عکس از عمیرہ احمد
عمیرہ احمد کا نام اردو قارئین کے لئے نیا نہیں۔ آپ کے لکھنے کے سفر کا آغاز اردو ڈائجسٹوں سے ہوا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی تحریروں پہ کئی ڈرامے بھی بنائے گئے۔عمیرہ احمد کا شمار نئے دور کے بہترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے جن کے موضوعات میں سرفہرست مذہب اور عورتوں کے مسائل شامل ہیں۔ مذہب انسان کی زندگی پہ کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اس بارے میںعمیرہ احمد کے لکھے ہوئے ناول “پیرِکامل” کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔ اسی طرح پاکستان کی سول سوسائٹی اور بیوروکریسی کے بارے میں لکھا ہوا ناول “امر بیل” بھی بےحد مقبول ہوا۔زیر گفتگو ناول “عکس ‘‘عمیرہ احمد کا ایک شاہکار ہے ۔ اس ناول کو عمیرا کے قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ یہ ناول پاکیزہ ڈائجسٹ میں اگست 2011 سے قسط وار شائع ہوتا رہا ہے اور دسمبر 2012 کے پاکیزہ ڈائجسٹ میں اس ناول کی آخری قسط شائع ہوئی ہے۔یہ ناول ایک لڑکی کی زندگی کی جدو جہد کی داستان ہے۔ اس لڑکی کو بچپن میں کس طرح کے نا مساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی زندگی میں آنے والی کو کس طرح فیس کیا اور اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے مشعل راہ بنایا، یہ اس ناول کا موضوع ہے۔ ناول کا نام “عکس” اسی لڑکی کے کردار پہ ہی رکھا گیا ہے۔ کردار بہت مضبوط ہے او ر عمیرہ احمد نے اسے بہت ہی حساسیت کے ساتھ لکھا ہے۔ اس لڑکی کی زندگی میں ہونے والے ہر طرح کے احساسات، واقعات، حادثات، مشکلات وغیرہ کو بہت تفصیل سے اور عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔عمیرہ احمد کے اس ناول کا بیک گراؤنڈ پاکستان کی سول سروسز سے لیا گیا ہے جو یقیناً ان کا مضبوط ترین ایریا ہے۔ ناول کا ہیرو حسب معمول بےحد خوبصورت، لڑکیوں کے دلوں کی دھڑکن اور بے انتہا کامیاب اور ذہین شخص ہے۔ اسی طرح ہیروئن بھی ہمیشہ کی طرح انتہائی غیر معمولی ہے۔ کہانی کی ہیروئین عکس کے کردار کے بارے میںعمیرہ احمد کا یہ کہنا ہے کہ ان کے لکھے ہوئے کرداروں میں یہ واحد کردار ہے جس سے وہ خود متاثر ہوئی ہیں۔ اب قارئین اس کردار سے کتنا متاثر ہوتے ہیں اس کے لئے تو یہ ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔ اب تک “سالار” عمیرہ احمد کے لکھے ہوئے کرداروں میں سے مشہور ترین کردار ہے۔ اس لئے دیکھنا یہ ہے کہ آیا “عکس” سالار کی جگہ لینے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں