ملزم… ایک سچی کہانی )
تحریر:۔ وسیم بن اشرف
بھاگو، پکڑو، جانے نہ پائے، ہوٹل کا مالک اپنی توند لٹکاتا، چیختا، چنگھاڑتا کاؤنٹر کے پیچھے سے نکلا اور سڑک پر ایک بچے کے تعاقب میں بھاگا
مالک کو دیکھ کر میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس چند ملازموں نے بھی کام چھوڑ کر مالک کے پیچھے دوڑ لگا دی۔
وہ سرپٹ بھاگ رہا تھا، سخت سردی میں بھی ننگے پاؤں، ننگے سر تھا، بغل میں کچھ دبائے جدھر منہ اٹھا بھاگتا چلا گیا مگر کہاں تک! اس نے ایک کلومیٹر کا فاصلہ بھی طے نہ کیا ہو گا
دھپ سے اس کی کمر پر زور کا ہاتھ پڑا، وہ منہ کے بل گرا، کہنی پر چند خراشیں آ گئیں، سڑک کی رگڑ سے ستواں ناک بھی چھل گئی، بچے کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی،
’’چور کہیں کا، کیا چرا کے بھاگا تھا‘‘ مالک ہانپتا ہوا بولا
شور شرابہ سن کر آس پاس کے چند دکاندار اور کچھ راہگیر بھی وہاں جمع ہو گئے، ہوٹل مالک بچے کو پکڑے کھڑا تھا ،،جیسے کسی تھانیدار نے ڈکیت پکڑ لیا ہو،
کیا ہوا حاجی صاحب؟ ، مجمع سے آواز آئی۔
عمر دیکھو اور اس کے کام دیکھو! چوری کر کے بھاگا ہے، مالک جسے حاجی صاحب کہا گیا، پھاڑ کھا جانے والے لہجے میں بولا۔
دراصل اس کے ہوٹل کا نام حاجی ہوٹل تھا، خود تو اس نے شاید زندگی میں کبھی مکہ مدینہ نہ دیکھا ہو لیکن کہلاتے حاجی صاحب تھے۔
مگر چرایا کیا ہے؟ دوسری آواز آئی۔
ابھی دیکھ لیتے ہیں، چل او شیدے لے ذرا اس کی تلاشی لے!
حاجی صاحب نے اپنے ایک ملازم کو حکم دیا
میل اور مٹی سے اٹے ہاتھوں والا ایک اُجڈ سا نوجوان آگے بڑھا۔
بچہ ابھی تک سڑک پر سمٹا پڑا تھا۔ شیدے نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا تو اس کے منہ سے سسکاری اور بغل سے دو روٹیاں نکل کر سڑک پر گر پڑیں
موٹی توند والے حاجی صاحب آگے بڑھے، اسے بالوں سے پکڑ کر زور کا ایک تھپڑ اس کے پھول سے گال پر جڑ دیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا، بچے کے گال پر پنجے کا نشان ثبت ہو گیا۔
’’روٹی چرا کے بھاگا ہے، ابھی کرتا ہوں تجھے پولیس کے حوالے ‘‘
بچہ رو رہا تھا منہ سے آواز کم آنکھوں سے آنسو زیادہ نکل رہے تھے۔
عجب تماشا لگا ہوا تھا، تماش بین بھی تھے اور تماشے کا سبب بھی موجود تھا، سب پتھر کے بت بنے بچے کو پٹتا دیکھ رہے تھے، بچے کی عمر یہی کوئی دس سال رہی ہوگی۔
اجی چھوڑیے حاجی صاحب!
ایک دکاندار کے دل میں جیسے ترس کا کوئی دیا جل اٹھا ہو اور اس کی تپش نے اسے بولنے پر مجبور کر دیا ہو۔
’’چھوڑ تو دوں، آج روٹی اٹھا کے بھاگا ہے کل پیسے چرا کر لے جائے گا، پرسوں کوئی اور واردات کرے گا، اسی طرح تو چور ڈکیت بنتے ہیں‘‘
حاجی صاحب نے اپنی طرف سے فلسفہ بھگارا، بولتے ہوئے اس کی توند یوں ہلتی تھی جیسے تیز پانی میں کشتی۔
دیکھا دیکھی کچھ اور لوگ بھی وہاں آگئے، حاجی صاحب نے بدستور بچے کو پکڑا ہوا تھا اور ہر منٹ بعد اس کی کلائی کو یوں جھٹکا دیتا تھا، جیسے توڑ ہی ڈالے گا، ہر جھٹکے کے ساتھ بچے کے منہ سے کراہ نکل جاتی۔
تماش بینوں میں سے کسی نے بچے سے نہ پوچھا کہ تو نے اتنا بڑا ’’جرم‘‘ کیوں کیا؟
کہاں کا رہنے والا ہے؟ حاجی پھر دھاڑا
محلہ کمہاراں کا، بچے نے سسکتے ہوئے جواب دیا۔
’’اپنے اگلے پچھلوں کا اتہ پتہ بتا‘‘
ابا نہیں ہیں! چاچا رہتا ہے وہاں، شیدا نام ہے اس کا، بچہ اپنی کہنی کی چوٹ کو سہلاتے ہوئے بولا۔
حاجی صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے ایک ملازم کو محلہ کمہاراں بھیجا اور اس کے چچا کو بلا لیا، پندرہ منٹ میں ہی درمیانی عمر کے دو افراد وہاں پہنچ گئے
چہرے غربت و افلاس کی جیتی جاگتی تصویر تھے، لگتا تھا کہیں سے مزدوری کر کے آئے تھے، بالوں میں گرد اور ہاتھوں پر کہیں کہیں مٹی جمی ہوئی تھی۔
کیا لگتا ہے یہ تمہارا؟ حاجی صاحب غصیلے لہجے میں بولے۔
صاحب! بھتیجا ہے ہمارا، ایک نے جواب دیا۔
کیا کیا ہے اس نے؟ دوسرا بولا۔
چوری کی ہے؟ حاجی نے منہ پھاڑ کر ایسے جواب دیا جیسے بچے نے قتل کیا ہو۔
کیا چرایا اس نے، بچے کا چاچا بولا۔
’’دو روٹیاں‘‘ حاجی صاحب نے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔
’’روٹیاں، روٹیاں، روٹیاں‘‘
مجمع سے کئی تماش بین بیک وقت یوں بولے جیسے یہ انکشاف پہلی بار ان پر ہوا ہو حالانکہ وہ آدھے گھنٹے سے سب دیکھ اور سن رہے تھے۔
’’کیا چور پیدا کر رکھے ہیں تم نے، ‘‘حاجی صاحب انہیں ذلیل کرنے پرتلے ہوئے تھے۔
معاف کر دیں جی، بچہ ہے، غلطی ہو گئی، اس کے چچا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی اور گھور کر بچے سے بولے ’’کیوں بے فقیرے کیوں چرائیں تم نے روٹیاں؟‘‘
بچہ اٹک اٹک کر بولا، چاچا! بہن اور بھائی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا سوائے اماں کی ڈانٹ اور تھپڑوں کے
! مجھ سے بھائی اور بہن کی بھوک برداشت نہ ہوئی، اسی لئے روٹیاں چوری کیں‘‘۔
’’لے جاؤ اس چور کو‘‘ حاجی صاحب دھاڑے اور ہوٹل کی طرف چل دئیے۔
تماش بینوں پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا تھا۔
حاجی صاحب جاتے ہوئے روٹیاں اٹھانا نہیں بھولے تھے۔

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں