنالی جوڑے نے تھائی لینڈ کا 96 خواتین ملازمین کے ساتھ شادی کی تقریب میں شرکت کا سابقہ عالمی ریکارڈ توڑا۔ ساتھ ہی ساتھ چند منفرد شادیوں کا ذکربھی ہو جائے۔ ایک شادی میں دولہا دلہن نے شادی کی بھی تھیم بنائی۔کرِسٹینا میک نِکال نے کہا کہ ‘ہماری شادی کی تھیم ‘سمندری قزاق’ تھی۔ جس میں ہم نے مہمانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ ایسا لباس پہن کر آئیں۔ کھیلوں کے ایک شوقین مارٹن لیمبرٹ کی شادی دو ہزار چھ میں برطانیہ کے آئیس ہاکی کے رِنک میں ہوئی۔ ایسی ہی ایک شادی سمندر کی تہہ میں ہوئی۔ جیف پارکخنز کی بیٹی لیسلی اور ان کے شوہر بین اپنی شادی کے دن موسم کی طرف سے بالکل بے فکر تھے ۔ ان کی شادی امریکہ میں سی ایٹل کے علاقے میں سمندر کی سطح کے نیچے ہوئی۔ ایک جوڑے نے برفیلے پہاڑوں پر شادی کا پروگرام بنایا۔سارا دراؤن اور ان کے ہونے والے شوہر نے شادی کی تقریب کینیڈا کے برِٹِش کولمبیا کے علاقے میں برفیلے پہاڑوں پر انجام دی۔ ایک شادی پر جوڑے نے تتلیوں کو آزاد کرتے ہوئے شادی کے عہد و پیمان کئے ۔ امریکہ میں میسیچوسیٹس میں ‘سیلٹِک شادی’ میں ڈینئیل لِن میک کی اور بریٹن تھامس تھربر نے تتلیلوں کو آزاد کرتے ہوئے شادی کی۔ دسمبر 2010ء میں سمیر پٹیل اور لیسا وائٹ نے لندن کے مشہور لینڈ مارک لنڈن آئی کے سائے تلے اپنی شادی کی تقریب منعقد کی۔ دارالحکومت ماسکو میں ایک جوڑے نے شادی سائیکلوں پر کی۔ جبکہ سائمن براؤن اور انگکارن پلانگ پْڈسا نے تھائی لینڈ کے جزیرے پوکھٹ میں سمندر کے کنارے شادی کی۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پھول پیش کرنا اور شادی کی پیشکش کرنا یہ تو آپ نے بہت سی فلموں میں دیکھا ہوگا لیکن اس نوجوان نے تو ڈرامے کی حد کردی ۔ اس نوجوان نے اپنی دوست کو انوکھے انداز میں شادی کی پیشکش کی۔ چھت کے کنارے پر کھڑا یہ نوجوان بات کرتے ہوئے اچانک چھت سے نیچے گر پڑا اور جب اس کی دوست نے گھبراہٹ اور تشویش کے عالم میں نیچے جھانکا تو شادی کے ایک خوبصورت پروپوزل کی چھتری اس کی نگاہوں کے سامنے تھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس انوکھے انداز میں پروپوز کیے جانے کے بعد کون لڑکی ہے جو انکار کرسکتی ہے لہٰذا یہ خاتون بھی فوراً ہی شا دی کے لیے راضی ہوگئیں اور منگنی کی انگوٹھی پہن لی ۔ ’’بھارتی تاریخ کی مہنگی ترین شادی‘‘ کا حال بھی جان لیجئے۔گو آج کل ماڈرن شادیاں بھی ہو رہی ہیں۔ آبادی میں چین و بھارت کے مابین مقابلہ جاری ہے اور بھارت اب چین سے آگے نکلنے ہی والا ہے ۔ بھارت میں بھی شادیاں دھوم دھام سے ہوتی ہیں۔ بھارتی تاریخ کی مہنگی ترین شادی اب بھی لوگوں کو یاد ہے ۔ سال 2011 میں بھارت میں ہی ایک ایسی شادی بھی ہوئی جس کی تفصیلات کسی دلچسپی سے خالی نہیں۔ 2 مارچ کو ہونے والی یہ شادی بھارتی تاریخ کی اب تک مہنگی ترین شادی ثابت ہوئی جس میں 15 ہزار باراتی شریک ہوئے جبکہ اس پر کروڑوں روپے کے اخراجات آئے ۔ یہ شادی بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس کے راہنما کنورسنگھ تنوور کے بیٹے للیت سنگھ اور دلہن یوگیتا کی تھی۔ دلہن کی رخصتی ہیلی کاپٹر میں ہوئی جو اسے جہیز میں دیا گیا تھا۔ شادی میں شرکت کرنے والے ہر فرد کو تحفے کے طور پر30گرام سونے اور چاندی کا ایک بسکٹ دیا گیا۔ اس کے علاوہ ہر فرد کو ایک سفاری سوٹ، ایک شال اور 2100روپے بطور تحفہ دیئے گئے ۔شادی تو شادی ولیمہ بھی قابل ذکر رہا۔ ولیمے میں شرکت کے لئے لڑکے والوں کی طرف سے 11 ہزار افراد کو دعوت نامے بھیجے گئے جبکہ دلہن کی طرف سے 7ہزار افراد کو دعوت دی گئی ہے ۔ ولیمے میں شرکت کیلئے تمام افراد کو ہوائی جہاز کے ٹکٹ بھی بھجوائے گئے ۔ لڑکی کو سلامی میں ڈھائی کروڑ روپے دیئے گئے ۔ولیمہ 6 مارچ کو نئی دہلی میں ہوا۔ جہیز کی مد میں 21کروڑ روپے نقد اور 25کروڑ روپے کا ایک گھر دیا گیا۔ اس گھر میں 11کروڑ روپے کا سامان پہلے سے موجود تھا۔ بھارت کی روایات کے تحت شادی میں بینڈ باجے والوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن پر تقریباً ایک کروڑ روپے نچھاور کئے گئے ۔ کئی شادیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو دنیا کے کونے کونے میں دیکھی جاتی ہیں۔ برطانوی شہزادے پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی شادی بھی یادگار رہی۔ برطانوی شاہی خاندان کی یہ یادگار شادی دنیا کے کونے کونے میں براہ راست دیکھی گئی۔ یہ شادی تھی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے پوتے پرنس ولیم اور کیٹ میڈلٹن کی۔ شادی میں 600 غیر ملکیوں سمیت 1900 مہمانوں نے شرکت کی۔ 2 ارب سے زائد لوگوں نے دنیا بھر میں شادی کی براہ راست تقریب ٹی وی پر دیکھی۔ سفید رنگ کے عروسی لباس میں ملبوس کیٹ سادگی و پرکاری کا شاہکار تھیں تو شہزادہ ولیم شادی کے موقع پر فوجی وردی میں بہت جچ رہے تھے ۔ دنیا بھر کی مشہور لیکن منتخب ہستیوں کی شرکت نے جہاں تقریب کو ایک انوکھا رنگ دیا وہیں دلہن کے سادہ مگر انتہائی اسٹائلش لباس نے فیشن کی دنیا میں ایک نیا ٹرینڈ متعارف کرایا ، شہزادہ ولیم اور میڈلٹن کی شادی جس قدر دنیا کے لئے ایک حسین و جمیل لمحہ ثابت ہوئی ، اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے پرنسیس زارا کی شادی اس قدر سادگی سے ہوئی کہ سادگی کے سبب ہی اس سال کی ایک اور یاد گار شادی کا درجہ مل گیا۔یہ شادی ہوئی نہایت خاموشی، رازداری اور سادگی کے ساتھ۔ حتیٰ کہ اس شادی کا اعلان بھی صرف ایک دن پہلے کیا گیا۔ ملکہ برطانیہ الزبتھ کی پوتی زارا فلپس رگبی کے کھلاڑی مائیک ٹنڈل کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھیں۔ شادی اسکاٹ لینڈ کے علاقے ایڈن برگ کے ایک چرچ میں انجام پائی جبکہ شادی سے ایک روز پہلے استقبالیہ ایک بحری جہاز پر دیا گیا جس میں شاہی خاندان کے صرف اہم ترین افراد نے شرکت کی، ایک حیران کن شادی بھوٹان کے شاہ جگمے کھیسر ہے ۔ جنہوں نے اپنی کالج کی دوست سے شادی کی۔ بھوٹان کے 31سالہ بادشاہ جگمے کھیسر نے اپنی کالج کی دوست اور ایک عام لڑکی جیٹسن پما سے شادی کی۔ اس شادی کا جشن مسلسل3روز تک منایا گیا۔ دولہا اور دلہن ایک دوسرے کو 14 سال سے جانتے تھے۔ شادی کی تقریب دارالحکومت پناکھا میں ہوئی۔جگمے کھیسر بھوٹان کے پانچویں بادشاہ ہیں۔ وہ امریکہ اور برطانیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ انہیں ہمالیہ کا ‘‘دلکش بادشاہ ’’ بھی کہا جاتا ہے ۔وہ 2008ء میں تخت نشین ہوئے تھے ۔ جیٹسن پیما شاہ بھوٹان سے 10 سال چھوٹی ہیں۔ شادیوں کا یہ سلسلہ ہونہی جاری ساری رہے گا، آنے والے اپنے دور میں شادیوں کے نت نئے انداز اپنائیں گے ۔ لیکن شادی ہر شخص کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ ہے ، جسے لوگ چاہے بھول جائیں ۔ لیکن دولہا دلہن کو یہ دن ہمیشہ یاد رہتا ہے ۔پاکستان میں ایک انوکھی شادی جس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی،بالی وڈ کی محبت کی کہانیوں کے برعکس دلہن کا تعلق ہندومذہب اور دولہے کا تعلق مسلمان خاندان سے تھا تاہم شادی میں پسندیدگی ضرور تھی مگرکوئی جبر یا زبردستی نہیںبلکہ دونوں خاندانوں کی منشا سے یہ شادی ہوئی۔ میر پور خاص کے معروف ہندو ڈاکٹر کی بیٹی ایک مسلمان لڑکے کو پسند کرتی تھی۔ باپ نے بیٹی کی پسند کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔بیٹی کا ہندو مذہب تبدیل کر کے مسلمان کیا اور پھر اس کی مسلمان سے شادی کرکے رخصت کردیا۔شادی کی تقریب میر پور خاص کے ایک شادی ہال میں ہوئی جہاں دونوں خاندانوں کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔شادی کی تقریب کے بعد دلہن کو رسم کے مطابق رخصت کیا گیا۔ واضح رہے کہ ایسی شادی پہلی مرتبہ ہوئی جس میں ہندو اورمسلمان خاندانوں نے اپنے بچوں کی پسند کو ملحوظ خاطر رکھا اور باہمی رضامندی سے ان کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا۔ بھارت میں ایسی کئی شادیوں کے واقعات سامنے آئے جس میں لڑکا مسلما ن اور لڑکی ہندو ہوتی ہے ،تاہم انتہا پسند ہندو تلملا اٹھتے اور اور اسے ‘لو جہاد ’ قرار دیتے ہیں، چند ماہ قبل بھارتی شہر میسور میںمسلمان لڑکے نے بچپن کی ہندو دوست کے ساتھ دھوم دھام سے شادی کرلی۔ دلہن نے اسلام قبول کیا جس کے بعد دونوں کا نکاح ہوا۔ تقریب میں دلہن کے رشتہ دار بھی شریک ہوئے جس پر ہندو انتہا پسند تلملا اٹھے اور ہنگامہ کیا۔ بالی وڈ کی محبت کی کہانیوں میں ہمیشہ لڑکا ہندو ہوتا ہے اور لڑکی مسلمان جس کی ایک مثال فلم ‘ویر زارا’ اور‘بامبے ’ ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ تینوں خانوں(شاہ رخ، سلمان اور عامر) کی شادی یا محبت کا تعلق ہندو خواتین کے ساتھ رہا ہے ۔کرینہ کپور سے شادی کرنے والے سیف علی خان کی بھی مثال سامنے ہے ۔ گوجرانوالا کے علاقے کا مونکی میں شادی کے حوالے سے دلچسپ معاملہ سامنے آیا۔ بارات لیٹ ہو نے پر با راتی د لہن کو بیا ہ کر لے گیا اور دو لہا نے مہمان آئی لڑکی سے شادی رچا لی۔ محلہ حبیب پو رہ سے تنو یر احمد کی با رات مقررہ ٹائم ایک بجے کے بجا ئے تقریبا ً 4بجے محلہ صابری کا لونی اوکا ڑہ اس کی خالہ کے ہا ں پہنچی تو لیٹ آنے کی وجہ دریا فت کرنے پر دو لہا تنویر اور د لہن کے بھا ئی بھو لا کی آپس میں تلخ کلا می کے بعد نوبت ہاتھا پا ئی تک جا پہنچی ، جس پر د لہن کے بھا ئی بھو لانے اپنی بہن کا نکاح تنو یر سے کرنے سے انکار کردیا اور د ولہاکے ساتھ بارات پر گئے ہو ئے قریبی عزیز با راتی عثمان سے نکاح کر نے کا اعلان کر دیا جبکہ د لہن کے گھر میں مہمان آئی ہو ئی د لہن کی خالہ نے متاثرہ دولہے تنو یر سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی۔ جہاں ہم نے بھارت کی ایک مہنگی ترین شادی کا ذکر کیا وہاںبھارت میں ہی ’’پانی کی بیویوں کی کتھابھی پڑھ لیں‘‘ پانی کی بیویوں کے حوالے سے ایک ہندوستانی گاؤں کی انوکھی روایت سے لطف اٹھائیے۔ہندوستانی ریاست مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ علاقے وداربھا کے ایک گاؤں دینگانمل میں کہیں بھی پانی کے نلکے نہیں نظر آتے۔ اس گاؤں کے لوگ پینے کا پانی دو کنووں سے حاصل کرتے ہیں، جو ایک پہاڑ کے نیچے واقع ہے ۔گاؤں کے لوگ یہاں پہنچنے کے لیے گھنٹوں پیدل چلتے ہیں، اور کنویں پر اپنی باری کا انتظار کرنے کے لیے بھی گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔اس مشکل سے نجات کا حل گاؤں کی پنچایت نے یہ نکالا ہے کہ پانی لانے کے لیے گاؤں کے مردوں کو مزید دو شادیاں کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اس گاؤں کے ایک کسان سکھارام بھگت کی تین بیویاں ہیں، تکی، سکھری اور بھاگی۔ ان میں سے ایک کو باضابطہ طور پر بیوی کا درجہ حاصل ہے ، باقی دو پانی کی بیویاں کہلاتی ہیں۔پانی کی بیویاں کہلانے سے مراد یہ ہے کہ گھر کے استعمال کے لئے طویل فاصلے سے پانی بھر کر لانا ان کی ذمہ داری ہے ۔ سکھارام نے پہلی بیوی کے ہونے کے باوجود دو مزید شادیاں صرف اس لئے کیں تاکہ دونوں گھر کے استعمال کے لئے پانی لاسکیں۔اپنی تین شادیوں کے بارے میں اس کا کہنا ہے ’’میری پہلی بیوی اپنے بچوں کے کام کاج میں مصروف رہتی ہے ۔ پانی لانے کے لئے میں نے دوسری شادی کی تھی، لیکن اس کی بیماری کی وجہ سے مجھے تیسری شادی کرنی پڑی‘‘۔سکھارام بھگت اسی گاؤں میں کھیتوں میں مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے ۔ اس کے گھر میں روزانہ تقریباً 100 لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے ۔ کئی چکر لگانے پر یہ ضرورت پوری ہوتی ہے ۔اس نے بتایا‘‘پہلی بیوی شادی کے فوراً بعد حاملہ ہو گئی تھی، اور کنویں سے پانی نہیں لا سکتی تھی چنانچہ دوسری شادی کی، اس کی عمر زیادہ تھی، کچھ عرصے بعد اس کے لیے بھی کنویں سے پانی بھر کر لانا مشکل ہوگیا۔ لہٰذا تیسری شادی کرنی پڑی۔ سکھارام کی تیسری بیوی کی عمر صرف 26 سال ہے اور اس کے پہلے شوہر کی وفات ہو چکی ہے ۔اس کی تینوں بیویاں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔ پہلی کے ذمے بچوں کے کام ہیں، جبکہ دوسری گھر کے باقی کام کرتی ہے ۔ پہلی کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ باقی دونوں کی ضروریات کا خیال رکھے ۔ ان میں اکثر جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں۔ پھر بھی بعد کی دونوں بیویاں خوش ہیں۔اس گاؤں میں لڑکی کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے ، کیونکہ گاؤں والوں کا خیال ہوتا ہے کہ پانی بھرنے کے لیے ایک رکن کا اضافہ ہوگیاہے۔ تاہم گاؤں کی عورتوں کو امید ہے کہ جب ان کی بیٹیاں جوان ہوں گی تو ان کے گاؤں میں بھی پانی کے نل لگ جائیں گے ۔ہندوستان کی تیسری سب سے بڑی ریاست مہاراشٹر کے بارے میں گزشتہ سال کے سرکاری تخمینے کے مطابق 19 ہزار سے زیادہ گاؤں کے لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے ۔ مہاراشٹر کے اس گاؤں میں پانی بھرنے کا مشقت بھرا کام صرف خواتین ہی کی ذمہ داری ہے ۔ ڈینگانمل گاؤں میں بنجر زمین کے ایک حصے پر تقریباً 100 کچے گھر موجود ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر کسان کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں، اور بہت معمولی آمدنی میں بمشکل گزارا کرپاتے ہیں۔اس گاؤں کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ پانی کے لئے شادی کی۔ یہاں کئی سالوں سے روایت چلی آرہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایک سے زائد شادیاں ہندوستان میں غیرقانونی ہیں، لیکن اس گاؤں میں ‘‘پانی کی بیویاں’’ عام ہیں۔ ڈینگانمل گاؤں کے ایک اور فرد نام دیو کا کہنا ہے کہ بڑا خاندان رکھنا آسان نہیں ہے ، اور خاص طور پر اس صورت میں جب کہ پانی ہی دستیاب نہ ہو۔ نام دیو کی بھی دو بیویاں ہیں۔ آپ نے بھارت کے ایک گاؤں میں پانی کی بیویوں کا دلچسپ احوال پڑھا، اب آپ جانیے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں انوکھی شادیوں اور عجیب و غریب رسومات کے بارے میں، ان شادیوں اور رسومات کا احوال بھی دلچسپی سے خالی نہیں اور حیرت انگیز بھی ہے۔ ارجنٹینا میں نوجوان شادی کرنے سے کترانے لگے ہیں۔ ایک سرکاری ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار جن کی رو سے 1990ء میں دارالحکومت بیونس آئرس میں 22000 جوڑے شادی کے بندھن میں بندھے تھے مگر 2013ء میں یہ تعداد نصف (11642) رہ گئی، براعظم جنوبی امریکہ میں واقع ملک کے نوجوان شادی کرنے سے گریزاں ہیں مگر پچھلے دو سال سے شادی کی تقاریب کے انعقاد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ان تقاریب میں نوجوان بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے اور خوب ہلاگلا کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے محبت فاتح عالم ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا بھر میں محبت کے اظہار کے طریقے بالکل مختلف اور حیران کر دینے والے ہیں؟ یقین نہیں آتا۔ کوئی بات نہیں’ دنیا کے مختلف خطوں میں محبت سے جڑی یہ روایات آپ کی حیرت کے لئے کافی ثابت ہوں گی بلکہ ہوسکتا ہے کہ آپ ہیر رانجھا یا لیلیٰ مجنوں جیسی کلاسیک کہانیوں کو بھی بھول جائیں۔ کوریا میں ہر ماہ منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے عجیب روایت ہے دنیا بھر میں اکثر افراد محبت کا دن سال میں ایک دفعہ مناتے ہیںمگر بارہ مرتبہ ایسا کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ کوریا میں تو لوگ صرف چودہ فروری کو ہی ویلنٹائن ڈے نہیں مناتے بلکہ وہ ہر ماہ کی اسی تاریخ کو خصوصی رومانوی اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم کبھی انہیں معافی کا دن کا نام دیا جاتا ہے تو کبھی گلے لگانے کا، مگر ہر ماہ کی چودہ تاریخ کو منفرد انداز میں محبت کا اظہار ضرور کیا جاتا ہے ،ایک دلچسپ منظر ملاحظہ فرمائیں۔ بیویوں کو اٹھانے کی ورلڈ چیمپئن شپ ہر سال دنیا بھر سے لوگ فن لینڈ کے گاؤں سونکاجروی میں جمع ہوتے ہیں جہاں ایک دلچسپ کھیلوں کا مقابلہ ہوتا ہے جس میں مرد حضرات اپنی بیویوں کو کندھوں پر اٹھا کر دوڑتے نظر آتے ہیں جس کے فاتح کو بیوی کے وزن کے برابر مشروب اور نیک نامی کے سرٹیفکیٹ سے نوازا جاتا ہے، روس میں قبر کے ساتھ شادیوں کا ذکر بھی حیران کن ہے۔ ماسکو کے معروف نامعلوم فوجی کا مقبرہ شادیوں کا بھی مقبول ترین مقام ہے جہاں اس فوجی کی قبر کے ساتھ نیا نویلا جوڑا زندگی بھر تعلق نبھانے کے عہدوپیماں کرتا نظر آتا ہے ، وہیل مچھلی کے دانتوں کا تحفہ کیا شادی کا بہترین تحفہ ڈھونڈنے میں آپ کو مشکل کا سامنا ہے ؟ تو ذرا سوچئے کہ فجی میں کیا ہوتا ہے جہاں شادی کیلئے کسی خاتون کا ہاتھ مانگنے کیلئے لڑکے کو اپنے ممکنہ سسر کو وہیل مچھلی کے دانت بطور تحفہ دینے پڑتے ہیں’ کیونکہ وہاں کے لوگوں کا تو ماننا ہے کہ محبت کا حقیقی اظہار ہی اس وقت ہوتا ہے جب آپ سمندر کے اندر سینکڑوں فٹ گہرائی میں جا کر دنیا کے سب سے بڑے ممالیے کے دانتوں کو ڈھونڈ نکالیں۔ کرغیزستان میں دلہنوں کے اغوا کا قصہ بھی عجیب و غریب ہے۔ ایک پرانی کرغیز کہاوت ہے کہ شادی کے روز آنسوؤں کا بہنا خوش باش شادی کی بنیاد ہوتی ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے وہاں کچھ لڑکے لڑکیاں اغوا کر کے انہیں شادیوں پر مجبور کردیتے ہیں اور ان کے والدین بھی مجبوراً اس رشتے کو تسلیم کر لیتے ہیں اور یہ روایت 1991ء میں غیرقانونی قرار دیئے جانے کے باوجود زندہ ہے ۔ دلہن کا منہ کالا کرنے کے حوالے سے آپ نے کبھی سنا یا پڑھا ہے۔ دنیا بھر میں شادی سے کچھ عرصے قبل ہونے والی دلہن اور دولہا کے چہروں کو مختلف طریقوں سے چمکانے کاکام کیا جاتا ہے مگر اسکاٹ لینڈ میں معاملہ بالکل الٹا ہے جہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ کسی شادی شدہ جوڑے کا کامیاب آغاز ان کی تذلیل سے ہی ممکن ہے ۔ جب ہی تو شادی سے قبل دلہن کا منہ سیاہ یا کالا کر کے اس کی باقاعدہ نمائش بھی کی جاتی ہے ۔’’ محبت کے تالے‘‘کی رسم بھی کافی دلچسپ ہے۔ روم کے پونٹے میلویونامی علاقے میں دنیا بھر سے جوڑے آ کر اپنی محبت کی یادگار کے طور پر وہاں ایک تالا لگا جاتے ہیں اور اس کی چابی دریا میں پھینک دیتے ہیں جو اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کا پیار کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ چینی دولہوں کی مشکل کو کون آسان کرے گا۔ چین میں شادی کے بعد دولہا کا دلہن تک پہنچنے کا راستہ اس کی سہیلیاں روک کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور پیسوں سے بھرے سرخ لفافوں کی مانگ کرتی ہیں، جسے پورا کرنے کے بعد بھی دولہا کی مشکل آسان نہیں ہوتی بلکہ اسے مختلف گیمز اور جسمانی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اکثر اسے گانے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے ۔’’ ویرونا میں جولیٹ کی بالکونی‘‘کا قصہ بھی مسحورکن ہے۔ کہا تو اسے دنیا کی عظیم ترین داستان محبت جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہزاروں جوڑے اطالوی شہر ویرونا میں جولیٹ کی اس مشہور زمانہ بالکونی کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں جہاں سے رومیو کو خط وغیرہ بھیجتی تھی۔’’ چین کی ایک اور عجیب روایت کا ذکر پڑھیے‘‘محبت میں کیک کاٹنے کا تو سنا ہوگا مگر مرغی کو کاٹنا نہیں؟ مگر چین میں رہنے والے ایک خاص نسل کے افراد میں روایت ہے کہ منگنی کے بعد جوڑے کو ایک مرغی کاٹ کر اس کے جگر کا معائنہ کرنا پڑتا ہے ’ اگر وہ صحتمند ہو تو یہ اچھا شگون ہوتا ہے اور شادی کی تاریخ طے کر دی جاتی ہے ’ تاہم ایسا نہ ہو تو جوڑے کو کسی اچھے جگر کی تلاش تک مرغیاں ہی کاٹنا پڑتی ہیں۔ اسی طرح شادی کے موقع پر رونا دھونا تو سمجھ میں آتا ہے مگر چین کے تیوجہ نسل کے افراد شادی سے ایک ماہ قبل ہی روزانہ ایک گھنٹہ رو دھو کر گزارنا پسند کرتے ہیں’ خاص طور پر دلہن پر تو یہ فرض ہوتا ہے جبکہ اس کی ماں بھی دل کرے تو اس مشغلے میں شامل ہو سکتی ہے ۔ ’’خواتین کی بالادستی‘‘یہ بھی خوب حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں اکثر جگہوں پر خواتین کو سجنا سنورنا پڑتا ہے تاکہ مرد انہیں زندگی بھر کے تعلق کیلئے چن سکیں تاہم نائیجر کے ووڈابالا فولا قبیلہ کا دستور بالکل ہی نرالا ہے ’ جہاں مردوں کو باقاعدہ میک اپ کر کے تیار ہونا پڑتا ہے اور ناچ گا کر خواتین کو متوجہ کرنا ہوتا ہے جو ان میں سے اپنے لئے شوہر چنتی ہیں۔ ’’جاپانی وائٹ ڈے‘‘ کی رسم بھی خوب ہے۔ جاپان میں ویلنٹائن ڈے پر خواتین مردوں کیلئے چاکلیٹس خریدتی ہیں تاہم ایک ماہ بعد وائٹ ڈے منایا جاتا ہے جس میں مردوں کو اپنی گرل فرینڈ کے گفٹس کے مقابلے میں دوگنا زیاد خرچ کر کے تحائف خرید کردینے پڑتے ہیں تاکہ وہ ثابت کر سکیں کہ وہ بھی محبت میں کسی سے کم نہیں۔’’ مہندی کے ٹیٹوز‘‘کے بارے میں جانیئے کہ افریقہ کی عربی و افریقی خواتین کی جانب سے محبت کا منفرد اظہار مہندی کے ڈیزائنز کی شکل میں کیا جاتا ہے ۔ وہ دلہن کی خوبصورتی اور خواتین کی قدر جیسی علامات کو استعمال کرتی ہیں۔ ’’شادی سے پہلے علیحدگی‘‘ ہے نا حیرت کی بات۔ طلاق موجودہ دنوں میں کافی عام ہوچکی ہے مگر پھر بھی یہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا کہ عین شادی کے دن ہی یہ تعلق ختم بھی ہوجاتے ، تاہم یوکرائن میں ایسا ہی کچھ انوکھا ہوتا ہے جہاں اپنے والدین کی پسند سے ناراض جوڑے شادی کے دن ہی ایک دوسرے سے الگ بھی ہوجاتے ہیں۔ ’’موٹاپے کا کرشمہ‘‘ یہ خوب دلچسپ روایت ہے کہ شادی سے پہلے وزن کم کرنا کسے یاد نہیں رہتا، مگر جناب افریقی ملک موریطانیہ میں آپ جتنے موٹے ہوں گے اتنا ہی خوبصورت بھی مانے جائیں گے ۔ خاص طور پر خواتین پر تو اس فارمولے کا زیادہ اطلاق ہوتا ہے کیونکہ موٹی بیویاں شوہر کے لئے دولتمندی کی علامت سمجھی جاتی ہیں تاہم یہ سننے میں جتنا اچھا لگتا ہے اتنا آسان کام نہیں کیونکہ ان خواتین کو زبردستی کھلا کھلا کر موٹا کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ مختلف طبی مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں۔’’ جھاڑو سے کودنا‘‘یہ بھی شادی کی ایک رسم ہے۔ امریکہ کے انتہائی جنوب میں ایک انوکھی روایت ہے جھاڑو سے کودنا جس کا مطلب ہے کہ اوپر سے چھلانگ لگا کر گزرے جوان کی نئی زندگی کے کامیاب سفر کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں عجیب و غریب اور انوکھی شادیوں کے بے شمار واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اب بھی یقینا ناقابل یقین شادیاں ہوتی ہوں گی۔ انوکھی شادیوں کا تذکرہ بہت طویل بھی ہے اور حیران کن بھی،پاکستان میں بڑے حیران کر دینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں جیسا کہ مئی1986ء میں چاؤ خان نامی ایک شخص نے رائے ونڈ میں رہائش اختیار کی۔ اس نے کرائے کا مکان حاصل کیا اور بہت جلد اہل محلہ پر اپنا اعتماد قائم کرلیا۔ چاؤ خان اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا آرزو مند تھا۔ اس شخص نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے چار مختلف خاندانوں سے اپنی بیٹی کے رشتے کی بات طے کردی۔ اس نے اس دوران ہر خاندان سے بھاری رقم وصول کرلی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے سب کو شادی کی ایک ہی تاریخ دے دی۔ شادی سے ایک رات پہلے چاؤ خان نے مکان چھوڑ دیا اور نجانے کہاں غائب ہوگیا۔ اگلے دن صبح چار باراتیں اس مکان کے باہر اکٹھی ہوگئیں۔ حقیقی صورت حال کا علم ہونے پر باراتیوں نے اپنا سر پیٹ لیا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا مکار شخص اپنا کام دکھا چکا تھا۔ ایک اور دلچسپ واقعہ مئی 1985ء میں پیش آیا شہداد پور سے اورنگی ٹاؤن جانے والی بارات سے دلہن کے والدین نے مطالبہ کیا کہ پانی کے دو ٹینکر بھی ساتھ لائے جائیں کیوں کہ یہاں پانی کی انتہائی قلت ہے ۔ دلہن کے والدین نے دولہا والوں کو بتایا کہ یہ پانی نہ صرف ذاتی استعمال کے لئے ہوگا بلکہ مقامی لوگوں کے کام بھی آئے گا۔ یکم جنوری 1985ء میں جنوبی افریقا میں اپنی نوعیت کی ایک انوکھی شادی ہوئی۔ دولہا کا باپ اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا لیکن وہ بیٹے کی بارات میں موجود تھا۔ وہ کیسے ؟ 24سالہ مارک سان گرکی یہ شدید آرزو تھی کہ اس کا باپ بھی اس کی شادی میں شریک ہو لیکن کرسمس کے دن اس کے باپ کا انتقال ہوگیا۔ دولہا کا کہنا تھا کہ اگر اس کا باپ اس شادی میں شریک نہ ہوا تو اس کی خوشیاں برباد ہوجائیں گی۔ اس نے سب سے پہلے اپنی منگیتر کی رضا مندی حاصل کی اور پھر اپنے باپ کے کھلے تابوت کو بارات میں شامل کر لیا۔ جب باراتیوں نے یہ منظر دیکھا تو ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔ ایک اور انوکھی شادی کا حال بھی ملاحظہ کیجئے ۔یہ قصہ اپنے ہی ملک کا ہے۔ نومبر 1984ء میں پاکستان کے شہر وزیرآباد میں ایک نوجوان کا نکاح ہوا۔ نکاح کے بعد جب دولہا کے دوست اور عزیز و اقارب اسے مبارکباد دینے کے لئے اٹھے تو دولہا میاں غائب تھے ۔ مہمانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ دلہن نے رونا دھونا شروع کر دیا۔ دولہا کے والدین انتہائی پریشان تھے کہ ان کے بیٹے نے انہیں کس صورتحال سے دوچار کر دیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے ۔ اچانک کسی نے یاد دلایا کہ وہ شہر میں فٹ بال کا چیمپئن کھلاڑی ہے ۔ اس پر تمام لوگ بھاگم بھاگ فٹ بال کے میدان میں پہنچے ۔ وہاں ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا۔ دولہا میاں عروسی جوڑا پہنے ہوئے فٹ بال کو کک لگا رہے تھے ۔ دولہا میاں کو سمجھایا گیا کہ بھائی صاحب گھر چلیں اور شادی کی تقریب میں شامل ہوں۔ نکاح کے بعد بھی آپ کا وہاں موجود رہنا ضروری ہے ۔ دولہا نے شادی کے شرکاء کی خواہش کا احترام کیا اور ان کے ساتھ واپس گھر چلا گیا۔ایک اور حیرت ناک واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ 2001ء میں جنوبی افریقہ میں ایک خاتون زیبی نے اپنے مردہ شوہر سے دوبارہ شادی کی۔ یہ شادی کا اتنا انوکھا واقعہ تھا کہ لوگوں نے دانتوں کے نیچے انگلیاں دبالیں۔ زیبی کے شوہر کا اس کی غیر حاضری میں انتقال ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس کے گھر والوں نے ایک گرجا گھر میں زیبی اور اس کے آنجہانی شوہر آئزک کو قانونی طور پر میاں بیوی بنانے کی قدیم رسومات ادا کیں۔ رات بھر خوشی کے شادیانے بجائے گئے ۔ جنوبی افریقہ میں لوگ ابھی تک اس شادی کو نہیں بھولے ۔
دنیا کی دس حیرت انگیز شادیوں کا جان کر بھی سر دھننے کو جی چاہتا ہے، ان شادیوں کا تذکرہ بھی انگشت بدنداں کرنے کیلئے کافی ہے۔آپ نے انسانوں کی شادیوں کے بارے میں سنا ہوگا اور شرکت بھی کی ہوگی’ کیاآپ نے سنا ہے کہ کسی نے شادی اپنی من پسند شے سے کی یا پھر خود سے ہی کرلی؟ واقعی یہ سب کچھ آپ کے لئے حیران کن ہوگا؟یہاں ہم آپ کو چند ایسے ہی لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جنہوں نے کسی دوسرے انسان کے بجائے اپنی من پسند شے سے شادی کی یا اگر انسان سے کی بھی تو وہ بھی حیران کن انداز میں اور ان سب شادیوں کی باقاعدہ طورپر تقریبات بھی منعقد کی گئیں۔ ایریکا لاٹور ایفل(Erika La tour Eiffel) 37 سالہ ریٹائرڈ فوجی خاتون ہیں اور سان فرانسسکو میں رہائش پذیر ہیں انہیں ایفل ٹاور سے بہت زیادہ محبت ہے ’ اپنی اس محبت کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے ایک بہت بڑی تقریب منعقد کر کے ایفل ٹاور سے شادی کی اور باقاعدہ قانون کے مطابق اپنے نام کے ساتھ ایفل کا اضافہ بھی کیا۔ ایجا54 Eija سالہ جرمن خاتون ہیں۔ انہوں نے 1979ء میں برلن وال سے شادی کی۔ ایجا کا کہنا ہے کہ انہیں اس وال سے بے پناہ محبت ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس وال کوپہلی مرتبہ سات سال کی عمر میں دیکھا تھا اس کے بعد انہیں اس وال سے محبت ہو گئی تھی۔ایک جاپانی شخص نے نٹینڈو(Nintendo)گیم کے کردار سے شادی کی جو ایک لڑکی کا ہے ۔ انہوں نے گوام(Guam) میں باضابطہ طورپر اپنی شادی کی تقریب منعقد کی جس میں انہوں نے قانونی طورپر اس کردار سے شادی کا اعلان کیاجو صرف گیم کا ایک خیالی کردار ہے ۔ایم اے وولف32 سالہ امریکن شہری ہے ’ انہوں نے فیئر گراؤنڈ رائڈ (fairground ride) سے شادی کی۔ یہ رائڈ پنسلوانیا کے ایمیوزمنٹ(amusement) پارک میں نصب ہے ۔’’ مرحوم دوست سے شادی ‘‘ماگالی(Magali)اور جوناتھن جارج (Jonathan George) نومبر2008ء میں شادی کرنے والے تھے ۔ ایک موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں جوناتھن جارج کی موت واقع ہو گئی اس واقعے کے باوجود ماگالی نے اپنی شادی کی تقریب منسوخ نہیں کی اور باقاعدہ طورپر اپنے ہونے والے شوہر کی تصویر کے ساتھ شادی کی۔’’ تکیے سے شادی‘‘یہ تو آپ نے سنا ہو گا کہ محبت اندھی ہوتی ہے اور وہ کسی سے بھی ہو سکتی ہے مگر کیا کبھی آپ نے اتنی اندھی محبت کے بارے میں سنا ہے جو انسان کو اپنے تکیے سے ہو جائے ۔ کوریا کے رہنے والے لی جن(Lee Jin) نے اپنے تکیے سے شادی کی جس کے لئے انہوں نے باقاعدہ طورپر ایک تقریب کااہتمام بھی کیا۔ ’’سانپ سے شادی‘‘ایک ہندو خاتون جنہوں نے 2000 افراد کے سامنے 2006ء میں ایک سانپ سے شادی کی۔ اس شادی کااہتمام ہندو رسم و رواج کے مطابق کیاگیا۔ خاتون شادی کی رسومات کے دوران سانپ کے ساتھ بیٹھی رہیں۔ ’’ویگن سے شادی‘‘ایڈورڈ اسمتھ جنہوں نے اپنی ونیلا والکس ویگن بیٹل کے ساتھ شادی کی۔ مسٹر اسمتھ 57سالہ شخص ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی مرتبہ 15 سال کی عمر میں اس گاڑی سے محبت ہو گئی تھی۔ ’’اسٹیریو سسٹم سے شادی‘‘ایما(Emma) 43 سالہ برطانوی خاتون ہیں انہوں نے ایک ہائی فائی اسٹیریو سے شادی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس سسٹم سے بے پناہ محبت ہے اور وہ اسے جیک کے نام سے پکارتی ہیں۔ ان کے خیال میں جیک ایک مضبوط قابل بھروسہ اور خوبصورت ساتھی ہے ۔ شادی میں اعداد کا عمل دخل بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ ہم آپ کو چین لئے چلتے ہیں جہاںشادی میں9کا ہندسہ اہمیت کا حامل ہے۔چین میں شادی کرنے والے ہندسے دیکھتے ہیں۔ چینی روایت میں 9 کے عدد کو بے حد اہمیت حاصل ہے ان کے علم الاعداد کے مطابق 9 کے عدد سے تشکیل پانے والے چینی لفظ کا مطلب ہے ‘‘ہمیشہ قائم رہنے والی’’ چنانچہ شادی کو پائیدار بنانے کیلئے 9 کے عدد کا بکثرت استعمال کیا جاتا ہے ۔ آپ نے کوئی تحفہ دینا ہے تو 9 کی تعداد پوری کرنا ہو گی مثلاً کوئی جواب دینا ہے تو 9 سے جوڑ دے گا۔ کسی نے رومال دینا ہے تو 9 عدد ہوں گے ۔ کوئی پھل دینا چاہتا ہے تو 9 دانے ہوں گے ۔ یہ 9تو کم از کم ہے آپ نے زیادہ کرنا ہے تو کوئی حد نہیں، آپ 99، 999، 9999، علی ہذا القیاس کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ مگر 9 کے چکر سے باہر نہیں نکلنا۔ چنانچہ سلامی وغیرہ بھی اس حساب سے دی جاتی ہے ۔ دولہا کی جانب سے دیئے گئے شادی کے کھانے یعنی دعوت ولیمہ میں ویڈنگ ہال کی آرائش قابل دید ہوتی ہے ، ہر طرف بکھری سرخی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ گویا پورے ماحول کو بحرہ احمر میں ڈبکی دیکر چین کے اس قصبے میں رکھ دیا گیا ہو۔ روایتی چینی کھانا میں غیرملکی مہمانوں کے ذوق وضرورت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں کی طرح سلامی کا رواج چین میں ہے ۔ مگر وصولی کا طریق کار انوکھا۔ وصولی ہال کے مرکزی دروازہ پر ہی کی جا تی ہے ۔ مہمان ویڈنگ بک پر اپنا نام اور سلامی میں دی جانے والی رقم کا اندراج کرتے اور سرخ لفافہ اٹینڈنٹ کو تھما دیتے ۔ یہاں بھی 9 کے عدد کا راج تھا۔ سلامی کی رقوم بہ اہتمام 9، 99، 999 یا 9999 یوآن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ تاکہ بدشگونی کا احتمال نہ رہے ۔رخصتی کا منظر بھی مشرقی رنگ لئے ہوتا ہے ۔ دلہن کو گاڑی میں بٹھانے کا فریضہ کسی بھاگوان کے ذمہ ہوتا ہے جو شوہر اور بچوں والی ہو اور ماں باپ اور ساس سسر بھی حیات ہوں اس دوران دلہن کی بہن سہیلی اس پر سرخ رنگ کی ننھی سی چھتری تانے رکھتی ہے اور دوسرے ہاتھ سے اس کی نشست پر مٹھی بھر چاول پھینک دیتی ہے ۔ گاڑی کے پیچھے سرخ رنگ کی چھلنی اور آئینہ باندھنے کا رواج بھی ہے جسے بدروحوں سے دلہن کے تحفظ کا موجب سمجھا جاتا ہے ہمارے ہاں تو رواج نہیں رہا مگر چین میں آج بھی دلہنیں رخصتی کے وقت آنسو ضرور بہاتی ہیں اور ماں آخری پیار کے بعد اسے پندونصائح کے ساتھ رخصت کرتی ہے ۔ چینی دلہنیں مایوں بھی بیٹھتی ہیں۔ شادی سے چند ہفتے پہلے باہر نکلنا چھوڑ دیتی ہیں اور گھر میں زیادہ سے وقت والدین، بہن بھائیوں اور سکھیوں سہیلیوں کے ساتھ گزارتی ہیں۔ چین میں جہیز کا رواج بھی ہے ۔ جو نئے گھر کی بنیادی ضروریات پر مشتمل ہے اور شادی سے 9 دن پہلے دولہا کے گھر پہنچا دیا جاتا ہے ۔چینی شادیوں میں لی شی منی بھی ایک خاصے کی چیز ہے ۔ ہمارے ہاں شادی کی تقریب میں مختلف مواقع پر ہونے والے خرچوں کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔ جیسے سلامی، منہ دکھائی، رخصتی خرچہ وغیرہ۔ چینی ان سب مواقع کے اخراجات کیلئے صرف ایک جادوئی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ‘‘لی شی منی’’ لی شی کا مطلب ہے “Good luck for ever” یعنی دائمی خوش بختی۔ لی شی منی سے دولہا بھی مبرا نہیں۔ بارات روانہ ہوتی ہے تو دولہا لی شی منی الگ سے سرخ رنگ کے لفافے میں رکھ لیتا ہے۔
بھارت میںمہنگی ترین شادی کا تذکرہ ہو چکا، اب ایک عجیب و غریب شادی کا حال بھی جان لیجئے۔ شادی پر 10لاکھ روپے ، یعنی یوں کہہ لیجئے 10 ہزارپاونڈ کا خرچہ آیا۔ یہ وہ رقم ہے جس میں برطانوی جوڑا بہت شاندار طریقے سے شادی رچا سکتا ہے۔ کہتے ہیں جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ لیکن، بھارت میں ایک ایسے انوکھے ‘جوڑے ’ نے شادی رچائی جو آپ نے شاید پہلے کبھی نہ دیکھی ہو اور نہ سنی ہو۔ شادی کا نام آتے ہی ڈھول، تاشے ، زرق برق کپڑے پہنے برات کے آگے ناچتے گاتے براتی، آتش بازی اور مزے مزے کے کھانوں کا خیال آتا ہے ۔ بھارت میں بھی ایک ایسی ہی شادی کی تقریب ہوئی جس میں یہ سب ‘رونق میلہ’ اور ‘ہلا گلا’ تو ہوا، لیکن یہ سب کچھ دوسری شادیوں سے کچھ الگ اس طرح تھا کہ اس شادی میں برات کا دولہا’’بیل‘‘ جبکہ دلہن’’ گائے‘‘ تھی۔ اس انوکھی اور دلچسپ شادی کا احوال کچھ یوں ہے کہ شادی پر 10لاکھ روپے ، یعنی یوںکہیے 10ہزار پاونڈ کا خرچہ آیا۔ یہ وہ رقم ہے جس میںبرطانوی جوڑا بہت شاندار طریقے سے شادی رچا سکتا ہے ۔ یہ شادی کروائی کس نے اور کیوں؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ گائے ‘گنگا’ اور بیل ‘پرکاش’ کا بیاہ رچانے والے تھے ریاست مدھیہ پردیش کے شہراندور کے قریبی رہنے والے گنگا کے مالک گوپال پٹواری۔گوپال کا کہنا تھا کہ شادی کا مقصد قدرتی آفات مثلاً ژالہ باری، طوفان سے فصلوں کو محفوظ رکھنا ہے ۔ اس شادی سے ہمارے گاؤں میں’’شانتی بنی رہے گی‘‘۔ علاقے کے بیشتر کاشت کار لوبیا اور روئی اگاتے ہیں اور ان کی زندگی کا دارومدار ہی اچھی فصل پر ہے ۔ گنگا اور پرکاش کی شاہانہ شادی میں گاؤں اور قریبی علاقوں کے 5000افراد نے شرکت کی۔ گنگا کو خصوصی طور پر تیار کردہ دلہنوں والی ساڑی، ہار اور پھول پہنائے گئے اور میک اپ بھی کیا گیا۔ دوسری جانب دولہا یعنی ’’پرکاش‘‘کی شان بھی نرالی تھی۔ آراستہ، پیراستہ بگھی میں ملٹی کلرڈ شیروانی اور اورنج پگڑی میں پرکاش بھی کچھ کم خوبصور ت نہیں لگ رہے تھے ۔ شادی کی تمام رسومات سادھوجی نے روایتی انداز میں ادا کیں۔ ان رسوما ت میں ہلدی، گنیش پوجا، منڈپ اور اگنی کے گرد پھیرے بھی شامل تھے ۔ شادی کے بعد پٹواری جی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔ پھیروں کے بعد ناچ گانے اور کھانے پینے کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک چلا جس میں سب نے دل کھول کر حصہ لیا۔
مہنگی اور عجیب و غریب شادیوں کے احوال کے دوران ملتان میں 2017ء میں ہونے والے اس سستی ترین شادی نے بھی سب کو متوجہ کر لیا۔ ملتان میں دو مہنگی شادیوں کے بعد ایک سستی اور انوکھی شادی ہوئی جس میں شادی کیلئے دولہا میاں تیار ہو کر باراتیوں کیساتھ میٹرو بس میں سوار ہو کر دلہنیا لینے پہنچے اور وہاں بالو شاہی اور پانی سے تواضع کے بعد دلہنیا لیکر گھر واپس آ گئے ۔ دولہا نے شادی کیلئے چھپوائے گئے انوکھے کارڈ میں تمام مہمانوں کو وقت پر پہنچنے کی تلقین بھی کر ڈالی اور کارڈ پر یہ بھی درج کیا کہ اس کے ماموں قدیر میٹرو کے سکے بانٹیں گے ۔ملتان کے علاقے منظور آباد میں دولہے میاں نے پہلے تو یہ انوکھا کارڈ چھپوایا اور پھر بارات کیساتھ میٹرو سٹیشن پہنچ گیا۔ سفید شلوار قمیض پر کالی واسکٹ زیب تن کئے دولہا رمضان میٹرو سٹیشن پہنچا تو ماموں قدیر نے وعدے کے مطابق باراتیوں میں سکے تقسیم کئے اور یوں بارات شاہ رکن عالم سٹیشن پہنچ گئی۔ دولہا میاں ماموں قدیر کیساتھ 62 باراتیوں پر 1240روپے کا خرچ کرنے کے بعد دلہن کے گھر پہنچے تو نکاح ہوا جس کے بعد میٹرو بس پر آئی بارات کی صرف بالو شاہی اور پانی سے ہی تواضع کی گئی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ایک انوکھی شادی نے مغلیہ دور کی یاد تازہ کردی۔ایک بڑے مذہبی گھرانے کے بیٹے کی شادی میں پولیس اور انتظامیہ نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی ، یوں تو شادی کی تقریبات میں دکھاوا ہمارے معاشرے کا دستور بنتا جارہا ہے مگر کچھ ایسی تقریبات بھی ہیں جن پر نہ چاہتے ہوئے بھی قلم اٹھ جاتا ہے۔وفاقی دارلحکومت کی شاہراہوں پر گھوڑوں کی بگی میں سوار یہ نوجوان راولپنڈی کے معزز مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اسلام آباد کی تاریخ کی یہ شائد پہلی شادی ہوگی جس کیلئے ہائی سیکورٹی زون میں واقع فائیو سٹار ہوٹل تک پہنچنے کیلئے راولپنڈی اور اسلام آباد کی سول انتظامیہ اور پولیس نے وی آئی پی کلچرل کو فروغ دینے میں اپنی ڈیوٹی خوب نبھائی اور بارات کیلئے تمام راستے بند کرکے پروٹوکول دیا گیابلکہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تو اپنے آفیسر بھی تعینات کئے تاکہ پروٹوکول میں کوئی کمی نہ رہ جائے ، انوکھی شادی کے تمام راستے صاف کرنے والے اسلام آباد پولیس اور سول انتظامیہ کے افسران حیرت انگیز طورپر گھوڑوں اور اونٹوں کی آمد سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے۔ سعودی عرب میں شادی کی’’انوکھی ترین‘‘تقریب کا حال بھی قابل ذکر ہے۔ سعودی عرب کے علاقے الجوف میں ایک انوکھی اور غیر روایتی انداز کی شادی دیکھنے میں آئی جہاں دولہا ایک’’ٹرالر‘‘میں سوار ہو کر اپنے دوستوں کے ہمراہ شادی کی تقریب میں پہنچا اور تمام لوگوں کو حیران کر ڈالا۔ سوشل میڈیا پر مذکورہ شادی کا وڈیو کلپ پورے زوروں کے ساتھ گردش میں رہا ۔ سعودی حلقوں کی جانب سے اس کو مملکت میں ’’انوکھی ترین‘‘شادی قرار دیا جا رہا ہے ۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی شادیوں میں دولہا کی بہت بڑی سواری میں آمد کو انوکھا اور غیر مانوس امر شمار کیا جاتا ہے ۔ وڈیو کلپ میں دولہا کو شادی ہال کے اندر ایک بڑے ٹرالر ٹرک میں سوار ہو کر داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جب کہ دولہا کے عزیز و اقارب اور دوست اس کو مبارک باد دینے کے لئے ایک جانب ہو گئے ۔ نئی شادیوں کیلئے ایک ہی دن میں چار بیویوں کو طلاق کا معاملہ دلچسپی سے خالی نہیں، یہ واقعہ بھی سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیش آیا۔ ایک سعودی شہری نے نئی شادیاں کرنے کے لئے اپنی موجودہ چاروں بیویوں کو ایک ہی دن میں طلاق دیدی لیکن نئی شادیاں کرنے میں بھی ناکام رہاجبکہ سابقہ بیگمات سے دوبارہ شادی کرنے کے لئے اسے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سعودی ریال بطور جہیز دینا ہوں گے ۔ نیوزویب سائٹ ایمریٹس 24/7نے سعودی میڈیا کے حوالے سے لکھاکہ طلاقوں کی یہ انوکھی کہانی سوشل میڈیا پر پھیل گئی ، چاربیگمات کے شوہر نے چار نئی بیگمات لانے کے لئے پہلے سے موجود چاروں خواتین کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا ،تاہم جب وہ نئی خواتین سے شادی کرنے میں ناکام ہواتو پہلی بیگمات سے دوبارہ شادی کا فیصلہ کیالیکن اب سابقہ بیگمات نے بھی جہیز کا مطالبہ کردیا جوتقریبا ً ایک لاکھ 60 ہزار سعودی ریال(تقریباً44لاکھ 63ہزارپاکستانی روپے ) بنتے ہیں ۔
آرکیسٹرا کا بندوبست نہ ہونے پر شادی کے ٹوٹ جانے کا انوکھا واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ بھارت میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر شادیاں ٹوٹنا روزانہ کا معمول بن گیا ہے لیکن اس بار آرکیسٹرا کا بندوبست نہ ہونے پر شادی کے ٹوٹ جانے کا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے ۔ ریاست اترپردیش کے ضلع واراناسی کے چولا پور گاؤں میں شادی کی تقریب کے لئے دولہا اور دلہن والوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت تقریب کے لئے دولہا والوں کی جانب سے ڈی جے کا بندوبست کیا جانا تھا لیکن دلہن کے والد ڈی جے پرفارمنس کا مطلب آرکیسٹرا سمجھ بیٹھے ۔لڑکی والے جب تقریب میں پہنچے تو لڑکے والوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا گیا اور ساتھ آئے لوگوں نے دیگر مہمانوں کے ساتھ ملکر ڈی جے کے گانوں پر خوب رقص کیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد دُلہن کے والد نے آرکیسٹرا کا بندوبست نہ ہونے پر شور مچانا شروع کردیا اور شادی ختم کرنے کی دھمکی بھی دی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دولہا والے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں جس پر مہمانوں نے مداخلت کی اور دونوں کو معاملہ سلجھانے کی ہدایت کی تاہم دُلہن کا والد اپنی ضد پر اڑا رہا اور شدید ضد بحث کے بعد شادی ہی ختم کرڈالی۔ یہ محبت کی انوکھی داستان ہے کہ 16سالہ لڑکے کی 73 سالہ خاتون سے شادی ہو گئی۔انڈونیشیا میں روایات اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک نوجوان نے 70 سال کی معمر خاتون سے شادی کی ۔اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب شادی کی ویڈیو آن لائن وائرل ہو گئی۔ نوجوان دولہے کی عمر 16سال ہے اور قانونی طور پر اسے شادی کرنے کا حق نہیں ہے ۔ بہر حال جب گاؤں کے لوگوں اور حکام نے اس شادی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تو جوڑے نے خود کشی کی دھمکی دی۔ اس کے بعد حکام نے بغیر رجسٹریشن کے شادی کی اجازت دے دی۔ انڈونیشیا قانون کے مطابق شادی کے لئے خواتین کی عمر 16 سال اور مردوں کی عمر 19 سال ہونی چاہیے۔ دونوں میں اس وقت قربت بڑھی جب ملیریا میں مبتلا لڑکے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بزرگ عورت نے سنبھالی۔ جنوبی سماترا کے اس گاؤں کے سربراہ سک اینی نے بتایا کہ ’’چونکہ لڑکے کی عمر کم تھی، اس لئے ہم نے شادی کی اجازت بغیر رجسٹریشن کے دے دی‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ایک غیر اخلاقی عمل کو روکنے کے لئے دو جولائی کو یہ شادی ہوئی۔ لڑکے کا نام سلامت جبکہ ان کی اہلیہ روہایا کی عمر73سال تھی‘‘ ۔ اطلاعات کے مطابق لڑکے کے والد کی کئی سال پہلے موت ہو چکی تھی جس کے بعد اس کی والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی۔ روہایا کی یہ تیسری شادی ہے اور ان کی پہلی دو شادیوں سے کئی بچے بھی ہیں۔ایک اورواقعہ بھی آپ کی دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے۔ دولہا کو ڈانس کرنا مہنگا پڑگیا، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا،بھارت میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر شادیاں ٹوٹنا معمول بن گیا ہے لیکن اس باردولہا کے ڈانس کرنے پر شادی کے ٹوٹ جانے کا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے شاہ جہان پورمیں ایک دلہے نے اپنی شادی کے دوران اچانک ناگن ڈانس شروع کر دیا ، اسے یہ حرکت اتنی مہنگی پڑی کہ دلہن نے شادی سے ہی انکار کردیا۔ نشے میں دھت دولہا جیسے ہی بارات لے کر دلہن کے گھرپہنچا تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور سڑک کے بیچوں بیچ لوٹتے ہوئے ناگن ڈانس کرنا شروع کر دیا۔ یادلہن پریانکا ترپاٹی کو جب یہ سب واقعہ معلوم ہوا تو اسے بہت شرمندگی ہوئی اور اس نے فوری طور پر اپنے والدین سے کہہ دیا کہ وہ ایسے شخص سے کسی صورت شادی نہیں کرے گی۔ دونوں خاندانوں نے دلہن کی بہت منت سماجت کی کہ وہ شادی سے انکار نہ کرے تاہم دلہن اپنے فیصلے پر قائم رہی، یوں دولہے میاں کی ایک چھوٹی سی غلطی ان کی عمر بھر کا پچھتاوا بن گئی، سنگاپور میں بھی عجیب واقعہ رونما ہوا۔ سنگاپور سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا گزشتہ دو سال سے اچھی بھلی ازدواجی زندگی گزاررہا تھا مگر حال ہی میں شوہر نے ایک ایسا کام کر ڈالا کہ حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے ان کی شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے ۔ شوہر نے اپنی جنس تبدیل کروا لی تھی اور تبدیلی جنس کے بعد اپنے شناختی کارڈ کو بھی تبدیل کروایا اور اس پر اپنی جنس عورت لکھوالی تھی۔ جب متعلقہ محکمے کو معلوم ہوا کہ میاں بیوی دونوں کی جنس عورت ہے تو ان کی شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ سنگاپور کے قانون کے مطابق شادی شدہ جوڑوں کو پہلی بار رہائش گاہ خریدنے کی صورت میں حکومت کی جانب سے رعایت ملتی ہے ، جسے حاصل کرنے کیلئے اس جوڑے نے بھی اپنی معلومات متعلقہ محکمے کو دی تھیں لیکن اس کوشش میں ان کی اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سنگاپور کے قانون کے مطابق شادی ایک عورت اور مرد کے درمیان ہوسکتی ہے لہٰذا یہ جوڑا میاں بیوی قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں گھر خریدنے کیلئے حکومتی رعایت حاصل ہوسکتی ہے ۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے برعکس سنگاپور نے ہم جنس شادیوں کو تاحال قانونی قرار نہیں دیا۔ سنگاپور کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ ملک ابھی ہم جنس شادیوں کو قانونی قرار دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ ذکر پھر بھارت کا آ گیا ہے، کبھی ڈانس پر شادی سے انکار اور کبھی گٹکا کھانے سے دلہن روٹھ گئی۔ دولہے کے گٹکے کھانے پر شادی کے ٹوٹ جانے کا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے۔ جی ہاںریاست اترپردیش کے مرار پتی گاؤں میں شادی کی تقریب میں دولہے کو گٹکا چبانا مہنگا پڑ گیا اور دلہن نے اسی وقت شادی سے انکار کردیا۔دولہا شادی کی رسومات کے دوران گٹکا کھا رہا تھا جو اس کی دلہن کو ذرا نہ بھایا اور دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے شادی سے انکار کردیا۔اس موقع پر لڑکی کے گھر والوں نے بہت سمجھایا لیکن دْلہن اپنی ضد پر اڑی رہی، شدید ضد بحث کے بعد شادی ہی ختم کرڈالی۔پاکستان میں بھی ایک واقعہ سنیے اور سر دھنیے۔ رواں برس 21 جنوری کو حیدرآباد پاکستان میں گدھے گدھی کی شادی کردی گئی‘‘۔ جی ہاں اب انسانوں کی شادی کارواج پرانا ہوگیا، پاکستان میں کس قسم کی شادیوں کا آغا ز ہوگیا؟ جان کرآپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی۔ حیدر آباد میں انوکھی شادی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ حیدرآباد کے رہائشیوں نے ایک انوکھی شادی کا اہتمام کیا، رہائشیوں کی طرف سے گدھے کو دولہا اور گدھی کودلہن بنادیا گیا۔گدھا گاڑی بان نے اپنے لاڈلے گدھے کو دولہا بنا کر اپنے دوست کی گدھی سے شادی کروادی۔ گدھا اور گدھی کی شادی کیلئے کئی گدھا گاڑی بانوں نے مل کر خصوصی اہتمام کیا اور خوب مزہ ہلا گلا کیا۔ شادیوں کے ان حیران کن واقعات میں ایک دلچسپ واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ ایک شخص نے ’’جل پری‘‘کو شادی کی پیشکش کر دی۔ اس جوڑے نے ایک دوسرے سے محبت کو ایک نئی’’گہرائی‘‘پر پہنچا دیا ہے ۔ جی ہاں امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایرک مارٹینز نے 8 جون کو اپنی گرل فرینڈ کیمی رینی سے میکسیکو کے علاقے ریوریا مایا میں تعطیلات کے دوران زندگی بھر کے ساتھ کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس جوڑے نے فوٹوگرافر پولی ڈاؤسن سے اس یادگار لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کا کہا۔ مگر ایرک نے اپنی ہونے والی دلہن کے لیے صرف یہ سرپرائز ہی نہیں رکھا تھا بلکہ انہوں نے اپنی منگیتر کی بچپن کی خواہش کو بھی حقیقت کا روپ دینے کا اہتمام کیا تھا۔ ایرک نے کیمی رینی کو کہا کہ وہ ایک بار پھر شادی کی پیشکش کرے گا مگر اس بار پانی میں، اور خاتون جل پری کے روپ میں ہوں گی۔ کیمی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا’’میری بچپن سے پسندیدہ شہزادی دی لٹل مرمیڈ کی ایریل تھی، جل پریاں جادوئی ہوتی ہیں اور سمندر کی گہرائیوں کو کھنگال سکتی ہیں، اور میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ مجھے پرنس ایرک جیسا شخص ملا، جس نے میرا خواب پورا کردیا‘‘۔ اس مقصد کے لئے ایرک نے خاص قسم کی سرخ انگوٹھی بھی تیار کرائی تھی تاکہ زیرآب فوٹو شوٹ میں اسے نمایاں کیا جاسکے ، جبکہ خاتون کے لئے جل پری جیسی گولڈ اور ریڈ رنگ کی دم بھی تیار کروائی۔ اگرچہ اب یہ تصاویر بہت خوبصورت اور آسانی سے لی جانے والی لگ رہی ہیں مگر کیمی کے مطابق یہ انتہائی مشکل کام تھا خصوصاً اس لئے کیونکہ میرا سر چکرا رہا تھا، مگر پھر بھی پانی کے اندر میں خود کو سنبھالنے میں کامیاب رہی‘‘۔
ماؤنٹ ایورسٹ پر شادی کرنے والے جوڑے کی داستان بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے، اس نوبیاہتا جوڑے نے ایک دوسرے سے محبت کو ایک نئی ’’بلندی‘‘پر پہنچا دیا ہے ۔ امریکا سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ جیمز سیسوم اور 32 سالہ ایشلے شمیدر نے زندگی بھر کے تعلق میں بندھنے کے لئے انتہائی غیرمتوقع مقام کا انتخاب کیا اور وہ ہے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ۔ رواں برس مارچ کے آخر میں ہونے والی یہ شادی ماؤنٹ ایورسٹ کیمپ پر ہوئی جہاں وہ اس سے قبل تین ہفتے تک ہائیکنگ کرتے رہے تھے ۔ ایشلے نے بتایا ’’کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ روایتی انداز سے شادی ہمارے لیے درست انتخاب نہیں، اگرچہ ہم اپنے اس خاص دن کو گھروالوں اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا پسند کرتے ، مگر ہم دونوں نے اس خیال کو اپنایا کہ ان حیران کن تعطیلات کے دوران شادی کے بندھن میں بندھا جائے‘‘۔ اگرچہ یہ شادی کے لیے دنیا کا بلند ترین اور غیرمتوقع مقام سمجھا جاسکتا ہے مگر جوڑے نے امریکی روایتی عروسی ملبوسات پہننے کو ترجیح دی۔ جیمز نے سوٹ جبکہ ایشلے نے سفید رنگ کا روایتی عروسی لباس زیب تن کیا، ان کی اس تقریب کو ایک ایڈونچر ویڈنگ فوٹوگرافر چارلیٹن چرچل نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔ فوٹوگرافر نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بلاگ پوسٹ میں اس تقریب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ’’سفر کے آغاز میں بہت زیادہ برفباری ہورہی تھی، ہمارے گائیڈ کے مطابق ہمارے اوپر پورے موسم سرما سے زیادہ برف گرسکتی ہے ، 14 ہزار فٹ کی بلندی پر درجہ حرارت منفی 8 سے 10 فارن ہائیٹ تک گرگیا تھا اور ہمارے ہاتھ دستانوں سے نکلتے ہی منجمند ہوجاتے ، جیسا کہ تصاویر لینے کی کوشش کے دوران میرے ساتھ ہوا‘‘۔ انہوں نے لکھا ‘جیمز اور ایشلے کی شادی منفی پانچ سے پانچ ڈگری فارن ہائیٹ کے دوران ہوئی، دلہن کے عروسی لباس کے لئے ہم نے خصوصی طور پر انتظام کیا کہ وہ گرم رہے ‘‘۔ تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود شادی کی تقریب کا انعقاد ہوا، فوٹوگرافر کے مطابق ‘جب ہم بیس کیمپ پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے پاس ڈیڑھ گھنٹہ ہے جس کے دوران کھانا، شادی، سامان باندھنا اور ہیلی کاپٹر پر سوار ہونا ہے ، تو ہم نے ایک گھنٹے کے اندر کھانا، پینا اور شادی کی تقریب نمٹائی، جس کی ہم نے چند تصاویر بھی لیں‘‘۔ چار مرتبہ شادی کرنے والے میاں بیوی کا تذکرہ بھی حیران کن اور اپنی طرز کا انوکھا واقعہ ہے۔ آپ نے کئی رومانوی ناولز اور افسانوں میں تو پڑھا ہی ہوگا کہ محبت کا کوئی مذہب یا ذات نہیں ہوتی اور یقینا آپ نے ایسی فلمیں بھی دیکھی ہوں گی جن میں ہیرو اور ہیروئن الگ الگ مذہب اور ملک سے تعلق رکھنے کے باوجود شادی کرتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں ایسا حقیقت میں بھی ہوتا ہے کہ دولہا اور دلہن الگ الگ مذہب رکھنے کے باوجود شادی کرتے ہیں اور مذہب بھی تبدیل نہیں کرتے ، مگر ایک ہی میاں بیوی چار بار مختلف طریقوں سے شادی کریں ایسا کم ہی ہوتا ہے ۔ بھارت جیسے کثیر المذہب اور کثیر الثقافتی ملک میں دو مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد کی شادی ہمیشہ ہی سماجی مسئلہ رہی ہے ، تاہم بہت سارے جوڑے ایسے بھی ہیں جنہوں نے غیر مذہب افراد سے شادی کر رکھی ہے ، ایسی شادیاں کرنے والوں میں بولی وڈ اداکار، سیاستدان، کھلاڑی اور کاروباری افراد شامل ہیں۔ ہندوستان کی ریاست ہریانہ سے تعلق رکھنے والی انکیتا بھی ایک ایسی ہی لڑکی ہے ، جس نے ایک مسلمان لڑکے سے شادی کی اور یہ شادی ایک بار نہیں بلکہ چار بار کی۔ انکیتا ہندو مت کی ماننے والی ہیں، جبکہ ان کے شوہر فیض کا تعلق ترقی پسند مسلمان گھرانے سے ہے ۔ فیض اور انکیتا کی محبت ڈرامائی طور پر 2 سال قبل شروع ہوئی، جو بتدریج بڑھتی چلی گئی اور پھر دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا، مگر یہ آسان اور ممکن نہ تھا۔انکیتا نے اپنی شادی کی کہانی لکھتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان کے گھر والے شادی کے لئے تیار نہیں تھے ، تاہم انہوں نے کھل کر مخالفت بھی نہیں کی۔ گھروالوں کو راضی کرتے کرتے انہیں 2 سال گزر گئے ، مگر دونوں کے اہل خانہ راضی نہ ہوئے ، پھر بالآخر انہوں نے گھروالوں کی رضامندی کے بغیر ہی شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انکیتا اور فیض کی شادی کے بعد بالآخر ان کے اہل خانہ بھی راضی ہوگئے ، فیض کے مطابق ایک مسلمان مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہوتی ہے ، اس لیے انہوں ایک ہی دلہن کے ساتھ چار بار شادی کی رسومات ادا کیں۔ شادی کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا، بلکہ دونوں اب بھی اپنے اپنے مذاہب پر یقین رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کی زندگی کا اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ انکیتا اور فیض نے پہلی شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق کی، فیض نے انکیتا کی مانگ میں سندور بھرا اور انھیں مالا پہنائی۔ انکیتا اور فیض نے دوسری شادی اسلامی رسم و رواج کے تحت کی، وہ عدالت گئے اور بھارت کے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کی، یہ ایکٹ مسلمان مرد کو 4 شادیوں سے بھی روکتا ہے ۔ انکیتا اور فیض نے اپنی تیسری شادی اور محبت کو یادگار بنانے کے لیے ہندوستانی فلموں اور رومانوی ناول کی کہانیوں میں بتائے گئے آئیڈیاز کو خوب استعمال کیا۔