جراثیم کے خلاف نئی اینٹی بائیوٹکس بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا‘ (وسیم بن اشرف)
عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جراثیم کے خلاف مزاحمت کرنے والی نئی اینٹی بائیوٹکس بنانے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جو ادویات موجود ہیں وہ موجودہ اینٹی بائیوٹکس ہی کی نئی شکلیں ہیں جو کہ قلیل مدتی حل ہے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ادارے کی جانب سے جن کی نشاندہی کردہ صحت کے لیے سب سے زیادہ خطرات پیدا کرنے والے انفیکشنز کے لیے بہت ہی کم علاج کے بنیادی طریقہ کار موجود ہیں۔ان بیماریوں میں ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والی بیماری تب دق بھی شامل ہے جس سے ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔دنیا کی آبادی کی صحت کو لاحق خطرات میں ایک بڑا خطرہ ایسے جراثیم ہیں جن پر کسی قسم کی ادویات اثر نہ کریں۔گذشتہ فروری میں عالمی ادارہ صحت نے ایسے جراثیم کی فہرست جاری کی تھی جن پر ادویات کا اثر نہیں ہو رہا اور وہ انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہینام گیبریئسس کا کہنا ہے کہ ’اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے انفیکشنز جن میں ٹی بی بھی شامل ہے پر مزید اور فوری تحقیق، سرمایہ کاری اور پیداوار کی ضرورت ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دوسری صورت میں ہم واپس اس دور میں لوٹ جائیں گے جب لوگ عام جراثیم سے ڈرتے تھے اور چھوٹی چھوٹی سرجریز میں بھی جان کھو بیٹھیں گے۔‘اس رپورٹ میں ترجیحاتی بنیادوں پر اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے 51 نئے اینٹی بائیوکٹس اور بائیولیجکلز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان تمام نئی اینٹی بائیوٹکس ادویات میں سے صرف آٹھ ایسی ہیں جنھیں ڈبلیو ایچ او نے جدید اور اینٹی بائیوٹک علاج کے لیے اہم قرار دیا ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ہر سال 50 ہزار افراد اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مدافعت کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے تب دق پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریو راویگلائن کا کہنا ہے کہ ’تب دق پر تحقیق کے لیے فنڈز کی شدید کمی ہے۔ 70 سالوں میں صرف دو نئے اینٹی بائیوٹکس اس بیماری کے لیے مارکیٹ میں لائے جا سکے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم تب دق کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تحقیق کرنے کے لیے سالانہ80 کروڑ ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔‘ قبل ازیں سائنس دانوں نے بیکٹریا سے مقابلے کے لیے ہزار گنا زیادہ طاقتور اینٹی بائیوٹک تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔30 مئ 2017 کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اینٹی بائیوٹک ادویات کی ایک نئی قسم دریافت کر لی ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ایسے جراثیم کے خلاف ہماری جنگ کو بڑھائے گی جن پر پہلے سے موجود ادویات کا اثر نہیں ہوتا۔دنیا کی آبادی کی صحت کو لاحق خطرات میں ایک بڑا خطرہ ایسے جراثیم ہیں جن پر کسی قسم کی ادویات اثر نہ کریں۔گذشتہ فروری میں عالمی ادارہ صحت نے ایسے جراثیم کی فہرست جاری کی تھی جن پر ادویات کا اثر نہیں ہو رہا اور وہ انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔امریکہ میں محققین نے پہلے سے موجود ایک دوا وینکومائسین میں بہتری لائی ہے اور اسے ایک ہزار گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔یہ اینٹی بایوٹک بیکٹریا پر تین مختلف طریقوں سے حملہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے اندر ایسی صلاحیت موجود ہے کہ جراثیم کو اس کے خلاف مدافعت پیدا کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔محققین کی ٹیم میں شامل ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ وینکومائسین کی یہ نئی قسم اگلے پانچ برس میں تیار کر دی جائے گی۔عام وینکومائسین پیشاب کی نالی میں انفیکشن اور زخموں میں انفیکشن کا باعث بننے والے عام جراثیم کا علاج کرنے کی صلاحیت بھی کھو رہی ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ہر سال 50 ہزار افراد اینٹی بائیٹوٹکس کے خلاف مدافعت کے باعث موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔
خطرناک ترین بیکٹریا کی نئی فہرست تیار
ڈبلیو ایچ او کے مطابق اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور کوئی نئی دوا نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت نے ایسے بیکٹیریا کی فہرست تیار کی ہے جن پر ادویات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا اور وہ انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔اس فہرست میں سب سے اوپر گرام-منفی کے ای. کولی جیسے جراثیم ہیں جو ہسپتال میں داخل کمزور مریضوں کے خون میں جان لیوا انفیکشن یا نمونيا پھیلا سکتے ہیں۔
جرمنی میں ہونے والی جی -20 اجلاس سے پہلے اس فہرست میں بحث کی جائے گی۔اس کا مقصد مشکل علاج والے انفیکشن کے لیے اینٹی بائیوٹکس تلاش کرنے کی طرف حکومتوں کی توجہ مرکوز کرنا ہے۔
ماہرین کئی بار انتباہ کر چکے ہیں کہ کچھ بیماریوں کا علاج موجودہ اینٹی بائیوٹکس سے ممکن نہیں ہوگا۔ ایسے میں عام انفیکشن بھی جان لیوا ہو جائیں گے۔ڈبلیو ایچ او کی ڈاکٹر مریم پال كينی کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور کوئی نئی دوا نہیں دکھائی دے رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ علاج کے طریقے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر كينی نے کہا کہ اگر صرف بازار پر ہی سب کچھ چھوڑ دیا گیا تو وقت رہتے نئے اینٹی بائیوٹکس تیار نہیں کیے جا سکیں گے۔ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ دوا ساز کمپنیاں ایسی ہی ادویات تیار کریں گی جنہیں بنانا سستا ہے اور جن میں منافع زیادہ ہے۔ یہ نیچے لٹکتے پھل توڑنے جیسا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی اس فہرست میں ٹی بی کو نہیں رکھا گیا ہے کیونکہ اس کے علاج کی تلاش پہلے ہی ترجیحات میں شامل ہے۔ماہرین نے موجودہ ادویات کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کو ذہن میں رکھ کر یہ نئی فہرست تیار کی ہے۔ اس میں عالمی شرح اموات، کمیونٹیز میں انفیکشن پھیلنے کی شرح اور صحت کی خدمات پر امراض کے باعث پڑنے والے بوجھ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔فہرست میں سب سے اوپر پر ایک كلیبسيلا نام کا بیکٹیریا بھی شامل ہے جس نے حال ہی میں طاقت ور اینٹی بائوٹک ’کارباپینیمس‘ کے خلاف بھی مزاحمت کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔حال ہی میں امریکہ میں اس بیکٹریا سے متاثرہ خاتون کا ڈاکٹرز نے 26 موجودہ اینٹی بائیوٹکس سے علاج کی کوشش کی لیکن یہ ٹھیک نہیں ہوا اور جان لیواگ ثابت ہوا۔
آنتوں کے بعض بیکٹریا کینسر کے علاج میں مددگار
معدے میں رومینوکوکس نامی بیکٹریا کی مقدار سے کینسر کے طریقہ علاج کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہاضمے کے نظام میں آنتوں میں پائے جانے والے بعض بیکٹریا سے کینسر کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔رسولیوں یا ٹیومرز سے لڑنے کے مدافعتی نظام کی قوت میں اضافہ کرنے والے طریقہ علاج امّیفنوتھریپیز سے بعض مریضوں میں ٹرمینل کینسر ختم ہو سکتے ہیں۔بہرحال یونیورسٹی آف ٹیکسس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کی آنت میں جتنے مختلف قسم کے آنت والے بیکٹیریا ہوں گے وہ ان سے زیادہ مستفید ہو سکتے ہیں۔جبکہ کینسر ریسرچ یو کے نے کہا ہے کہ آنت کے بیکٹیریا کے بارے معلومات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔انسانی جسم اربوں کھربوں مائیکرو اجسام کا گھر ہے اور ایک تخمینے کے مطابق ہمارے اپنے خلیے ان کے مقابلے میں اتنے کم ہیں کہ ہمارا انسانی جسم ان کا صرف دس فی صد ہے۔اور جوں جوں ہماری مطالعے میں اضافہ ہو رہا ہے ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ یہ مائیکروبز ہمارے مدافعتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور ان تجربہ خودکار مدافعتی بیماریوں اور الرجیوں کے معاملے کیا جا چکا ہے۔امّیونوتھریپی کینسر کے علاج میں اہم اور دلچسپ پیش رفت ہے اور یہ رسولیوں یا ٹیومرز پر حملہ آور ہونے میں مدافعتی نظام میں بریک لگا کر مدد کرتے ہیں۔تجربے کے دوران جن مریضوں پر آنت کے بیکٹیریا کے گروپ کو آزمایا گیا ان میں سے 23 مریضوں کے علاج میں ان کے اثرات دیکھے گئے جبکہ 11 مریضوں میں اس کے اثرات نہیں دیکھے گئے۔میلوما سرجن اور سائنسداں ڈاکٹر جینیفر
وارگو نے بی بی سی کو بتایا کہ فضلے کے نمونوں میں ہم نے بیکٹریا کے اقسام کے تنوع کے معاملے میں دن اور رات جیسا فرق پایا۔یہ تحقیق نیشنل کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے لیورپول میں ہونے والے کینسر کانفرنس میں پیش کی گئی اور بتایا گيا کہ جن مریضوں میں رومینوکوکس نامی بیکٹریا زیادہ مقدار میں تھے انھیں علاج میں فائدہ ہوا۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر معدے میں بیکٹریا کے توازن کو بدل دیا جائے تو امّیونوتھیراپی کے ذریعے علاج کے موثر ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
بیکٹیریا کی نئی نسل جدید طب کے لیے سب سے خطرناک
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر نئی نسل کے بیکٹیریا کی دوا پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہےطبی ماہرین کے ایک عالمی کمیشن نے آگاہ کیا ہے کہ جدید طب یا میڈیسن کو سب سے زیادہ ایسے بیکٹیریا یا جراثیم سے خطرہ لاحق ہے جو دواؤں کے خلاف مدافعت پیدا کرتے جا رہے ہیں۔یہ تحقیق طبی جریدے ’دا لانسٹ‘ میں شائع ہوئی ہے۔جریدے میں شائع رپورٹ میں ماہرین نے نئي نسل کے بیکٹیریا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ عالمی تعاون پر زور دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ہم اینٹی بایوٹک یا بیکٹیریا کو ختم کرنے والے دور کے بعد والے دور میں قدم رکھ چکے ہیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب کے چند برسوں میں اگر بیکٹیریا کے خطرناک اثرات سے بچنا ہے تو فوری طور پر عالمی سطح پر سرگرم ہونے کی ضرورت ہے۔اس کے تحت موجودہ اینٹی بایوٹک ادویہ کے استعمال میں کمی اور دوا بنانے والی کمپنیوں کو بیکٹیریا مخالف دوسری قسم کی نئی دوائیں بنانے کے لیے مراعات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔برطانوی ڈاکٹر پیٹر سوئن یارڈ نے اس حوالے سے برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مریض کی توقعات میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہر قسم کی بیماری کے لیے ضروری نہیں کہ گولی کھائی جائے۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ما بعد اینٹی بایوٹک زمانے میں ہو سکتا ہے کہ سرسام یا نمونیا جیسی بیماری کا علاج اینٹی بایوٹک سے نہ ہو سکے اور مریض دم توڑ دے جبکہ آج اس کا علاج ہو جاتا ہے۔‘روایتی اینٹی بایوٹک دواؤں میں فوری طور پر کمی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہر چھوٹی موٹے مرض کے لیے اینٹی بایوٹک لینے سے پرہیز کرنا چاہیے نہیں تو مستقبل میں اس کے خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کا اس سلسلے میں یہ تحقیق کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ کس طرح اینٹی بایوٹک دواؤں کے خلاف مدافعت کی صلاحیت والی نسل کے بیکٹیریا تیار ہو رہے ہیں۔ماہرین نے متبنہ کیا ہے کہ ’بغیر مؤثر اینٹی بایوٹک ادویہ کے چھوٹی موٹی سرجری سے لے کر کینسر جیسے مرض کی کیمو تھراپی جیسے علاج ناممکن ہو جائیں گے اور ترقی یافتہ ممالک میں اموات کی شرح وہیں پہنچ جائے گی جہاں وہ بیسویں صدی کے شروع میں تھی۔‘انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’علاج پر آنے والے اخراجات میں زبردست اضافہ ہو جائے گا کیونکہ ہمیں نئی اور زیادہ مہنگی دواؤں کا استعمال کرنا پڑے گا اور بیماری سے صحت یابی کے لیے ہمیں زیادہ مدت تک ہسپتال میں رہنا پڑے گا۔‘سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے پروفیسر اوٹوکار نے لانسٹ میں لکھا ہے کہ ’اینٹی بایوٹک دواؤں کے خلاف مدافعت پیچیدہ ماحولیاتی مسئلہ ہے جو نہ صرف انسانوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ زراعت اور ماحولیات سے بھی بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔’ہمیں اس مسئلے کے تحت الزام تراشی اور شرمسار کرنے سے باز رہنے کی ضرورت ہے اور ایک ٹھوس سیاسی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جو اس خطرے سے نمٹ سکے۔‘
’دنیا مابعد اینٹی بایوٹکس دور کے دہانے پر ہے‘
پہلے بھی بیکٹیریا کو اینٹی بایٹکس کے خلاف مدافعت پیدا کرتے دیکھا گیا ہے لیکن اس بار یہ بہ آسانی دوسرے قسم کے بیکٹیریا میں پھیل رہا ہے۔چین میں سائنسدانوں نے انسانوں اور مویشیوں میں تمام قسم کے علاج کی ناکامی کے بعد آخری حربے کے طور پر استعمال کی جانے والی دواؤں کے خلاف مدافعت کرنے والے بیکٹیریا دریافت کیا ہے۔اس دریافت کے بعد سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا اب مابعد اینٹی بایوٹکس دور میں داخل ہو رہی ہے۔’اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت وقت کے ساتھ سنگین سے سنگین تر‘یہ رپورٹ ’لینسٹ‘ میں شائع ہوئی ہے جس کے مطابق چین میں ایسے بیکٹیریا ملے ہیں جن پر’ کولسٹین‘ کا بھی کوئی اثر نہیں جبکہ یہ وہ اینٹی بایوٹک ہے جو تمام دواؤں کے بےاثر ہونے کے بعد استعمال کی جاتی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کی یہ مدافعت دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے جس سے انفیکشنز کے لاعلاج ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پریشان کن مسئلہ عالمی سطح پر بیدار ہو جانے کی منادی ہے۔یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دواؤں کے خلاف بیکٹریا میں مدافعت پیدا ہوجانے کے سبب یہ پھر سے طب کو دور جہالت میں پہنچا دے گا۔ایک بار پھر سے عام انفیکشن سے جان لیوا ہو جائے گا جبکہ سرجری اور کینسر کا علاج جو کہ اینٹی بایوٹکس پر منحصر ہے اسے خطرہ لاحق ہو جائے گا۔Iاینٹی بایوٹک سے مدافعت پیدا کرنے والے عوامل کا نام ایم سی آر 1 دیا گیا ہے۔چینی سائنسدانوں نے بیکٹیریا میں آنے والی اس نئی تبدیلی کو ’ایم سی آر – 1‘ کا نام دیا ہے جو کہ ’کولسٹین‘ (ایک اینی بایوٹک دوا) کو بیکٹیریا کو مارنے سے باز رکھتا ہے۔یہ جین جانچ کیے جانے والے 20 فیصد مویشیوں، 15 فیصد کچے گوشت کے نمونوں اور 16 انسانی مریضوں پایا گيا ہے۔اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ یہ لاؤس اور ملائشیا تک پھیل چکا ہے۔کارڈف یونیورسٹی کے پروفیسر ٹیموتھی والش نے بی بی سی کو بتایا کہ کوائف یہ بتا رہے ہیں کہ ’مابعد اینٹی بایوٹکس دنیا ایک حقیقت ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’اگر ایم آر سی-1 عالمی سطح پر پھیل جاتا ہے اور یہ دوسرے اینٹی بایوٹک جین کے ساتھ انضمام کرلیتا ہے جو کہ ناگزیر ہے تو ہم مابعد اینٹی بایوٹک عہد میں پہنچ جائیں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے میں کوئی ای کولی کے مرض میں متبلا ہو جاتا ہے تو اس کے لیے آپ کچھ نہیں کر سکتے۔‘خیال رہے کہ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے لیکن اس بار یہ بہ آسانی دوسرے قسم کے بیکٹیریا میں پھیل رہا ہے۔
بیکٹیریا جو خطرناک جراثیم کو کھا جاتا ہے
بیڈیلووِبریو دوسرے جراثیم کو خوراک بناتا ہے۔برطانوی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کے خلاف جنگ میں ایک نیا ہتھیار کارآمد ثابت ہو سکتا ہے، ایک ایسا بیکٹیریا جو دوسرے جراثیم کو کھا جاتا ہے۔تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ بیڈیلووِبریو بیکٹیریو وورس ‘زندہ اینٹی بایوٹک’ کی طرح کام کرتے ہوئے مہلک انفیکشن سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ جراثیم کے اندر اینٹی بایوٹکس کے خلاف بڑھتی ہوئے مدافعت کے باعث ایک دن ایسے جراثیم وجود میں آ جائیں گے جن کے خلاف ہر دوا ناکارہ ثابت ہو گی۔بیڈیلووِبریو تیزی سے تیرنے والا بیکٹیریا ہے جو دوسرے بیکٹریا کے اندر گھس جاتا ہے اور انھیں اندر سے کھانا شروع کر دیتا ہے۔خوراک مکمل کرنے کے بعد یہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر اپنے مردہ میزبان کے جسم سے باہر نکل آتا ہے۔امپیریئل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی ٹیموں نے فوڈ پوئزننگ کے علاج کے لیے بیڈیلوویبریو استعمال کیا۔اس مرض کا باعث شِگیلا نامی بیکٹیریا ہے اور یہ ہر سال 16 کروڑ لوگوں کو بیمار کرتا ہے جن میں سے دس لاکھ کے قریب ہلاک ہو جاتے ہیں۔لیبارٹری میں کیے جانے والے تجربات سے ظاہر ہوا کہ بیڈیلوویبریو شِگیلا کے خلاف تیزی سے حرکت میں آ کر اس کی آبادی چار ہزار گنا کم کر دیتا ہے۔مچھلیوں کے لاروا میں کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ شِگیلا کے مرض سے صرف 25 فیصد لاروا بچ پاتے ہیں۔ لیکن جب انھی لاروا کو بیڈیلوویبریو دیا گیا تو ان کے بچنے کی شرح 60 فیصد تک بڑھ گئی۔امپیریئل کالج لندن کے ڈاکٹر سرج موسٹوی نے بی بی سی کو بتایا: ‘یہ بڑا تخلیقی طریقہ ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ میزبان بیکٹیریا اس کے خلاف مدافعت پیدا نہیں کر سکتا۔’یہ زندہ اینٹی بایوٹک کی تحقیق میں اہم سنگِ میل ہے اور اسے انسانوں اور
جانوروں دونوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔’سائنس دانوں کے مطابق بیڈیلوویبریو کو متاثرہ زخموں کے علاج کے لیے زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر اس کے استعمال سے قبل مزید تجربات کی ضرورت ہے۔مزید اچھی بات یہ سامنے آئی ہے کہ بیڈیلوویبریو کی وجہ سے جسم کا اپنا دفاعی نظام بھی حرکت میں آ جاتا ہے اور بچے کھچے نقصان دہ بیکٹیریا کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ خود بیڈیلوویبریو بیماری پیدا نہیں کرتا۔یہ طریقۂ علاج شِگیلا کے علاوہ ای کولائی (فوڈ پوئزننگ، مثانے کے انفیکشن) اور سالمونیلا (ٹائفائیڈ) جیسے موذی بیکٹیریا کے خلاف بھی کارگر ہے۔

Share This

Share This

Share this post with your friends!