امریکہ کے لئے پاک چین تعلقات سی پیک منصوبہ ناقابل قبول ہے،مولانا فضل الرحمان

لکی مروت(صباح نیوز)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر اور قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 16سال قبل نائن الیون واقعے کے بعد پرویز مشرف کی طرف سے امریکی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور تمام امریکی شرائط تسلیم کرنے کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا اس وقت کہا گیا یہ فیصلہ نہ کرتے تو بھارت فائدے میں رہتا افغانستان میں اس کا اثر و رسوخ بڑھتا اور پاکستان پر طرح کی طرح کی پابندیاں لگ جاتیں حالانکہ امریکہ افغانستان میں فوجیں لاکر دنیا پر حکمرانی کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا تھا اور اس کی نظریں وسطی ایشیائی ریاستوں میں موجود معدنیات اور وسائل پر تھیں وہ لکی مروت میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے اس موقع پروفاقی وزیر برائے پوسٹل سروسز مولانا سید امیر زمان، ایم پی ایز منور خان و حاجی انور حیات خان، تحصیل ناظمین حاجی ہدایت اﷲ خان و مولانا اعزاز اﷲ ، ضلعی امیر مولانا عبدالرحیم و جنرل سیکرٹری مولانا سمیع اﷲ مجاہد اور پارٹی قائدین بھی موجود تھے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں ہمیں آگ میں جھونک کر ہمارا مستقبل غیر محفوظ کردیا آج نتیجہ یہ ہے کہ یہ آگ ہمارے اپنے گھر میں داخل ہوگئی ہے اور اس سے ہزاروں لاکھوں قبائلی متاثر ہوئے یہاں تک کہ سوات، بلوچستان، کراچی اور ملک بھر میں یہ آگ پھیل گئی جس پالیسی کے اتنے بھیانک نتائج سامنے آئے ہوں وہ بھلا کس طرح درست قرار دی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ پورے ایشیا میں امریکہ کا واحد دوست بھارت ہے اسے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تو اعتراض ہے لیکن بھارت کے ساتھ ایٹمی اور تجارتی معاہدے کرکے اسے مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی اس کے ہاتھ میں دے دیا ہے جہاں کی سرزمین سے اب پاکستان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور مغربی سرحد محفوظ نہیں انہوں نے کہا کہ آج تک پاکستان کا تمام تر انحصار امریکہ اور مغرب کے مالیاتی اداروں اور وہاں سے ملنے والے قرضوں اور امداد پر تھا جو نہی یہ انحصار کم ہونا شروع ہوا توچین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری اور ترقی و خوشحالی کے منصوبے امریکہ اور مغرب کو ہضم نہیں ہورہے چین امریکہ کے مقابلے میں معاشی و اقتصادی قوت بن رہا ہے جو امریکہ کو قبول نہیں جبکہ پاکستان کی معاشی و اقتصادی ترقی اور یہاں کی جانے والی سرمایہ کاری بھارت کو قبول نہیں یہی وجہ ہے کہ دونوں نے پاکستان کے خلاف ایکا کرلیا ہے جے یو آئی کے مرکزی امیر نے کہا کہ امریکہ موجودہ صدی میں دنیا کی نئی جغرافیائی تقسیم کرنا چاہتا ہے افغانستان میں فوجیں لاکر جنگ شروع کی جہاں اب کٹھ پتلی حکومت ہے اور اصل باگ ڈور امریکہ کے ہاتھ میں ہے عرب ممالک کو تہس نہس کرڈالا عراق اور لیبیا کو تباہی و بردبادی سے دوچار کیا شام اور یمن پر بھی جنگ مسلط کی ایک طرف افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف شام ،عراق اور لیبیا میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے پاکستان میں بھی وزیر آعظم نواز شریف کی نااہلی یا پانامہ کوئی مسئلہ نہیں دراصل امریکہ کے لئے پاک چین تعلقات اور سی پیک منصوبہ ناقابل قبول ہے وہ ملک میں سیاسی بحران کھڑا کرکے سیاسی عدم استحکام لاکر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل چاہتا ہے اس کا اندازہ نواز شریف کی نااہلی کے کوئی ایک ماہ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں سے لگایا جاسکتا ہے امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف16سالہ تعاون ہمارے منہ پر دے مارا بلکہ بندوبستی علاقوں میں بھی ڈرون حملوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ یہود اور مغرب کا ایجنڈا آگے بڑھانے والے ہماری تہذیب اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکالنے کے درپے ہیں انہیں خیبر پختونخوا میں اس لئے آگے لایا گیا کہ روشن خیالی کی آڑ میں پشتون قوم کی مذہبی جڑیں اکھاڑ کر مغربی تہذیب کو فروغ دیا جاسکے اب یہود اور مغرب کے پروردہ یہ عناصر سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو بے روزگاراور ان کی ملازمت غیر محفوظ کرنے کے لئے قانون سازی کے درپے ہیں جبکہ دوسری طرف یہودیوں سے ملنے والے پیسے پر تنخواہوں کی لالچ دے کے آئمہ مساجد ، خطباء اور علماء کرام کو خریدنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن علماء ان کی تنخواہیں ان کے منہ پر دے ماریں گے ہم اساتذہ کے حقوق کی جنگ میں ان کے شانہ بشانہ ہوں گے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا سے متعلق کوئی بھی فیصلہ قبائلی عوام کی مرضی سے کیا جائے اور ان پر جبری طور پر کوئی بھی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے۔

[Total: 0    Average: 0/5]

Spread the love