دہشت گرد .. از .. طارق اسمٰعیل ساگر

طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کا نام جاسوسی ادب کی دنیا میں نیا نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں جنہوں نے عوامی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ناولوں کے علاوہ آپ ڈرامے، کالمز اور سفر نامے بھی لکھ چکے ہیں۔ آپ کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں سے چند نام یہ ہیں۔ آخری گناہ کی مہلت، اور حصار ٹوٹ گیا، بیس کیمپ، بلیک واٹر، کمانڈو، گرفت، یلغار وغیرہ۔
آج جس ناول پہ بات ہو رہی ہے وہ بھی ایک جاسوسی ناول ہے جس کا عنوان ہے دہشت گرد۔ اس ناول میں طارق صاحب نے ملک میں ہونے والی دہشت گردانہ واقعات کے پیچھے موجود ہمسایہ ملک کی خفیہ ایجنسی کے کردار کو پیش کیا ہے۔ ناول میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہمسایہ ملک کے ایجنٹ ہمارے ملک میں موجود ہیں اور یہاں کے لوگوں کو بےوقوف بنا کے اور خوب صورت خواب دکھا کے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ناول میں ان سیاسی رہنماؤں کا بھی حال پیش کیا گیا ہے جو ذرا سے مفاد کے لئے اپنے آپ کو دشمنوں کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں۔ دشمن اپنے مقاصد کے لئے جہاں روپے پیسے کا بےدریغ استعمال کر رہا ہے وہیں وہ اپنی بیٹیوں کو بھی اپنے مضموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔
طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کے قلم نے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کا بہت تفصیلی سے ذکر پیش کیا ہے جو کئی لوگوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