’’حجاز کی معطر ہوا‘‘تحریر:۔ وسیم بن اشرف

٭ دنیائے اسلام کے اس بیٹے کی داستان جسے زمانہ مدتوں یاد رکھے گا۔
٭ اس قلم کار کے حالات زندگی، جو دنیا کے نشیب و فراز پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔
٭ اس کے شعلہ فشاں قلم نے اسلام کے ہیروز کا نقشہ پیش کیا تو لاکھوں دیوانوں نے جنم لیا۔
٭ گوناں گوں خوبیوں کی مالک سحرزدہ کر دینے والی شخصیت کے روز و شب، ایک عالم اس کا دیوانہ تھا، پروانہ تھا۔
٭ موت کا فرشتہ آیا تو قلم سے ناطہ ٹوٹا، ساری زندگی اسلام اور وطن سے محبت کی جوت جگاتے قلم کے مزدور کی ان سنی اوران کہی باتیں۔ تاریخ کو دلچسپ پیرائے میں ڈھالنے، میدان ادب میں فکر کے جھنڈے گاڑنے، تاریخ کو تحقیق کے ساتھ جوڑ کر تحریر کی چاشنی سے سحرزدہ کر دینے والے تحریک پاکستان کے اہم کردار، ناول نگار، صحافی، کالم نویس، معلم کی سرگزشت۔
انڈیا کے ضلع گرداس پور کے نزدیک دھاریوال کے ایک گاؤں سوجان پور میں محکمہ ماہی پروری کے انسپکٹر چودھری محمد ابراہیم کے ہاں 19 مئی 1914ء کو بچے کی پیدائش ہوتی ہے، بچے کا نام محمد شریف رکھا جاتا ہے، وہ گھر میں تین بہنوں کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ ایک بہن تو ان کی پیدائش سے قبل ہی وفات پا گئی تھیں، وہ اکثر کہا کرتی تھیں ’’میرا بھائی آئے گا‘‘، پیدائش کے ایام میں محمد شریف کی دادی بزرگوں سے دعائیں کراتی تھیں، خیرات کیا کرتی تھیں اور ان کے خاندان کے ہر فرد کے لبوں پر یہی دعا تھی کہ اب کی بار بیٹا پیدا ہو، ان کی دادی کی یہ عادت تھی کہ وہ مکان کی چھت پر چڑھ کر مغرب کی طرف دیکھتی رہتیں اور جب تھک جاتی تھیں تو تھوڑی دیر آرام کر کے پھر چھت پر چلی جاتیں، دادی نے ہر ایک کو کہہ رکھا تھا جو مجھے خبر دے گا میں اسے بڑا خوش کروں گی، ایک دن ننھیال کے گاؤں کا ایک نائی آیا، اس نے سر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا اور کہا ’’ماں جی پوتا مبارک ہو‘‘ دادی کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ سیڑھیوں سے اترنے کی بجائے منڈیر سے لٹک کر زمین پر کود گئیں،دادی ہاتھ پاؤں کی بڑی مضبوط تھیں انہوں نے وہ کمرہ جو گڑ سے بھرا ہوا تھا کھول دیا اور آواز دی ’’لوگو! لے جاؤ، پھر جو بھی آتا حسب ضرورت گڑ لے جاتا، ان افراد میں سکھ، عیسائی سب شامل تھے۔ یوں انہوں نے گڑ کا تمام ذخیرہ بانٹ دیا، محمد شریف کے دادا کا نام میاں نور محمد تھا۔ لوگ انہیں چودھری نور محمد بھی کہتے تھے۔ ایک روز نور محمد ریلوے سٹیشن سے گزر کر گاؤں کی طرف جا رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک معزز خاتون ایک بچہ اٹھائے ہاتھ میں گٹھڑی لئے دائیں بائیں دیکھ رہی تھی، انہوں نے پوچھا ’’بہن آپ نے کہاں جانا ہے، آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے؟‘‘
خاتون نے جواب دیا ’’جی مجھے کسی نے لینے کے لئے آنا تھا، غلطی یہ ہو گئی کہ ہم نے آدمی بھیجنے کے بجائے خط بھیج دیا پتہ نہیں خط ملا بھی ہے یا نہیں؟‘‘ دادا جی نے فوراً پوچھا ’’بہن آپ فلاں گاؤں میں فلاں خاندان کی بہو تو نہیں ہیں؟‘‘ خاتون نے سکون کاسانس لیا، وہ مطمئن ہو گئی اس نے میاں نور محمد کی طرف دیکھا اور کہا ’’جی آپ بابا رحمت اﷲ کے خاندان سے تو نہیں ہیں‘‘ (رحمت اﷲ محمد شریف کے پردادا کا نام تھا)۔ ’’ہاں۔ بہن میں ان کا بڑا بیٹا ہوں، چلو آپ کو چھوڑ آتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے بچے کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور گٹھڑی ہاتھ میں پکڑ لی، خاتون اطمینان سے ان کے ساتھ چل پڑی، اس کا گاؤں نور محمد کے گاؤں سے دو میل آگے تھا، اور وہ ایک خوشحال زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، میاں جی نے مکان کے دروازے پر گٹھڑی خاتون کے ہاتھ میں دی، بچے کو اتارا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ایک روپیہ نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا، خاتون کچھ کہنا چاہتی تھی مگر میاں صاحب اسے موقع دئیے بغیر وہاں سے واپسی کو ہو لئے، ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ خاتون کے گھر سے ایک آدمی بھاگم بھاگ ان کے قریب پہنچا اور کہنے لگا ’’میاں جی! ایسے تو نہیں جانا چاہیے تھا آپ کو ہمارے گھر سے، آپ کچھ کھائے پئے بغیر ہی چلے گئے، محمد شریف کے دادا نے جواب دیا ’’بہن کو پہلے بھائی کے گھر آ کر کچھ کھانا پڑے گا‘‘۔
یہ تیسرے روز کا ذکر ہے وہ خاتون اپنی خادمہ کے ہمراہ میاں جی کے گھر پہنچ گئیں، ان کا شوہر بھی ہمراہ تھا، شوہر کو بیٹھک میں بٹھایا، خود اندر آ گئیں اور گھر کی خواتین کو کہا ’’میں میاں نور محمد کی بہن ہوں‘‘ میاں صاحب کا نام سنتے ہی تمام خواتین احتراماً ادب سے کھڑی ہو گئیں، اس دن سے محمد شریف کی چچیوں، والدہ اور دوسری خواتین کیلئے وہ پھوپھی بن چکی تھیں، ان کے لئے کھانا پکانے کے لئے ایک سکھ عورت بلائی جاتی تھی اور وہ سال میں ایک یا دو بار چند دن کے لئے ضروردادا جی کے گھر قیام کرتی تھیں، شادی بیاہ کے موقع پر تو ان کو خاص مقام حاصل ہوتا تھا۔ جب محمد شریف اس دنیا میں تشریف لائے تو وہ ان کے ہاتھوں میں سونے کے کڑے ڈال کر گئیں، محمد شریف نے ذرا ہوش سنبھالا تو لڑکے ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ایک روز انہوں نے کڑے اتروا دئیے، جب میاں نور محمد خالق حقیقی سے جا ملے تو اس کے بعد بھی پھوپھی کے ساتھ گھر والوں کے تعلقات جوں کے توں قائم رہے۔ محمد شریف کے والد محمد ابراہیم جب بھی انہیں دیکھتے تھے ادب سے سلام کرتے‘‘۔
محمد شریف ابھی بچہ تھا، وہ گھر میں بزرگوں سے کہانیاں سنا کرتا تھا، جنوں، بھوتوں، درندوں، سانپوں اور ان کا مقابلہ کرنے والے بہادر کسانوں کی کہانیاں، محمد شریف کے گاؤں میں ایک داستان گو پرچون فروش تھا، لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے اور کہانیاں سنتے، محمد شریف بھی دوسرے بچوں اور لوگوں کی طرح اس کی زبانی کہانیاں سنا کرتا تھا۔ کہانیاں عجیب و غریب قسم کی ہوتی تھیں، بعض اوقات محمد شریف کو ہنسی آ جاتی، یہ اس کا بچپن تھا۔ باپ اسے فوج میں بھرتی کرانے کی خواہش رکھتا تھا لیکن اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ انسان کچھ اور سوچ رہا ہوتا ہے جبکہ قدرت اس کے لئے کچھ اور راستوں کا تعین کر رہی ہوتی ہے۔ محمد شریف نے سکول کی سطح کی تعلیم اپنے گاؤں کے قرب و جوار کے مدرسوں میں حاصل کی، درس گاہوں میں ساتھیوں کے ہمراہ آتے جاتے وہ دوستوں کو قصے کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ یہ قصے کہانیاں اس کے اپنے ذہن کی تخلیق کردہ ہوتی تھیں۔
یہ اس کے بچپن کا دور تھا، ایک ہندو لڑکا روٹی کھا رہا تھا، اس کا ہاتھ اس لڑکے کو چھو گیا یا شائد اس کے کھانے کو لگ گیا تھا کہ اس نے روٹی کھانا ترک کر دی، کھانا پھینک دیا، شریف حیران رہ گیا کہ لڑکے کو کیا ہوا؟ حالانکہ اس نے انتہائی قیمتی لباس زیب تن کر رکھا تھا، صاف ستھرا رہنا اس کی عادت تھی، پھر ایسا کیا ہوا کہ لڑکے نے اپنا کھانا پھینک دیا، اس کا ہاتھ ہی تو چھو گیا تھا اسے، وہ اسی جستجو میں تھا کہ وجہ معلوم کرے، دوسرے روز اسے معلوم ہوا کہ چونکہ وہ مسلمان تھا اسی لئے اس ہندو لڑکے نے اس کا ہاتھ لگنے پر کھانا پھینک دیا، وہ دن اس کی شخصیت میں ایک نمایاں تبدیلی لانے کا دن تھا، اس واقعہ نے اسے اسی روز اصلی پاکستانی بنا دیا تھا، اس لڑکے کی نفرت نے اس کے اندر اسلام سے محبت کی شمع کیلئے ہوا کے تیز تھپیڑے کا کام دیا اور یہ شمع مزید فروزاں ہوگئی تھی۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ سکول میں پڑھتا تھا، وہ شاید فروری کا مہینہ تھا، شام کا وقت تھا، فضاء میں خنکی تھی، وہ موسم سے لطف اندوز ہوتا گندم کے لہلہاتے کھیتوں میں گھومتا ہوا گاؤں سے کچھ دور نکل آیا، بیری کے درختوں کے درمیان اسے زرد رنگ کی چمکتی ہوئی ایک شے نظر آئی، قریب گیا، دیکھا تو وہ بیری کا ایک چھوٹا درخت تھا، جس پر ایک زرد رنگ کی بیل نے قبضہ جما رکھا تھا، وہ درخت ہرا بھرا ہونے کے بجائے سوکھ رہا تھا تاہم زرد رنگ کے ہزاروں خوش نما ہار اس درخت کو دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جاذب نظر بنا رہے تھے، اس کی سوکھی ہوئی بدنما ٹہنیاں اس عجیب و غریب بیل نے ڈھانپ رکھی تھیں۔ اس نے ایک شاخ پر مرجھائی پتیاں دیکھیں، اس بیل کے باریک تار اس شاخ پر قبضہ جمانے کیلئے بڑھ رہے تھے، یہ بے شمار ہار اس درخت کی ضرورت سے بہت زیادہ بلکہ اس پر غیر ضروری بوجھ نظر آنے لگے، اس نے محسوس کیا کہ دوسرے درخت اپنے سرسبز لباس کی زینت کے باوجود اس زیور کے محتاج ہیں، اس نے بیل کے تاروں کا ایک گچھا اس سوکھے درخت سے کھینچ کر اتارنا چاہا، لیکن وہ باریک تار سوکھی ٹہنی سے اس مضبوطی سے چمٹے ہوئے تھے کہ وہ بھی ساتھ ہی ٹوٹ گئی، اس نے تار ایک ایک کر کے اس ٹہنی سے علیحدہ کئے اور ایک سرسبز درخت پر پھینکنے ہی والا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی، اس نے عقب میں دیکھا ایک کسان آ رہا تھا، کندھے پر کلہاڑی تھی، قریب پہنچا تو بولا ’’کیا تم چاہتے ہو کہ میرے سارے درخت سوکھ جائیں‘‘۔
’’نہیں تو‘‘ لڑکے نے گھبرا کر جواب دیا، اس نے بیل کا ٹکڑا لڑکے سے لیا اور پاؤں تلے مسل دیا۔لڑکے کو ایسی خوبصورت چیز کے بے دردی سے روندے جانے پر افسوس ہوا اور ابھی اس احمقانہ حرکت کی وجہ پوچھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ کسان خود ہی بول اٹھا۔
’’تم نہیں جانتے کہ یہ بیل درختوں کیلئے کتنی خطرناک ہے‘‘۔
’’یہ خوبصورت اور نرم و نازک شے خطرناک کیسے ہو سکتی ہے، میرے خیال میں تو یہ درختوں کو سردی اور گرمی سے بچاتی ہو گی‘‘۔ شریف بولا۔
’’یہ درختوں کی دشمن ہے‘‘ اس نے کہا، ہم اسے آکاس بیل کہتے ہیں، اس کی کوئی جڑ زمین پر نہیں ہوتی، یہ درخت کی سبز ٹہنیوں سے خوراک حاصل کرتی ہے، بہت جلد بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے، جس درخت پر اس کا قبضہ ہو جاتا ہے وہ آہستہ آہستہ سوکھ جاتا ہے۔ یہ بیل اس بے رحم راجہ کی طرح ہے جو اپنی رعایا کا خون پیتا ہے۔یہ کہہ کر کسان نے اس سوکھے درخت کو کاٹنا شروع کر دیا۔ اب اس درخت کو کاٹنے کا فائدہ؟ وہ لڑکا بولا، اسے اس آکاس بیل کیلئے رہنے دو۔
’’اگر اس درخت کو رہنے دیا تو یہ بیل پھیلتے پھیلتے دوسرے درختوں تک پہنچے گی اور وہ بھی اس کی طرح سوکھ جائیں گے، اس درخت میں ابھی تھوڑی جان باقی ہے۔ ممکن ہے نیچے سے کوئی شاخ پھوٹ نکلے، لیکن اس کے کٹ جانے پر یہ بیل خود بخود سوکھ جائے گی‘‘ کاشتکار نے تفصیل سے بتایا۔
درخت چند ضربوں سے گر پڑا، فضاء پر شام کا سکوت طاری ہو رہا تھا، پرندے کھیتوں سے اڑ اڑ کر درخت پر جمع ہو رہے تھے، وہ اس سوکھے درخت کی زندگی کے متعلق سوچتا ہوا، گھر کی طرف چل دیا۔
انہیں اپنی ماں سے بے حد محبت تھی، چاندنی راتوں میں کھیل کود میں لگا رہنے کی وجہ سے والد صاحب نے بورڈنگ ہاؤس میں داخل کرا دیا مگر اس کے باوجود صبح کا ناشتہ اور رات کو ماں کے ہاتھ کا پکا کھانا کھانے کے لئے گھر آ جاتے تھے جہاں ماں منتظر ملتی تھی۔وہ 15 برس کی عمرمیں تھے جب ماں اﷲ کو پیاری ہو گئی، ماں کے چلے جانے پر انہیں یوں محسوس ہوا جیسے ’’ایک روشنی چھن گئی ہو‘‘ وقت بہت ظالم بھی ہے اور مسیحا بھی ہے، دھیرے دھیرے انہوں نے اپنے دل کو سمجھا لیا کہ ایسا ہونا ہی تھا کہ ماں کو خالق حقیقی کے پاس جانے سے کون روک سکتا تھا۔
’’بشیرالدین مشن ہائی سکول کے کرسچیئن ہیڈ ماسٹر تھے، ذہین، بااصول اور شفیق انسان تھے، نسیم حجازی ان سے متاثر ہوئے، سکول میں انگریزی کے استاد امریکی تھے، بورڈنگ میں شام کو اسمبلی ہوتی تھی، جس میں زبور پنجابی زبان میں گائی جاتی تھی۔ نسیم حجازی نے ایک شام چند دوستوں سے مشورہ کیا اور چھت پر چڑھ گئے اور عین اس وقت اذان دینا شروع کردی جب اسمبلی ہورہی تھی، پادری بہت برہم ہوا، اور کہا یہ ایک خطرناک لڑکا ہے، مگر ہیڈ ماسٹر نے معاف کر دیا۔ میٹرک کے بعدانہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا، 1938ء میں یہاں سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ تاریخ اور کلاسک ان کے پسندیدہ مضامین تھے۔ جسٹس انوارالحق، مولانا عبدالستار نیازی اور مرحوم حمید نظامی ان کے ہمعصر تھے۔ آکاس بیل اور بیری کے درخت والے واقعہ کے کئی برس بعد جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھے۔ ایک روز اخبار کے مطالعے کے دوران ایک مضمون اس کی نظر سے گزرا، جس میں اچھوتوں یا بھارت ماتا کے سوتیلے بیٹوں کی تازہ جدوجہد کا ذکر تھا۔ مضمون کے ساتھ ہی اچھوتوں کے ایک لیڈر کا بیان شائع ہوا تھا کہ اگر ہندو سماج نے ہمارے حقوق تسلیم نہ کئے تو ہم اس کے پھندے سے آزاد ہو کر اپنے لئے کوئی اور راہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
ہندو سماج کے پھندوں سے آزادی کے تصور نے اس کے دل میں اس واقعہ کی یاد تازہ کر دی، اسے مظلوم قوم کی گزشتہ کئی صدیوں کی زندگی بیری کے اس سوکھے درخت سے مشابہ نظر آنے لگی اور ملک کے خودغرض سماج نے اس کے دل میں اس زرد رنگ کی بیل کی یاد تازہ کر دی جس نے اپنی زندگی کے سہارے کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع دینے کے بجائے نیست و نابود کر دیا تھا، اس کو ان دونوں میں فقط یہ فرق نظر آیا کہ اس بیل کو ایک درخت کی زندگی تباہ کرنے کے بعد خود بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہندو سماج کئی ہزار برس سے اچھوتوں کی سوکھی ہوئی ہڈیوں پر اپنے عشرت کدے تعمیر کر رہا تھا اور باغ وطن کے کسی مالی نے ابھی یہ تک نہ محسوس کیا تھا کہ سماج کا جو بوجھ اس قوم کے نحیف کندھوں کے لئے ناقابل برداشت ہو چکا ہے، اسے اتار ڈالا جائے۔
ایک درخت چند برس سے زیادہ ایک نرم و نازک شے کا بوجھ برداشت نہ کر سکا لیکن یہ طبقہ ایک مدت سے سماج کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا، درخت کے مقابلے میں ایک انسان کی یہ بے بسی، یہ صبر اور یہ استقلال اس کے دل پر غیر معمولی اثر کئے بغیر نہ رہ سکا، اس نے سوچا ممکن ہے اس قوم نے اپنے غیرمعمولی صبر و استقلال کے باوجود اس طویل عرصے میں ظالم سماج کے طرزعمل کے خلاف کئی بار آواز اٹھائی ہو، لیکن خشک گلے اور سوکھی زبان سے نکلی ہوئی آواز بیری کے درخت کی اس مرجھائی ہوئی ٹہنی کے خاموش احتجاج کے مشابہ ہو گی، جس پر اس نے زرد رنگ کی چند پتیاں دیکھی تھیں اور جس کی رہی سہی زندگی آزادی کی جدوجہد کے باوجودآکاس بیل کے بے پناہ ذوق و نمود کی نذر ہو رہی تھی۔
اس کا تصور ماضی کے ہزاروں نقاب الٹتا ہوا دور جا پہنچا۔ شاہراہ حیات پر ماضی کے دھندلکوں میں اسے اس بے کس قوم کی ہزاروں ایسی آہیں سنائی دیں جنہیں سماج کے ہنگامے دبا چکے تھے، اور وہ ان گنت آنسو دکھائی دئیے جو سماج کی شودر زمین میں جذب ہو چکے تھے۔ ان آہوں اور اشکوں کے بے پناہ طوفان نے اس کے سامنے چند تصاویر بنا دیں۔ یہ تصاویر ان کی زندگی میں انقلاب لانے والی تھیں۔
اسلامیہ کالج لاہور میں جب محمد شریف زیر تعلیم تھے تو کئی بار ایسا ہوا انہیں کالج خرچ کے لئے پیسے گھر سے تاخیر سے ملے، اس تاخیر سے انہیں مشکل تو ضرور پیش آتی لیکن ان کی زبان سے شکوہ یا شکایت کسی نے نہیں سنی، کبھی ماتھے پر بل نہ پڑا، یہ 1933ء اور اس کے چند برس بعد کا دور ہے، تب کالج کا ماہانہ خرچ کل 10 روپے تھا جبکہ محمد شریف 80,70 روپے خرچ کر جاتا تھا۔ انہی کے قریبی گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد شفیع جو محمد شریف کے ساتھ رہتے تھے (محمد شفیع بعد میں پاک فوج سے بطور بریگیڈیئر ریٹائر ہوئے) محمد شفیع کے مطابق شریف کو مچھلی بہت پسند تھی۔ خوش لباس تھے اور خوش خوراک بھی، گھڑسواری اور کشتی رانی کے بہت شوقین تھے۔ دوستوں کو کشتی میں سیر کرایا کرتے تھے، کالج کے قریبی ساتھیوں کے مطابق محمد شریف انہیں کھلنڈرے اور لااُبالی طبیعت کے مالک نظر آئے، محمد شریف نصابی کتب کی طرف کم توجہ دیتے، ناول پڑھنے کا بہت شوق تھا۔
کہانیوں سے ان کی دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ وہ افسانے اور ناول پڑھنے کی طرف راغب ہوئے، اسی زمانے میں ان کے ایک استاد نے انہیں ’’الفاروق‘‘ پڑھنے کیلئے دی، علامہ شبلی کی بدولت ان کے دل میں اپنی شناخت بنانے کی تڑپ پیدا ہوئی، یہ دو امنگیں تھیں ایک تو ناول نگار بننے کی خواہش اور اس کے ساتھ ہی اپنا ملی تشخص اجاگر کرنے کی تڑپ، دونوں یکساں طور پر ان کی زندگی پر اثرانداز ہو رہی تھیں، سکول کی طرح کالج کے زمانے میں بھی نصابی کتب کے بجائے افسانوی ادب میں زیادہ دلچسپی لینا اسی امر کا عکاس تھا۔
1934ء تک انہوں نے دنیا کے کئی مشہور ناول نگاروں کے شاہکار پڑھ لئے تھے۔ مرے کالج سیالکوٹ کے پروفیسر صوفی محمد اشرف سے جب ان کی ملاقات ہوتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں ’’تم کیا بننا چاہتے ہو؟‘‘محمد شریف کا جواب تھا’’میں ایک بڑا ناول نگار بننا چاہتا ہوں، اس لئے کہ میرے اندر کہانیاں جنم لیتی ہیں‘‘ پروفیسر صاحب نے انہیں دنیا کی مختلف زبانوں کے زندہ ٔ جاوید ناول نگاروں کے مطالعہ کا مشورہ دیا، چنانچہ انہوں نے ٹالسٹائی، وکٹر ہیوگو، چارلس ڈکنز، فیلڈنگ، ٹامس ہارڈی، گالز دردی اور بہت سے دوسرے ناول نگاروں کی تصانیف کھنگال ڈالیں، اور پھر انسانی تاریخ کا انتخاب کر کے اس بحر بیکراں میں وہ موتی نکال کر لائے کہ جن کی تابانی میں کبھی فرق نہیں آئے گا۔
انہوں نے ’’شودر‘‘ کے عنوان سے اپنا اولین افسانہ لکھا، یہ افسانہ لاہور کے ایک معروف دینی رسالے ’’حقیقت اسلام‘‘ میں شائع ہوا، قارئین نے اسے بہت پسند کیا، ممکن تھا کہ یہ افسانہ محمد شریف کی ادبی زندگی کا راستہ متعین کر دیتا لیکن اس دور کے سیاسی حالات اور پھر اسلامیہ کالج کا ماحول بڑی تیزی سے ان کے ذہن پر اثرانداز ہو رہے تھے، ان کے شعور میں کہانیاں جنم لینے لگیں اور اپنے اسلامی تشخص کا احساس ان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا جو ان سے کہتا تھا ’’کہ محمد شریف تم جیسے ایک ناولسٹ ہو اسی طرح سے تم ہمیشہ سے ایک پاکستانی بھی ہو‘‘ ایک تڑپ ان کے دل میں تھی کہ کسی روز مسلمان برصغیر میں اپنا نظریاتی حصار ضرور قائم کر لیں گے‘‘۔
محمد شریف کا کہنا تھا کہ زمانہ طالب علمی میں یہ تصور بھی میرے گمان میں نہ تھا کہ ہندو مجھ پر حکومت کرے گا، کانگریس اور برہمنی سیاست سے نفرت انہیں باپ دادا سے ورثہ میں ملی تھی اور یہ اس نوجوان کی خوش قسمتی تھی کہ جس عمر میں غیر مسلم اور بعض مسلمان طالب علم بھی راون اور ہنومان کے قصے سنا کرتے تھے ان کے بزرگ خالد بن ولید، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد اور محمود غزنوی کی ایمان افروز داستانیں انہیں سنایا کرتے تھے، تب اس نوجوان نے ایک طویل افسانہ ’’مجاہد‘ کے عنوان سے لکھا، ان دنوں مسلسل مطالعہ ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی اور شاید یہ اسی شوق مطالعہ کا ثمر تھا کہ ’’داستان مجاہد‘‘ لکھنے کے بعد انہوں نے محسوس کیا اس کہانی میں تو پورے ناول کا پلاٹ موجود ہے، اور اسی طرح شودر افسانے میں بھی ایک پورے ناول کا پلاٹ موجود تھا، ایک سال کالج میں چھٹیاں ہوئیں تو محمد شریف ٹرین کے ذریعے اپنے آبائی گاؤں پہنچا، اسے حیرت کا جھٹکا لگا کہ گاؤں میں تو اُلو بول رہے تھے، معلوم ہوا کہ سبھی لوگ ساتھ والے گاؤں کے مکینوں سے لڑنے گئے ہیں اور وہاں دونوں گاؤں کے افراد ڈنڈوں، لاٹھیوں سے لیس موجود ہیں، نوجوان نے فوراً گھوڑے کو لگام ڈالی اور چشم زدن میں اس کی ننگی پیٹھ پر سوار دوسرے گاؤں کی جانب بجلی کی طرح لپکا، وہاں پہنچ کر یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ دونوں گاؤں کے لوگ آمنے سامنے صف آراء تھے، جنگ کا ماحول تھا ’’خبردار!‘‘ اس کی للکار تھی کہ شیر کی دھاڑ، لاٹھیاں اور ڈنڈے فضاء میں ہی بلند رہ گئے، وہ آ گے بڑھا، دو تین کو تھپڑ مارے، اور اپنے لب و لہجے اور شیریں بیانی سے انہیں ایسا رام کیا کہ اب طرفین کے افراد کشتی لڑنے کیلئے اکھاڑے میں اتر رہے تھے، کبڈی بھی کھیلی گئی، یہ نوجوان مخالف گاؤں کی طرف سے کھیلا تھا کیونکہ وہ کمزور تھے اور یوں یہ لڑائی اس نوجوان کی فہم و فراست سے ٹل گئی‘‘۔
کالج کے ہی دور کا ایک اور واقعہ ہے ’’ منظر لاہور کے چڑیا گھر کا تھا، چیتوں کے پنجرے کے سامنے ایک لڑکا بار بار اپنا ہاتھ سلاخوں کے اندر لے جا کر چیتے کے بچے کو کچھ کھلا رہا تھا، وہیں محمد شریف بھی موجود تھا کہ اچانک چیتے کے بچے نے اس لڑکے کا ہاتھ منہ میں دبا لیا، لڑکے کی چیخیں بلند ہوئیں، محمد شریف نے ایک لمحے کیلئے کچھ سوچا پھر انتہائی پھرتی سے قریب کھڑے ایک شخص سے چھتری لی اور چھتری کا مضبوط لوہے کا راڈ اس زور سے چیتے کے بچے کو مارا کہ اس نے چشم زدن میں لڑکے کا ہاتھ چھوڑ دیا جو لہولہان ہو چکا تھا، لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں، نوجوان کی بہادری کو سراہا‘‘۔
اس نوجوان نے قریباً 23 برس کی عمر میں 1937ء میں ’’داستان مجاہد‘‘ کے عنوان سے اپنا پہلا ناول لکھنے کا فیصلہ کیا اور 1938ء میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا، (1938ء میں انہوں نے بی اے کا امتحان بھی پاس کیا) مرحوم حمید نظامی اور مولانا عبدالستار خان نیازی اور محمد شریف ایک ہی مکان میں رہائش پذیر تھے، جسٹس انوارالحق بھی ان کے ہم عصر تھے، مولانا عبدالستار نیازی وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی تصانیف میں بے حد دلچسپی لی اور ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتے۔
وہ پریشانیاں جو اکثر مصنفین کے حصے میں آتی ہیں وہ ان کے مقدر میں بھی تھیں لیکن دنیا کے کلاسیکی ادب کے مطالعہ نے ان میں یہ خوداعتمادی پیدا کر دی تھی کہ ’’اس ناول کے ساتھ ان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے‘‘ لیکن شومئی قسمت کہ یہ پریشانیاں اس ناول کی تکمیل کے بعد مزید بڑھ گئیں۔ یہ نام نہاد ’’ترقی پسند ادب‘‘ کا دور تھا۔ وہ جس مشہور پبلشر کے پاس بھی ناول کا مسودہ لیکرگئے وہ ’’داستان مجاہد‘‘ کا عنوان دیکھ کر ہی تلملا اٹھتا اور کہتا ’’جناب آپ کس زمانے کی بات کرتے ہیں؟ یہ ترقی پسند ادب کا دور ہے اور ہم صرف ترقی پسند ادیبوں کی ہی کتابیں شائع کرتے ہیں‘‘۔ پبلشرز کی یہ باتیں سن کر وہ دل میں اسی قسم کی ہنسی محسوس کرتے جو کبھی گاؤں کے دکاندار کی بے ربط کہانیاں سن کر محسوس ہوتی تھی، بہرکیف وہ اپنا مسودہ اٹھاتے اور پبلشر کو یہ ضرور کہتے کہ ’’جناب وہ دن زیادہ دور نہیں جب آنے والی ہر تصنیف میری پچھلی تخلیق سے کہیں زیادہ مقبولیت حاصل کرے گی، اور اس دن آپ اپنی اب کی گفتگو پر ضرور ندامت محسوس کریں گے‘‘۔
لیکن ان کے ان تصورات کے باوجود ’’داستان مجاہد‘‘ کا مسودہ قریباً 6 برس ان کے گلے کا ہار بنارہا،1939ء میں جنگ شروع ہو گئی تو اس ناول کے شائع ہونے کے امکانات اور بھی معدوم ہو گئے‘ پھر حالات نے کروٹ بدلی اور محمد شریف کو کراچی لے گئے، صحافت کا شوق انہیں کراچی لایا تھا۔ کراچی میں محمد شریف تین ماہ کیلئے روزنامہ ’’حیات‘‘ اور بعدازاں روزنامہ ’’زمانہ‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے، اس دور میں سید ہاشم رضا جو سیکرٹری اطلاعات تھے ان سے محمد شریف کے دوستانہ مراسم تھے اور یہ مراسم گہری دوستی میں بدل گئے۔ ان دنوں اخبارات کو حکومت ہند کی طرف سے ’’وارفنڈ‘‘ کے نام پر گرانٹ ملا کرتی تھی، اس اخبار کے حصے میں بھی 10 ہزار روپے آئے، مالکان اخبار نے نسیم حجازی کو مبارک باد پیش کی۔ دوسرے روز انہوں نے ’’وارفنڈ‘‘ پر اداریہ لکھا، جب اداریہ چھپ گیا تو ساتھ ہی اپنااستعفیٰ بھی دفتر چھوڑ آئے، وہ سمجھتے تھے جس اخبار کو حکومت کی طرف سے 10 ہزار روپے گرانٹ مل چکی ہے وہ اب کانگریسی گورنمنٹ کے خلاف تو کوئی بات نہیں لکھ سکتا، انہیں اپنے قلم کی موت نظر آ رہی تھی جسے وہ ہر قیمت پر بچانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اخبار کی ملازمت چھوڑ دی، مالکان نے منت سماجت کی مگر انہوں نے قطعی انکار کر دیا۔
کراچی کے علاقے ڈرگ روڈ پر ایک انجمن کی نگرانی میں ایک مڈل سکول چل رہا تھا، بورڈ آف گورنرز کی درخواست پر انہوںنے سکول میں انگریزی کے استاد کے طور پر پڑھانا شروع کر دیا۔ انہوں نے اس شرط پر تدریسی فرائض قبول کئے تھے کہ نظم و ضبط کے حوالے سے انہیں مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس سکول میں 3 ماہ تک انہوں نے بچوں کو پڑھایا اور ان کی تربیت کا جو سنہری موقع ہاتھ آیا تھا اس سے بھی انہوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ایک روز وہ سکول پہنچے تو گیٹ ان کے لئے بند تھا۔ انہیں وہیں پر ہی ملازمت سے برخاستگی کا پروانہ مل گیا، اس کا سبب ان کا ایک ایسا اداریہ بنا تھا جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل ایران کے بارے میں لکھا تھا۔ بچے سکول کے گیٹ کی سلاخوں سے ہاتھ نکال نکال کر ان سے مصافحہ کر رہے تھے، ان کی آنکھیں نم ہو گئیں، انہیں وہ بچے بہت یادآ رہے تھے جنہیں ان کی علیحدگی کا اس قدر رنج تھا کہ وہ رو رہے تھے۔
محمد شریف ابھی سندھ میں ہی تھے کہ ایک دلچسپ واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا۔اس کشتی میں تین ملاح تھے، ان میں سے ایک ایسا بھی تھا جس کو تمیز چھو کر بھی نہیں گزری تھی، وہ کشتی میں سوار تمام افراد سے بدسلوکی سے پیش آ رہا تھا، حالانکہ آفت کا شکار تمام لوگ ہی منہ مانگا کرایہ دے کر جا رہے تھے، یہ جولائی کے آخری ایام تھے،حبس سے سانس لینا بھی دشوار تھا اور کشتی کے سارے سوار پریشان تھے، ایک نوجوان لڑکی ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی جا رہی تھی، وہ باہر کھلی فضاء میں سانس لینے اٹھی تو ملاح نے اسے جھڑکا ’’اندر بیٹھو‘‘ دوسری سواریاں ملاح کی گرجدار آواز سے سہم گئیں لیکن سروقد، مضبوط ہاتھوں پیروں والا نوجوان محمد شریف اٹھا اور لڑکی سے کہا ’’بہن آرام سے تازہ ہوا میں سانس لے لو تاکہ تمہاری طبیعت سنبھل جائے، اور پھر اس ملاح کو ڈانٹ پلائی کہ وہ تمیز سے بات کرے، ملاح توتکار کرنے لگا تو ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے گال کو سرخ کر گیا، محمد شریف نے اس سے بانس چھینا اور گرجدار آواز میں کہا خبردار، ملاحوں میں سے کوئی بھی میرے نزدیک نہ آئے میں اکیلا ہی کشتی پار لے جاؤں گا، اور وہ کشتی کو پار لے گئے۔
یہ واقعہ ہے 1942ء کا، دریائے سندھ کا بند ٹوٹ گیا تھا، سکھر اور شکارپور کے درمیان قریباً 18 سے 20 میل کا علاقہ زیر آب آ گیا تھا۔ محمد شریف بھی دیگر متاثرین کے ساتھ محفوظ مقام پر پہنچنے کیلئے شکار پور سے اندازاً 5,4 میل آگے ایک کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ کشتی میں چند خواتین بھی سوار تھیں۔ اس واقعہ کے بعد وہ کراچی میں ہی تھے کہ میر جعفر خان جمالی نے اسرار احمد خان کو کراچی بھیجا کہ محمد شریف کو بلوچستان لے آؤ۔ انہیں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے بلایا گیا تھا۔ جمالی صاحب تو بہت کچھ پہلے ہی جانتے تھے۔ مگر انگریزی سیکھنے میں نسیم حجازی نے ان کی رہنمائی کی اور ان کے بچوں کے اتالیق رہے۔
برصغیر کی تقسیم سے قبل کا یہ وہ زمانہ تھا جب بلوچستان میں داخل ہونے والے ہر شخص کے بارے میں بڑی چھان بین کی جاتی تھی۔ ان سے بھی بڑے سوال پوچھے گئے کہ کون ہو، کہاں سے آئے ہو، کس سے ملنے جا رہے ہو؟ وغیرہ وغیرہ۔ میر جعفر اﷲ جمالی کا حوالہ دینے سے ان کو بلوچستان میںداخلے کی اجازت مل گئی۔ کچھ عرصہ بعد محمد شریف نے واپس آنا چاہا مگر جمالی صاحب سے ان کے مراسم اتنے گہرے ہو چکے تھے کہ واپسی کی اجازت نہ ملی، بلکہ بلوچستان کی مروجہ روایات کے مطابق جعفر خان جمالی نے ان کے پاؤں پکڑ لئے اور کہا ’’سائیں! اپنا فیصلہ بدل لو اور ہمیں چھوڑ کر نہ جاؤ‘‘۔وہ بھی ہٹ کے بڑے پکے تھے جب کوئی فیصلہ کر لیتے تھے تو اس کو بدلوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا تھا، مگر جمالی صاحب کی بات وہ نہ ٹال سکے اور وعدہ کیا کہ اب جب تک وہ خود نہ کہیں گے کہ ’’اب تمہاری ضرورت نہیں رہی‘‘ وہ بلوچستان سے باہر قدم نہیں رکھیں گے۔
کشتی والے واقعہ کو گزرے 5 سال ہو چلے تھے، کوئٹہ میں کچھ لوگ بڑے اشتعال انگیز نعرے لگاتے نظر آئے، یہ قیام پاکستان کے چند ماہ قبل کی بات ہے۔ پتہ چلا کہ میر جعفر خان جمالی کے بعض سیاسی حریفوں نے ایک شخص کے قتل کے واقعہ کی آڑ میں شہر میں ہنگامہ مچا رکھا ہے، ایک گھنٹہ میں شہر میں ہڑتال ہو چکی تھی، انجمن اسلامی سکول کے سامنے لوگوں کا جم غفیر تھا، وہی کشتی والا دلیرمحمد شریف اپنے گھر سے نکلا تو کچھ لوگوں نے اسے روک لیا اور کہا ’’آج تمہارے لئے گھر سے نکلنا خطرناک ہے، پارک کے جلسے میں موجود افراد اس کے خلاف بھی نعرے لگائیں گے کیونکہ وہ جعفر جمالی کا ساتھی ہے۔ نوجوان نے انہیں تسلی دی کہ اس کا وہاں موجود ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اس کے خلاف نعرے لگ رہے ہوں اور وہ وہاں موجود نہ ہو۔
وہ بھاگنے کے انداز میں مجمع کے درمیان پہنچا، اسے آتا دیکھ کر متعدد نوجوان اس کی طرف لپکے اور اسے گھیرے میں لے لیا، اس وقت لیڈر تقریر کر رہا تھا، اسے جب اس نوجوان کی آمد کی اطلاع ملی تو اس کی آواز حلق میں اٹک کر رہ گئی، اس نے بمشکل تمام جملہ مکمل کیا، لوگو! وعدہ کرو کہ تم میر جعفر جمالی کے کسی حامی یا وکالت کرنے والے کی بات نہیں سنو گے‘‘ یہ نوجوان وہاں موجود تھا اور پھر دوسرے روز اس جلسے کے حوالے ایسا مضمون لکھا کہ اشتعال پھیلانے والے کو چھپنے کی جگہ نہ مل رہی تھی۔
کراچی آنے سے قبل محمد شریف اپنے خسر مولانا غیاث الدین کا تعارفی مکتوب لیکر مولانا عبدالمجید سالک (مرحوم) کے پاس گئے، سالک صاحب نے خط پڑھا اور ان کی آنکھیں پرنم ہو گئیں، چائے منگوائی اور کچھ لکھنے میں مصروف ہو گئے، چائے پیتے پیتے انہوں نے فارسی میں چند اشعار لکھ دئیے، پھر اس پرزہ ٔ کاغذ سے اپنے پیڈ پر منتقل کرنے کے بعد محمد شریف کو دیتے ہوئے کہا ’’انہیں پڑھ لو اور مولانا تک پہنچا دو، پھر سالک صاحب کے محمد شریف کے مراسم گہرے ہوتے چلے گئے، محمد شریف نے ڈرتے ڈرتے انہیں ’’داستان مجاہد‘‘ کا مسودہ پیش کر دیا، تین روز کے بعد سالک صاحب سے ملاقات ہوتی ہے تو سالک صاحب نے ان کے ناول کی خوب تعریف کی، ان کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کئی مقامات پر بعض الفاظ کی تصحیح بھی کر دی، وہ بھی مسودہ لیکر کئی پبلشرز سے ملے لیکن کوئی بھی اسے چھاپنے کے لئے تیار نہ ہوا،انہی دنوں حفیظ جالندھری اور انارکلی کے ایک کتب فروش اور سید نذیر نیازی ایک ادارہ قائم کر رہے تھے، ایک دکان پر اس ادارے کا سائن بورڈ بھی نصب کیا جا چکا تھا، عبدالمجید سالک صاحب نے بھرپور سفارش کے ساتھ محمد شریف کی کتاب کا مسودہ انہیں پیش کر دیا، ڈاکٹر تاثیر ایک طرح سے اس ادارے کے مشیر تھے، انہوں نے ناول کا مسودہ دیکھا تو کہا ’’یہ پسند کی جانے والی چیز ہے‘‘ اور سالک صاحب نے محمد شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’’اب تم اطمینان سے بلوچستان جا سکتے ہو، جب واپس آؤ گے تو تمہاری کتاب انشاء اﷲ مارکیٹ میں آ چکی ہو گی‘‘۔
محمد شریف بلوچستان جانے سے قبل لاہور آئے اور جب اس ادارے کے سامنے انقلاب کے دفتر کے پاس سے گزر رہے تھے تو حیرت کا جھٹکا لگا، حفیظ جالندھری کے دفتر کا نام و نشان نہ تھا، سائن بورڈ غائب تھا، دکان میں کچھ ایسا سامان بھرا ہوا تھا جس کا تصنیف و تالیف سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا، وہاں موجود لوگوں کے چہرے بھی اجنبی تھے۔ انہیں یوں لگا شاید وہ جگہ اور مقام بھول گئے ہیں، جب معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہاں جو بورڈ لگے تھے وہ مالکان اتار کر لے گئے ہیں، انہیں کہا گیا کہ آپ حفیظ جالندھری سے مل لیجئے۔
حفیظ جالندھری کے بارے میں تو انہیں کچھ معلوم نہ ہوا، لیکن مسودہ ان کا وہ خزانہ تھا جس کی انہوں نے برسوں حفاظت کی تھی، وہ کسی لٹے پٹے مسافر کی مانند عبدالمجید سالک صاحب کے پاس پہنچے، سالک صاحب حسب معمول بڑے تپاک سے پیش آئے، محمد شریف کو جرأت نہ ہوئی کہ ان سے براہ راست کوئی سوال کرتے، سالک صاحب چائے کا آرڈر دے کر اپنے کام میں مصروف ہو گئے، محمد شریف اٹھ کھڑے ہوئے، عرض کیا ’’جناب مجھے اجازت دیجئے، اس وقت چائے کو جی نہیں چاہ رہا، مجھے ایک ضروری کام بھی ہے‘‘ سالک صاحب نے عینک کے اوپر سے ان کو دیکھا اور کہنے لگے ’’بھئی بیٹھ جاؤ، تھکے ہوئے ادیب کے لئے چائے سے زیادہ ضروری کام کوئی نہیں ہوتا‘‘ محمد شریف بیٹھ گئے تو سالک صاحب نے قدرے توقف سے ان کی طرف دیکھا اور چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، میز کی دراز کھولی اور مسودہ نکال کر محمد شریف کے سامنے رکھ دیا اور بولے ’’مجھے حیرت تھی کہ تم نے مجھے دیکھتے ہی شور کیوں نہیں مچایا‘‘ محمد شریف نے جواب دیا ’مولانا آپ مسودے کے مل جانے کے حوالے سے میری آخری امید تھے اور مجھے ڈرتھا کہ اگر آپ نے بھی کہہ دیا مجھے مسودے کا کچھ علم نہیں تو پھر کیا ہو گا؟‘‘ سالک صاحب مسکرانے لگے ’’بھئی مجھے احساس تھا کہ ایسی تخلیق اس کے خالق کو کتنی عزیز ہو سکتی ہے، چنانچہ میں حفیظ صاحب کی نقل مکانی کی اطلاع ملتے ہی وہاں پہنچ گیا تھا اور مسودہ لے آیا تھا۔
محمد شریف مسودہ لیکر گھر لوٹ گئے، اتفاق سے ان کے ایک دوست محمد اسماعیل جن کا خط بہت اچھا تھا وہ آئے ہوئے تھے، مسودے کی حالت خستہ ہو چکی تھی، انہوں نے ایک بار پھر اس کی اصلاح اور نقل کے لئے مسودہ محمد اسماعیل کے سپرد کر دیا، انہوں نے شب و روز کی محنت کے بعد تین ہفتوں میں سارا مسودہ نقل کردیا، محمد شریف دوبارہ مولانا سالک سے ملے، انہوں نے مشورہ دیا کہ تم شیخ محمد نصیر ہمایوں کے پاس جاؤ، اگر کاغذ کا مسئلہ حل ہو گیا تو وہ شائع کر دیں گے، میری ان سے بات ہو چکی ہے، محمد شریف قومی کتب خانہ جا پہنچے، وہاں میاں صاحب کے بڑے صاحبزادے شیخ محمد احسن موجودتھے۔ وہ اسلامیہ کالج میں ان کے ہم جماعت رہے تھے، لیکن تب محمد شریف کو معلوم نہ تھا کہ ان کا قومی کتب خانے سے کوئی تعلق ہے، انہوں نے مسودہ وہاں چھوڑ دیا۔
1943ء اور 1944ء محمد شریف کے زندگی کے اہم سال تھے، انہی دو برسوں میں انہیں اپنے خوابوں کی تعبیریں ملنا شروع ہوئیں وہ خواب جو انہوں نے کئی برس پہلے دیکھے تھے۔
ان کے لئے کاروبار کے بھی ایسے امکانات پیدا ہو گئے کہ وہ سال میں لاکھوں کما سکتے تھے لیکن انتہائی نامساعد حالات میں بھی ایک کامیاب ناول نگار بن جانے کے بارے میں ان کا ایمان متزلزل نہ ہوا تھا، پھر پاکستان کی منزل انہیں دنیا کی ہر دولت سے عزیز تھی، محمد شریف کی داستان بہت طویل ہے، انہوں نے کاروبار کا ارادہ کیوں ترک کر دیا تھا جبکہ رزق کے دروازے، ان کی خواہشات سے زیادہ کشادہ ہو چکے تھے، رازق کو شاید ان کی یہ ادا پسند آ گئی تھی کہ انہوں نے کسی اور کام سے لاکھوں کمانے کے بجائے اپنے قلم کی کمائی سے حاصل ہونے والی روکھی سوکھی روٹی کو ترجیح دی تھی۔ اسی برس بلوچستان میں تحریک پاکستان کی حمایت کے لئے میر جعفر اﷲ جمالی صاحب نے محمد شریف کی ادارت میں روزنامہ ’’تنظیم‘‘ کی اشاعت شروع کی اور شیخ محمد احسن اپنے ادارے سے ان کی تصنیف ’’داستان مجاہد‘‘ شائع کر چکے تھے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جس شخص کی ناول نگاری کا ڈنکا بجا وہ شخص اب محمد شریف نہیں بلکہ نسیم حجازی تھا، سرزمین حجاز سے والہانہ محبت و عقیدت کے باعث انہوں نے اپنا قلمی نام ’’نسیم حجازی‘‘ (حجاز کی معطر ہوا) اختیار کیا، ہر سو ’’داستان مجاہد‘‘ کے چرچے تھے۔
راقم الحروف کو یہ شرف حاصل ہے کہ 28 اپریل 1993ء کو جناب نسیم حجازی سے ایک طویل ملاقات کا شرف حاصل ہوا، یہ لمحات میری زندگی میں بڑی اہمیت کے حامل تھے، میں نے 5 گھنٹے اس عظیم ہستی کے ساتھ گزارے، ان کا کہنا تھا ’’بہتی ہوئی ندیوں کی قوت اور دلکشی کناروں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، جو موجیںٹوٹے ہوئے کناروں سے باہر نکل جاتی ہیں انہیں دلدل اور جوہڑ جذب کر لیتے ہیں، اگر میں اپنے ادب کو شفاف پانی کی ایک ندی سے تشبیہ دینے کی جسارت کر سکتا ہوں تو مجھے اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ علامہ محمد اقبال اور مولانا مودودی میرے وہ مضبوط کنارے تھے جنہوں نے مجھے آلودگی سے پاک رکھا، اور میرے بہاؤ کا رخ متعین کر دیا اور مولانا شبلی نعمانی نے مجھے تاریخ اسلام کی وہ دلکش جھلکیاں دکھائیں جن سے میری داستانیں رنگین ہوئیں‘‘۔
جس عظیم شخصیت کے بعض پہلوؤں کا تذکرہ میں نے پچھلی سطور میں کیا، اس نوجوان کی بچپن سے بڑھاپے تک کی زندگی، ایڈونچر، وطن اور اسلام سے محبت کے واقعات سے بھرپور ہے، ان کی زندگی کا ہر گوشہ قارئین کے سامنے لانا ممکن نہیں، میں دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، مجھے اس نوجوان سے عقیدت سی ہو گئی تھی، میں اس کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا، اسی جستجو نے مجھے اس شخص کی تلاش پرا ُکسایا تو میں نے انہیں ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی، وہ کہتے ہیں نہ کہ ڈھونڈنے والے کو رب بھی مل جاتا ہے، میری کوششیں بھی ثمرآور ثابت ہوئیں۔ میں نے اس عظیم انسان کا سراغ لگا لیا تھا۔ 27 اپریل 1993ء کو میں کشاں کشاں اسلام آباد پہنچا، وہاں سے فون نمبر حاصل کیا اور اس نوجوان کے گھر کال کی اورجب مجھے ملاقات کا وقت مل گیا تھا تو میری لگن، میرا شوق اور جذبہ دیدنی تھا۔ 28 اپریل کی سہ پہر میں ٹیکسی میں 33/Bسیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی جا رہا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ میرے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں، کیونکہ میں اس شخص سے ملنے جا رہا تھا جس نے ایک عالم کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا۔ میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھ رہا تھا اور ان خیالات میں گم تھا کہ ملوں گا کیسے؟ بات کہاں سے شروع کروں گا؟ کیونکہ ماضی کا وہ جوان اب جوان نہیں تھا بلکہ قریباً 79 برس کے بزرگ تھے، ڈرائیور نے مطلوبہ کوٹھی کے سامنے ٹیکسی روکی تو میں چونکا، کرایہ ادا کر کے دل کی تیز دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے ڈور بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔ ایک ملازم نے گیٹ کھولا، میں نے اسے بتایا کہ باقاعدہ ملاقات کا وقت لے رکھا ہے، آپ اندر جا کر بتائیں میاں چنوں سے وسیم بن اشرف ملاقات کا شرف چاہتے ہیں۔
کچھ ہی لمحوں بعد مجھے ایک آراستہ پیراستہ ڈرائنگ روم نما کمرے میں بٹھایا گیا۔ مجھے کمرے میں موجود ایک چیز چبھ رہی تھی کیونکہ قبل ازیں کسی ڈرائنگ یا بیڈ روم میں میں نے ایسی چیز نہیں دیکھی، کمرے کی تین دیواروں کے ساتھ زمین سے تقریباً 4 فٹ اونچے پائپ نصب تھے، اس ڈرائنگ روم نما کمرے میں (ڈرائنگ روم نما) کا الفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوںکیونکہ اس کمرے میں بیڈ بھی موجود تھا، اس کمرے کا دروازہ ایک اور اندرونی کمرے میں کھل رہا تھا۔ چند لمحات ہی گزرے ہوں گے کہ میری آنکھیں جھپکنا بھول گئیں۔ ایک طویل القامت بزرگ ایک ہاتھ میں چھڑی پکڑے دوسرے ہاتھ سے دیوار کے ساتھ نصب پائپ کا سہارا لئے، جناح کیپ پہنے دھیرے دھیرے چلتے کمرے میں داخل ہوئے، میں احتراماً اٹھ کھڑا ہوا، عقیدت سے ان سے ملا، یہ نسیم حجازی تھے، ایک عالم جن کا دلدادہ تھا، یہ وہی نوجوان تھا جس نے کشتی کو پار لگایا تھا، دو گاؤں میں لڑائی کو ختم کرایا تھا، چیتے کے منہ سے لڑکے کا ہاتھ چھڑایا تھا، کوئٹہ میں ہنگاموں کو روکا تھا، گردش ایام کو کون روک سکا ہے، وہ نوجوان اب ضعیف تھا، ہاتھوں میں ہلکی سی لرزش تھی، آنکھوں پر نفیس چشمہ تھا، چہرے پر جھریاں تو تھیں لیکن اک عزم بھی تھا، شلوار قمیض میں ملبوس تھے، جو شخص میرے سامنے تھا ہزاروں، لاکھوں اس کے دیوانے تھے۔
’’بیٹھو بیٹا‘‘ بزرگانہ شفقت سے آہستگی سے انہوں نے کہا۔ میں جو مبہوت سا کھڑا تھا،صوفہ پر بیٹھ گیا، وہ بھی بیڈ پر نیم دراز ہو گئے، انہوں نے مجھے جو مان سمان دیا میں اسے زندگی بھر نہیں بھلا سکتا، آج قریباً24 سال بعد بھی ان کی داستان رقم کرتے ہوئے مجھے اس طویل ملاقات کا لمحہ لمحہ یاد ہے، گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو وقفہ وقفہ سے 5 گھنٹے تک چلا، اس دوران انہوں نے اپنی کتاب زندگی کے بہت سے اوراق میرے سامنے وا کر دئیے۔
انہوں نے اپنی داستان جو سنائی تو میرا دل چاہ رہا تھا پاکستان کے قیام میں اس عظیم شخصیت کے کرداراور طرزعمل کے باعث ان کے ہاتھوں کو عقیدت کا بوسہ دوں، انہوں نے ذکر پھر وہیں سے چھیڑا جہاں سے محمد شریف نسیم حجازی کے طور پر جادو جگانے قوم کے سامنے آ چکے تھے۔ بتانے لگے 1946,1945 اور 1947ء میری زندگی کے مصروف ترین سال تھے۔ میرا بیشتر وقت تحریک پاکستان کے سلسلے میں صرف ہوتا، تصانیف کے لئے رات کا آرام تیاگ دیتا تھا، میر جعفر جمالی ’’تنظیم‘‘ کے سرپرست تھے اور میں سیاست میں ان کا رفیق کار تھا، میرے دوسرے مربی اور رفیق نواب محمد خان جوگیزئی تھے جنہوں نے بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کیلئے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے فرزند ارجمند جہانگیر شاہ جوگیزئی (جن کے ساتھ جناب نسیم حجازی کی دوستی 40 سال سے زائد پر محیط تھی) وہ نسیم حجازی کے ہم سفر تھے لیکن نواب زادہ صاحب اتنے زیادہ قریب ہونے کے باوجود یہ نہیں جانتے تھے کہ میں اخبار نکالنے اور تحریک پاکستان میں بھاگ دوڑ کے علاوہ بھی کوئی کام کرتا ہوں۔ یہ راز اس وقت کھلا جب وہ پولیٹکل ایجنٹ بن کر چلاس جا چکے تھے اور اس وقت تک میرے 5 ناول شائع ہو چکے تھے۔
نسیم حجازی صاحب کی سحر کردینے والی داستان جاری تھی بتانے لگے ’’انتخابات کے دوران میں نے ’’تنظیم‘‘ کی ادارت کے ساتھ ساتھ سندھ کی انتخابی مہم میں جیکب آباد میں پبلسٹی کا کام اپنے ذمہ لے لیا تھا، ساتھ ہی پنجاب کے انتخابات میں اپنے ضلع گرداس پور کا دورہ کیا، اور ایک ہی روز کئی کئی جلسوں سے خطاب کرتا، واپس آ کر میں پنجاب سے متعلق اپنے تاثرات پر مبنی جو رپورٹ قلمبند کی وہ 90 فیصد صحیح ثابت ہوئی‘‘۔
فرمانے لگے ’’میری حالت اس کسان کی سی تھی جس کی دو کھیتیاں گھر سے دو مختلف اطراف میں ہوں، جب وہ ایک کھیت کی طرف متوجہ ہوتا ہو تو اسے یہ دھڑکا لگا رہتا ہو کہ کہیں دوسری کھیتی نظرانداز نہ ہو جائے، میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے کون سی کھیتی عزیز تھی۔ ناول… جو میرے لئے اپنے ذوق کی تسکین کا باعث ہی نہ تھے بلکہ میری روٹی کے حصول کا واحد ذریعہ بھی تھے یا پاکستان… جس کے قیام کے بغیر میں ایک روز کی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، جس کے مقابلے میں مجھے اپنی ہر ذاتی خواہش ہیچ معلوم ہوتی تھی۔
فروری1947ء کے اختتام پر جعفر جمالی صاحب نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ نسیم حجازی بہت تھک گئے اور ان کی صحت بھی خراب ہو رہی ہے، تار بھیج کر انہیں کوئٹہ سے جیکب آباد بلا لیا، وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے لئے کشمور میں شکار کا انتظام کیا گیا ہے۔ دوسرے روز ڈرائیور نے انہیں کشمور لے جانا تھا۔
کئی مہینوں کے بعد پہلا موقع تھا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد انہیں آرام کا موقع ملا تھا۔ شام کو تازہ دم ہو کر اٹھے تو لکھنے کا موڈ طاری ہو گیا، لکھنے بیٹھے تو کمرہ پتنگوں سے بھر گیا، مچھر سے بڑی اور مکھی سے چھوٹی ایک سیاہ مخلوق ہے جس کے لئے جیکب آباد میں برسات کا موسم اور اس کے بعد بہار کے ایام انتہائی سازگار ہوتے ہیں، وہ ایک کرسی اور تپائی اٹھا کر چھت پر چلے گئے اور کسی قسم کی لائٹ جلانے کے بجائے چاند کی روشنی میں لکھنا شروع کر دیا۔ غالباً 12 ویں 13 ویں رات کا چاند ضوفشاں تھا۔ ان کی بینائی بہت تیز تھی، اس رات انہوں نے ’’شاہین‘‘ کا ایک باب لکھا جو اسے وہ اپنی بہترین تحریروں میں شمار کرتے ہیں۔
دوسرے روز انہوں نے کشمور جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا اور ایک رات اور چاند کی روشنی میں لکھتے رہے۔ اس کے بعد کشمور گئے اور پھر ایک ہفتہ تک کشمور کے آس پاس شکار کھیلتے رہے، پھر کوئٹہ پہنچ گئے اور پھر بلوچستان کے پاکستان سے الحاق تک انہیں ایک دن کی فرصت نہ ملی، یکم اگست سے لیکر 14 اگست تک تو یہ حالت تھی کہ ان دنوں میں ان کی رات کو آرام کرنے کی روزانہ اوسط بمشکل اڑھائی یا تین گھنٹے تھی۔ انہیں جن سازشوں کا سامنا کرنا پڑا ان کی تفصیل کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہیں۔
14 اگست کے بعد انہیں مشرقی پنجاب میں اپنے عزیز، رشتہ داروں کی کوئی خبر نہ تھی، پیغام رسانی کے تمام سلسلے منقطع ہو چکے تھے، ان حالات میں بھی ان کی سب سے بڑی تمنا یہی تھی کہ جس طرح بھی ممکن ہو سکے، ’’شاہین‘‘ چند روز میں مکمل کر لیں، اور وہ اپنی قوم کو وہ سب باتیں سمجھا سکیں جو 5 صدی قبل اندلس کے مسلمانوں کے ذہن میں نہ آ سکی تھیں۔
پنجاب اور یوپی میں مسلمانوں کی تباہ حالی کی اطلاعات سن کر کوئٹہ کے بعض افراد بھی مشتعل ہو چکے تھے اور ایک رات شہر کے مختلف علاقوں میں کبھی کبھی فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ لکھ رہے تھے اور تازہ ہوا کیلئے ایک دروازہ کھول رکھا تھا، دروازے کے سامنے اگلی گلی تک ایک چھوٹا میدان تھا، اچانک انہوں نے پستول سے فائرنگ کی آواز سنی، ٹارچ لیکر باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دوسری گلی میں ایک آدمی پڑا ہے جو شدید زخمی تھا۔ انہوں نے نبض ٹٹولی تو محسوس ہوا اسکی سانسیں رک چکی ہیں، ان کی گلی کی طرح اس گلی میں بھی مکینوں کی زیادہ تعداد ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تھی اور زخمی ہونے والا مسلمان معلوم ہوتا تھا۔ قریب ہی ایک ہجوم نعرے لگاتا آ رہا تھا۔ وہ بھاگے اور ہجوم کو روکا، جلوس کے لیڈر سے کہا ’’دیکھو! تمہاری نادانی کی وجہ سے ایک آدمی زخمی ہو گیا ہے، اسے فوراً اٹھا کر ہسپتال لے جاؤ، لوگ ان کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے چنانچہ فوراً زخمی کو اٹھا کر لے گئے‘‘۔
وہ واپس کمرے میں آئے اور پانی کے چند گھونٹ پینے کے بعد پھر لکھنے میں مصروف ہو گئے، فجر کی نماز کے بعد سو گئے، جب بیدار ہوئے تو انہیں محسوس ہوا کہ کوئی خواب دیکھا ہے، نسیم صاحب جب لکھتے تھے تو گرد و پیش سے بے خبر ہو جاتے تھے اور اپنے ناول میں گم ہو جاتے تھے۔ تاہم گزشتہ سطور میں مذکورہ واقعہ کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ وہ باہر نکلے، دوسری گلی میں پہنچے اور وہاں خون کے نشان دیکھے تو انہیں یقین آیا کہ یہ خواب نہ تھا بلکہ حقیقت تھی۔
مشرقی پنجاب میں ان کے خاندان کے 11 افراد شہید ہو گئے، انہوں نے شدت سے محسوس کیا کہ شہید ہونے والوں کے لواحقین کی دیکھ بھال ان کی اولین ذمہ داری ہے، انہیں ضلع لائل پور (فیصل آباد) میں آباد کرنے کے بعد انہوں نے دیگر عزیز رشتہ داروں کی تلاش میں جگہ جگہ کی خاک چھانی، مہاجرین نے کیمپوں میں جانا شروع کر دیا اور پنجاب کے بعد سندھ کے حالات دیکھے تو ان کے ذہن میں ایک اور ناول کا پلاٹ تیار ہو چکا تھا، لیکن ابھی بلوچستان میں ان کی ایک اہم ذمہ داری باقی تھی، وہ سمجھتے تھے کہ بلوچستان کی ریاستوں کے الحاق اور ساحلی علاقوں کو پاکستان کے لئے محفوظ بنائے بغیر برٹش بلوچستان کے الحاق کے کوئی معنی نہ تھے۔
بلوچستان کی ریاستوں کے پاکستان سے الحاق کی داستان طویل ہے بہرحال جس روز یہ ریاستیں بھی بلوچستان میں شامل ہو گئیں تو انہوں نے فیصلہ کیا اب بلوچستان میں ان کا کام پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا ہے چنانچہ کسی ایسی جگہ پر بیٹھ کر لکھنے کی ضرورت ہے جہاں انہیں کوئی نہ جانتا ہو، وہ سیاست اور صحافت سے کنارہ کش ہونا چاہتے تھے، لیکن ان کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ میر جعفر جمالی صاحب کو یہ کہہ سکیں کہ وہ انہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں، انہوں نے میر صاحب کے ایک دوست سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلہ پر جمالی صاحب سے بات کریں، ان کے یہ دوست حکیم ظہیرالحسن صاحب تھے، وہ جمالی صاحب سے ملاقات کے لئے نسیم حجازی صاحب کو ساتھ لیکر کراچی گئے۔ انہوں نے علیحدگی میں بات شروع کی تو میر صاحب نے انہیں فوراً کمرے میں بلایا اور مغموم لہجے میں بولے ’’حکیم صاحب کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت تھی، تمہارے دل کی باتیں مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا‘‘ دوسرے روز انہوں نے نمناک آنکھوں سے حجازی صاحب کو رخصت کر دیا۔
نسیم حجازی بلوچستان سے لاہور پہنچنے کے بعد شمالی علاقوں کے دورے پر نکل گئے، انہیں ایبٹ آباد پسند آگیا، یہ علاقہ گورداس پور کی طرح سرسبز و شاداب تھا اور وہاں انہیں اس قسم کے برفانی پہاڑ بھی دکھائی دیتے تھے جو وہ مشرقی پنجاب میں اپنے آبائی گھر کی چھت سے دیکھا کرتے تھے۔
ایبٹ آباد میں اقامت کے دوران چند دوستوں نے انہیں آ گھیرا اور ملک کے تیزی سے بدلتے حالات کے پیش نظر راولپنڈی سے اخبار نکالنے پر اصرار کیا۔ عنایت اﷲ مرحوم شیخ محمد احسن کی طرف سے پیغام لیکر آئے کہ اگر وہ حامی بھر لیں تو تمام اخراجات وہ برداشت کریں گے، احباب کا یہ کہہ دینا ہی ان کے لئے کافی تھا کہ ’’جہاد کشمیر میں آپ کے قلم کی ازحد ضرورت ہے‘‘۔
انہوں نے اس شرط پر حامی بھر لی کہ میں اعزازی طور پر اخبار کے نگران کی حیثیت سے تعاون کروں گا، یہ کام چونکہ خالصتاً قومی اہمیت کا حامل ہے چنانچہ کوئی معاوضہ نہیں لوں گا، نسیم حجازی صاحب کے مطابق ان کا یہ فیصلہ بھی دراصل اس وعدے کی خلاف ورزی تھی جو تحریک پاکستان والے نسیم حجازی نے بلوچستان چھوڑتے وقت ناول نگار نسیم حجازی سے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں بحیثیت ناول نگار سوچوں تو مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ یہ میری غلطی تھی لیکن جب پاکستانی کی حیثیت سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ مجھے اگر قدرت دوبارہ زندگی کا سفر کرنے کا موقع بھی دے تو میں وہی کچھ کروں گا جو میں نے اس وقت کیا تھا، میں نے اپنے اندازے کے مطابق چند ماہ یا زیادہ سے زیادہ ایک سال رضاکارانہ خدمت کے لئے وقف کیا تھا لیکن یہ کام بڑھتا چلا گیا، مجھے اس بات کا افسوس نہیں کہ روزنامہ ’’تعمیر‘‘ سے وابستگی کے بعد میں نے روزنامہ ’’کوہستان‘‘ نکال کر 14برس اورقربان کر دئیے لیکن میری ادبی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ بعض ہوشیار ساتھی میرا اور احسن صاحب کا راستہ الگ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
لکھنے، لکھوانے، مختلف زبانوں میں ناولوں کے تراجم کے دوران 1954ء میں نسیم حجازی کی کمر میں شدید درد شروع ہوا، تو انہوں نے شرف الدین اصلاحی جو ڈاکٹریٹ کر چکے تھے اور اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ریسرچ سکالر بھی رہے، ان کے رفیق کار اور معاون بن گئے، نسیم حجازی نے دو برس کے عرصہ میں بستر پر لیٹے لٹے انہیں اپنے دو ناول بول کر لکھوائے، اخبار کیلئے اداریے اور فکاہی کالم بھی ساتھ کے ساتھ لکھواتے رہے اور کبھی کبھار بعض مراسلوں کے جواب بھی انہی سے لکھواتے، 1957ء تک ان کی طبیعت قدرے بہتر ہو گئی، اسی سال انہوں نے ایک مدت کے بعد گھوڑے کی سواری شروع کر دی اور پہاڑوں پر جانے لگے، نسیم حجازی کہتے ہیں انہوں نے زندگی سے یہ سبق سیکھا کہ ایک اچھے ادیب کو ایک اچھے پبلشر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی اس بات کو ہمیشہ بڑی اہمیت دی۔ ان کی زندگی کا یہ المیہ تھا کہ 1953ء میں جب ان کی کتابوں کے کئی کئی ایڈیشن چھپ چکے تھے تو ان کے اور ان کے پبلشر احسن صاحب کے راستے الگ الگ ہو گئے۔
نسیم حجازی کو اپنے قارئین سے اس قدر خلوص، محبت اور شفقت ملی کہ جس کا انہوں نے ادبی زندگی کے ابتدائی ایام میں تصور بھی نہیں کیا تھا۔1964ء میں نسیم حجازی نے صحافت کی دنیا کو خیرآباد کہا اور اپنی تمام تر توجہ اپنے اصلی اور بنیادی کام ناول نویسی پر مرکوز کر دی۔ نسیم حجازی کے فنی سفر پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ نسیم حجازی نے اپنے ناولوں میں مسلمانوں کے عروج و زوال کے ادوار اور ان کے اسباب پر خاص روشنی ڈالی ہے، ان کے ناولوں میں آپ کو مسلم تہذیب، تمدن اور ثقافت بانہیں کھول کر ہنستی مسکراتی جبکہ دوسری جانب مسلمانوں پر آنے والے مصائب پر تاریخ آنسو بہاتے نظر آئے گی، ان تحریروں میں ادبی معیار، سلاست اور روانی اور شستگی خوب ملے گی، ان کے ناولوں میں شرم و حیا اور عفت و پاکدامنی کا تحفظ کرتی بیٹیاں آپ کو اپنی تاریخ سے محبت کرنا سکھا دیں گی اور اس پر آپ کا احساس تفاخر جاگ اٹھے گا، دین کی خاطر اسلاف کے طرز پر قربانیاں دیتے بیٹے آپ کے اَنگ اَنگ میں جوش اور جذبے بھر دیں گے، جہاں مسلم سلطنتوں میں تہذیبوں کا سنگم آپ کو خوشگوار حیرت میں ڈال دے گا تو دوسری طرف اپنوں کی ریشہ دوانیاں آپ کو خون کے آنسو رلائیں گی۔
نسیم حجازی کے ناولوں کے کردار عورتیں اور مرد ایک دوسرے کیلئے اس قدر پاکیزہ محبت کے جذبات رکھتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر فرشتے بھی رشک کریں۔ خواہ وہ ’’شاہین‘‘ کا ’’بدر بن مغیرہ‘‘ ہو یا ’’قیصرو کسریٰ‘‘ کا ’’عاصم‘‘ ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘ کا ’’انور علی ہو یا ثمینہ‘‘ ’’داستان مجاہد‘‘ کے ’’نرگس اور نعیم‘‘ ہوں یا ’’محمد بن قاسم‘‘ کے ’’ابوالحسن، خالد، سلمیٰ یا ناہید‘‘ سبھی پاکیزہ سیرت و کردار کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔
نسیم حجازی کا اصل کمال ہی یہی ہے کہ انہوں نے تاریخ جیسے خشک موضوع کی جانب عام طبقے اور بالخصوص طلباء کو مائل کیا، چونکہ تاریخ پڑھنا اور سمجھنا اتنا آسان نہیں ہوتا، اس لئے اگر تاریخ کو واقعاتی یا محاکاتی طرز پر پڑھ لیا جائے تو گنجلک پس منظر کو سمجھنے میں بڑی معاونت ہوتی ہے، نسیم حجازی کا یہی سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے اہم ترین ابطال جلیلہ کی زندگیوں اور مسلم اُمہ کے عروج و زوال کے مختلف ادوار کو آسان انداز میں جو داستانی پیرائیہ دیا، اس سے اس دور کے حالات و واقعات کو پڑھنا اور سمجھنا بے حد سہل ہو گیا۔
ناول نگار اور صحافی کے علاوہ بھی نسیم حجازی میں بہت گن تھے، تبھی تو سبھی ان کے گن گاتے تھے، ان کی زندگی کے بے شمار گوشے ایسے ہیں جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں اور ضبط تحریر میں بھی نہیں لائے گئے، وہ ہواؤں کے رخ اور بادلوں کی حرکت سے بارش کا اندازہ لگا لیتے تھے، سیاسی فضاء سے مستقبل قریب یا بعید کے کسی انقلاب کی خبر انہیں ہو جاتی تھی، کوئی ان سے اپنی بیماری کا ذکر کرتا تو ایسی ادویات تجویز کرتے کہ پوچھنے کو جی چاہے گا’’حضور آپ ڈاکٹر بھی ہیں‘‘۔
ہمارے ہاں ناول نگار اکثر اپنے ناولوں یا کہانیوں میں ایسے ممالک کا بھی ذکر کر جاتے ہیں جنہیں انہوں نے دیکھا تک نہیں ہوتا، لیکن نسیم حجازی کے ہاں یہ بات نہیں ان کا قاری ہمیشہ یہی محسوس کرتا ہے کہ جیسے ان کا محبوب ناول نگار، ان کی انگلی تھامے نگر نگر کی سیر کرا رہا ہے۔ ناول شاہین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میری عمر قرطبہ، اشبیلیہ اور اندلس کے دریاؤں، سمندروں، پہاڑوں اور میدانوں میں گزری ہے، ’’قیصر و کسریٰ‘‘ کا ذکر آیا تو کہنے لگے اس ناول کا ایک ہی باب لکھنے کے بعد خیال آیا کہ جو مقامات دیکھے ہی نہیں تو ان کا ذکر بھی نامکمل رہے گا، یہ خیال آنا تھا کہ انہوں نے کہانی روک دی، اور پھر ایک شب خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ ’’وہ اپنے آبائی علاقے میں ہیں اور گھوڑے پر اپنے ایک استاد محترم سے ملنے ان کے گاؤں گئے ہیں۔ استاد محترم نے بتایا کہ ’’حضور نبی اکرمؐ ایک جگہ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمانے والے ہیں‘‘ حجازی صاحب استاد محترم سے کہتے ہیں جانا تو مجھے کہیں اور تھا، لیکن چلیں اتنی بڑی سعادت سے محروم کیوں رہیں، پہلے خطبہ سننے کا شرف حاصل کرتے ہیں‘‘ آپ ؐ تشریف نہیں لائے تھے، ایک کھیت تھا جس میں تازہ تازہ کسی نے ہل چلایا تھا، وہ تنہا وہاں بیٹھے رہے، پھر ان کی آنکھ کھل گئی۔ اس خواب کو دیکھے ہوئے کچھ ہی روز گزرے ہوں گے کہ صدر جنرل ایوب خان کی طرف سے ایک خط انہیں ملا، خط میں تحریر تھا وہ ترکی اور ایران کے دورے پر ان صحافیوں کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں، جو اپنے اخراجات خودبرداشت کر سکتے ہوں، نسیم حجازی صاحب نے فوری حامی بھر لی اور رخت سفر باندھنا شروع کر دیا۔ دل میں فیصلہ کیا کہ ترکی سے عمرے کی سعادت حاصل کرنے چلا جاؤں گا، انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ بلاوا شاہ یثربؐ کی طرف سے آیا ہے۔
ایران پہنچے تو دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ روضہ رسولؐ پر حاضری دینے جا رہا ہوں، راستے میں عاشقان رسولؐ سے بھی ملتا جاؤں، چنانچہ حضرت شیخ سعدی، حضرت ایوب انصاری اور مولانا رومی کے مزارات پر حاضری دی، انقرہ میں قیام کے دوران قدرت اﷲ شہاب اور چند دوسرے صحافی بذریعہ جہاز مولانا رومی کے مزارپر حاضری کے لئے آگئے تھے، نسیم حجازی کو جب یہ معلوم ہوا تو انہیںدکھ ہوا کہ معلوم نہیں اب وہ جا سکیں گے یا نہیں، اسی شب ایک شخص جہاں وہ ٹھہرے تھے اس کمرے کے دروازے پر دستک دیتا ہے اور پوچھتا ہے ’’کیا آپ واقعی مولانا رو م کے مزار پر حاضری دینا چاہتے ہیں؟‘‘ آپ نے کہا میں تو ابھی چلنے کو تیار ہوں، وہ شخص یہ کہہ کر چلا گیا کہ صبح انہیں ساتھ لے جائے گا، دوسرے روز نسیم صاحب اور مولوی سعید کار میں اڑھائی تین سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے قونیہ پہنچے جہاں مولانا روم کا مزار مرجع خاص و عام بنا ہوا تھا۔ انقرہ سے استنبول پہنچے تو بتانے لگے مجھے اپنے ناول کیلئے کچھ ایسے کرداروں کے مزارات کی ضرورت تھی جو قدیم استنبول میں ملنے چاہئیں تھے۔ ایک جگہ ٹوٹی دیوار دیکھ کر رُک گئے اور وہاں موجود چند لوگوں کی اجازت سے اس دیوار پر چڑھ گئے انہیں سامنے مسجد اور چند قبریں دکھائی دیں جو ہوبہو وہی تھیں جنہیں وہ عالم خواب میں دیکھ چکے تھے، ان میں ایک قبر سلطان سلیمان کی دختر مہروماہ کی تھی۔ استنبول سے براستہ بیروت انہیں جدہ پہنچنا تھا۔
آپ جب سعودیہ گئے اور خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو باران رحمت سے ان کا احرام بھیگ گیا، انہوں نے اپنا نیا قلم جسے پہلے آب زم زم میں ڈبویا تھا،میزان رحمت کی دھار کے نیچے رکھ دیا، اس قلم سے انہوں نے ناول ’’قیصر و کسریٰ‘‘ مکمل کیا۔
اس سے قبل انہوں نے مکہ آتے ہوئے راستے میں چٹیل پہاڑیاں دیکھیں، ہر پہاڑی اپنی اپنی جگہ پر علیحدہ علیحدہ ایستادہ تھی، جنہیں دیکھ کر ان کے ذہن میں عرب کا سارا قبائلی نظام گھوم گیا۔ عرب قبائل بھی ان پہاڑیوں کی طرح جداگانہ حیثیت کے مالک تھے۔ پھر آپ مدینہ منورہ پہنچے اور وہ باغ دیکھا جس میں تازہ تازہ ہل چلایا گیا تھا تو انہیں وہ خواب یاد آ گیا۔ یہاں نسیم حجازی کو گلاب کے پھول پیش کئے گئے جن کی پتیاں انہوں نے پاکستان واپسی پر احباب میں تقسیم کر دی تھیں۔ استنبول میں حضرت ابوایوب انصاری کے روضہ پر بیٹھے تھے کہ ایک روز تین پتے ان کی گود میں آ گرے، آپ نے انہیں حفاظت سے جیب میں رکھ لیا اور ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے دوستوں میں تبرک کے طورپر تقسیم کئے۔
نسیم حجازی صاحب کی ناول نگاری کی ابتداء ان کے مشہور ناول ’’انسان اور دیوتا سے ہوئی جو تقریباً مکمل ہو چکا تھا اسی وقت خیال آیا کیوں نہ پہلے ’’داستان مجاہد‘‘ منظرعام پر آئے کہ وقت کا تقاضا یہی تھا، چنانچہ آپ کا پہلا ناول جو زیور طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچا وہ ’’داستان مجاہد‘‘ ہی تھاپھر ’’محمد بن قاسم‘‘ شائع ہوا، اس کے بعد ’’انسان اور دیوتا‘‘ یہ وہ زمانہ تھا جب نسیم حجازی ایک عجیب اضطراری کیفیت سے گزر رہے تھے، انہیں بار بار یہ خیال ستا رہا تھا کہ تاریخ کا ایک پہلو ابھی تک ان کے قلم کی زد میں نہیں آیا جس پر انہیں ضرور ناول لکھنا چاہیے تھا۔ اس دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ ’’کیچڑ کا ایک سیلاب ہے مگر جہاں وہ کھڑے تھے وہاں صاف اور شفاف پانی بہہ رہا تھا‘ جو پینے میں بہت میٹھا اور خوش ذائقہ تھا‘ انہیں کسی بزرگ نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ جو تصنیف آپ کے ذہن میں ہے اس کو لکھ لیں، ناول کی پوری کہانی ذہن میں آ چکی تھی اور جب یہ ناول مکمل ہوا تو ’’آخری چٹان‘‘ کے نام سے چھپا۔
’’آخری چٹان‘‘ جیسی معرکتہ الآرا تصنیف کے بعد ان کی طبیعت ہلکی پھلکی تحریروں کی طرف مائل ہوئی تو ان کی کتاب ’’سو سال بعد‘‘ منظرعام پر آ گئی، یہ وہ دور تھا جب یہ خطہ زمین غرناطہ بنا ہوا تھا اور قوم کو کسی حوصلہ افزا پیغام کی اشد ضرورت تھی۔ چنانچہ حجازی صاحب کا قلم پھر حرکت میں آیا اور ’’شاہین‘‘ جیسا بہترین ناول قارئین تک پہنچا، ترقی پسندوں کے عزائم بھی خاک میں مل چکے تھے۔ انہیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ نسیم حجازی کا راستہ روکنا ان کے بس میں نہیں۔ بلوچستان سے ایبٹ آباد منتقل ہو گئے۔ اس وقت ’’خاک اور خون‘‘ کا نصف حصہ لکھا جا چکا تھا، پھر ’’یوسف بن تاشقین‘‘ لکھا، یوسف بن تاشقین سے نسیم حجازی صاحب کی عالم خواب میں ملاقات بھی ہوئی۔
پھر نسیم حجازی مشرق وسطیٰ اور یورپ و امریکہ کے دورے پر نکلتے ہیں، ’’ہالی ووڈ‘‘ والوں نے ان کے ناول ’’محمد بن قاسم‘‘ پر فلم بنانے کی پیشکش کی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔ ان کے سامنے ایک اور بڑا چیلنج تھا۔ وہ سلطان محمود غزنوی پر ایک بہترین ناول لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس عظیم سلطان کی 18 سال کی کہانی لکھنے کی تڑپ نے انہیں امریکہ میں مزید قیام کا موقع نہ دیا۔ وہ پیرس میں تھے کہ انہیں خبر ملی کہ لیاقت علی خان کوشہید کر دیا گیا ہے۔ وہ پریشان ہو گئے اور پہلی پرواز سے پاکستان پہنچے۔ اب جو ناول منظرعام پر آیا وہ ’’آخری معرکہ‘‘ تھا اور اس کے ساتھ ہی ایک اور کتاب ’’ثقافت کی تلاش‘‘ شائع ہوئی، پھر ’’معظم علی‘‘ اوراس کے بعد ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘ جیسے خوبصورت ناول لکھے۔
ناول نگاری کے اس طویل سفر میں نسیم حجازی صاحب جب یہاں پہنچے تو انہوں نے ’’قیصر و کسریٰ‘‘ لکھا، اس تصنیف سے ایوان ناول نگاری جگمگا اٹھا، نسیم حجازی فرماتے ہیں پورے 40 سال تک وہ کوشش کرتے رہے کہ یہ ناول شروع کریں لیکن طبیعت مائل نہیں ہوتی تھی۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس موضوع پر ناول کیسے لکھیں گے، ایک روز ایسا بھی آیا کہ حسب معمول وہ ایک ایسی کیفیت سے گزرے جس کے بعد ’’قیصر و کسریٰ‘‘ کی کہانی کا مکمل خاکہ ان کے ذہن میں بن چکا تھا۔
اس کے بعد ’’قافلہ حجاز‘‘ لکھا جس میں ’’حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی ؓ کے عہد خلافت کے واقعات قلمبند کئے، اب ایک ایسے ناول کی کہانی مکمل ہو رہی تھی جسے لکھ کر ایک طرح سے جناب نسیم حجازی نے پھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیا تھا اور پبلشرز کی ہمت اور حوصلے کی بھی داد دینی چاہیے کہ جس نے بھٹو دور میں یہ ناول چھاپ دیا۔ اس ناول کا نام ’’اندھیری رات کے مسافر‘‘ تھا۔ (مصنف نے یہی ناول اپنے آٹوگراف کے ساتھ راقم الحروف کو تحفہ میں دیا تھا) سقوط ڈھاکہ کی خبر ان پر بجلی بن کر گری تھی، ان کا کہنا تھا ’’سقوط ڈھاکہ کی خبر سن کر کچھ دیر کیلئے میری زبان اور قلب و ذہن پتھرا گئے تھے، پھر آنکھوں کی پتلیوں نے حرکت کی اور آنسوؤں کا ایک سمندر سمٹ کر خشک ہو گیا تھا، صرف اس قدر پانی بچا تھا کہ جس سے میری پلکیں بھیگ گئی تھیں، میں نے ہوش و حواس کو مجتمع کیا اور ’’اندھیری رات کے مسافر‘‘ لکھنے کا عزم لیکر کاغذ قلم سنبھال لئے‘‘۔
نسیم حجازی کے ناولوں میں ان کی آخری تصنیف ’’کلیسا اور آگ‘‘ تھی جو 1976ء میں شائع ہوئی، سپین پر بہت کچھ لکھا جا چکا تھا لیکن سقوط غرناطہ کے بعد یہاں کیا ہوا؟ اس پر کسی نے قلم نہ اٹھایا تو انہوں نے اس شہرہ ٔ آفاق ناول میں وہ ہزاروں ’’کربلائیں‘‘ جمع کر دیں جن سے یہاں کے مسلمان گزر رہے تھے، 20,10 سال نہیں بلکہ پوری ایک صدی تک لوگوں کو زندہ جلایا جاتا رہا۔
سپین جانے کے لئے نسیم حجازی بہت بے چین رہتے تھے، بتاتے ہیں کہ ’’مجھے یہ خیال بار بار پریشان کر رہا تھا کہ وہاں پہنچ کر زندہ کیسے رہوں گا، اس لئے کہ وہاں تو آج بھی قدم قدم پر خون مسلم کے چھینٹے نظر آئیں گے‘‘۔
1965ء میں ’’پورس کے ہاتھی‘‘ کے نام سے ناول لکھا، جس میں جنگ پرطنز کیا گیا تھا، اسے مفت تقسیم کیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں مختلف محاذوں پر جانے کا اتفاق ہوا، اور اسی دوران ہی یہ کتاب مکمل ہوئی، جناب حجازی زیادہ تر بیٹری کی روشنی میں بیٹھ کر لکھا کرتے تھے۔
نسیم حجازی کی سادگی اور درویشی ملنے والوں کو بہت متاثر کرتی تھی۔ دور سے دیکھیں تو سنجیدگی کی دبیز چادر اوڑھے کسی فکر میں غلطاں دنیا و مافیہا سے بے خبر مگر قریب جائیں تو معلوم ہو گا کہ ملنے والوں کیلئے ان کی حس مزاح وقفے وقفے کے بعد ضیافت طبع کا سامان مہیا کرتی ہے، ملنے والوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتے مگر خود کھلکھلا کر بہت کم ہنستے تھے۔
نسیم حجازی کے ناولوں پر ڈرامے بنے، فلمیں بنائی گئیں، ’’خاک اور خون‘‘ ناول پر فلمائی گئی فلم بہت مقبول ہوئی۔ ان کے ناولوں کے کئی زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے، نسیم حجازی اپنے آخری ایام میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کی خواہش پر سیاچن کے محاذ پر افواج کی جانبازی کے پس منظر میں ناول لکھ رہے تھے مگر شدید علالت کے باعث مکمل نہ کر سکے، جب میں 1993ء میں ان سے ملاتھا تو تب بھی وہ کافی علیل تھے۔
قارئین کو جناب نسیم حجازی کی زندگی کے ہر پہلو سے روشناس کرانا اگرچہ ممکن ہے لیکن اس فورم پر مشکل ہے لہٰذادلچسپی طبع کی خاطر چند واقعات کا ذکر نہ کیا جائے تو ان کی زندگی کے کچھ گوشے پوشیدہ ہی رہ جائیں گے، ڈاکٹر ایم ایس زمان نے اپنے مضمون میں نسیم حجازی کے ایک پالتو ریچھ کا ذکر کیا ہے، بیگم نسیم حجازی بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر ایک معمہ ہیں، اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی، ان کے ایک دوست راجہ ذوق اختر سواتی ریچھ کا ایک بچہ لے آئے اور نسیم صاحب نے اسے اپنے پاس رکھ لیا، میں نے کافی احتجاج کیا لیکن انہوں نے فرمایا ’’بیگم! اس کے بہت سے فائدے ہیں آپ کومعلوم ہے جو لوگ ایبٹ آباد سیر کے لئے آتے ہیں، ان میں سے کئی لوگ انہیں دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک ادیب اور مصنف بڑا مصروف ہوتا ہے، اسے وقت بے وقت پریشان نہیں کرنا چاہیے، یہ ریچھ ان کا راستہ روکے گا، اسی دوست نے ایک کتا بھی پیش کر دیا، نسیم صاحب نے ریچھ اور کتے کو ایک ہی زنجیر سے باندھ دیا اور پھر نہ کتا کتا رہا اور نہ ہی ریچھ ریچھ، نسیم صاحب اور بچے سیر کیلئے جاتے تو ریچھ کو کھلا چھوڑ دیا جاتا، کتے کی طرح یہ ریچھ بھی ان کے پیچھے پیچھے جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ ایم اسلم مرحوم ہمارے گھر آئے، وہ نسیم صاحب کے ساتھ مردانہ میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ریچھ بیٹھک میں جا پہنچا اور حسب عادت اس نے نسیم صاحب سے معانقہ کیا اور پھر اسلم صاحب سے لپٹ گیا، نسیم صاحب نے اسے کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا۔اسے ہماری خوش قسمتی سمجھیے کہ ہماری بیٹھک ذرا سی تاریک تھی اور ایم اسلم صاحب یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ ایک ریچھ سے گلے ملے ہیں، انہوں نے صرف اتنا فرمایا ’’یار یہ کتا بڑا ہیبت ناک ہے‘‘، کسی بچے نے دروازے کے پیچھے سے کہا ’’یہ کتا نہیں ریچھ تھا‘‘ تو ایم اسلم صاحب گھبرا گئے اور جب وہ رخصت ہونے لگے تو کہا ’’نسیم صاحب ریچھ رکھنے کی کیاضرورت ہے اپنے دروازے پر‘‘ ’’خطرہ Danger ‘‘کی تختی کیوں نہیں لگا دیتے‘‘۔
بیگم نسیم فرماتی ہیں کہ ان کے شوہر اس دن بہت خوش تھے جس روز ان کا بیٹا خالد پیدا ہوا، وہ مغرب کی نماز کے بعد دعا مانگ رہے تھے کہ میرے چھوٹے بھائی نے انہیں بچے کی پیدائش کی خوشخبری سنائی، یہ سنتے ہی وہ سجدہ ریز ہو گئے۔
منجھلے بیٹے جاوید نسیم کی وفات ہماری زندگی کا سب سے المناک حادثہ ہے، یہ عجیب بات ہے کہ نسیم صاحب اس کے بارے میں بے حد فکرمند رہا کرتے تھے، جب جاوید نسیم غرق آب ہوا تو 19برس کا تھا، پہلے دن اس کی لاش نہ ملی، رات بھر متعدد افراد جوہڑ کے اردگرد بیٹھے رہے، کئی افراد نے لاش کی تلاش میں غوطے بھی لگائے، نسیم صاحب کو اس بات کی فکر تھی کہ کوئی غوطہ لگانے والا ڈوب نہ جائے، اگلے روز فوج کی جانب سے ٹرک پر ایک کشتی بھیجی گئی اور کمانڈر ان چیف جنرل محمد موسیٰ نے حکم دیا کہ اگر لاش جلدی نہ ملے تو پمپ لگا کر جوہڑ خالی کر دیا جائے۔ فوجیوں نے کشتی اتاری اور کھینچنے والے کا انتظار کرنے لگے، نسیم صاحب آگے بڑھے اور کشتی کے چپو سنبھالتے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے، تم میں سے دو اچھے تیراک میرے ساتھ آ جائیں، دو کے بجائے چار افراد آگے بڑھے اور نسیم حجازی صاحب کے ساتھ کشتی میں بیٹھ گئے۔ یہ واقعہ بڑا رقت آمیز ہے جو خواتین وہاں موجود تھیں ان کی چیخیں نکل گئیں۔ نسیم صاحب نے دو تین مقامات پر کشتی روکی اور پھر ایک جگہ گہرے پانی میں غوطہ خور کود پڑے، تھوڑی دیر بعد بیٹے کی لاش مل گئی، اور جب تک وہ اسے سپرد خاک کر کے واپس نہیں آ گئے کسی نے انہیں روتے ہوئے نہیں دیکھا، دوست احباب انہیں تسلیاں دے رہے تھے کہ ان کا حوصلہ جواب دے گیا اور وہ سسکیاں لیتے اپنے کمرے میں چلے گئے، تھوڑی دیر بعد کسی نے دروازہ کھولا تو وہ جائے نماز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جاوید نسیم کی وفات کے بعد میری صحت ٹھیک نہ ہو سکی، اور مجھے معلوم تھا کہ نسیم صاحب اسے کتنا عزیز رکھتے تھے۔ انہوں نے کسی پر اپنا دکھ درد ظاہر نہ ہونے دیا۔
یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی کا حامل ہو گا کہ نسیم حجازی نے لڑکپن میں گدھے، گھوڑے، اونٹ، بیل کی سواری کی۔ گھوڑے کی سواری کا شوق تو 1965-66 تک رہا، انہوں نے گھوڑوں کے بہت قصے سنائے، بتانے لگے ایک بار تیز بخار کی حالت میں گھوڑی پر گاؤں آ رہا تھا کہ راستے میں بار بار نہر کے پانی سے منہ ہاتھ دھو کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتا، ایک جگہ میں لیٹ گیا، اورگھوڑی کو آزاد چھوڑ دیا، لیکن وہ بار بار ان کے کان کے قریب آ کر سونگھتی پھر چلی جاتی، اگر کوئی ان کے قریب آنے کی کوشش کرتا تو اگلے دونوں پاؤں اٹھا لیتی اور یوں ان کی حفاظت کرتی تھی، نسیم حجازی نے بتایا جب وہ کراچی چلے گئے تو ان کی سوتیلی ماں نے وہ گھوڑی بیچ دی، جس کا انہیں شدید رنج پہنچا، خریدار کو بہت تلاش کیا مگر بے سود۔
نسیم صاحب کا بتانا تھا کہ جب ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی حوصلہ شکن خبر سنی جس کا یحییٰ خان نے اعلان کیا تھا تو میں ’’اندھیری رات کے مسافر‘‘ لکھ رہا تھا۔ میرے ہاتھ سے قلم گر پڑا اور تقریباً 3 ماہ تک میرا دایاں ہاتھ ناکارہ رہا، بقول محترم نسیم حجازی کہ میری کہانی میںاس چھوٹی سی بات کا ذکر بے محل نہ ہو گا۔ ’’1942ء میں جھٹ پٹ کے علاقے میں سیلاب آیا ہوا تھا۔ اور کیچڑ میں کاروں کا چلنا ناممکن تھا، ہمیں بیل گاڑیوں کا انتظام کرنا پڑا پھر بھی راستے میں ایسے مقامات آ جاتے تھے کہ جوتے اتار کر پانی میں چلنا پڑتا تھا۔ ایک کھائی ایسی آئی کہ صرف میں نے محسوس کیا تھا کہ میں اسے پھلانگ سکتا ہوں، جب میں اپنے ساتھیوں کی توقع کے برخلاف چھلانگ لگا کر دوسرے کنارے چلا گیا تو ایک بوڑھے بلوچ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ’’نسیم صاحب! اب آپ کی عمر کیا ہے؟ ’’28 سال‘‘ میں نے جواب دیا تو بوڑھے بلوچ نے کہا کہ ’’بس سائیں اب اس سے بڑی چھلانگ تم نہیں لگا سکو گے، اب جو قدم اٹھے گا وہ آگے کی طرف نہیں پیچھے کی طرف اٹھے گا‘‘۔
یہ باصلاحیت شخص حضرت اقبال ؒ کی طرح اس کشت ویراں سے مایوس نہیں تھا، محترم حجازی کی تحریر سے قوت، ہمت و حوصلے اور امید کے چشمے ابلتے تھے۔ آپ کی داستانوں میں شامل تقریریں نوجوانوں کا خون گرما دیتی ہیں، انہی ناولوں نے ایسی مائیں پیدا کی ہیں جن کی گود میں خالد، طارق، محمد بن قاسم اور ٹیپو سلطان جیسے مجاہدین اسلام کی صفات لے کر نکلنے والے بچے پرورش پاتے ہیں۔
نسیم حجازی نے تاریخ کو ہمارے لئے کیسے آسان بنایا؟ اگر آپ مسلم دور کی اہم فتوحات کے بارے میں جاننا چاہیں تو ’’داستانِ مجاہد‘‘ پڑھ لیجئے۔ جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کے ابتدائی دور کا جائزہ لینا چاہیں تو ’’قیصر و کسریٰ‘‘ کی ورق گردانی کر لیجئے، خلافت راشدہ کا دور دیکھنا چاہیں تو ’’قافلہ حجاز‘‘ کا مطالعہ کیجئے، اندلس میں مسلمانوں کے عظیم الشان دور اور وہاں سے انخلاء اور سقوط غرناطہ کا کرب جاننا چاہیں تو ’’شاہین‘‘ اٹھا لیجئے، اسی طرح ’’اندھیری رات کے مسافر‘‘ اور ’’کلیسا اور آگ‘‘ میں اسپین کی گلیاں آج بھی اس عظیم دور کی راہ تکتی نظر آئیں گی، فتح بیت المقدس اور سقوط بغداد کیلئے ’’آخری چٹان‘‘ پر نظر ڈال لیجئے، ہندوؤں کے ہاں ذات پات کی تقسیم کے پس منظر میں قدیم ہندوستان کی جھلکیاں دیکھنا چاہیں تو ’’انسان اور دیوتا‘‘ میں آپ کو تاریخ اور تہذیب دونوں نوحہ کناں نظر آئیں گی۔ قیام پاکستان سے قبل برصغیر متحدہ ہندوستان کی تاریخ، تہذیب اور حالات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ’’پردیسی درخت‘‘، ’’گمشدہ قافلے‘‘ اور ’’خاک و خون‘‘ سے بہتر کوئی چیز نہیں، جس میں آپ کو اس دور کی اتنی ہی بہترین عکاسی ملے گی، یہی نہیں! بلکہ نسیم حجازی نے چند اہم مسلم شخصیات پر بھی خوب خامہ فرسائی کی، انہوں نے تاریخ اسلام کے کم عمر ترین سپہ سالار ’’محمد بن قاسم‘‘ پر ، ’’محمودغزنوی پر‘‘ آخری معرکہ ’’شہید ٹیپو سلطان کی دلیرانہ زندگی پر ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘ جبکہ ان کے والد حیدر علی پر ’’معظم علی‘‘ جیسے ناول لکھ کر ان شخصیات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
نسیم حجازی ہماری تاریخ کا ایک بھولا بسرا کردار ہے، جس کو ہم نے فراموش کر دیا، مگر آپ میری اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ انہوں نے ہمیں بھولا بھٹکا رستہ دکھایا، بھولا ہوا سبق یاد دلایا، گم گشتہ شناخت یاد دلائی لیکن یہ کتنا عجیب ہے کہ ہم خود اس شخص کو بھلا بیٹھے۔
نسیم حجازی نے اپنی کتاب ’’سفید جزیرہ‘‘ سکندر مرزا کو پیش نظر رکھ کر لکھی تھی۔ کتاب کا مسودہ تیار ہوا تو سکندر مرزا کو ’’دیس نکالا‘‘ دیاجا چکا تھا تاہم نسیم حجازی نے اپنی محنت رائیگاں نہ جانے دی۔ انہوں نے مناسب ردوبدل کر کے کتاب شائع کر دی جو انہوں نے دو کرداروں کے نام کی۔ کتاب افسانوی خصائص سے معمور ہے تاہم اس کا پیش لفظ یکتا و نادر دیباچہ ملاحظہ فرمائیے۔ ’’ایک درویش اور اس کا کم سن چیلا شہر سے دور کسی جنگل میں رہتے تھے۔ درویش عام طور پر یاد خدا میں مصروف رہتا تھا اور چیلاآس پاس کی بستیوں سے بھیک مانگ کر اس کی خدمت کیا کرتا تھا۔ درویش صبح شام انتہائی سوز و گداز کے ساتھ یہ دعا کیا کرتا تھا۔’’میرے پروردگار! میں ایک بے بس اور بے وسیلہ انسان ہوں اور تیرے بندوں کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر تو مجھے بادشاہ بنا دے تو میری زندگی کا ہر سانس بھوکے اور ننگے انسانوں کی خدمت کے لئے وقف ہو گا۔ میں یتیموں، بیواؤں اور نادار لوگوں کی سرپرستی کروں گا۔ میں محتاجوں کے لئے لنگرخانے کھولوں گا۔میں عدل و انصاف کا بول بالا کروں گا۔ راشی اور بددیانت اہلکاروں کو عبرتناک سزائیں دوں گا۔ مظلوم مجھے اپنی ڈھال سمجھیں گے اور ظالم میرے نام سے کانپیں گے۔ میں فحاشی اور بے حیائی کی لعنتوں کا خاتمہ کر دوں گا۔ نیکی اور بھلائی کو پروان چڑھاؤں گا۔ میں قمار بازی کے اڈے اٹھوادوں گا اور عبادت گاہیں اور مدرسے تعمیر کروں گا‘‘۔
کم سن چیلے کو یہ یقین تھا کہ کسی دن مرشد کی دعا ضرور سنی جائے گی… لیکن وقت گزرتا گیا۔ چیلا جوان ہو گیا اور نیک دل درویش میں بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ چیلے کے اعتقاد میں فرق آنے لگا۔ یہاں تک کہ جب درویش دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا تو وہ اس کے قریب بیٹھنے کے بجائے چند قدم دور بیٹھتا اور دبی زبان میں یہ دعا شروع کر دیتا۔ ’’میرے پروردگار! اب میرا مرشد بوڑھا ہو چکا ہے… اگر تجھے ایک نیک دل آدمی کا بادشاہ بننا پسند نہیں تو مجھے بادشاہ بنا دے۔ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میرا ہر کام اپنے مرشد کی خواہشات کے الٹ ہو گا‘‘۔
ابتداء میں یہ ہوشیار چیلا چھپ چھپ کر دعائیں کیا کرتا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس کا حوصلہ بڑھتا گیا اور کچھ مدت کے بعد اس کی یہ حالت تھی کہ جب مرشد دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا تو وہ اس کے قریب بیٹھ کر ہی بلند آواز میں اپنی دعا دہرانی شروع کر دیتا۔ درویش اپنی آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ کہتا ’’اگر بادشاہ بن جاؤں تو عدل و انصاف نیکی اور سچائی کا بول بالا کروں گا‘‘ اور چیلا قہقہہ لگا کر یہ کہتا ’’اگر میں بادشاہ بن جاؤں تو ظلم اور بدی کا جھنڈا بلند کروں گا‘‘ درویش کہتا ’’میرے خزانے سے معذور اور نادار لوگوں کو وظائف ملیں گے‘‘ چیلا یہ کہتا ’’میں ان پر جرمانے عائد کروں گا‘‘ درویش اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا اور بسااوقات ڈنڈا اٹھا کر پیٹنا شروع کر دیتا لیکن چیلا اپنی روایتی نیازمندی کے باوجود اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا۔ پھر ملک کا بادشاہ چل بسا اور تخت کے کئی دعویدار ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت کر میدان میں آ گئے۔ دور اندیش وزیر نے راتوں رات تمام دعویداروں کو جمع کر کے یہ تجویز پیش کی۔ ’’اب ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کی ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ شہر کے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں اور علی الصبح باہر سے جو آدمی سب سے پہلے مشرقی دروازے پر دستک دے اسے بادشاہ تسلیم کر لیا جائے‘‘۔
…پھر یہ ہوا کہ پوپھٹتے ہی چیلا بھیک مانگنے کے لئے ملک کے دارالحکومت کی طرف جا نکلا۔ پہریداروں نے دروازہ کھول کر اسے سلامی دی اور امراء اسے ایک جلوس کی شکل میں شاہی محل کی طرف لے گئے۔
نئے بادشاہ نے پوری مستعدی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام وعدے پورے کئے۔ نہروں کا پانی بند کر دیا گیا۔ کنوئیں اور تالاب غلاظت سے بھر دئیے گئے۔ چوروں اور ڈاکوؤں کو جیلوں سے نکال کر حکومت کا کاروبار سونپ دیا گیا۔ نیک اور خداپرست انسانوں کو عبادت گاہوں سے نکال کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا…
دوسری کہانی یہ ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے ایک مشہور نجومی کو اپنا وزیراعظم بنا لیا۔ سردیوں کے موسم میں ایک دن بادشاہ سلامت کے دل میں سیروشکار کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے دانشمند وزیر سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے جواب دیا ’’عالی جاہ! موسم نہایت خوشگوار رہے گا… سیر و شکار کے لئے اس سے بہتر دن اور کوئی نہیں ہو سکتا‘‘۔ بادشاہ سلامت اپنے مصاحبوں کے ساتھ شکار کے لئے نکلے تو راستے میں ایک کسان ملا، جو گدھے پر سوار تھا۔ کسان بادشاہ کو دیکھتے ہی گدھے سے کود پڑا اور ہاتھ جوڑ کر چلایا ’’حضور کا اقبال بلند ہوعالی جاہ! آج آندھی آئے گی، بارش ہو گی اور اولے پڑیں گے‘‘ بادشاہ نے پریشان ہو کر اپنے وزیر کی طرف دیکھا اور اس نے کہا ’’جہاں پناہ! آپ ایک پاگل آدمی کی باتوں پر توجہ نہ دیں…‘‘ بادشاہ غضبناک ہو کر بولا ’’اس پاگل آدمی کو جوتے لگاؤ‘‘… لیکن جب بادشاہ تھوڑی دور آگے گیا تو آن کی آن میں آسمان پر تاریکی چھا گئی اور بادوباراں کے طوفان کے ساتھ اولے پڑنے لگے۔ جنگل میں بادشاہ سلامت کے لئے سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ وہ پانی اور کیچڑ میں لت پت ہونے کے بعد سردی سے ٹھٹھر رہے تھے… قصہ مختصر! بعد از خرابی ٔ بسیار جب وہ واپس اپنے محل پہنچے تو انہوں نے دو فرمان جاری کئے۔ ایک یہ کہ وزیر کا منہ کالا کر کے شہر میں پھرایا جائے اور اس کے بعد اسے کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے لئے اس کسان کو تلاش کیا جائے… جب کسان بادشاہ کے دربار میں پیش ہوا تو بادشاہ نے کہا ’’تم اس وقت کے سب سے بڑے نجومی ہو اس لئے تم وزیراعظم بنا دئیے گئے ہو۔ کسان نے جواب دیا ’’عالی جاہ! میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نجومی نہیں ہوں‘‘۔
بادشاہ نے کہا ’’اگر تم نجومی نہیں ہو تو تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ آج طوفان آ رہا ہے‘‘۔ کسان نے جواب دیا ’’عالی جاہ! یہ میرے گدھے کا کمال ہے۔ جب موسم میں کسی ناخوشگوار تبدیلی کے آثار پیدا ہوتے ہیں تو وہ چند گھنٹے پیشتر ہی اپنے کان ڈھیلے چھوڑ دیتا ہے اور آج تو اس کے کان بہت ہی ڈھیلے تھے‘‘ بادشاہ نے کہا ’’بہت اچھا آج سے تمہارا گدھا ہمارا وزیراعظم ہے‘‘۔
نسیم حجازی لکھتے ہیں ’’میں اس کتاب کا نصف حصہ اس بھکاری کے نام معنون کرتا ہوں جسے ایک زندہ دل قوم نے اپنا بادشاہ بنا لیا اور نصف اس گدھے کے نام معنون کرتا ہوں جسے ایک زندہ دل بادشاہ نے وزارت کا عہدہ پیش کیا‘‘۔
نسیم حجازی اپنے آخری ایام میں ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے توجہ دلانے پر سیاچن کے محاذ پر افواج کی جاں بازی کے پس منظر میں ایک ناول لکھ رہے تھے مگر شدید علالت کے باعث مکمل نہ کر سکے۔
تاریخی واقعات کو اجاگر کرنے والے نسیم حجازی 2 مارچ 1996ء کو تقریباً 82 برس کی عمر میں خود تاریخ بن گئے مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مر کر بھی نہیں مرا کرتے۔ نسیم حجازی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی موت کے بعد ناول کے ذریعے متاثر ہونے والا طبقہ چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقی پسند ادب سے وابستہ ناول نگار نسیم حجازی کے فن کو تنقید اور تضحیک کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کے لئے نسیم حجازیت جیسی تضحیک آمیز اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ 2014ء میں نسیم حجازی کو حکومت پاکستان نے شاندار خدمات پر نشان امتیاز سے نوازا۔ حکومت کی طرف سے اتنے بڑے ناول نگار کی خدمات کو ان کی موت کے بعد اگر خراج عقیدت پیش کیا گیا تو یہ اچھی بات ہے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودہ ٔ خاک ہیں۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
اس ملک میں جب کبھی ادبی تعصب اور دھڑے بندیوں سے بالاتر ہو کر حقیقی ادب عالیہ کی تاریخ لکھنے والا کوئی فرد پیدا ہوا تو وہ یقینا نسیم حجازی کا نام سرفہرست سنہری حروف میں لکھے گا، وطن عزیز میں ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب طاؤس و رباب کی باتیں کرنے والوں پر شمشیر و سناں کی باتیں کرنے والا سبقت لے جائے گا۔ نسیم حجازی، ’’حجاز‘‘ گہوارہ اسلامی تہذیب کا اور جو ’’نسیم‘‘ اس گہوارہ تہذیب و تمدن سے نکل کر عاشقین وحدت و رسالتؐ کے قلب و ذہن کو سکون عطا کرنے کا باعث بنے اسے کیوں نہ دوامی مقبولیت اور عزت و افتخار حاصل ہو، نسیم حجازی صاحب نے اپنی شخصیت میں اس قدر محاسن جمع کر لئے تھے کہ ان کا احاطہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، ان پر قلم اٹھانا آسان نہ تھا، تلوار کی دھار تیز ہوتی ہے اسے تیزی سے استعمال کیا جا سکتا ہے، قلم کے استعمال سے قبل کئی جتن کرنا ہوتے ہیں، اس گراں مایہ اور ہمہ صفت شخصیت کے بارے میں قلم کا استعمال کرتے ہوئے میں محسوس کر رہا ہوں کہ شاید میں ان کی شخصیت کے بارے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکا۔
نسیم حجازی (مرحوم) کے آج کے پاکستان کے نام ایک خط کے مندرجات
اے قوم! مشرقی پنجاب میں جو کچھ ہوا، وہ فرقہ وارانہ فساد کا نتیجہ نہ تھا۔ تاریخ انسانی کے اس عظیم ترین قتل عام کے لیے فرقہ وارانہ فساد کا لفظ پروپیگنڈا کے فن کے ان استادوں کے دماغ کی اختراع ہے جنہوں نے دنیا کی نگاہوں کے سامنے اہنسا پرمودھرما کا نقاب ڈال کر بدترین بھیڑیوں کی فوج تیار کی تھی۔ مشرقی پنجاب، دہلی، بھرت پور، الور، پٹیالہ، فرید کوٹ ، نابھ اور کپور تھلہ کے اسٹیج پر جو خونیں ڈرامہ کھیلا گیا، اسے فرقہ وارانہ فساد سے کوئی نسبت نہ تھی۔ یہ وہ قتل عام تھا جس کی سرپرستی اور رہنمائی بھارت کی حکومت، بھارت کی فوج اور پولیس اور بھارت میں شامل ہونے والی ریاستوں کے حکمران کر رہے تھے۔ نہرو اور پٹیل سے لے کر ایک سیوا سنگھی اور بلدیو سنگھ سے لے کر ایک اکالی رضا کار تک سب مسلمانوں کے قتل عام میں شریک تھے …یہ قتل عام ہندوستان سے مسلمانوں کے مکمل استحصال کے منصوبے کی ایک کڑی تھی۔
لیکن پاکستان میں ابھی تک ایسے لوگ ہیں جو ہر حالت میں پٹیل اور نہرو کی قباؤں سے خون کے داغ دھونا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اس قوم کو پھر ایک بار تھپکیاں دے کر سلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔
تقسیم سے پہلے جب کانگرس مسلمانوں پر آخر ی ضرب لگانے کے لئے ہندو اور سکھ قوم کے تخریبی عناصر کو منظم کر رہی تھی تو غلط اندیش لوگوں کا ایک گروہ مسلمانوں کو یہ کہہ کر لوریاں دیا کرتا تھا کہ ’’ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں۔ مسلمانوں کو ہندوؤں کے ارادوں کے متعلق شک نہیں کرنا چاہیے ۔ مسلمانوں کی علیحدہ تنظیم رجعت پسندی ہے، تنگ نظری ہے ، گاندھی بڑا اچھا آدمی ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں…‘‘ تقسیم کے بعد ان لوگوں کی جگہ ادیبوں اور شاعروں کا ایک گروہ میدان میں آگیا ہے ۔ اب یہ لوگ ہندو فاشزم کی صفائی پیش کر رہے ہیں ۔ ان کا تقاضا یہ ہے کہ اوّل مشرقی پنجاب کے عبرت تاک واقعات کا ذکر نہ کیا جائے ، اگر کیا بھی جائے تو پچاس فیصدی ذمہ داری ہندووں اور سکھوں پر ڈال دی جائے اور پچاس فیصدی مسلمانو ں پر۔ اس لئے کہ مسلمان مشرقی پنجاب کے بھیانک واقعات سے عبرت حاصل کر کے ہندو فاشزم کے مقابلہ میں اپنی اجتماعی قوت بروئے کار نہ لاسکیں۔ ہندوستان جونا گڑھ کو ہڑ پ کر چکا ہے ۔ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور ہندوستان سے مسلمانوں کے مکمل استحصال کے منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد پاکستان میں آخری ضرب لگانا چاہتا ہے ۔
ان ادیبوں اور شاعروں کے لئے مسلمان کی عزت اور آبرو، جان اور مال کا کوئی مسئلہ نہیں۔ دس پندرہ لاکھ انسانوں کاقتل بھی ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں…. قوم کی ہزاروں چھینی ہوئی بہو بیٹیوں کا مسئلہ ان کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ یہ سیاسی ، روحانی اور اخلاقی یتیم ادب کے نام سے کوکین کے تجارت کرتے ہیں اور پاکستان کے بعض ادارے صرف ہندوستان میں چند کتابیں بیچنے کے لئے ان کو کین فروشوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
اجتماعی آلام و مصائب کا سامنا کرنے کے لئے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے اور اجتماعی جدوجہد، اجتماعی شعور ، اجتماعی فکر اور اجتماعی کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ مشرقی پنجاب کی تباہی کے بعد پاکستان مسلمان یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر ہم ہندو فاشزم کی یلغار کے سامنے اپنی اجتماعی قوت بروئے کار نہ لا سکے تو پاکستان کی سرزمین پر بھی مشرقی پنجاب، دہلی اور جونا گڑھ کی تاریخ دہرائی جائے گی…. اجتماعی خطر ے کا احساس قوم کے نوجوانوں کو کشمیر کے میدا ن میں لے آیا ہے ۔ یہاں وہ جنگ لڑی جارہی ہے جس پر کشمیر کے مسلمانوں کے علاوہ پاکستان کے باشندوں کی زندگی کا دارومدار ہے، یہاں انسانیت اور عالم اسلام کے لئے سب سے بڑے خطرے کا مقابلہ کیا جا رہا ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ صرف اس خطہ زمین کا مسئلہ نہیں جو جغرافیائی طور پر پاکستان کا حصہ ہے ۔ جس کی وادیوں میں پاکستان کی زندگی کے چشمے پھوٹتے ہیں بلکہ یہ ایک پوری قوم کی بقاء آزادی اور عزت کا مسئلہ ہے۔ یہ آگ اور خون کے اس ڈرامے کا ایک سین ہے ۔ جس کا آخری ایکٹ ماؤنٹ بیٹن، نہرو اور پٹیل پاکستان کے سٹیج پر کھیلنا چاہتے ہیں۔ ان حالات میں قوم کے سپاہی کی تلوار اور قوم کے ادیب کے قلم کا راستہ ایک ہے ۔ متحدہ قومیت کے مارفیا کا انجکشن دینے والے سیاست دانوں کی جماعت کو اس وقت تھپکیاں دے کر سلایا کرتی تھی جب اُفق پر طوفان کے آثار ظاہر ہو رہے تھے ۔ لیکن کوکین فروش قلم کے ادیبوں اور شاعروں کی یہ جماعت طوفان کی تباہ کاریوں کے سامنے بھی قوم کی آنکھوں پر پٹی باندھ رہی ہے ۔ ان کے سیاسی پیش رواُونگھتے ہوئے مسلمان کو خواب آور گولیاں کھلاتے تھے اور یہ جاگتے ہوئے مسلمان کے حلق میںکوکین ٹھونس رہے ہیں۔ ان کے لئے مسلمانوں کی آزادی کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں تھا اور اب ان کے اذہان کی نئی قدروں اور نئے زاویوں میں مسلمانوں کی زندگی اور موت کی کوئی حقیقت نہیں۔ نقالوں کے اس گروہ کو تقسیم سے پہلے بھی مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل سے کوئی سروکار نہ تھا بلکہ ان کا نصب العین ان اخلاقی اور روحانی قدروں کی تخریب تھا جن پر دین اسلام کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کی تباہی اور بربادی کے لئے تمام کفر ایک ہو چکا تھا۔ ظلمت کے طوفان اپنی پوری تندہی اور تیزی کے ساتھ پاکستان کا محاصرہ کر رہے تھے ۔ حالات نے مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ بھی ایک ہو جائیں اور ایک بار پھر توحید کے مشعل بلند کر کے اس طوفان کے سامنے کھڑے ہو جائیں لیکن یہ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان جو قوت مدافعت اسلام کے نام پر بیدار ہو گی وہ اپنے حصار کی بنیاد پر بھی اسلام کی روحانی اور اخلاقی قدروں پر رکھے گی اور پاکستان میں ایسے ادیب کے لئے کوئی جگہ نہیںرہے گی جس کا مقصدصنفی انارکی، اخلاقی بے راہ روی اور ذہنی انتشار پھیلانے کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے یہ لوگ نئے عزائم، نئی اُمنگوں اور نئے ولولوں کے ساتھ میدان میں آئے ہیں اور یہ عزائم، یہ اُمنگیں اور ولولے زیادہ تر پاکستان مسلمانوں کی ان لوگوں پر کوکین کی مالش کرنے تک محدود ہیں جن پر فسطائیت اپنی خنجر کی تیزی آزما رہی ہے ، تاکہ خنجر اپنا کام کر جائے لیکن مسلمان کو یہ محسوس نہ ہو کہ رگیں کٹ چکی ہیں اور خو ن بہہ رہا ہے ۔
ہندوستان کی بربریت کی صفائی پیش کر کے مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے علاوہ ان حضرات کے سامنے باقی مسائل اہل پاکستان کے پیٹ سے متعلق ہیں۔ کچھ عرصہ سے انہیں پاکستان کے عوام اور مزدور کی غربت اور بدحالی پریشان کر رہی ہے، پاکستان کے عوام مزدور کا مسئلہ یقینا انہیں نہایت اہم ہے اور ہم اسے حل کئے بغیر فلاح و ترقی کی منازل کی طرف گامزن نہیں ہو سکتے لیکن پاکستان کے عوام اور مزدور کا مسئلہ یقینا نہایت اہم ہے اور ہم اسے حل کئے بغیر فلاح و ترقی کی منازل کی طرف گامزن نہیں ہو سکتے۔ لیکن پاکستان کے عوام اور مزدور اپنے ان کرم فرماؤں سے پوچھتے ہیں۔ کیا ہمیں ہندوستانی بھیڑیوں سے اپنے بچوں اور اپنی بیٹیوں کی جانیں بچانے کا کائی حق نہیں؟ جب مشرقی پنجاب میں مسلم عوام اور مسلم مزدوروں کا قتل عام ہو رہا تھا، تم کہاں تھے …؟آج تمہارے سینوں میں ہمارے پیٹ کی بھوک کا درد اُٹھا ہے لیکن جب اکال سینا اور راشٹریہ سیوک سنگھ کی تلواریں ہماری ماوں، بہنوں ، بیٹیوں اور بچوں کی گردنیں کاٹ رہی تھیں، تمہاری حمیت کہاں گئی تھی؟ تمہاری آنکھوں کے سامنے لاکھوں انسانوں قتل ہوئے، عصمتیں لٹیں، عورتوں کو چھینا گیا اور تم نے انسان کے سب سے بڑے دشمن کی صفائی پیش کرنے کے لئے یہ کہہ کر قصہ ختم کردیا کہ یہ فرقہ وارانہ فساد تھا…آج ہندوستان کے ہوائی جہاز کشمیر کے مزدوروں پر بم برسا رہے ہیں لیکن تم ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کیا یہ بھی فرقہ وارانہ فساد ہے؟ کشمیر میں ہماری بقاء کی جنگ لڑی جا رہی ہے لیکن تم اس سے منہ پھیر کر پاکستان کے اندر طبقاتی جنگ چاہتے ہو۔کہیں تمہارا مقصد ہماری مشکلات حل کرنے کی بجائے ہمارے دشمنوں کی مشکلات حل کرنا تو نہیں؟
ادیبوں اور شاعروں کا دوسرا گروہ وہ ہے جن کی امنگیں اور ولولے پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ابھی تک زلفوں کے پیچ و خم سے آزاد نہیں ہوئے ۔ جب انگریز لال قلعہ کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے، دہلی کے شعراء کی محفلوں میں کوچہ جاناں کی بھول بھلیوں کا رونا رویا جا رہا تھا۔ آج مسلمانوں کا انگریز سے کہیں زیادہ خطرناک دشمن پاکستان کو محاصرے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ہمارے شعراء کے دم خم وہی ہیں جو پہلے تھے۔
ادیبوں کو وہ طبقہ جو حقائق کے بھیانک چہرے پر تصورات کے حسین پردے نہیں ڈالنا چاہتا، اب اس پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ آج قوم کے لئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر وہ مشرقی پنجاب کے قتل عام کے بعد بھی عبرت حاصل نہ کر سکی تو قدرت کے قانون میں اس کے لئے رحم کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔
قوم کے ادیب! تیرے سامنے راکھ کے ڈھیر ہیں۔ تیری شعلہ نوائی ان میں بجلیاں پیدا کر سکتی ہے۔ مشرقی پنجاب اور دہلی کے شہیدوں کا خون خاک میں جذب نہ ہونے دینا۔ تو اس کی روشنائی سے وہ تحریر لکھ سکتا ہے۔ جو قوم کے جوانوں میں نئی زندگی، نئی روح اور نئی تڑپ بیدا ر کردے‘‘۔

٭٭٭٭٭

(ماخذ)
٭…راقم الحروف کا نسیم حجازی سے اپریل 1993ء میں طویل انٹرویو
٭…نسیم حجازی …ایک مطالعہ (ڈاکٹر تصدق حسین راجا)
٭…نسیم حجازی۔ داعی ٔ عظمت رفتہ مسلمانان عالم (ڈاکٹر صغریٰ بانو شگفتہ)
٭…سیارہ ڈائجسٹ (شخصیات نمبر)
٭…تاریخ اسلام (معین الدین ندوی)
٭…میں اور میرے بزرگ نسیم حجازی (ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی)
٭…نسیم حجازی… چند تاثرات (یوسف طلال علی (ترجمہ: اعجاز احمد فاروقی)
٭…نسیم حجازی… (بریگیڈیئر گلزار احمد)
٭…نسیم حجازی… میرا محبوب ادیب (فضل حسین قلیل)
٭…میرے خالو اور ہم (بیگم شہناز خالد)
٭…نسیم حجازی میری نظر میں (بریگیڈیئر (ر) محمد شفیع)
٭…نسیم حجازی اور بلوچستان (نوابزادہ جہانگیر شاہ جوگیزئی)
٭…شجر سایہ دار (عارفہ عباسی)
٭…نسیم حجازی… ایک بھولا بسرا شخص (ڈاکٹر واسع شاکر)
٭…روزنامہ الاخبار… (ویب ڈیسک)
٭… نسیم حجازی کے دو ناول (بشریٰ یوسف)
٭…آخری چٹان، اندھیری رات کے مسافر، انسان اور دیوتا،گمشدہ قافلے
کلیسا اور آگ ،اور تلوار ٹوٹ گئی (مؤلف: نسیم حجازی)

٭٭٭٭٭

[Total: 0    Average: 0/5]

Spread the love