پوری دنیا میں چار کروڑ افراد غلام ،دو کروڑ صرف انڈیا
گذشتہ مہینے ’واک فری فاؤنڈیشن‘ نے دنیا میں غلاموں کی تعداد پر 2016ء کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق 2016ء میں پوری دنیا میں چار کروڑ افراد غلام تھے۔ سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ تھی ان میں سے آدھے غلام یعنی تقریبآ دو کروڑ افراد صرف انڈیا میں غلام ہیں۔ اس سے بھی چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی خبر ملک کے سینکڑوں نیوز چینلوں اور ہزاروں اخبارات میں کہیں جگہ نہ پا سکی۔ بھارت کی خفیہ انٹیلیجنس بیورو نے حکومت کو خبردار کیا ہے اس رپورٹ سے بین الاقوامی سطح پر انڈیا مشکل میں پڑ سکتا ہے۔ واک فری فاؤنڈیشن آسٹریلیا کے ایک ارب پتی اینڈریو فارسٹ نے 2012ء میں قائم کی تھی اور اس کا مقصد دنیا سے غلامی کا خاتمہ کرنا ہے۔ جدید دور میں غلامی کے زمرے میں ایسے گھریلو خادم، تعمیراتی/ زرعی مزدور اور فیکٹری ورکرز شامل ہیں جنہیں ڈر یا جبر کے تحت اپنی مرضی کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے زمرے میں اکثریت ان خواتین یا لڑکیوں کی ہے جن کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کسی سے کر دی جاتی ہے اور ان کا استعمال اکثر مزدور یا سیکس ورکر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ فاؤنڈیشن نے ستمبر 2017 میں جو رپورٹ جاری کی، اس کے مطابق انڈیا میں 27 کروڑ سے زیادہ لوگ غریبی کی سطح کے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ بعض حلقوں کا یہ بھی خیال ہے اس رپورٹ کا مقصد انڈیا پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی این جی اوز بالخصوص امریکی تنظیموں کے لیے انڈیا میں کام کرنے کے لیے ضابطے نرم کر سکے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں اور جبری مزدوری کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے ملک کے غیر منظم سیکٹر میں بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں مزدوروں کا استحصال عام ہے۔ کام کے اوقات مقرر نہیں، مزدروں کو مقرر کردہ کم سے کم یومیہ اجرت دی جاتی ہے۔ گھریلو خادموں اور زرعی مزدوروں میں بھی یہی صورتحال ہے۔

[Total: 0    Average: 0/5]

Spread the love