کمرہ جماعت میں لیکچر سننے کے دوران سمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا استعمال آپ کی توجہ ہٹا کر امتحانی نمبروں میں کمی کی وجہ بن سکتا ہے۔ ایک مختصر مطالعہ سے ثابت ہواکہ کمرہ جماعت میں استاد کے لیکچر سننے کے دوران سمارٹ فون یا ٹیبلٹ وغیرہ پر کی جانے والی ڈیجیٹل آوارہ گردی سے امتحان میں نمبر کم آسکتے ہیں۔ امریکا میں واقع مشہور رٹگرز یونیورسٹی میں نفسیات کے 118 طلبا و طالبات پر ایک دلچسپ مطالعہ کیا گیا۔ اس مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کمرہ جماعت میں استعمال ہونے والا ایک سمارٹ فون بھی دیگر طالب علموں کی توجہ بٹا سکتا ہے۔ 118 میں سے نصف طالب علموں کو کلاس میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ دیگر آدھے طالب علموں کو سمارٹ فون اور ٹیبلٹ استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اس دوران ایک نگراں بھی ان طالب علموں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا۔ لیکچر کے مراحل ختم ہونے کے بعد سب کو دستی آلات استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ پھر ان سے پڑھائے گئے اسباق کے بارے میں سوال جواب کئے گئے اور فوری ٹیسٹ بھی لئے گئے۔ اگرچہ لیکچر فوری ختم ہونے کے بعد تو فون استعمال کرنے والے طلبا و طالبات کی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی لیکن کچھ عرصے بعد ان کی امتحانی صلاحیت ضرور متاثر ہوئی۔ جب فائنل امتحان لیا گیا تو کمرہ جماعت میں مسلسل سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے اوسطاً 5 فیصد کم نمبر آئے جو اس مطالعے کی افادیت کو ثابت کرتے ہیں۔ اگرچہ دیگر ناقدین نے اسے ایک چھوٹا مطالعہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے وسیع پیمانے پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کی تصدیق گزشتہ برس کئے جانے والے ایک اور سروے سے بھی ہوتی ہے۔ گزشتہ برس ایک مختصر مطالعے سے انکشاف ہوا تھا کہ اگر فون بند بھی ہو تب بھی اس کی مسلسل موجودگی توجہ بٹاتی ہے اور دماغی صلاحیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ماہرین نے اسی بنا پر کہا کہ فون کا استعمال ہمیں کچھ اس طرح متاثر کر رہا ہے کہ خود ہم اس کا مکمل احساس کرنے سے قاصر ہیں۔

Share This

Share This

Share this post with your friends!