انسان کے اندر جتنی آگ اور تپش ہوگی وہ اتنے ہی دروازے کھولتا جاتا ہے:بشریٰ رحمان

بشریٰ رحمان اُردو ادب کی معروف شخصیت ہیں۔ ناول‘ ڈرامہ‘ کالم‘ افسانہ اور شاعری کی اصناف میں طبع آزمائی کرتی ہیں۔ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ ان کی شاعری کا ایک مجموعہ ’’صندل میں سانسیں جلتی ہیں‘‘ مقبول عام کی سند حاصل کرچکا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی ممبر بھی رہیں ایک رسالے کی مدیرہ بھی ہیں اس طرح صحافت اور سیاست سے بھی براہ راست ایک تعلق رہا ہے ان سے جو گفتگو ہوئی قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔
سوال: آپ کے اندر ادب سے لگاؤ کی وہ پہلی چنگاری کب پھوٹی کہ جس نے بعد میں اُردو ادب کی فضا کو روشن اور معطر کردیا۔
جواب:میں اگر اپنے بارے میں یہ کہوں کہ میں نے ہوش سنبھالتے ہی ہاتھ میں قلم پکڑ لیا تو غلط نہ ہوگا۔ میری امی جان شاعرہ تھیں اباجی مذہبی کتابیں لکھتے تھے ان کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی جس میں چھٹی کے دن نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ امی ابا چاہتے تھے کہ بچوں کے اندر ادبی ذوق پیدا کیا جائے وہ سب بچوں کو شاعری اور فلسفے کی کتابیں پڑھنے کے لئے دیا کرتے تھے لیکن سب بہن بھائی بھاگ جایا کرتے تھے صرف میں شاعری اور باقی چیزیں یاد کرکے انہیں سنایا کرتی تھی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ بہت چھوٹی عمر میں میرا تلفظ ٹھیک ہوگیا اور میرے ذہن میں لفظوں کا ایک ذخیرہ جمع ہونے لگا۔ مجھے نہیں یاد میں بچپن میں کبھی گڑیا سے کھیلی ہوں میری والدہ چونکہ شاعرہ تھیں لہٰذا میں نے ماں کی گود سے نکلتے ہی ماں کا قلم پکڑ لیا۔ میں نے پہلا افسانہ 12 سال کی عمر میں لکھا وہ ’’پھر یادوں کے دیپ جلے‘‘ کے عنوان سے تھا وہ لاہور کے ایک رسالے میں شائع ہوا تو گھر میں باقاعدہ ایک جشن منایا گیا۔
سوال: آپ کو ادب سے اتنا لگاؤ تھا تو آپ نے پھر اردو ادب میں ایم اے کرنے کی بجائے صحافت میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کو ترجیح کیوں دی؟
جواب: میں نے ایم اے اُردو اس لئے نہیں کیا کہ جب میں بی اے میں پڑھتی تھی تو مجھے ایم اے اُردو والوں سے زیادہ اُردو آتی تھی۔ میرے والد نے مجھے بچپن میں ہی کلام اقبال پڑھا دیا تھا جو مجھے ازبر تھا میں جب ہاسٹل میں تھی اور بی اے کی طالبہ تھی تو ایم اے اُردو کی لڑکیاں مجھ سے علامہ اقبال کا کلام پڑھنے آتی تھیں اور ایم اے اسلامیات کی لڑکیاں مجھ سے سورتوں کی تفسیر پڑھنے کے لئے آتیں۔ میرے اباجی مجھے کہا کرتے تھے کہ بیٹی صحافت میں ضرور نام پیدا کرنا۔ اُنہیں سیاست سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ میں جب پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کررہی تھی تو میرا کالم اس وقت کے معروف اخبار ’’کوہستان‘‘ میں شائع ہوا کرتا تھا جو میں قلمی نام ’’ب۔ر‘‘ سے لکھا کرتی تھی کیونکہ شادی سے پہلے میرا نام بشریٰ رشید ہوا کرتا تھا۔ میرے شعبہ صحافت کے استاد عبدالسلام خورشید کہا کرتے تھے۔ Bushra you are a born writer تم زندگی میں کبھی نہ بھولنا کہ تم نے لکھنا ہے اور پھر زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے نہ لکھا ہو۔
سوال: بشریٰ رشید سے بشریٰ رحمان بننے کا سفر بھی اپنے اندر کئی حقیقتیں چھپائے پھرتا ہوگا کچھ اس بارے میں بتانا پسند کریں گی؟
جواب: میں نے زندگی کا پہلا ناول ’’چارہ گر‘‘ کے نام سے لکھا لیکن میں نے اسے بشریٰ رشید کے نام سے نہیں چھپوایا کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سے گھر محض اس لئے اُجڑ جاتے ہیں کہ عورتیں اپنے میاں کا نام اپنانے سے ہچکچاتی ہیں جس سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں میں نے شادی سے پہلے یہ ناول لکھ لیا لیکن بوجوہ اسے شائع نہیں کروایا۔ جب میری شادی میاں عبدالرحمن سے ہوگئی تو میری بہن نے ان کو بتا دیا کہ میں اچھا خاصا ادبی ذوق رکھتی ہوں۔ بلکہ ایک ناول بھی لکھ چکی ہوں۔ میرے میاں نے مجھے پوچھا تو میں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ اگر میں اسے اپنے نام سے چھپوا دیتی تو شائد میرے گھر میں ساری زندگی لڑائی رہتی میرے میاں اس بات سے بہت متاثر ہوئے انہوں نے مجھ سے ناول مانگا میں نے مسودہ دے دیا تو انہوں نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے ایک ہی نشست میں وہ ناول پڑھ ڈالا اور پھر مجھے کہا کہ یہ ناول میں تمہیں چھپوا کر دیتا ہوں اس طرح ’’چارہ گر‘‘ بشریٰ رحمن کے نام سے چھپا۔
سوال: آپ نے افسانہ‘ ناول‘ ڈرامہ‘ کالم لکھنے کے علاوہ شاعری بھی کی لیکن آپ کی محبوب ترین صنف کون سی ہے جس میں آپ کو لکھنے کا مزہ آتا ہو؟
جواب: بنیادی طور پر مجھے افسانہ لکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے اور میں نے سب سے زیادہ لکھے بھی افسانے ہی ہیں لیکن یہ اﷲ کی مہربانی ہے کہ مجھے ہر صنف کی بنا پر لوگوں کی اپنائیت اور خلوص ملا ہے۔ بعض لوگ میرے کالم بہت دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو میرے ڈرامے اچھے لگتے ہیں۔ میرے ڈراموں کی وجہ سے مجھے دیہات کی عورتیں اور دیگر لوگ بھی جاننے لگے میں کبھی دیہات میں جاتی ہوں تو وہاں کی عورتیں فوراً مجھے پہچان لیتی ہیں۔
سوال: آپ نے کسی ایک صنف کو ذریعہ اظہار بنانے کی بجائے مختلف ذریعے اور انداز اپنائے ہیں اس کے پیچھے کوئی خاص جذبہ یا روایت کارفرما ہے؟
جواب: انسان کے اندر جتنی آگ اور تپش ہوگی وہ اتنے ہی دروازے کھولتا جاتا ہے۔ آپ کسی کنویں میں ڈول ڈالیں تو ہر دفعہ بھر کر ہی لائیں گے۔ چھوٹا تالاب ہوگا تو جلد ختم ہو جائے گا۔ میں نے جو بات افسانے میں نہیں کی وہ ناول میں کر ڈالی۔ جو اظہار ڈرامے میں نہیں ہوا اسے کالم اور سفر نامے میں شامل کر لیا اور جو باتیں ان سب اصناف میں نہیں ہوئیں ان کا اظہار میں نے شاعری میں کرنے کی کوشش کی ہے بہت سی چیزیں جو سانس سے بھی نازک ہوتی ہیں صرف کسی شعر کا مصرعہ ہی اُن کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے۔
سوال: آپ کے وجود اور اظہار میں کیا آپ کے آبائی خطے بہاولپور کا بھی کوئی اثر موجود ہے؟
جواب: جی بالکل ہے۔ بہاولپور چولستان کے ساتھ ایک صحرائی علاقہ ہے اس میں صحرائی وسعتیں اور موسموں کا تغیر و تبدل واضح ہو کر سامنے آتا ہے میں نے وہاں برسات کی ٹپ ٹپ کو اپنے اصلی حسن اور جوبن میں دیکھا ہے اور موسموں کو اُن کے اصل روپ میں دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ جتنی خوبصورت ستاروں بھری رات میں نے صحرا میں دیکھی ہے اور کہیں نہیں دیکھی۔ میرے ایک ناول ’’لالۂ صحرائی‘‘ میں چولستان کی ستاروں بھری راتوں کا کافی ذکر موجود ہے میری یہ کتاب پڑھ ایک بہت بڑے ہندوستانی ادیب نے مجھے خط لکھا کہ میں نے اتنی کتابیں پڑھی ہیں لیکن کسی میں تاروں بھری رات کا اس انداز میں ذکر نہیں دیکھا جیسا آپ نے کیا ہے۔
سوال: آپ کی گفتگو اور تحریروں میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے اس کی کوئی خاص وجہ؟
جواب: مجھے تصوف وراثت میں ملا ہے اور تصوف لگن والوں سے حاصل ہوتا ہے میں نے تھوڑی سے لگن ماں کے دودھ سے جبکہ باقی باپ کی تربیت سے حاصل کی۔ معلوم نہیں میرے اندر تصوف کی کھڑکی کب کھلی لیکن جب میں نے اس سے جھانک کر مظاہر قدرت کو دیکھا تو مجھے ہر چیز کا تعلق خدا اور اس کی خوبصورتیوں سے جڑتا ہوا دکھائی دیا۔
سوال: سیاست اور ادب دو بالکل مختلف میدان ہیں آپ ان دونوں کو ساتھ ساتھ کیسے لے کر چل رہی ہیں؟
جواب: دراصل میری ٹائمنگ سیٹ ہوگئی ہے میں نے صحافت میں ایم اے کیا تو شادی ہوگئی انسان زندگی میں کسی مشن پر کام کرتا رہے تو ایک دن وہی مشن خود آپ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے میرے ماشا اﷲ چار بچے ہیں میں نے خود اُن کی تربیت کی کوئی نوکر نہیں رکھا میں اپنی شادی کے 15 سال بعد سیاست میں آئی جنرل ضیاء کے دور میں از خود لوگ مجھے کہنے لگے کہ آپ سیاست میں آئیں۔ جب جنرل ضیاء نے صوبائی کونسلیں بنانے کے لئے نام مانگے تو گورنر جیلانی نے میرے میاں سے میرا بائیوڈیٹا مانگا جو انہوں نے دے دیا اور میں پراونشل کونسل میں شامل ہوگئی اس کے بعد میں پنجاب اسمبلی کی رکن ہوگئی اور سیاست کے مختلف نشیب و فراز کو اندر سے دیکھا۔ بعدازاں ممبر قومی اسمبلی بھی رہی۔
سوال: پاکستان میں جو اس وقت ادب تخلیق پا رہا ہے کیا آپ اس کے معیار سے مطمئن ہیں؟
جواب: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں بڑا ادب تخلیق نہیں ہورہا میں اس چیز کی حامی نہیں ہوں جس طرح کے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح کا ادب لکھا جا رہا ہے میں سمجھتی ہوں ہمارے معاشرے میں بڑا ادب تخلیق ہوتا رہا ہے‘ اس وقت بھی ہورہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔
سوال: آپ کے بے شمار پرستار ہیں جو آپ کی تحاریر کو بہت پسند کرتے ہیں کیا آپ بھی کسی مصنف سے متاثر ہیں؟
جواب: میں نے بہت ادیبوں کو پڑھا ہے لیکن ممتاز مفتی نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ میں نے چھوٹی عمر میں ہی ’’علی پور کا ایلی‘‘ پڑھ لیا تھا لیکن شائد اتنی سمجھ نہیں آئی تھی بڑے ہو کر دوبارہ پڑھا تو بہت مزہ آیا۔ اسی طرح قدرت اﷲ شہاب‘ اشفاق احمد‘ راجندر سنگھ بیدی بہت اچھا لکھتے ہیں ایک زمانے میں مجھے کرشن چند کی تحاریر بہت پسند تھیں میں نے محسوس کیا کہ ہر بڑے مصنف کی زندگی میں کوئی نہ کوئی شاہکار چیز ضرور سامنے آئی۔
