ہم کیو ں سو تے ہیں ؟جواب تلاش کر نیوالے 3 سائنسدانوں کیلئے نوبیل انعام
واشنگٹن 2017 کا میڈیسن کا نوبیل انعام تین سائنسدانوں کو جسم کے سرکیڈین ردم یا بلا ناغہ تال میل کو کنٹرول کرنے والے مالیکیولر میکنزم کی دریافت پر دیا گیا ہے۔ ان کے کام نے انسانی زندگی کے بنیادی اسرار کی وضاحت کی ہے کہ ہم کیوں سوتے ہیں، اور ایسا کیوں ہوتا ہے۔جیفری سی ہال اور مائیکل راسبش کو نوبیل انعام اسلئے دیا گیا کہ انہوں نے اس بعید کو سمجھا کہ کیسے زندگی وقت کی کھوج کرتی ہےاور سورج کی نقل و حرکت کے مطابق کیسے خود کو تبدیل کرتی ہے۔سرکیڈین ردم یا بلا ناغہ تال میل وہ طریقے ہیں جوکہ جسم کو ہر گزرتے دن کیساتھ ریگولیٹ کرتے ہیں، اس عمل میں بگاڑ نیند، رویے، ہارمونز کی سطح، جسم کے درجہ حرارت، اور میٹابولزم کو متاثر کرسکتا ہے، جیسے کہ فضائی سفر میں دیکھا گیا ہے، نیند میں خلل یا مختلف بیماریوں کے خطرے کا اس بگاڑ سے قریبی تعلق ہو سکتا ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ پودوں سے لے کر انسانوں تک زمین پر موجود ہر جاندار اپنے جسم میں موجود خصوصی ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنا باڈی کلاک سورج کے ذریعے ریگولیٹ کرتا ہے۔ باڈی کلاک کا بگاڑ جسم کے مختلف کاموں کو متاثر کر سکتا ہے۔نوبیل کمیٹی کے مطابق محققین نے حیاتیاتی کلاک کے اندر جھانک کر اس کے داخلی کام کی وضاحت کی۔ اس دریافت نے وضاحت کی کہ کیسے پودے، جانور اور انسان حیاتیاتی تال میل اختیار کرتے ہیں تاکہ زمین کی گردش کیساتھ مطابقت برقرار رکھیں۔ محققین نے مکھیوں کو استعمال کرتے ہوئے اس جین کو الگ کیا جوکہ معمول کے حیاتیاتی تال میل کو کنٹرول کرتا ہے اور نشاندہی کی کہ کیسے اس جین نے رات کے دوران معلومات ایک پروٹین کی سیل میں جمع کیں اوردن کے دوران وہ کم کر دیں ۔
نوبیل کمیٹی کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیقی کا م سے یہ پہلو سامنے آیا ہے کہ پودے، جانور اور انسان اپنے حیاتیاتی کلاک کو کس طرح زمین پر آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ منطبق کرتے ہیں۔امریکہ کے جینیاتی سائنسدان جیفری سی ہال، مائیکل راسبش اور مائیکل ڈبلیو یونگ کومیڈیسن کے شعبے میں نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیاہے۔انہیں یہ ایوارڈ اس حیاتیاتی کلاک کے بارے میں تفصیلات سامنے لانے پر دیا گیا ہے جس کا تعلق زیادہ تر جانداروں کے سونے اور جاگنے کے طریقہ کار سے ہے۔طب کے شعبے میں نوبیل انعام حاصل کرنے والے تینوں سائنس دانوں کا تعلق امریکہ سے ہے۔ جیفری ہال اس وقت یونیورسٹی آف مین میں جینیات کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مائیکل راسبش، بوسٹن کے نزدیک واقع برینڈیز یونیورسٹی سے منسلک ہیں ، جبکہ مائیکل یونگ کا تعلق نیویارک کی رافیلر یونیورسٹی سے ہے۔
سائنسدانوں کی اس ٹیم نے اپنی تحقیق سے یہ واضح کیا کہ کس طرح جانداروں کے اندر موجود حیاتیاتی کلاک سونے، کھانے، ہارمونز اور جسم کے درجہ حرارت کے طریقہ کا تعین کرتا ہے۔نوبیل کمیٹی کے اعلان میں کہا گیا کہ اس تحقیقی کا م سے یہ پہلو سامنے آیا ہے کہ پودے، جانور اور انسان اپنے حیاتیاتی کلاک کو کس طرح زمین پر آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ منطبق کرتے ہیں۔کرہ ارض پر موجود حیات کی تمام اقسام خود کو زمین کی گردش کے مطابق ڈھالتی رہتی ہیں۔ سائنس دان ایک عرصے سے اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ انسانوں سمیت تمام
جانداروں کے اندر وقت کے تعین کا ایک خاص حیاتیاتی طریقہ کار موجود ہے جو انہیں دن کے دورانیے کی کمی بیشی کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد دیتا ہے۔نوبیل انعام کی جیوری نے کہا سائنس دانوں کی اس ٹیم نے جانداروں کے حیاتیاتی کلاک کے اندر جھانکنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ کھوج لگایا کہ یہ کلاک کس طرح کام کرتا ہے۔ٹیم میں شامل ہال کی عمر 72 سال، راسبش 73 سال اور یونگ 68 سال کے ہیں ۔
جانداروں کے حیاتیاتی کلاک کے نظام کے باعث، جیٹ لیک کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ وقت کے زون کی فوری تبدیلی سے ہمارے اندرونی کلاک اور بیرونی ماحول میں قائم توازن میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔
حیاتیاتی کلاک ہماری نیند کے نظام کو باقاعدہ بناتا ہے جو دماغ کے معمول کے کاموں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ روزمرہ کے حیاتیاتی معمول میں خرابی کا تعلق ڈپریشن، یادداشت کی ساخت، متلون مزاجی، دماغی کارکردگی سے ہوتا ہے۔

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love