ٹوتھ برش میں نیلے ریشے کیوں ہوتے ہیں؟ٹوتھ پیسٹ کے 13 انوکھے استعمال؟دانتوں کی تکلیف سے نجات (وسیم بن اشرف)

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ٹوتھ برش کے ریشوں میں کچھ حصہ نیلے رنگ کا کیوں ہوتا ہے؟درحقیقت یہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور یہ آپ کو بتاتا ہے کہ کس وقت ٹوتھ برش کو بدل دینا چاہئے۔جی ہاں اکثر افراد تو اپنے ٹوتھ برش کو اس وقت تک استعمال کرتے رہتے ہیں جب تک وہ گم نہ ہوجائے یا ایک سے دو سال تک استعمال کرتے ہیں۔مگر طبی ماہرین کے مطابق سال میں کم از کم چار بار ٹوتھ برش کو تبدیل کرنا چاہئے یا یوں کہہ لیں کہ تین مہینے سے زیادہ استعمال نہ کریں یا جب بھی بیمار ہو تو بھی فوری طور پر بدل دیں۔اور اس حوالے سے نیلے رنگ ریشے بتاتے ہیں کہ ٹوتھ برش بدلنے کا وقت ہوگیا ہے۔یعنی جب نیلا رنگ ہلکا ہونے لگے تو یہ اشارہ ہوتا ہے کہ اب اس کی جگہ کسی اور برش کو خرید لینا چاہئے۔ماہرین طب کے مطابق مسوڑوں کے مسائل یا دیگر امراض کا شکار رہنے والوں کو تو رنگت مدھم پڑنے کا انتظار بھی نہیں کرنا چاہئے بلکہ بہت جلد اسے بدل دینا چاہئے۔ٹوتھ برس کے ان ریشوں کو ایسے رنگ سے رنگا جاتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہو اور عام طور پر وہ نیلا ہی ہوتا ہے۔برش کرنے کے ساتھ یہ نیلا رنگ بتدریج مدھم پڑنے لگتا ہے اور جب وہ مکمل طور پر ختم ہوجائے تو یہ اشارہ ہوتا ہے کہ اب اس کا مزید استعمال نہ کریں، ویسے تو مدھم ہونے پر بھی بدل لینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔دو سے تین ماہ پرانے کے مقابلے میں نیا ٹوتھ برش منہ کے جراثیموں کو تیس فیصد زیادہ ختم کرتا ہے ، جبکہ پرانے ٹوتھ برش سے مسوڑوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچنے کا امکان بھی ہوتا ہے۔اور ہاں برش کے ریشوں پر جراثیموں کی نشوونما بھی بہت تیزی سے ہوتی ہے جو کہ نزلہ زکام فلو اور گلے میں خرابی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
********دانتوں کی تکلیف سے نجات دلانے والے 10عام طریقے
دانت کا درد کتنا شدید ہوتا ہے اس کا اندازہ لگ بھگ ہر فرد کو ہی ہوتا ہے، اکثر دانتوں میں خلا، دانت کے ہلنے، مسوڑوں کا انفیکشن یا دیگر وجوہات کی بناءیہ درد زندگی عذاب بنا دیتا ہے۔
دانت کا درد کبھی بھی آپ کو اپنا شکار بناسکتا ہے اور اکثر ایسی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانا مشکل ثابت ہوتا ہے تاہم کچھ گھریلو نسخے آپ کو اس سے کچھ دیر کے لیے نجات دلانے کے لیے ضرور مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جس کے بعد آپ آرام سے ڈاکٹر سے رجوع کرکے دیرپا علاج کروا سکتے ہیں۔
لونگ کا تیل تکلیف سے بچائے
لونگ ایسی روایتی چیز ہے جو متعدد تکالیف سے نجات کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس مصالحے کا اہم ترین کیمیائی جز یوجینول ہے جو کہ قدرتی طور پر سن کردینے کی خاصیت رکھتا ہے۔ تاہم لونگ کے تیل کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہئے۔ تیل کو دانتوں میں اس جگہ لگانا جہاں تکلیف ہورہی ہو درحقیقت درد کو اس صورت میں مزید بدتر کرسکتا ہے اگر آپ کے مسوڑے یا زبان کے ٹشوز حساس ہو۔ اس کے برعکس لونگ کے تیل کے دو قطرے روئی کے گولے پر ٹپکائیں اور اور اسے متاثرہ دانت پر اس وقت تک لگارہنے دیں جب تک درد میں کمی نہ ہو۔
ادرک و سرخ مرچ کا پیسٹ بنائیں
ادرک اور پسی ہوئی سرخ مرچ کی یکساں مقدار لیں اور اس میں اتنا پانی شامل کرلیں کہ وہ پیسٹ کی شکل اختیار کرلے۔ اب روئی کی چھوٹی گیند بناکر اس کو پیسٹ سے تر کرلین اور پھر اپنے دانت پر لگالیں۔ یہ روئی اس وقت تک لگی رہنے دیں جب تک درد میں کمی نہ آجائے یا جب تک وہ متاثرہ جگہ پر ٹکی نہ رہے۔ آپ ان دونوں کو الگ الگ بھی استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ ان میں درد کش خوبیاں ہوتی ہیں۔
نمک ملے پانی سے کلیاں
ایک چائے کا چمچ نمک گرم پانی کے ایک کپ میں گھول کر درد ختم کرنے والا ماؤتھ واش بنالیں جو تکلیف کا باعث بننے والے کچرے کو صاف کرکے سوجن میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ اس نمک ملے پانی کو منہ میں بھر کر تیس سیکنڈ اچھی طرح ہلائین اور پھر تھوک دیں۔ اس عمل کو اس وقت تک دوہرائیں جب تک ضرورت محسوس ہو یا درد میں کمی نہ آجائے۔
چائے سے آرام ملے
پودینے کی چائے کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے اور اس میں تکلیف دہ جگہ کو بے حس کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ پودینے کے خشک پتوں کا ایک چائے کا چمچ ایک کپ گرم پانی میں شامل کریں اور بیس منٹ تک ڈبو کر رکھیں، جب یہ چائے ٹھنڈی ہوجائے تو اسے منہ میں بھر کر حرکت دیں اور پھر تھوک دیں یا نگل لیں۔ اس کے علاوہ عام چائے کی خشک پتی بھی سوجن کم کرکے درد میں کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ ایک گرم اور گیلا ٹی بیگ متاثرہ جگہ پر کچھ دیر کے لیے لگا کر عارضی ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔
برف بھی فائدہ مند
ایک چھوٹے آئس کیوب کو ایک تھیلی میں رکھیں اور پھر ایک پتلے کپڑے کو تھیلی کے گرد لپیٹ دیں اور پھر تکلیف دہ دانت پر پندرہ منٹ تک لگائے رکھیں تاکہ اعصاب سن ہوجائیں۔ اس کے علاوہ تکلیف سے نجات کا ایک اور دلچسپ طریقہ آئس کیوب سے اپنے ہاتھ پر مساج کرنا ہے جس سے دانت کے درد میں کمی آجاتی ہے۔ درحقیقت آپ کی انگلیاں جب ٹھنڈک کا سگنل دماغ کو بھیجتی ہیں تو وہ دانت سے نکلنے والے درد کے سگنلز کو دبا دیتا ہے۔
ہائیڈروجن پرآکسائیڈ
بیکٹریا کو مارنے اور تکلیف میں کمی کے لیے ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے سلوشن سے کلیاں کریں۔ اس سے دانت کے درد میں عارضی سکون ملتا ہے مگر یہ کچھ دیر کے لیے ہی ہوتا ہے جس کے بعد آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس سلوشن کو سادے پانی میں ملا کر کلیوں کی صورت میں استعمال کرنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
سرکہ اور براؤن کاغذ
دانت کی تکلیف میں کمی لانے کا ایک اور بہترین طریقہ براؤن کاغذ کے ایک چھوٹے ٹکڑے کو سرکے میں بھگونا ہے، پھر اس کے ایک طرف کالی مرچ کو چھڑکیں اور پھر گال پر لگا کر دبالیں۔ گال کر پیدا ہونے والا گرمائش کا احساس دانت کی تکلیف سے دماغ کا دھیان بٹا کر درد میں کمی کردے گا۔
دانتوں کی صفائی بہترین ٹولز سے

ایسا ٹوتھ پیسٹ ا ستعمال کریں جو حساس دانتوں کے لیے، خاص طور پر اگر آپ کو مسوڑوں کی تکلیف کا سامنا ہو جس سے درد میں نمایاں کمی آئے گی اور پھر ٹھنڈا یا گرم دانتوں پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوگا۔ اسی طرح زیادہ نرم برش کو استعمال کرکے بھی آپ مسوڑوں کو سکڑنے سے روک کر ٹھنڈا گرم کی تکلیف کی روک تھام کرسکتے ہیں۔
دانتوں کے خلاءکے لیے چیونگم کا استعمال
اگر تو آپ کا کوئی دانت ٹوٹ گیا ہے یا فلنگ نکل گئی ہے تو آپ درد میں کمی لانے کے لیے متاثرہ حصے کو نرم چیونگم سے بھر سکتے ہیں۔ اس سے آپ خلاءکو بھر کر درد میں کمی لاسکتے ہیں اور چیونگم کو وہاں اس وقت تک لگا رہنے دیں جب تک آپ ڈاکٹر سے نہ مل لیں۔
دباؤ بہترین طریقہ
ایکوپریشر تیکنک کو استعمال کرکے بھی دانت کے درد کو بہت تیزی سے روکا جاستکا ہے۔ اپنے انگوٹھے سے دوسرے ہاتھ کے پشت پر اس حصے کو دومنٹ تک دبائیں جہاں آپ کا انگوٹھا اور شہادت کی انگلیاں مل رہے ہو۔ اس سے ایک کیمیکل اینڈروفینز خارج ہوگا جو کہ خوش مزاجی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔
ٹوتھ پیسٹ کے 13 انوکھے استعمال
دانتوں کی صفائی اور سفیدی کے لیے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال تو بہت عام ہے جو انہیں مضبوط بھی بناتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ پیسٹ آپ کے چہرے کو دانوں سے نجات بھی دلا سکتا ہے؟
اگرچہ سننے میں حیرت انگیز لگے مگر واقعی ٹوتھ پیسٹ بہت کچھ ایسا بھی کرسکتا ہے جس کا تصور بھی کبھی آپ نے نہیں کیا ہوگا اور دانتوں سے ہٹ کر بھی بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹوتھ پیسٹ کے ایسے ہی چند انوکھے طریقہ استعمال ہوسکتا ہے آپ کو حیران کرکے رکھ دیں۔
جوتوں کی خستہ حالی ختم کریں
اگر تو آپ کے لیدر کے جوتوں پر شکنیں پڑ چکی ہیں تو معمولی مقدار میں ٹوتھ پیسٹ زبردست کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ متاثرہ حصے پر ٹوتھ پیسٹ لگائیں اور کسی نرم کپڑے سے اسے رگڑیں، جس کے بعد کسی اور کپڑے سے اسے صاف کردیں۔ جوتے کا چمڑہ نئے کی طرح چمکنے لگے گا۔
اسپورٹس شوز کو صاف کریں
اپنے اسپورٹس کے ربڑ کے حصوں کو صاف کرنا چاہتے ہیں ؟ تو بغیر جیل کے ٹوتھ پیسٹ کو اس پر لگا کر کسی پرانے ٹوتھ برش سے رگڑیں، جس کے بعد اسے کسی کپڑے سے صاف کردیں۔
استری کو جگمگائیں
ٹوتھ پیسٹ کی معمولی مقدار آپ کے کپڑوں کی استری کی نچلی پلیٹ کو جگمگا سکتی ہے۔ ٹھنڈی استری کے نچلے حصے پر ٹوتھ پیسٹ لگائیں کسی موٹے کپڑے سے اسے رگڑیں اور پھر دھو کر صاف کرلیں وہ جگمگانے لگے گی۔
ڈائمنڈ رنگ کی پالش
کسی پرانے ٹوتھ برش پر معمولی مقدار میں پیسٹ لگائیں اور پھر اپنے دانتوں کی بجائے اسے ہیرے کی انگوٹھی کو جگمگانے کے لیے استعمال کریں۔ اچھی طرح صفائی کے بعد اسے کسی کپڑے سے صاف کردیں۔
بچوں کے فیڈر سے بساند دور بھگائیں
بچوں کی بوتلوں میں اکثر دودھ کی بساند پیدا ہوجاتی ہے جس کو دور کرنے میں عام برتن دھونے کے صابن یا کیمیکل وغیرہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتے، ایسے حالات میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے بس اس کی کچھ مقدار بوتل برش پر لگا کر اسے رگڑیں اور پھر اچھی طرح دھو لیں۔
دھندلے گلاسز کی صفائی
لکڑی کا کام ہو، غوطہ خوری یا کچھ اس وقت بہت الجھن ہوتی ہے جب گلاسز پر دھند سے چھا جاتی ہے، اس مسئلے سے بچنے کے لیے گلاسز پر ٹوتھ پیسٹ کی کوٹنگ کریں اور پھر اسے صاف کردیں، جس کے بعد یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔
باتھ روم میں لگے آئینے کو دھندلا ہونے سے بچائیں
اگر تو آپ کے باتھ روم کا آئینہ دھندلا ہوجائے تو اس میں کچھ صاف نظر ہی نہیں آتا اور شیو کرتے ہوئے کٹ لگنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ ایسا ہونے پر بغیر جیل والے ٹوتھ پیسٹ کی کوٹنگ شیشے پر کریں اور پھر صاف کرلیں۔
باتھ روم کے سنک کو صاف کریں
باتھ روم کا سنک صاف کرنا چاہتے ہیں تو ٹوتھ پیسٹ کی کچھ مقدار کو میں ڈالیں اور پھر کسی اسفنج سے رگڑ کر دھودیں۔ سنک صاف بھی ہوجائے گا اور ٹوتھ پیسٹ ڈرین پائپ سے آنے والی بو کا بھی خاتمہ کردے گا۔
دیواروں سے رنگوں کے داغ ہٹائیں
تمام بچوں کو دیواروں پر پینٹ کا بہت زیادہ شوق ہوتا ہے جو ماؤں کے لیے گھروں کی صفائی کے دوران بہت بڑا چیلنج بھی بن جاتا ہے اور اس سلسلے میں بھی ٹوتھ پیسٹ زبردست کمال دکھاتا ہے،ٹوتھ پیسٹ کے
ساتھ ایک کپڑے یا صفائی کرنے والا برش لیں، ٹوتھ پیسٹ کو دیوار پر لگائیں اور رگڑنا شروع کردیں، اس کے بعد دیوار کو پانی سے دھو لیں۔
کپڑوں سے سیاہی یا لپ اسٹک کے دھبے دور کریں
کسی قلم نے آپ کی پسندیدہ قمیض کی جیب کو خراب کردیا ہے تو یہ نسخہ آپ کے کام آسکتا ہے تاہم اس کا انحصار کپڑے کی قسم اور سیاہی پر ہوگا تاہم کوشش کرکے ضرور دیکھیں۔ ٹوتھ پیسٹ کو داغ پر لگائیں اور کپڑے کو مضبوطی سے رگڑیں اور پھر پانی سے دھولیں۔ اگر سیاہی کچھ حد تک دور ہوئی ہو تو اس عمل کو چند بار مزید دہرائیں جب تک وہ داغ ختم نہ ہوجائے۔ یہ طریقہ کار لپ اسٹک کے دھبوں پر کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
فرنیچر پر موجود پانی کے دھبے صاف کریں
ایک اور وہ چیز جو ٹوتھ پیسٹ بہت موثر طریقے سے کرتا ہے وہ شیشے یا لکڑی کی میزوں پر ٹھنڈے یا چائے وغیرہ کے کپ رکھنے سے بن جانے والے نشانات کو مٹانا ہے، یہ نشانات خشک ہوجائیں تو انہیں صاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر ٹوتھ پیسٹ سے یہ کام بہت آسانی سے ہوجاتا ہے۔ بس ٹوتھ پیسٹ کو لکڑی پر کسی نرم کپڑے کے ساتھ نرمی سے رگڑیں اور پھر دوسرے کپڑے سے صاف کرلیں۔
کیل مہاسوں سے نجات
اگرچہ یہ سننے میں حیران کن لگے مگر حقیقت یہی ہے کہ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال چہرے پر ابھر آنے والے دانوں اور مہاسوں سے جلد نجات دلانے کا موثر طریقہ ہے، بس تھوڑی سی مقدار میں ٹوتھ پیسٹ مہاسوں سے متاثرہ حصے پر رات کو لگائیں اور صبح تک کے لیے خشک ہونے دیں۔ ٹوتھ پیسٹ کیل مہاسوں کو خش کرکے ان میں موجود تیل کو جذب کرلے گا۔ تاہم یہ خیال رہے کہ یہ نسخہ حساس جلد کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں۔
ہاتھوں سے بو کو دور بھگائیں
پیاز یا لہسن کو کاٹنے کے بعد ہاتھوں میں بو دھونے کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور عام صابن بھی اس سے نجات دلانے میں ناکام رہتے ہیں مگر تھوڑی سی مقدار میں ٹوتھ پیسٹ کو ہتھیلی پر مل لینا اس بو سے مختصر وقت میں موثر طریقے سے جان چھڑانے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

[Total: 0    Average: 0/5]
Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں