یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی
کیا آپ ہر وقت تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں اور اس کی وجہ بہت زیادہ مصروفیات کو سمجھتے ہیں؟
یا عام دنوں کے مقابلے میں اپنے اندر سستی کی کیفیت زیادہ محسوس کررہے ہیں؟ تو ہوسکتا ہے کہ اس تھکاوٹ کی اصل وجہ کچھ اور ہو۔درحقیقت یہ وٹامن سی کی کمی کی علامت ہوسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق کے مطابق وٹامن سی کی کمی بالوں سے محرومی، مسوڑوں کے امراض، خشک جلد، زخموں کے بھرنے کا عمل سست، اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے جسمانی مدافعت کمزور کردیتی ہے۔جسم میں وٹامن سی کی کمی سب سے بڑی علامت ہر وقت تھکاوٹ اور چڑچڑے پن کی شکل میں سامنے آتی ہے جو مختلف امراض کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔طبی ماہرین کی جانب سے خواتین کو روزانہ 75 ملی گرام اور مردوں کو 90 ملی گرام وٹامن سی کے استعمال کی ہدایت کی ہے جبکہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو اضافی 35 ملی گرام مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔وٹامن سی ترش پھلوں، ٹماٹر، پالک اور شملہ مرچ وغیرہ کے ذریعے حاصل کرکے خود کو توانائی سے بھرپور کیا جاسکتا ہے اور مختلف امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔
یہ تحقیق امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہوئی۔
*ہروقت تھکاوٹ کا سبب بننے والی عادتیں
*نیویارک : کیا آپ ہر وقت خود کو تھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں یا کوئی کام کرتے ہوئے بھی تھکن کا احساس غالب آجاتا ہے؟ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ صرف نیند کی کمی نہیں جو آپ کو توانائی سے محروم کررہی ہوتی ہے بلکہ چند چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر آپ پر بھاری پڑی ہوتی ہیں۔*یہ وہ خراب عادتیں ہوتی ہیں جو طرز زندگی کو متاثر کرکے آپ کو تھکاوٹ کا ایسا شکار بنادیتی ہیں کہ زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ورزش سے دوری
اگر تو آپ اپنی جسمانی توانائی کو بچانے کے لیے ورزش سے جان چھڑاتے ہیں تو یہ سوچ آپ پر ہی بھاری پڑسکتی ہے، ایک امریکی تحقیق کے مطابق صحت مند مگر سست طرز زندگی کے عادی بالغ افراد اگر ہفتہ بھر میں تین بار صرف بیس منٹ کی ورزش کو معلوم بنالیں تو وہ خود کو توانائی زیادہ بھرپور اور تھکاوٹ کا کم شکار ہوتے ہیں، معمول کی ورزشی جسمانی مضبوطی بڑھاتی ہے جبکہ آپ کا نظام قلب زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے لگتا ہے۔
پانی کا کم استعمال
ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی معمولی سی یعنی صرف دو فیصد کمی بھی توانائی کے ذخیرے پر اثر انداز ہوتی ہے، یہ ڈٰ ہائیڈریشن خون کی مقدار کو کم کردیتی ہے جس سے وہ گاڑھا ہوجاتا ہے، اس کے نتیجے میں دل کی کارکردگی بھی کم ہوجاتی ہے اور آپ کے پٹھوں اور اعضاءکو آکسیجن کی فراہم کم ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ تھکاوٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔
آئرن کا ناکافی استعمال
جسم میں آئرن کی کمی آپ کو کمزور، توجہ کی صلاحیت سے محروم، سست اور چڑچڑا بنادیتا ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آئرن کی کمی سے خلیات اور مسلز کو آکسیجن کو کم ملتی ہے جو تھکاوٹ کا سب بنتے ہیں، اور اس کی مستقل کمی مختلف سنگین امراض کا سبب بن سکتی ہے، تاہم سبز پتوں والی سبزیاں، انڈوں، نٹس اور وٹامن سی سے بھرپور اشیاءکے استعمال سے اس سے بچا جاسکتا ہے۔
کمالیت پسندی
ہر چیز میں پرفیکٹ نظر آنا یا کمالیت پسندی درحقیقت ایک ناممکن چیز ہے جس کے لیے آپ کو زیادہ محنت اور ضرورت سے زیادہ دورانیے تک کام کرنا پڑتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق اگر کوئی ایسے مقاصد کو اپنا ہدف بنالے جن کا حصول ناممکن ہو تو آخر میں آپ اپنی زندگی سے غیرمطمئن نظر آئیں گے، جو بعد میں ذہنی تھکاوٹ اور اس کے بعد ہر وقت سست بنانے کا سبب بن جائے گا۔
غیر ضروری فکریں
اگر آپ کو باس کے طلب کرنے پر یہ ڈر لگے کہ وہ آپ کو برطرف کردے گا یا آپ آپ اپنی سائیکل کو چلانے سے پہلے حادثے کے خیال سے خوفزدہ ہوجائیں تو آپ بدترین نتائج والی سوچ کے حامل شخص ہیں، ہر وقت دہشت کا احساس آپ کو ذہنی طور پر مفلوج کرکے رکھ دے گا اور جسمانی طور پر بھی آپ کسی کام کے نہیں رہیں گے، مراقبے، گھر سے باہر نکلنے، ورزش یا اپنے خدشات دوستوں سے شیئر کرنے سے آپ کافی حد تک اس عارضے سے نجات پاسکتے ہیں۔
ناشتہ نہ کرنا
رات کو کھانے کے بعد سونے کے دوران آپ کا جسم اس سے حاصل ہونے والی توانائی کو خون کی پمپنگ اور آکسیجن کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے، تو جب آپ اٹھتے ہیں آپ کو ناشتے کی شکل میں اپنی توانائی کے ایندھن کو دوبارہ بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے چھوڑ دینا آپ کو کاہلی یا سستی کا شکار کردیتا ہے۔
جنک فوڈ پر زندگی گزارنا
بہت زیادہ چینی یا سادہ فائبر والی غذائیں جسم میں بلڈ شوگر کو بڑھا دیتا ہے اور اس میں کچھ دیر بعد اچانک ہی نمایاں کمی بھی آجاتی ہے، یہ اتار چڑھاؤ آپ کو تھکاوٹ کا شکار بنادیتا ہے، متوازن غذا کا استعمال ہی دن بھر آپ کو چاق و چوبند رکھنے کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے۔
انکار نہ کرپانا
اکثر لوگ اپنے کاموں کے لیے آپ کی توانائی اور خوشی کو خرچ کرنے کی درخواست کرتے ہیں، خاص طور پیاروں سے ہٹ کر ایسا کوئی شخص جسے آپ زیادہ پسند بھی نہ کرتے ہوں اور پھر بھی اس کے کام کو انکار نہ
کرسکیں یہ چیززیادہ بدترین ثابت ہوتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو ہر وقت افسردہ اور غصے میں رہنے کا سبب بنادیتی ہے۔
بے ترتیب دفتر
دفتر کی بے ترتیب ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے جو آپ کی توجہ کی صلاحیت اور اطلاعات کے تجزیے کی دماغی صلاحیت کو محدود کردیتی ہے، ہر دن کے اختتام پر اپنی دفتری چیزوں کو ترتیب سے نہ رکھنے پر اگلے روز کا آغاز تھکاوٹ کے بڑھنے کے احساس کے ساتھ ہوگا۔
تعطیلات کے دوران کام کرنا
گھر میں آرام کے دوران ای امیل کو چیک کرنے سے جسمانی توانائی سے محروم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ٹیکنالوجی سے دوری اختیار کرکے اپنے ذہن اور جسم کو دفتری امور سے آزاد چھوڑ دینا آپ کے کام کو ہی بہتر اور مضبوط بناتا ہے۔
سونے کے وقت موبائل فون کا استعمال
سونے کی جگہ پر ایک ٹیبلیٹ، اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کی روشنی آپ کے جسم کے قدرتی شب روزہ تبدیلی کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے وہ ہارمون متاثر ہوتا ہے جو نیند کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوتی ہے اور دن کا آغاز تھکاوٹ کے احساس کے ساتھ ہوتا ہے۔
کیفین پر انحصار
اپنے دن کا آغاز کافی یا چائے سے کرنا کافی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، درحقیقت دن میں تین کپ کافی آپ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے مگر کیفین کا بہت زیادہ استعمال نیند اور جاگنے کے سائیکل کو بری طرح متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دن بھر تھکاوٹ کا احساس غالب رہتا ہے۔
تعطیل کے روز دیر تک جاگنا
ہفتے کو رات بھر جاگ کر اتوار کی صبح سونا اس روز کی شب کو سونا مشکل بنادیتا ہے اور پیر کی صبح کا آغاز نیند کی کمی سے ہوتا ہے اور جیسا کہ سب کو معلوم ہی ہے کہ نیند کی کمی انسانی جسم سے توانائی نچوڑ تھکن کا احساس بڑھا دیتا ہے۔
*خراب صحت کی سات علامتیں
نیویارک : ہم اکثر بیمار ہونے کے بعد سوچتے ہیں کہ آخر یہ بیماری کسی قسم کی علامات ظاہر کیے بغیر ہم پر حملہ آور کیسے ہوگئی جبکہ ہم تو بالکل صحت مند تھے؟مگر یہ سوچ ٹھیک نہیں کیونکہ ایسی متعدد علامات ہوتی ہیں جنھیں ہم معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں جو کہ درحقیقت ظاہر کررہی ہوتی ہیں کہ جسم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا، ایسی ہی چند علامات کے بارے میں جانئے جو آپ کو کسی سنگین مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
ہونٹوں کا پھٹنا یا کریکس
ہوسکتا ہے کہ ایسا موسم کی شدت کی وجہ سے ہو، مگر ہونٹوں کا پھٹنا خاص طور پر کونوں سے درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے اندر وٹامن B12 کی کمی ہے، اس وٹامن کی کمی متعدد طبی مسائل جیسے خون کی کمی کے مرض کا سبب بھی بن سکتی ہے، اس وٹامن کی کمی سے قبل از وقت آگاہ ہوکر آپ خود کو کافی مسائل سے بچاسکتے ہیں۔
جسمانی قد یا قامت میں کمی
سننے میں ہوسکتا ہے کہ عجیب لگے مگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا قد گھٹنے لگتا ہے، مگر اس کی رفتار میں تیزی اس بات اشارہ ہوتی ہے کہ آپ کی ہڈیوں میں کچھ خرابی ضرور ہے، یہ وہ آسٹیوپوروسز جیسے مرض کا شکار ہورہی ہیں،ہڈیوں کے امراض کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی وقت فریکچر کا خطرہ گرنے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، تو اس کی قبل از وقت شناخت سے ہمیں اپنی غذا تبدیل کرکے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
زیادہ ٹھنڈ لگنا
اگر آپ کو کچھ زیادہ ہی سردی لگتی ہے تو یہ اس بات کا عندیہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے جسمانی دفاعی نظام کو بڑھانے کی ضرورت ہے یا اس کو مسائل درپیش ہیں۔
یہ علامت وٹامن سی کی کمی یا کسی وائرس کے حملے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے جس سے آپ آگاہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے خود کو مسائل سے قبل از وقت بچاسکتے ہیں اور اپنی عام صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
پیشاب زیادہ زرد ہونا
یہ بہت اہمیت رکھتا ہے کہ آپ اپنے پیشاب کی رنگت پر توجہ دیں کیونکہ یہ ہماری عام صحت کے بارے میں آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے، اگر آپ کے جسم میں پانی مناسب مقدار میں ہو تو اس کی رنگت لگ بھگ شفاف ہوتی ہے، تاہم اگر اس کی رنگت زیادہ زرد یا پیلی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ گردوں میں کوئی مسئلہ ہے اور وہاں جمع ہونے والا کچرا مناسب طریقے سے پراسیس نہیں ہورہا۔
جلد میں مسائل
اگر آپ کو بار بار جلد میں خارش یا کسی اور قسم کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الرجی کا ردعمل ہے یا آپ کا جسم آپ کو بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ آپ بہت زیادہ تناؤ کا شکار ہیں اور حالات کو سست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہوتا ہے تو اس کی بات سننا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ جسم اکثر اسے مدد کی پکار کے لیے استعمال کرتا ہے۔
معمول کی نیند سے محرومی
اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی نیند مسائل کا شکار ہے اور آپ کے بے خوابی کی شکایت ہورہی ہے تو یہ جسم اور ذہن کے تناؤ کا شکار ہونے کی علامت بھی ہوسکتا ہے، جب ہم سوتے ہیں تو ہمارا جسم تناؤ کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو کم کردیتا ہے، مگر جب ہم تناؤ کا شکار ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہواتی ہے، ایسا ہونے سے جسم اپنی مرمت خود کرنے سے قاصر ہواتا ہے اور متعدد امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مناسب نیند کے باوجود تھکن
اگر آپ مناسب نیند لینے کے بعد باوجود دن میں خود کو تھکن کا شکار محسوس کررہے ہیں تو یہ آپ کے تھائی رائیڈ میں مسئلے کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے، میٹابولزم کی شرح کو کنٹرول کرنے والی اس بے نالی غدود میں خرابی کا مطلب یہ ہے کہ آپکا جسم بغیر کسی ضرورت کے بھی تمام تر توانائی ایک ساتھ استعمال کررہا ہے، یہ مسئلہ آپ کے جسم کو گرانے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے معمول کا کام کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔(کاپیڈ)

Share This

Share This

Share this post with your friends!