حکمران، بیورو کریٹس اپنے آپ کو بدلیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے اور احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا۔ اسلام آباد میں سول سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کبھی پاکستان کو اتنے چیلنجز نہیں تھے جتنے آج ہیں، ہم قرضوں پر ہر روز 6 ارب روپے سود ادا کررہے ہیں، پاکستان پر 30 ہزار ارب کا قرضہ ہے ،سیاستدانوں، عوام اور بیوروکریسی نے خود کو بدلنا ہے، اگر خود کو تبدیل نہیں کریں گے تو ترقی نہیں کریں گے، کوئی چیز دنیا میں نا ممکن نہیں ہے، ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے انسان کو خود کو بدلنا پڑتا ہے۔ ہمارے پاس ملک چلانے کے لیے پیسہ نہیں، ہم نے جو قرضے لیے وہ بجائے بہتری کے لیے ان سے ایسے پروجیکٹ بنائے گئے جو نقصان میں جارہے ہیں، اورنج اور میٹرو منصوبے کے اعدادو شمار کل کابینہ کے اجلاس میں سامنے آئے، ان پروجیکٹ پر قرضے لیے ہوئے ہیں اور سود دے رہے ہیں، اس سے مزید نقصان کررہے ہیں۔ جب سے ملک آزاد ہوا تب سے حکمران طبقے کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا، گورے نے ہندوستان کے پیسوں سے شاہانہ طرز زندگی اپنایا تھا، ہمارے حکمران طبقے نے غریب کے پیسے پر عیاشی کی گورے کی روایت کو اپنایا، آزادی کے بعد حکومت اور عوام کو ایک ہونا چاہیے تھا لیکن نہیں ہوئے، یہاں جس طرح خرچہ ایک حکمران طبقہ کر رہاہے ایسے کہیں نہیں ہوتا، ہمیں انگریز کے دور کی سوچ کو تبدیل کرنا ہے ، پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ بچے گندہ پانی پینے سے مرتے ہیں، زچگی کے دوران بنیادی طبی سہولیات نہ ہونے سے خواتین مر جاتی ہیں، ملک کا تعلیمی نظام بگاڑ دیا گیا ہم قوم کے ووٹ پرآئے ہوئے ہیں اور ان کے ٹیکس کے پیسے پر بیٹھے ہیں، قومیں چیلنجز سے نکل جاتی ہیں، ہم بحران سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں، وزیراعظم ہا¶س کے چار ہیلی کاپٹر، گاڑیاں اور بھینسیں بھی نیلام کررہے ہیں، یہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ہے، ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہے، قوم کا ایک ایک روپیہ خرچ کرتے وقت سوچیں کہ یہ ان ڈھائی کروڑ بچوں پر لگ سکتا ہے جو اسکول نہیں جاتے ، احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا، جس سطح کی کرپشن ہے، سارا مسئلہ ہی کرپشن ہے، پیسہ چوری علیحدہ ہوا لیکن پیسہ چوری کرنے کے لیے جو ادارے تباہ کیے گئے اس نے ملک تباہ کردیا، تیسری دنیا کی وجہ کرپشن ہے، پیسہ چوری کرنے کے لیے ادارے تباہ کیے جاتے ہیں، اگر آج مغرب میں شفافیت ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ہم سے زیادہ ایماندار ہیں بس ان کے ادارے مضبوط ہیں ،ملک کے لیے احتساب ضروری ہے، بیوروکریسی کی جو شکایات آئیں اس پر چیئرمین نیب سے بات کی ہے، انہیں کہا ہے کہ اگر کسی بیوروکریٹ سے تفتیش کرنی ہے تو اس کی تذلیل نہ کی جائے، بیوروکرٹ اگر کام نہیں کرے گا تو ہم جتنی مرضی پالیسی بنائیں کامیاب نہیں ہوں گے، ہم بڑا رسک لے رہے ہیں ، بیوروکریسی کو یقین دلاتا ہے آپ چانس لیں غلطی ہوتی ہے، سب سے زیادہ مجھ سے غلطیاں ہوئیں، غلطی ہونا کوئی بری بات نہیں لیکن پوری طرح کام کریں کوئی غلطی ہوئی میں ساتھ کھڑا ہوں گا، یقینی بنائیں گے کہ بیوروکریسی پر کوئی دبائو نہ پڑے، آپ مجھے مجھے پسند کریں نہ کریں کوئی پرواہ نہیں، مجھے صرف کام سے غرض ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ حکومت کے لیے جلدی جلدی پوسٹنگ ٹرانسفر ہے، بیوروکریسی ریفارمز سے نہ گھبرائے یہ میرٹ کو پروموٹ کرے گی، بیورو کریسی کے تنخواہوں کے اسٹرکچر کا احساس ہے، تسلیم کرتا ہوں بیوروکریٹ اپنی تنخواہ پر گزارہ نہیں کرسکتے لیکن یہ مشکل وقت برداشت کریں یہ زیادہ دیر تک نہیں ہوتا، دنیا میں کوئی بھی قوم سیدھی اوپر نہیں جاتی، قوموں کی زندگی میں اونچ نیچ آتی ہے، اس وقت ہمارے حالات برے ہیں لیکن ایک طاقت ہے، اگر طرز حکمرانی ٹھیک کرلیں تو یہ قوم تیزی سے اوپر جائے گی ، اوورسیز پاکستانی کے پاس سرمایہ کاری کے لیے بہت پیسہ ہے لیکن وہ صرف گورننس کی وجہ سے سرماریہ کاری نہیں کرتے، اگر ہم نے دو سال میں گورننس سسٹم ٹھیک کردیا تو بے فکر ہوجائیں، ملک میں اتنا پیسہ آجائے گاکہ قرضوں کے مسائل تک حل ہوجائیں گے ، میں اسی ملک میں رہا ہوں، جس کی گرمی کی چھٹیاں لندن میں گزری ہوں اور دورے بھی لندن کے ہوں انہیں نہیں پتا ملک میں کتنا پوٹینشل ہے۔