وہ تیسری شادی کے لیے بھارتی ریاست گووا پہنچے ، جہاں انہوں نے ایک بار پھر اسلامی رسم و رواج کے مطابق دوستوں اور سیاحوں کے سامنے نکاح کیا، اس دوران گیت سنگیت اور رقص کا پروگرام بھی سجایا گیا۔ انکیتااور فیض نے چوتھی شادی ہندو رسم ورواج کے مطابق کی، انہوں نے ساحل سمندر پر سات پھیرے لئے ۔شادی کی چوتھی تقریب میں بھی انہوں نے گیت سنگیت اور رقص کے پروگرام کا اہتمام کیا۔ دسمبر2010ء میں سمیر پٹیل اور لیسا وائٹ نے لندن کے مشہور لینڈ مارک لنڈن آئی کے سائے تلے اپنی شادی کی تقریب منعقد کی، امریکہ میں میسیچوسیٹس میں اپنی ‘سیلٹِک شادی’ میں ڈینئیل لِن میک کی اور برے ٹن تھامس تھرنے تتلیلوں کو آزاد کرتے ہوئے شادی کی۔ چوبیس گھنٹوں میں دو شادیاں کر کے ملتان میں ایک نئی روایت ڈالی گئی۔ ملتان میں ایک نوجوان نے ایک دن میں دو شادیاں رچا کر ایک سے زیادہ شادیوں کے متمنی مردوں کے لئے ایک نئی روایت قائم کر دی ہے ۔ تیس سالہ اظہر حیدری چوبیس گھنٹوں میں دو شادیوں کا اعلان کر کے پاکستانی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے، اظہر حیدری نے بتایا کہ اس کی دلہنوں میں سے ایک اس کے خاندان کی پسند ہے جبکہ ایک ا ن کی اپنی پسند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دراصل وہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے خاندان نے ان پر زور ڈالا کہ وہ اسی خاتون سے شادی کریں جسے ان کے والدین نے بچپن سے طے کر رکھا تھا۔اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے لئے انہوں نے یہ حل نکالا کہ دونوں لڑکیوں سے اکٹھی شادی کر لی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں خاندانوں نے ان کی تجویز کو مان لیا اور اب وہ اپنے آپ کو بہت خوش قسمت محسوس کرتے ہیں کیونکہ دو عورتوں نے شاید ہی کسی ایک مرد کو پسند کیا ہے۔ تیئس سال اظہر حیدری کی پہلی شادی اتوار کے روز اٹھائیس سالہ کزن حمیرا قاسم سے ہوئی جبکہ ان کی دوسری شادی ان کی اپنی پسند رومانہ اسلم سے سوموار کے روز ہوئی۔پاکستان میں رائج اسلامی قانون مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ اس میں پہلی بیوی کی رضامندگی شامل ہو۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ بیویاں ہونا انہونی بات نہیں ہے لیکن دوسری شادی اکثر کئی سالوں کے وقفے کے بعد کی جاتی ہے ۔ اس سے پہلے ایک ہی شخص کی چوبیس گھنٹوں میں دو شادیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کے کئی ٹی وی چینلز پر اظہر حیدری کی شادی کی تقریبات کو براہ راست دیکھاگیا تھا۔ ملتان میں مہنگی ترین شادیوں کے بعد مہنگی ترین مہندی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ دولہا 2 ہزار مہمانوں اور قیمتی گھوڑے، اونٹوں اور شیروں کے ہمراہ دلہن کے گھر مہندی لے کر پہنچ گیا تھا۔ روسی بزنس مین نے بیٹی کی شادی پر 1 ارب لٹا دئیے تھے۔ یوں تو ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپن بچوں کی شادی کویادگار بنانے کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑے لیکن کچھ لوگ تو اس موقع پر ہر خزانے کا منہ ہی کھول دیتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ دیکھنے کو ملا۔ امریکی شہر لاس اینجلس میں جہاں روسی بزنس مین نے اپنی 22 سالہ بیٹی کی شادی میں، صرف چند گھنٹوں میں ہی ایک ارب روپے سے زائد لٹا دئیے۔ ایلڈراوسمانو وانامی روی بزنس ٹائیکون کی بیٹی کی شادی کی تقریب لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد کی گئی اوراس موقع پر تھیٹر کو رنگ برنگے مہنگے ترین پھولوں سے سجایا گیا، جن کی مجموعی مالیت 5 لاکھ امریکی ڈالر تھی۔ تقریب میں معروف امریکی سنگر لیڈی گاگا نے بھی پرفارم کیا جبکہ تقریب میں دیگر امریکی و روسی اسٹارز بھی شریک تھے۔ اس شادی پر مجموعی طور پر ایک ارب سے زائد خرچ ہوئے، جس میں مہنگا عروسی لباس، کئی فٹ لمبا کیک، آرکیسٹرا پرفارمنس بھی شامل تھی۔چلتے چلتے پھر بھارت کا ذکر آ گیا۔ بھارت میں ازدواجی بندھن کی بے حرمتیوں کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں کہ بھارت میں دولہا کی طرف سے گاڑی کا مطالبہ کرنے پر دلہن نے شادی کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد لوگوں نے باراتیوں کو یرغمال بنا لیا۔ریاست اترپردیش کے ضلع سہارنپور میں دولہا کی طرف سے گاڑی کا مطالبہ کرنے پر دلہن نے نکاح کرنے سے انکار کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ دلہن کے گھر والوں نے باراتیوں کو یرغمال بھی بنا لیا۔ پولیس کے مطابق نکاح کی رسم جب ادا کی جا رہی تھی تو اچانک دولہا نے کہا کہ نکاح کی رسم تبھی ادا ہو گی، جب لڑکی والے اسے گاڑی دیں گے ۔ لوگوں نے دولہا کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنی بات سے ٹس سے مس نہیں ہوا۔ دونوں اطراف کے لوگ اس مسئلہ کو حل کرنے میں لگے رہے ، لیکن اسی دوران دلہن نے نکاح کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ جس کے بعد لوگوں نے باراتیوں کو یرغمال بنا لیا تاہم رات گئے ان کو چھوڑ دیا گیا جس کے بعد بارات دلہن کو لیے بغیر واپس چلی گئی۔
دنیا بھر میں شادی کی رسوم و رواج میں وہاں کی روایات اور تہذیب و ثقافت جھلکتی ہے۔ مسلمانوں میں نکاح، عیسائیوںمیں مقدس انگشتری اور ہندوئوں میں اگنی کے سات پھیرے زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد نامہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں شادیاں بہت رنگین اور رونق والی ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں شادی کی رسموں میں بے پناہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ذیل میں چند دلچسپ شادیوں کی رسومات کے بارے میں اجمالی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے : ٭پاکستان میں شادی کی تقریبات کا آغاز ڈھولکی سے ہوتا ہے ۔ شادی سے کئی روز پہلے سے ڈھولکی بجنا شروع ہو جاتی ہے جس میں خاندان کی لڑکیاں اور عورتیں شرکت کرتی ہیں۔ شادی کی پہلی باقاعدہ رسم مایوں ہوتی ہے ۔ اس میں دلہن کو پیلا جوڑا پہنایا جاتا ہے ۔ مہمان بھی پیلے کپڑے پہنتے ہیں۔ دلہن اور دولہا کو ابٹن لگائی جاتی ہے ۔ ابٹن کے بعد مہندی کی رسم ہوتی ہے ۔ قدامت پرست گھرانوں میں لڑکے اور لڑکی کی مہندی علیحدہ علیحدہ جبکہ ماڈرن گھرانوں میں ایک ساتھ ہوتی ہے ۔ بارات والے روز دولہا کی سہرا بندی کی جاتی ہے ۔ دلہن والے بارات کا استقبال ہار پھول پہنا کر کرتے ہیں۔ نکاح کی رسم اداہونے کے بعد چھوہارے تقسیم کی جاتے ہیں۔ دودھ پلائی کی رسم ہوتی ہے ۔ رخصتی کے وقت دلہن کو قرآن مجید کے سائے میں رخصت کیا جاتا ہے ۔
عیسائیوں میں دو فرقے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ہیں۔ کیتھولک فرقے میں شادی کی رسوم کی ابتدا رشتہ لے جانے سے ہوتی ہے ۔ باہمی رضامندی کے بعد بات طے ہو جاتی ہے ۔ قریبی عزیزوں کو مدعو کرکے منگنی کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ دولہا دلہن ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں۔ شادی کی تاریخ طے ہوتی ہے اور تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شادی کی رسم چرچ میں ہوتی ہے ۔ دلہن سفید میکسی اور دولہا سیاہ سوٹ پہنتا ہے ۔ پادری دعائیں پڑھتا اور شادی کی رسوم ادا کرتا ہے ۔ ایجاب و قبول کے بعد پادری شادی کی مقدس انگشتریاں بائبل پر رکھتا ہے جسے دولہا اور دلہن ایک دوسرے کو پہناتے ہیں۔ اس کے بعد پادری ان کے میاں بیوی ہونے کا اعلان کرتا ہے ۔ بعدازاں میاں بیوی شادی کے رجسٹر پر دستخط کرتے ہیں پھر موم بتیاں جلاتے ہیں۔ دو موم بتیاں ان دونوں کی اور تیسری ان کے بندھن کی ہوتی ہے ۔ شادی کی تکمیل کے بعد کیک کاٹا جاتا ہے جو جتنا امیر ہوتا ہے اسی حساب سے کیک کی منزلوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ کیک اور مشروبات سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے اور اس کے فوراً بعد ہنی مون پر روانہ ہو جاتے ہیں۔
ہندوئوں میں شادی کی بہت سی رسمیں ہیں۔ ان میں رشتہ لڑکی والے لاتے ہیں۔ پنڈت ‘‘کنڈلی’’ ملاتا ہے ۔ رضامندی کے بعد منگنی (سگائی) کی تقریب ہوتی ہے اور دو روز بعد شادی کی تاریخ دے دی جاتی ہے ۔ ان کے ہاں شادی کی ابتدا ‘‘ونوا’’ کی رسم سے ہوتی ہے جسے ہم مایوں کہتے ہیں۔ دلہن کو پیلا جوڑا پہنا کرابٹن اور مہندی لگائی جاتی ہے ۔ شادی والے دن دولہا تیار ہونے کے بعد کھیر کی خالی کٹوری پائوں سے توڑتا ہے جبکہ لڑکی والوں کے ہاں پنڈت ایک مٹکے میں پانی ڈالتا ہے اور مٹکے پر ناریل رکھتا ہے ۔ لڑکی کی ماں وہ مٹکا سر پررکھ کر لاتی ہے پھر اس کی پوجا کی جاتی ہے ۔ ایک رسم میں دودھ بھری ہوئی کٹوری میں دولہا اور دلہن کی انگوٹھیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ دونوں پیالے میں ہاتھ ڈال کر انگوٹھیاں تلاش کرتے ہیں جس کو انگوٹھی مل جاتی ہے وہ دوسرے کو دے دیتا ہے یہ عمل تین بار دہرایا جاتا ہے ۔ شادی کی اہم ترین رسم اگنی کے سات پھیرے ہیں۔ آگ کو گواہ بنا کر یہ رسم ادا کی جاتی ہے ۔ اس میں دولہا کا پٹکا دلہن کے پلوے سے باندھ کراگنی کے سات پھیرے لئے جاتے ہیں اس دوران پنڈت منتر‘‘سواہا’’ پڑھتا رہتا ہے ۔ لڑکی کا ماموں آگ میں جو ڈالتا ہے اور دلہن کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے ۔ اگلے پھیروں میں چچا، بھائی اور باپ سبھی رسم دہراتے ہیں۔ پھیرے مکمل ہونے کے بعد دولہا دلہن کی مانگ میں سیندور بھر کر اسے منگل سوتر پہناتا ہے اور آخر میںدونوں ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار ‘‘ورمالا’’ پہناتے ہیں۔ اس کے بعد مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے ۔رخصتی کے بعد دلہن سسرال آتی ہے تو سر پر دودھ بھرا کٹورا رکھتی ہے اور چوکھٹ سے گھر کے اندر دودھ کے چھینٹے مارتی ہے ۔ چوکھٹ پر ہی ساس دلہن کی آرتی اتارتی ہے وہیں سندور سے بھڑا کٹورا رکھا ہوتا ہے جسے دلہن ٹھوکر سے گرا کر سرخ پائوں سے گھر کے اندر داخل ہوتی ہے ۔ دلہن کے ہاتھ میں تل اور جو رکھا جاتا ہے اور منہ دکھائی دی جاتی ہے ۔
جاپان کے جزائر اوکی ناوا میں دلہن کو آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے ۔ حجلہ عروسی میں داخلہ کی متمنی لڑکی کے سر کے بال جلائے جاتے ہیں۔ اس موقع پر قبیلہ کا جادوگر کسی جانور کے تیز دانت سے لڑکی کی پیٹھ پر گہری لکیریں ڈالتا ے اور زخموں میں پسی ہوئی مرچیں بھرنے سے قبل لڑکی کے ہاتھ کو خوب مضبوطی سے باندھ دیتا ہے ۔ لڑکی زخموں میں پسی ہوئی مرچوں کی تکلیف سے درد کے مارے تڑپتی رہتی ہے لیکن کامیاب شادی کیلئے اسے یہ تکلیف برداشت کرنا ہوتی ہے ۔
سوڈان کے بعض علاقوں میں رواج ہے کہ دلہن اپنے ہونے والے شوہر کے رخسارکو داغ دیتی ہے ۔ اس سے یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ اسے اپنے ہونے والے شوہر سے محبت ہے اور یہ داغ اس کی محبت کی مہر ہے جو اس کے رخسار پر ثبت ہے ۔ یہ داغ دیتے وقت شوہر کو جو تکلیف ہوتی ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ عشق کی یہ مہر زندگی بھرشوہر کے چہرے پرثبت رہتی ہے ۔
ویلز انگلستان کا مشہور علاقہ ہے ۔ وہاں قدیم ایام سے آج تک یہ رسم جاری ہے کہ دولہا دلہن کو حجلہ عروسی میں داخل ہونے کیلئے آگ کے ڈھیر پرسے گزرنا پڑتا ہے ۔
کینیا کے مسائی قبیلے میں رخصتی کے وقت دلہن کا باپ اپنے بیٹی کے سر اور جسم پر دودھ کے قطرے چھڑکتے وقت دعائیہ کلمات ادا کرتا ہے کہ اللہ اسے بہت سے بچوں کی ماں بنائے ۔ سسرال پہنچتے ہی دلہن کا طمانچوں تھپڑوں اور گھونسوں سے استقبال کیا جاتا ہے کوئی خاتون آگے بڑھ کر دلہن کے سرپر مٹھی بھر گوبر ڈال کر اسے عروسی سلامی پیش کرتی ہے ۔ پھر دلہن کی ساس اسے حجلہ عروسی (جوایک خوبصورت جھونپڑی کی صورت میں ہوتا ہے ) میں لے جانے کیلئے آتی ہے ۔ پھر عزیزواقارب بیش قیمت تحفے دے کر اور لاڈ پیار سے حجلہ عروسی میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔
مراکش کے ایک قبیلے میں شادی کے موقع پر مذہبی رہنما ایک تیز دھار چاقو دلہن کے گلے پر رکھ دیتا ہے جب دلہن کے گلے سے خون کا ایک قطرہ ٹپک پڑے تو نکاح ہو جاتا ہے ۔ اس رسم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دلہن پر واضح ہو جائے کہ وہ اب شوہر کے رحم و کرم پر ہوگی۔
تبت کے سوک قبائل میں شادی کی رسم کی ادائیگی کیلئے دولہا اور دلہن کو ایک ایک پورا کیک کھانا پڑتا ہے اور یہ ضروری ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی کیک کھانے میں ناکام رہے تو وہ شادی اسی دن ختم ہو جاتی ہے ۔
بھارت کے ایک قبیلے سنجومیں شادی کی رسومات میں دلہن کی ماں شریک نہیں ہوتی۔
بیجنگ میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود دنیا میں آج بھی ایسی رسوم پائی جاتی ہیں کہ جن کے متعلق سن کر ہی انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ چین کے دور دراز علاقوں میں پائی جانے والی ایک رسم بھی ایک ایسی ہی مثال ہے کہ جس کا جدید دنیا میں تصور کرنا خاصا مشکل ہے۔ یہ رسم دولہے کو ادا کرنا پڑتی ہے جو اپنی دلہن کو اٹھا کر دہکتے ہوئے کوئلوں پر چلتا ہوا گزرتا ہے۔ قدیم چینی روایات کے مطابق نئے جوڑے کے لئے اپنے نئے گھر میں داخل ہونے سے پہلے یہ رسم ادا کرنا ضروری ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کے دوررس فوائد ہیں جن میں سے سرفہرست یہ ہے کہ دلہن جب حاملہ ہو گی اوربچے کو جنم دے گی تو اس سارے عمل کے دوران اسے کسی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اگر اس کا خاوند پہلے ہی کوئلوں پر چلنے کی تکلیف اٹھا چکا ہو گا۔ قدرتی آفات سے دوچار ہونے کی صورت میں بھی چینی لوگ اس رسم کو ادا کرتے ہیں اور جنوب مشرقی ایشیاء کے کئی اور ممالک میں بھی یہ رسم پائی جاتی ہے۔
ہر علاقے کی رسومات الگ ہوتی ہیں۔ یہ رسومات اس علاقے کی شناخت بن جاتی ہیں کچھ علاقوں میں یہ رسومات توہمات کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہیں۔جیسے زمانہ قدیم میں دریائے نیل کے کنارے آباد لوگ اس بات کو ضروری سمجھتے تھے کہ ہر سال نیل کے کنارے ایک نوجوان دوشیزہ کا خون بہانا بہت ضروری ہے ۔ اس کے بغیر دریا بہنا بند ہو جائے گا۔ یہ سلسلہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے مصر پر قبضہ کرنے سے پہلے تک چلتا رہا۔ ہندوؤں کا عقیدہ تھا کہ سمندر کے پانی کو چھیڑنے سے سمندر کا دیوتا ناراض ہو جائے گا اور طوفان کی صورت انہیں ہلاک کر ڈالے گا۔ یہ عقیدہ اب بڑی حد تک دم توڑ گیا ہے کیونکہ نیوی اور ماہی گیروں کی صورت میں ہندو سمندر سے دوستی کر چکے ہیں۔ چینی اپنے نئے سال کے آغاز پر پٹاخے بجاتے ہیں تاکہ بدروحیں بھاگ جائیں اور پچھلے سال کی بدقسمتی کو ختم کرنے کیلئے نئے سال سے ایک دن پہلے ہی گھر کو صاف کر لیتے ہیں۔ نئے سال کے پہلے دن گھر کو صاف نہیں کرتے تاکہ خوش قسمتی غلطی سے جھاڑو کے ساتھ گھر سے باہر نہ نکل جائے ۔ دنیا بھر کے ممالک میں سب سے زیادہ دلچسپ رسومات شادی بیاہ کے موقع پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔کانگو کے پگمی قبائل میں یہ رواج ہے کہ دلہن اپنے دلہا کے ماتھے پر نوکیلے آلے سے اپنا نام کندہ کرواتی ہے تاکہ کوئی اور عورت اس کے شوہر پر حق نہ جتا سکتے ۔ اسی طرح کی ایک رسم سوڈان میں بھی رائج ہے جس میںدلہن اپنے شوہر کے منہ کو داغ دیتی ہے ۔ اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے شوہر سے بے پناہ محبت ہے اور داغنے کا نشان اس کی محبت کا ثبوت ہوتا ہے محبت کے اتنے دردناک نشانات کم از کم پاکستانی مرد تو برداشت نہیں کر سکتے اور اگر ایسا معاملہ کبھی ہمارے ملک میں ہوا تو مرد شادی یا محبت کے نام سے ہی تائب ہو جائیں گے ۔1991 ء میں کرغیزستان میں ایک رسم پر پابندی لگائی گئی جس میں ہونے والی دلہن کو شادی کے دن اغواکر لیا جاتا تھا اور اسے خوب رلایا جاتا تھا۔ دلہن کے آنسو جتنے زیادہ بہتے اسے اتنا زیادہ اچھی زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا۔ دلہن کا زار و قطار رونا شادی شدہ زندگی کیلئے انتہائی نیگ شگون سمجھا جاتا تھا۔ یہ رسم اب بھی چوری چھپے ادا کی جاتی ہے ۔ اصل میں اس رسم میں دلہن کو رلانے کا مقصد یہ ہونا چاہئیے کہ ان کا رونا آج ہی ختم ہو جائے گا۔ تاہم دولہا کو ساری زندگی رو رو کر ہی گزارنی ہے ۔ ہمارے ہاں اس رسم کی اتنی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رخصتی کے وقت دلہنیں خود ہی دل کھول کر رو لیتی ہیں۔ اس مقصد کیلئے ان کا اغواء ضروری نہیں ہوتا۔میانمار میں لوگ اپنے بچوںکے پیدا ہونے کا دن یاد رکھتے ہیں جب ان کی شادی کا وقت آتا ہے تو اس بات کا خاص دھیان رکھا جاتا ہے کہ ایک ہی دن پیدا ہونے والے لوگوں کی آپس میں شادی نہ ہونے پائے ۔ اگر یہ شادی ہو جائے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔ مثلاً بدھ کو پیدا ہونے والے لڑکے کی شادی اسی دن پیدا ہونے والی لڑکی سے نہیں کی جاتی۔ سری لنکا میں جوتشی سال میںایک دن کو شادی کیلئے بہت موزوں قرار دیتے ہیں لوگ اس خصوصی دن کا کئی کئی مہینے انتظار کرتے ہیں اور کئی شادیاں ایک ہی دن سرانجام پا جاتی ہیں۔
چین میں قبروں سے خواتین اور لڑکیوں کی لاشیں نکال کر ان کی مردہ آدمی سے شادی کرنے کے بعد دوبارہ دفن کرنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ چین میں توہم پرستی کے مارے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی کنوارہ شخص اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اگلی دنیا میں اسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اسی لئے مرنے والے تنہا افراد کی کسی خاتون یا لڑکی کی لاش سے شادی کرا دی جاتی ہے اور اس کے بعد اسے مرد کے ساتھ یا اس کے برابر قبر میں دفنا دیا جاتا ہے۔ قدیم چینی تہذیب میں یہ بات بھی عام ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر شادی کے مر جائے تو اس کی روح بھٹک کر اس کے عزیزوں کو اذیت پہنچاتی رہتی ہے، اسی لئے کئی خاندان اپنے مرنے والوں کے لئے ’’بھوت دلہن‘‘ تلاش کرتے ہیں اور اسے اپنے عزیز کے ساتھ دفن کرتے ہیں، اس طرح ان کے عقائد کے مطابق تمام بلائیں ٹل جاتی ہیں اور خاندان محفوظ رہتا ہے۔ چین کے مختلف علاقوں میں کنوارے شخص کی موت کے بعد کسی خاتون کا چاندی کا مجسمہ، پلاسٹ کا پتلا اور دیگر اشیاء دفنائی جاتی رہی ہیں تاہم ان میں سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ کسی تازہ قبر کو کھود کر خاتون کی لاش نکالی جاتی ہے پھر اسے میک اپ کر کے نئے کپڑے پہنا کر مرنے والے کی قبر کے ساتھ دفنا دیا جاتا ہے جبکہ یہ لاشیں قبر سے نکالنے کے لئے خطرات مول لینے کے ساتھ ساتھ خطیر رقم بھی خرچ کی جاتی ہے۔ چین میں اس کام کے لئے مردہ خواتین کو چُرانے والے کئی خفیہ گروہ کام کر رہے ہیں جو لاشوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔ ایک لاش کی قیمت اس وقت پاکستانی 10 سے 15 لاکھ ہے جبکہ 2011ء میں 4 ایسے افراد کو پکڑا گیا تھا جنہوں نے قبر سے 10 خواتین کی لاشیں نکال کر فروخت کی تھیں اوراس کے بدلے میں قریباً 40 لاکھ روپے حاصل کئے تھے۔ چین میں خواتین کی لاشوں کو بے حرمتی سے بچانے کے لئے کئی خاندان انہیں قبرستان کی بجائے دور دراز کے پہاڑی علاقوں پر دفنا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے قبروں کو پختہ کر کے خاردار تار لگا دئیے اور کچھ نے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کرائے ہیں۔ واضح رہے کہ چین میں مردہ خواتین اور مردوں کی شادی پر 1949ء میں پابندی لگا دی گئی تھی تاہم گزشتہ کئی سال سے کچھ علاقوں میں یہ واقعات بڑھ گئے ہیں۔ ہینان اور شانکسی صوبوں میں گزشتہ 3 برسوں میں قبر کھود کر خواتین کی لاشیں نکالنے کے 30 کے قریب واقعات ہو چکے ہیں۔
شادیوں کا ذکر ہوتا ہی رہے گا۔ کچھ بات دنیا بھر میں پہنے جانے والے روایتی عروسی ملبوسات کے بارے میں ہو جائے۔دنیا کے ہر علاقے کی دلہن جانتی ہے کہ شادی کے دن سب سے زیادہ اہم عروسی لباس ہی ہوتا ہے ۔بیشتر ممالک میں دلہن کا لباس وہاں کی ثقافت کا اظہار ہوتا ہے ، اس کا رنگ، ساخت اور دیگر تفصیلات اُس جگہ، مذہب وغیرہ کی روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔جیسے ترکی میں دلہن ایک سرخ ‘دوشیزگی’ کی بیلٹ خوش قسمتی کی علامت کے طور پر پہنتی ہے ، اریٹیریا میں دلہن گہرے رنگ کے ریشمی تاج اور جامنی و گولڈ عبادہ زیب تن کرتی ہے ۔دنیا بھر میں جوڑے کس طرح کے عروسی ملبوسات پہنتے ہیں، یہ جاننا آپ کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا، جس سے ان ممالک کی ثقافتی روایات کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔جاپانی شادیوں میں دلہن اکثر دو یا اس سے زائد ملبوسات پوری تقریب میں استعمال کرتی ہے جو کہ سفید اور سرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔گھانا کی روایتی شادی بہت رنگا رنگ ہوتی ہے ، وہاں اکثر ملبوسات کے ڈیزائن مختلف رنگوں اور پیٹرن کے حامل ہوسکتے ہیں، ہر خاندان کے لباس کا اپنا پیٹرن ہوتا ہے ۔رومانیہ میں اکثر نوجوان شادی کے موقع پر جدت کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم روایتی تقریبات اب بھی اس کے دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں، اگرچہ یہ ملک زیادہ بڑا نہیں مگر اس کے ہر خطے کی شادی کے حوالے سے اپنی روایات ہیں۔اگر آپ کو کسی سری لنکن روایتی شادی میں شرکت کا موقع ملے تو آپ کی نگاہیں دولہا سے نہیں ہٹ سکیں گی۔بھارت میںسرخ یا گلابی عروسی ملبوسات بھارتی ثقافت میں دلہن کا روایتی انتخاب ہوتا ہے ۔اسکاٹ لینڈ میں دلہا عام طور پر اسکرٹ پہنتا ہے ، جبکہ شادی کی تقریب کے بعد دلہا ایک شال دلہن کے کندھے پر ڈالتا ہے جو اس کے خاندان کے رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اس طرح یہ دلہن کی نئے خاندان میں رکنیت کی علامت بن جاتا ہے ۔پاکستان کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں اپنے ملک کی روایات کے بارے میں کافی کچھ علم ہے ۔ایتھوپیا واحد افریقی ملک ہے جہاں عیسائیت سرکاری مذہب ہے ، یہی وجہ ہے کہ ان کی شادیاں یونانی یا روسی انداز کی ہوتی ہیں۔انڈونیشیا میں ایک سے دوسرے جزیرے میں شادی کی روایات مختلف ہوتی ہیں، ویسے بھی تین سو نسلی گروپس اور چھ بڑے مذاہب کو ماننے والے افراد پر مشتمل اس ملک کی ثقافت متعدد رنگوں کی حامل ہے ۔یورپ اور ایشیا کی سرحد پر موجود علاقے قفقاز میں روایتی شادی کے موقع پر دولہا وہاں کا روایتی کوٹ پہنتا ہے جبکہ بیلٹ سے تلوار بندھی ہوتی ہے ، دلہن اکثر سفید عروسی لباس میں ہوتی ہے جس پر خوبصورت سیاہ پٹیاں لگی ہوتی ہیں۔چین کا روایتی عروسی لباس سرخ ہے ، چین میں ویسے سفید رنگ کو ماتم کا رنگ مانا جاتا ہے ، شادی کے بعد دولہا دلہن کے سر سے سرخ ڈوپٹے کو ہٹاتا ہے ۔ملائیشیا میں اکثر دلہن جامنی یا کریم رنگ کے عروسی لباس کا انتخاب کرتی ہے ۔جنوبی کوریا میں روایتی انداز سے شادی کرنے کا رواج حالیہ عرصے میں زور پکڑ چکا ہے ، یہاں کی تاریخی روایات کے مطابق دولہا اپنی بیوی کو کمر پر اٹھا کر میز کے گرد گھومتا ہے ، جو اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ دلہن اپنے شوہر پر انحصار کرسکتی ہے ۔ناروے میں دلہن ایک روایتی نارویجن لباس پہنتی ہے ۔نائیجریا میں دلہنیں روایتی عروسی ملبوسات کا انتخاب کرتی ہیں، جبکہ سر پر ایک مخصوص پگڑی ٹائپ کپڑا بندھا ہوتا ہے ۔
طلاق کی دلچسپ رسومات اور عجیب و غریب قوانین کے بارے میں بھی دلچسپ باتیں سامنے آئی ہیں۔ آپ نے شادی کے موقع پر ادا کی جانے والی رسومات کے بارے میں تو سنا ہو گا لیکن دنیا میں چند ایک مقامات ایسے بھی ہیں جہاں شادی کی ناکامی پر بھی مذہبی رسومات ادا کرنے کی روایت موجود ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ شادی کی ناکامی کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، شادی ٹوٹنے کا تجربہ لوگوں کے لئے خوشی کا باعث نہیں ہوتا ہے جس میں دونوں فریق کو طلاق کا معاہدہ کرنا ہوتا ہے اور اس حوالے سے اپنے ملک کے قوانین کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ دنیا میں کئی ممالک میں پائی جانے والی طلاق کے عجیب و غریب رسومات اور طلاق کے حیرت انگیز قوانین کا ذکر موجود ہے۔ جاپان میں ایک ایسا مندر واقع ہے جو اپنے زائرین کو ناکام شادی ٹوائلٹ میں بہانے کی پیشکش کرتا ہے۔ وسطی جاپان کے صوبے گونما میں منٹوکوجی ٹیمپل ازدواجی تعلقات سے چھٹکارا حاصل کرنے والے جوڑوں کو ایک کاغذ پر تمام گلے شکوے لکھنے اور طلاق کی وجوہات بیات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جسے بعد میں فلیش میں بہا دیا جاتا ہے۔ جرمنی کے ایک چرچ میں طلاق پر ماتم کی رسم: یہ 2000ء کی بات ہے جب جرمنی میں ایک پادری مارگوٹ کائسمین نے ملک کے تمام گرجا گھروں میں طلاق کے موقع پر ماتم کی رسم ادا کرنے کی تجویز پیش کی جس کے بعد ان کی تجویز پر گرجاگھروں میں طلاق کے موقع پر بڑے پیمانے پر ماتم کی رسم ادا کی گئی۔ ان تقریبات میں دونوں فریقین دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنی شادی کی ناکامی کی وجوہات سے آگاہ کرتے ہیں۔
جینگ افراد چین سے تعلق رکھنے والی ایک اقلیتی نسل کے افراد ہیں جن کے ہاں طلاق کا ایک مخصوص طریقہ ہے، جس کے مطابق طلاق کے سرٹیفکیٹ پر دستخط گھر کے اندر نہیں کئے جا سکتے اور دستخط کرنے کے فوراً بعد قلم اور دوات کو براشگن سمجھ کر دور پھینک دیا جاتا ہے۔ محبت نامے سات برس بعد از سال 2011ء میں چین میں ایک سرکاری ڈاک خانے کی طرف سے ایک ایسی مہم چلائی گئی جس میں شادی شدہ جوڑوں کو ایک محبت نامہ لکھنے کی ترغیب دی گئی، جسے شادی کے سات برس بعد شریک حیات کو ارسال کیا جائے گا، اس اقدام کا مقصد دراصل ملک میں طلاق کی شرح کو کم کرنا تھا تاکہ سات برس بعد محبت نامہ پانے والے میاں بیوی ایک بار پھر سے اس محبت کو یاد کر سکیں جس نے انہیں ملایا تھا۔ دنیا کے کئی ممالک میں طلاق کے ایسے عجیب و غریب قوانین موجود ہیں جہاں طلاق حاصل کرنا ایک ناقابل یقین تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں فلپائن واحد ملک ہے جس کا قانون آج بھی اپنے شہریوں کو طلاق کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ تاہم پتہ چلتا ہے کہ 1985ء سے 2000ء کے درمیان جاپان میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ تھی۔ اس کی وجوہات سے پتہ چلتا ہے کہ 2006ء میں جاپانی جوڑوں میں شادی کے بیس برس بعد طلاق لینے کا رواج زیادہ عام ہو گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ ریٹائرڈ ہسبنڈ سینڈروم کی وجہ سے تھا یعنی ایسے شوہروں کی وجہ سے جو روزگار کے لئے ملک سے باہر رہتے ہیں اور اپنی بیوی کو زیادہ نہیں جانتے ہیں لیکن، ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اپنی بیوی میں ہر طرح کے عیب نظر آتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سات ریاستوں جن میں ریاست نیو میکسیکو اور مسیسپی شامل ہیں، شادی کی ناکامی کی وجہ ایک تیسرے فریق کو ٹھہرایا جا سکتا ہے اور شادی خراب کرنے والے تیسرے شخص پر شادی کے نقصان کے لئے بھاری رقم کا ہرجانہ دائر کیا جا سکتا ہے، تاہم اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ امریکی ریاست کنساس میں شادی کو طویل مدت تک قائم رکھنے کے لئے طلاق کا ایک ایسا قانون موجود ہے جس کے تحت دونوں فریق کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ساس کے ساتھ بدسلوکی یا برے تعلقات رکھنے پر ایک دوسرے کو طلاق دے سکیں۔ امریکی ریاس ڈیلاویئر میں طلاق کے لئے ایک ایسا قانون موجود ہے جس کے تحت اگر ایک شخص ہنسی مذاق یا شرط نبھانے کے لئے شادی کر لیتا ہے تو اسے بعد میں طلاق کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت ہے جبکہ اس قانون سے ہنسی مذاق میں شادی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ آسٹریلیا میں قبائلی خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یا تو اپنے شوہر کو طلاق دینے کے لئے آمادہ کریں یا پھر شادی سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک دوسری شادی کر لیں اس طرح ان کی پہلی شادی خودبخود منسوخ ہو جاتی ہے۔ امریکی ریاست کینٹکی میں اس بات کی اجازت ہے کہ آپ ایک ہی شخص سے طلاق کے بعد تین بار شادی کر سکتے ہیں لیکن چوتھی بار اسی شخص سے شادی کرنے کی اجازت آپ کو ریاست کا قانون نہیں دیتا ہے۔ امریکی ریاست ٹینسی میں اگر آپ کا شریک حیات آپ کو جان سے مارنے کے لئے کوئی حربہ مثلاً زہر پلانے کی کوشش کرتا ہے تو اس بنیاد پر آپ کی طلاق منظور ہو سکتی ہے۔ نیویارک میں اگر آپ یہ ثابت کر سکیں کہ آپ کے شریک حیات کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے تو آپ کو طلاق مل سکتی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ شادی کے دوران شریک حیات کی دماغی حالت کم از کم پانچ سالوں سے خراب رہی ہو۔ برطانیہ میں طلاق حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شریک حیات کی حددرجہ برائیوں کا ذکر کیا جائے۔ صرف ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر طلاق منظور نہیں کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں جوڑے طلاق کے لئے شریک حیات میں عجیب و غریب عیب تلاش کرتے ہیں۔ جیسا کہ ایک شوہر نے طلاق کے مقدمے میں کہا کہ وہ اپنی بیوی کو اس لئے طلاق دینا چاہتا ہے کیونکہ وہ ہر روز مچھلی پکاتی ہے۔ شادی، ملبوسات،طلاق کے بارے میں کافی دلچسپ باتیں جاننے کے بعد شادی کی ایک رسم کا تذکرہ برمحل ہے جواب معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رسم گھڑولی کہلاتی ہے۔پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح جھنگ میں بھی شادی کی کچھ انوکھی رسومات و تقریبات اپنی سادگی اور خوبصورتی کی ِبنا پر ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ ان رسومات میں گھڑولی کی قدیم رسم کو ایک عرصہ تک وہ مقام حاصل رہا ہے جو شاید دوسری کوئی بھی رسم حاصل نہیں کر سکی۔ تاہم وقت کی بے رحم لہروں میں بہتی یہ قدیم رسم اب ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہے ۔ گھڑولی کی رسم اُس وقت ادا کی جاتی تھی جب نکاح کے بعد بارات پنڈال سے دلہن کے گھر لے جائی جاتی تھی۔ گھڑولی دراصل دو گھڑوں پر مشتمل ہوتی ہے جن پر خوبصورت طریقے سے نقش نگاری کی جاتی ہے ، ایک گھڑا سائز میں دوسرے گھڑے سے چھوٹا ہوتا ہے ۔چھوٹے گھڑے کو بڑے گھڑے کے اوپر رکھا جاتا ہے اور بعد ازاں ان کو ایک رنگین کپڑے جس پر کڑھائی کا خوبصورت کام ہوا ہوتا ہے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے ۔ اس کو دولہے کی بہنیں یا دیگر عورتیں اٹھاتی ہیں اور ڈھول کی تھاپ پر علاقے کے کسی معزز کے گھر جا کر اس میں پانی بھرا جاتا ہے ۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک اس پانی سے وضو کروا کر ہی دلہن کو شادی کا جوڑا پہنایا جاتا تھا لیکن اب صرف انگلی ڈبونے پر ہی اکتفا کر لیا جاتا ہے ۔ گھڑولی کی معدوم ہوتی رسم’’ہم گھر والوں کی حیثیت کے مطابق ان سے پیسے مانگتے ہیں جو لوگ امیر ہوتے ہیں وہ پیسوں کے ساتھ کوئی پالتو جانور مثلاً بچھڑا یا بکرا وغیرہ بھی دے دیتے ہیں جبکہ متوسط لوگ پانچ سو سے تین ہزار روپے تک دیتے ہیں‘‘۔ جدید دور میں لوگ اس رسم کو فرسودہ سمجھ کر نظر انداز کرنا شروع ہوگئے ہیں جس سے گھڑولی بنانے کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ ’’اب پہلے جیسا دور اور وہ لوگ نہیں رہے ۔ اب لوگ شادی ہالز میں جا کر رسومات کرتے جہاں اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ نکاح اور کھانے کے سوا کوئی اور کام کیا جا سکے ‘‘۔ پینسٹھ سالہ کلثوم بی بی بتاتی ہیں کہ ایک وقت تھا جب نہ صرف جھنگ بلکہ پورے پنجاب میں شادی کو اس رسم کے بغیر ادھورا تصور کیا جاتا تھا۔ آج کی شادیاں ان رسموں کے بغیر نامکمل لگتی ہیں۔ زمانے کی تیزی اور جدت کے باعث گھڑولی سمیت پنجاب کے کئی قیمتی رسم و رواج ماضی کا حصہ بن ُچکے ہیں۔’’معاشی بدحالی، مغربی روایات اور جدید فیشن کی بھرمار نے لوگوں کو اپنی ثقافت سے دور کر دیا ہے ۔

٭٭٭٭٭

(ماخذ)
٭… دنیا کی انوکھی شادیاں از: عطاء محمد… (ہماری ویب)
٭… انوکھی شادیاں از: نسیم انجم
٭… انوکھی شادیوں کا تذکرہ بی بی سی۔ لندن اردو سروس
٭… پانی کی بیویاں رائٹرز نیوز ایجنسی۔ برطانیہ
٭… عجیب و غریب رسومات (دلچسپ و عجیب ویب)
٭… بین الاقوامی خبریں (العربیہ ڈاٹ کام)
٭… کیا شادیاں ایسی بھی ہوتی ہیں از: عبدالحفیظ ظفر
٭… ایسی حیرت انگیز شادیاں از: اسد رحمان رفیق
٭… انوکی ترین شادی (ریاض العربیہ ڈاٹ کام)
٭… 16 سالہ لڑکا 73 سالہ دلہن (سوچ میڈیا)
٭… سٹریٹ ٹائمز، سنگاپور
٭… اوصاف نیوز، پرائم نیوز، ڈان اردو نیوز، دنیا نیوز
٭… دلچسپ رسمیں از: نصرت کریم بخش
٭… رسومات، توہمات، شادیاں از: احسان اﷲ
٭… (مختلف اخبارات سے استفادہ کیا گیا)

٭٭٭٭٭

[Total: 0    Average: 0/5]

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں