وہ شخص چل بسا جس نے تاریخ بدلی
سندھ کے معروف مفکر، ترقی پسند ادیب اور دانشور محمد ابراہیم جویو 102 برس کی عمر میں سانس کی تکلیف کے باعث چل بسے۔ابراہیم جویو کو اپنی تاریخ بدل دینے والے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیوں کہ انہوں نے 102 سال میں وہ اعزاز حاصل کیا، جو زیادہ تر زندہ انسانوں کو اپنی زندگی میں نہیں ملتا۔ابراہیم جویو کو جس ادارے نے کتاب لکھنے کے جرم میں 65 برس قبل نوکری سے برطرف کردیا تھا، اسی ادارے نے ان کی نہ صرف کتاب شائع کی، بلکہ ان سے معذرت کرتے ہوئے اپنے 65 برس پرانے دیے گئے آرڈرز بھی واپس لیے، اور یہ اعزاز ہر کسی کو نہیں ملتا۔تاہم اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، وہ 9 نومبر کو صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں چل بسےمعروف مفکر محمد ابراہیم جویو کو 8 اور 9 نومبر کی درمیانی شب سانس میں تکلیف کے باعث حیدرآباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جاں بر نہ ہوسکے۔محمد ابراہیم جویو حیدرآباد کی ’صحافی کالونی‘ میں اپنے بڑے بیٹے مظفر جویو کے ساتھ رہتے تھے۔زندگی کے آخری ایام تک ابراہیم جویو ادب، تاریخ، فلسفہ، مذہب اور انسانی حقوق پر لکھنے اور پڑھنے کا کام سر انجام دیتے رہے۔وہ 100 سال گزرجانے اور قدرے کمزور ہوجانے کے باوجود مختلف پروگرامات میں شرکت کرتے رہے، وہ حکومت سندھ کی جانب سے اپنی صد سالہ جنم دن کی تقریبات میں صوبے کے مختلف شہروں میں ہونے والے خصوصی پروگرامات میں بھی شرکت کرتے رہے۔وہ اپنی زندگی کے آخری ہفتے تک بھی معمول کی سرگرمیاں سر انجام دیتے اور اہل خانہ سے خوشگوار موڈ میں بات کرتے رہے۔محمد ابراہیم جویو کی نماز جنازہ حیدرآباد کی صحافی کالونی میں ہی ادا کی گئی، جس میں حکومت سندھ کے اعلیٰ عہدیداروں، سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، سماجی کارکنان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ابراہیم جویو کو سندھ کے رومانوی شہر اور مادر علمی کی حیثیت رکھنے والے شہر جامشورو میں سندھ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر (وی سی) اور اسکالر امداد علی امام علی قاضی (آئی آئی قاضی) کے ساتھ دفنایا گیا۔انہیں ایک صدی کی آواز بھی کہاجاتا تھا، اردو زبان کے معروف ادیب سید مظہر جمیل نے ابراہیم جویو کی سوانح حیات بھی لکھی، جسے 2015 میں سندھ مدرست الاسلام یونیورسٹی کراچی نے شائع کیا۔مظہر جمیل کی جانب سے لکھی گئی سوانح حیات کا انگریزی سمیت اردو اور سندھی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا۔ان کی سوانح حیات ’محمد ابراہیم جویو: ایک صدی کی آواز‘ میں مظہر جمیل نے ان کے خاندانی پس منظر، بچپن، شروعاتی تعلیم، کیریئر، ادب و سیاست میں ان کے ترقی پسند کردار اور سندھ سے محبت کرنے کے جرم پر ان پر ڈھائی گئی صعوبتوں کا ایمانداری سے ذکر کیا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ ابراہیم جویو کی سوانح حیات اسی ادارے (سندھ مدرست الاسلام) نے شائع کی، جس نے انہیں نصف صدی قبل ایک سیاسی کتاب ’ سندھ بچاؤ-برصغیر بچاؤ‘ لکھنے پر انہیں نوکری سے برطرف کردیا تھا۔’سندھ بچاؤ-برصغیر بچاؤ‘ کو ابراہیم جویو نے 1946 میں انگریزی میں لکھا تھا، ان کی اس کتاب کو ان کی سب سے زیادہ مقبول کتاب سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف سندھ کے سماج کا روشن خیال چہرہ پیش کیا، بلکہ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل برصغیر کی سیاست کے نتیجے میں سندھ کو پہنچنے والے نقصان کا نقشہ بھی کھینچا۔
اگر کہا جائے کہ ان کی کتاب ’سیو سندھ-سیو کانٹیننٹ‘ سندھ سے محبت کا ثبوت تھی تو کچھ غلط نہ ہوگا، تاہم ان کی اس کتاب کے سامنے آنے کے بعد انہیں اس وقت کے سندھ مدرست الاسلام اسکول کے صدر اور سندھ کے وزیر تعلیم پیر الاہی بخش نے فوری طور پر نوکری سے برطرف کردیا تھا۔ابراہیم جویو اس وقت سندھ مدرسہ میں ایک استاد کی حیثیت سے پڑھاتے تھے۔تاہم 2015 میں سندھ مدرست الاسلام یونیورسٹی کے وی سی محمد علی شیخ نے کراچی کے نجی ہوٹل میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران بحیثیت ایک ادارہ ان سے معزرت کرتےہوئے ان آرڈرز کو واپس لیا تھا، جنہیں 65 برس قبل سندھ مدرست الاسلام کی انتظامیہ نے جاری کیا تھا۔ابراہیم جویو سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ کوٹڑی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’آباد‘ میں انتہائی غریب خاندان کے ہاں 13 اگست 1915 میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم انہوں نے گاؤں میں ہی حاصل کی۔اس کے بعد وہ ضلع دادو کے ہی چھوٹے شہر ’سن‘ کے ایک اسکول میں داخل ہوئے، جہاں سے انہوں نے مزید تین درجے تعلیم کی، جہاں انہیں سندھ کے قومپرست سیاستدان، مؤرخ، دانشور، ترقی پسند رہنما سید غلام مرتضیٰ شاہ (جی ایم سید) کی جانب سے اسکالر شپ ملتی رہی۔ابراہیم جویو1930 میں میٹرک کے لیے کراچی کے سندھ مدرست الاسلام اسکول پہنچے، جہاں سے انہوں نے 1934 میں بمبئی یونیورسٹی کے تحت اعلیٰ نمبروں میں میٹرک مکمل کی، وہ ضلع دادو میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، جس پر انہیں بمبئی یونیورسٹی سے ماہانہ 20 روپے اسکالر شپ دی گئی۔
ابراہیم جویو نے 1936 میں بمبئی یونیورسٹی سے ہی ’دیوان دیارام جیٹھمل‘ (ڈی جے) سائنس کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا، اس کے بعد وہ سندھ مدرست الاسلام اسکول میں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر خدمات سر انجام دینے لگے، جہاں سے انہیں 1941 میں بمبئی کے گورنمنٹ ای ٹی کالج میں بی ٹی کی ڈگری لینے کے لیے بھیجا گیا، جہاں سے واپس آنے کے بعد انہوں نے 1946 میں ’سیو سندھ-سیو کانٹیننٹ‘ کتاب لکھی، جس پر انہیں نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ابراہیم جویو نے اس کتاب میں دراصل آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست، ان دونوں پارٹیوں کی جانب سے ہندو-مسلم معاملات کو اچھالنے اور سندھ کے روشن خیال سماج کو پہنچنے والے نقصانات پر تاریخی دلائل دیے تھے۔ابراہیم جویو نے فرینچ انقلاب، ترقی پسند ادب، تاریخ، فلسفہ، سیاست، ادب، انسانی حقوق اور سماجی مسائل پر کم سے کم 50 کتابیں لکھیں، اور ترجمہ کیں، جب کہ 100 کے قریب آرٹیکلز بھی لکھے۔سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت نے 2013 میں ابراہیم جویو کی سالگرہ کا 100 سالہ جشن منانے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں سندھ اور کراچی یونیورسٹیز کے سابق وی سیز، رکن سندھ اسمبلیز، سندھی و اردو ادب کے ادیب، دانشور اور مفکر شامل تھے۔اس کمیٹی نے دارالحکومت کراچی سمیت حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر شہروں میں ابراہیم جویو کی سالگرہ کی تقریبات منعقد کیں، جب کہ اسی کمیٹی کے تحت ابراہیم جویو کے تمام کتابوں کی دوبارہ اشاعت کی گئی۔ابراہیم جویو کے 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں، وہ فکری لحاظ سے سائیں جی ایم سید، ایم این رائے اور دیگر مفکرین سے متاثر تھے، جب کہ ان کے قریبی دوستوں میں جی ایم مہکری، عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو، سندھ کے عظیم شاعر شیخ ایاز، ڈاکٹر گربخشانی اور بھیرو مل مہرچند آڈوانی سمیت دیگر اعلیٰ دانشور،مفکر، ادیب اور فلسفی شامل تھے۔ابراہیم جویو فیض احمد فیض، سید مظہر جمیل، مسلم شمیم اور اردو ادب کے دیگر شاعروں اور ادیبوں کے بھی قریب رہے۔
ابراہیم جویو کے انتقال پر سندھ کی مختلف ادبی، سیاسی وسماجی تنظیموں نے تین دن سے ایک ہفتے تک سوگ کا اعلان کیا، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ، رسول بخش پلیجو اور دیگر دانشوروں، ادیبوں اور مفکروں نے تعزیب کا اظہار کیا۔علاوہ ازیں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ان کے لیے تعزیتی ریفرنس بھی منظور کیا گیا۔سوشل میڈیا پر بھی عام لوگوں، فسلفہ، سیاسیات، تاریخ، ادب و قانون کے طالب علموں، عام نوجوانوں اور سماجی کارکنان نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ’سندھ کی آواز‘ قرار دیا۔
بشکریہ ڈان

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں