حاجی مراد (Hadji Murat) .. از .. لیو ٹالسٹائی

ترجمہ: ظہور احمد خان
تعارف و تبصرہ ۔وسیم بن اشرف
حاجی مراد، لیو ٹالسٹائی کا آخری ناول ہے جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار یعنی حاجی مراد، ایک تارتاری مسلمان جنگجو سردار ہے جس کا قبیلہ روسی حکومت کی سرحدوں کے پاس واقع ہے اور اس کا خاندان، جس میں اس کی بیوی اور بچے شامل ہیں، اس کے دشمن قبیلے کی قید میں صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ ایسے میں حاجی مراد اس امید روسی فوج کے ساتھ آ ملتا ہے کہ وہ اس کے خاندان کو رہا کروانے میں اس کی مدد کریں گے اور بدلے میں وہ بھی ان کی مدد کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔روسیوں کی معیت میں حاجی مراد کا وقت کس طرح گزرتا ہے۔ روسی فوج کے افسران اس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اس کے رکھ رکھاؤ سے وہ اور ان کی بیویاں کس طرح متاثر ہوتی ہیں، یہ ناول اس بارے میں اچھی تفصیلات پیش کرتا ہے۔ روسی فوجی افسران کے آپس کے کینہ کو بھی یہ ناول بخوبی پیش کرتا ہے۔ ٹالسٹائی نے حاجی مراد کی اچھی عکاسی کی ہے۔ روسیوں کی موجودگی میں وہ کس طرح اپنے مذہبی اور رویتی تشخص کو برقرار رکھتا ہے اس سے حاجی مراد کی شخصیت کا تاثر ایک مضبوط اور بہادر شخصیت کے طور پہ سامنے ابھر کے آتا ہے۔ لیو ٹالسٹائی نے اس ناول کے لکھتے ہوئے کسی قسم کی مذہبی تعصب پسندی کا ثبوت نہیں دیا بلکہ روسی فوج کے اصلی چہرے کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ناول کا آغاز بہت خوبصورت ہے جہاں مصنف نے حاجی مراد کو ایک جنگلی پھول سے تشبیہہ دی ہے اور اختتام پہ بھی حاجی مراد کو اسی پھول سے ملایا گیا ہے۔ٹالسٹائی کے دیگر ناولوں کے برعکس یہ ناول صرف 154 صفحات پہ مشتمل ہے اور دو سے تین نشستوں میں باآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ کہانی کا انداز بیاں سادہ اور رواں ہے اور پڑھتے ہوئے قاری خود کو حاجی مراد کے کردار سے متاثر ہونے سے نہیں روک سکتا۔

[Total: 0    Average: 0/5]