سوال: ہندوستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں اردو زبان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے اور وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے؟
جواب: میں ایک بات بڑے وثوق سے کہتی ہوں کہ ہندوستان میں اردو زبان کبھی نہیں مر سکتی وہ اس کو جتنا چاہیں ہندی کا تڑکا لگا لیں۔ اردو ختم ہوئی تو اس کی ساری فلم انڈسٹری منہ کے بل گر جائے گی۔ اُن کی فلم انڈسٹری اردو ہی کا ابلاغ تو کررہی ہے۔ اُن کے تمام تر ہِٹ گانے اردو غزلیات کی طرز پر لکھے گئے ہوتے ہیں۔ لتامنگیشکر نے تو اردو کو دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے۔ اب تو وہاں ہندو اور سکھ بھی اردو میں لکھ رہے ہیں۔ گیان سنگھ شاطر نے اپنی آپ بیتی اردو میں لکھی ہے وہ اپنی جگہ ایک کلاسک تصنیف ہے۔
سوال: کیا پاکستان میں اردو کے لئے جتنا کام ہونا چاہئے تھا وہ ہوا ہے؟
جواب: آپ کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ تو شعر کے بغیر تقریر ہی نہیں کرسکتے۔ ہر سال ہزاروں کتابیں شائع ہو کر مارکیٹ میں آرہی ہیں اُن کے پڑھنے والے موجود ہیں تو کتاب لکھی جارہی ہیں۔ اردو کے فروغ کے لئے یہاں کافی کام ہورہا ہے۔ باقی انگلش اور اردو میڈیم کا جو فرق ہے کہ انگلش میڈیم والے اعلیٰ ترین عہدے لے جاتے ہیں تو وہ رہے گا۔ وہ صرف میڈیم کا فرق ہے اس سے اردو زبان یا ادب کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
سوال: پاکستان میں شائد پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی ادیب کو سفیر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ عطاء الحق قاسمی پہلے ناروے اور بعد میں تھائی لینڈ میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں آپ کچھ کہنا چاہیں گی؟
جواب: مجھے تو بہت خوشی ہوئی کیونکہ ادیب دانشور ہوتا ہے اور سفارت کا کام بہت اعلیٰ انداز میں کرسکتا ہے عطاء الحق قاسمی نے اس چیلنج کو بطریق احسن پور اکیا ہے انہوں نے ناروے میں بہت کام کیا‘ جو شائد اُن سے پہلے سفیر نہ کرسکے۔
سوال: زندگی کی کوئی ایسی خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو یا کوئی لمحہ پچھتاوا بن گیا ہو؟
جواب: الحمدﷲ! خدا نے میری ہر خواہش پوری کی میں نے ایک اچھا اور سچا ادیب بننے کی دعا کی تھی اور میں نے سوتے اور جاگتے میں صرف یہی سوچا تھا کہ اﷲ مجھے پاکستان کا اچھا ادیب بنا دے تو خدا نے مجھے اچھا ادیب بنا دیا۔
سوال: ادب اور معاشرے کا آپس میں گہرا تعلق ہے ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی دہشت گردی اور تشدد پسندی کے رجحان کو کم کرنے میں ادیب کا کردار کیسے دیکھتی ہیں؟
جواب: آپ نے ٹھیک کہا ادب اور معاشرے کا گہرا تعلق ہوتا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ ادب تو معاشرہ گر ہوتا ہے۔ معاشرے کی تعمیر کرتا ہے۔ ادیب کا کردار تو ماں جیسا ہوتا ہے۔ ادیب معاشرے کی ماں ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے لکھے ہوئے حروف معاشرے کی ترتیب کا تعین کرتے ہیں۔ ہمارا جو قدیم کلاسک ادب ہے اس نے بھی معاشرے کو بدل کر رکھ دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو ناول آئے اور جو تصانیف آئیں وہ کمال ہیں۔ پاکستان کو جس دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے تو اس میں بہت سا ادب تشکیل پا رہا ہے۔ کالموں کی شکل میں بہت کچھ آ رہا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے شاعری ہوئی ہے۔ خود میں نے اس حوالے سے نظمیں لکھیں اور افسانے لکھے ہیں باقی ادیب بھی لکھ رہے ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے آئندہ بھی بہت سا لٹریچر سامنے آئے گا۔
سوال: ایک ادیب کا رشتہ مٹی سے جڑا ہوتا ہے اور اس کا تحفظ اسے بہت عزیزہوتا ہے ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے دفاع وطن میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ 65اور دیگر جنگوں کے حوالے سے کچھ یادیں شیئر کرنا چاہیں گی؟
جواب: ادیب کا رشتہ اپنی مٹی سے اس طرح جڑا ہوتاہے کہ وہ اپنے ملک کے دریاؤں سے روشنائی حاصل کرتا ہے۔ جب دریاؤں میں پانی نہیں ہو گا تو اس کا قلم رونے لگتا ہے۔ گویا ادیب اپنی مٹی پر گزرنے والے حالات سے الگ نہیں ہوتا وہ بہت مضبوطی سے اپنے ارد گرد کے ماحول اور معمولات سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ جہاں تک 1965اور دیگر جنگوں کے حوالے سے یادوں کا معاملہ ہے تو مجھے یاد ہے کہ چھوٹا بھائی 1965 میں ایف اے میں تھا۔ وہ بھی دوسرے نوجوانوں کی طرح جذبوں اور ولولوں سے سرشار تھا اس نے میری ماں سے آ کر ایک دن کہا کہ فوج میں شارٹ سروس کمیشن کے ذریعے آفیسرز کی بھرتی کے لئے اشتہار آیا ہے تو میں بھی اپلائی کرنا چاہتا ہوں۔ حالانکہ اس وقت جنگی حالات تھے لیکن میری ماں نے فوراً اسے اجازت دے دی وہ بعد میں فوج سے بطور میجر ریٹائر ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ 1965کی جنگ میں ہم ہر وقت ریڈیو کے پاس بیٹھے رہتے تھے۔ ادیبوں نے دل و دماغ میں آگ لگا رکھی تھی اور شاعروں نے فضا کو بھڑکا رکھا تھا۔ ریڈیو پر نور جہاں اور دیگر گلوکاروں کی آواز میں ’’اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمھارے لئے ہیں‘ جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی۔ اور میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ دلوں کو گرما کر رکھ دیتا تھا اور ہم لڑکیوں کا بھی دل کرتا کہ ہم سرحد پر جائیں اور اپنے فوجی بھائیوں کے سروں پر اپنے دوپٹوں سے سایہ کریں۔ بہاولپور میں ہمارے گھر کے اوپر سے جنگی جہاز گزرتے تو گھر والے کہتے جا کر خندق میں بیٹھ جاؤ لیکن ہم اپنا سر فخر سے اٹھا کر اپنے جہازوں کو دیکھتیں اور اپنے ہاتھ ہلا کر انہیں سلام پیش کرتیں۔ میں سمجھتی ہوں جو فتح مبین قوم کو حاصل ہوئی اس میں ہمارے ادیبوں اور شاعروں کا بھی بہت کردار ہے۔ نقوش کا خصوصی نمبر شائع ہوا۔ قدرت اﷲ شہاب نے اس پر لکھا۔ گویا معاشرے کی خوبصورت قدروں میں شعر و ادب سے وابستہ لوگوں کا ہمیشہ اہم کردار رہا ہے۔
سوال: پاکستانی معاشرے کی بہتر تشکیل نو کے لئے آپ کے خیال میں آج کا ادیب کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔
جواب: یہ الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے۔ انقلابات تو آتے رہتے ہیں اگر معاشرے کے ہر فرد تک بات پہنچانی ہے تو ادیب کو بھی الیکٹرانک میڈیا کا سہارا لینا ہو گا۔ ٹی وی چینلز کو ایسے ادیب اور شعراء جو نظریہ پاکستان سے جڑے ہوتے ہیں اور دو قومی نظریئے کو پاکستان کی اساس سمجھتے ہیں‘ انہیں ٹی وی کے مذاکروں اور پروگرامز میں بلانا چاہئے۔ ان کے لکھے ہوئے ڈرامے قوم تک پہنچیں تو عوام کے لئے رہنمائی کا باعث ہوں گے۔ میرا ڈرامہ ’’بندھن‘‘ میری کتاب ’’لگن‘‘ پر بنایا گیا تھا۔ اس کا جو فیڈبیک ملا وہ یہ کہ اگر لگن کتاب میں میاں بیوی کی صلح ہو سکتی ہے تو عام گھروں میں میاں بیوی مستقل جھگڑے اور فساد میں الجھنے کی بجائے صلح صفائی سے کیوں نہیں رہ سکتے۔ اس طرح بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ گئے۔ اسی طرح میرے ڈرامے ’’پارسا‘‘ میں یہ پیغام تھا کہ غیرمذہب میں شادی کر کے اپنے والدین کا دل نہیں دکھانا چاہئے۔ گویا میں ادب برائے ادب یا ادب برائے تفریح کی نہیں بلکہ ادب برائے زندگی کی قائل ہوں۔ ادب سے زندگی نکال دو تو باقی کچھ نہیں رہتا۔ یہ جو زلزلے سیلاب اور قدرتی آفات ہیں یہ ہمیں ادب دیتے ہیں۔ کہانیاں دیتے ہیں۔ زندگی سے کہانیاں نکلتی ہیں تو زندگی کو جاتی ہیں۔ اس میں تفریح کا اتنا ہی حصہ ہونا چاہئے جتنا زندگی میں ہوتا ہے۔ مجھے ایک فلم ساز نے کہا کہ فلم برائے تفریح ہوتی ہے۔ ہم نے معاشرے کو سنوارنے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا تو میں نے کہا آپ کو معاشرے بگاڑنے کا بھی ٹھیکہ کسی نے نہیں دے رکھا۔ گویا ادب برائے زندگی ہی معاشرے کی بہتر تشکیل نو میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتاہے۔
سوال: آپ کی اپنی کوئی پسندیدہ غزل یا نظم ؟
جواب: جی میری ایک پسندیدہ نظم ہے ’’کس موڑ پر ملے ہو‘‘ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔
کس موڑ پر ملے ہو؟
مڑ کر بھی آنا چاہوں
مڑ کر بھی آ نہ پاؤں
دامن بچانا چاہوں
دامن چھڑا نہ پاؤں
کس موڑ پر ملے ہو؟
وہ خواب سا زمانہ
وہ روپ کا خزانہ
سب کچھ لٹا چکے ہم
یہ جسم و جان‘ جاناں
کس موڑ پر ملے ہو؟
اب دل کی وادیوں کے
جگنو بھی سو چکے ہیں
خوابوں کے سب جزیرے
ویران ہوچکے ہیں کس موڑ پر ملے ہو؟
رخ کے گلاب سوکھے
ہونٹوں پہ رس نہیں ہے
تو کیا ہو میرے بس میں
اپنے پہ بس نہیں ہے
کس موڑ پر ملے ہو
اب شام ڈھل رہی ہے
’’دل رُت‘‘ بدل رہی ہے
اک شمع جاں تھی روشن
وہ بھی پگھل رہی ہے
کس موڑ پر ملے ہو؟
پیچھے بھرا سمندر
آگے مہیب کھائی
دونوں ہی گرپڑیں گے
ٹھوکر ذرا جو کھائی
کس موڑ پر ملے ہو؟
لمحی ملن کا حاصل
یہ بے اماں جدائی
وہ شب جو ساتھ گزری
پھر کب پلٹ کے آئی
کس موڑ پر ملے ہو؟
ظالم ہے یہ خدائی
مقسوم ہے جدائی
سرہانے بیٹھ کر یوں
ہر شب نہ دو دہائی
کس موڑ پر ملے ہو؟
دروازہ کیسے کھولوں؟
دستک نہ دو خدارا
یہ قفل قید ہستی
قیمت پہ کس کو ہارا
کس موڑ پر ملے ہو؟
کیا نام ہے تمہارا
کس نام سے پکاروں
کس طرح تجھ کو جیتوں
کس دل سے تجھ کو ہاروں
کس موڑ پر ملے ہو؟
(کاپیڈ)

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love
  • 21
    Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں