دیوار خریدی تھی تودر بیچ دیا تھا ( اسلم شاہد) ​

دیوار خریدی تھی تودر بیچ دیا تھا
بچوں نے مرا خواب نگر بیچ دیا تھا

منزل تھی کھڑی سامنے کھولے ہوئے بازو
راہی نے مگر رختِ سفر بیچ دیا تھا

بیٹی کی تمنا کہ ہو سونے کی انگھوٹی
اک باپ نے روتے ہوئے گھر بیچ دیا تھا

غربت کی کہانی کا یہ عالم تھا سرِ شام
رکھی تھی انا میز پہ، سر بیچ دیا تھا

بیٹے کو میرے چند کتابوں کی طلب تھی
آنگن میں کھڑا میں نے شجر بیچ دیا تھا​

( اسلم شاہد) ​