ذیابیطس نا صرف ایک مہلک وبا کی صورت اختیار کر گیا ، بلکہ مختلف بیماریوں کی جڑ بھی بن چکا ہے۔ اس سے نمٹنے اور قابو کرنے کیلئے غذا کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کرنا پڑتی ہے اور اسے کنٹرول کرنا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ مگر ایک قدیم چینی طریقہ کار اس لاعلاج مرض کو روکنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آم کے درخت کے پتے خصوصی ایکسٹریکٹ کے ساتھ صدیوں سے دمہ اور ذیابیطس کے علاج کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ یہ پتے ضروری وٹامنز اور نیوٹریشن سے بھرپور ہوتے ہیں۔ جو ذیابیطس کے مریضوں کیلئے اس مرض کو کنٹرول کرنا بہت زیادہ آسان بنا دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان پتوں میں موجود ایکسٹریکٹ انسولین کی تیاری اور گلوکوز کی تقسیم کو بہتر بناتا ہے۔ جبکہ بلڈ شوگر لیول کو موثر طریقے سے مستحکم کرتا ہے۔ یہ پتے پیسٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو صحت کیلئے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ پتے ذیابیطس کی علامات جیسے رات کو اکثر پیشاب آنا، وزن میں غیر متوقع کمی اور نظر دھندلانے وغیرہ کو بھی کم کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر کسی کو ذیابیطس کا مرض نہ بھی ہو تو بھی یہ کرشماتی پتے طبی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار ہے، جو کہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج اور الرجی سے تحفظ دیتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق میں بھی ان فوائد کی تصدیق کی گئی تھی۔ 2010 میں جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مینگو ایکسٹریکٹ غذائی نالی میں گلوکوز کو کم جذب کرتا ہے اور بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔ ان پتوں کو استعمال کرنے کیلئے دس سے پندرہ پتے پانی میں ابالیں اور رات بھر کے لئے چھوڑ دیں۔ صبح ناشتے سے پہلے اسے چائے کی شکل میں پی لیں۔ اس کو دو سے تین مہینے تک اپنانے پر ذیابیطس کے مرض کی شدت میں نمایاں کمی محسوس ہوگی۔

Share This

Share This

Share this post with your friends!